عورت عورت کے تناظر میں : منتخب نظموں کا تانیثی مطالعہ


تانیثیت انگریزی لفظ feminism کا اردو متبادل ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی اصطلاح ہے جس میں حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے نظریے اور تحریک کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ عورت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اپنے استحصال کے خلاف بولتی ہے اور بلا جنسی تفریق وہ اپنے لیے مرد کے برابر آزادی اور حقوق طلب کرتی ہے یہی رجحان تانیثیت ہے جو تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے کا اس کا مرد سے موازنہ کرنا درست نہیں عورت کی اپنی خصوصیات ہیں جو اسے دوسری جنس سے ممتاز کرتی ہیں وہ نئے آدم کو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو ہر حوالے سے معتبر حوالہ ہے۔ بلا جنسی تفریق کے وہ ایک انسان ہے اور اسے وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جو ایک انسان کے ہوتے ہیں۔

عورت کا کہنا ہے کہ معاشرے نے اس کا استحصال کیا ہے یہاں معاشرے سے مراد مرد ہے کیونکہ معاشرے کے قوانین، اصول و ضوابط اور روایات ترتیب دینے والے تمام مرد ہی تھے اور مرد ہی ہیں۔ معاشرتی اصول و ضوابط کو تشکیل دینے میں کبھی عورت کو نمائندگی نہیں دی گئی مرد نے اپنی بصیرت اور سمجھ کے مطابق عورت کو سمجھا، عورت کو اپنی مرضی سے ذمہ داریاں سونپیں اور عورت کے مقام اور کام کا تعین کیا۔ مرد نے عورت کا خود سے موازنہ کیا اسے خود سے جسمانی اور ذہنی طور پر کم سمجھا، ناقص العقل، جذباتی اور فریب خوردگی پر آمادہ قرار دیا۔

عورت کے کردار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ عورت کو مرد کے تناظر میں نہیں بلکہ عورت کو عورت کے تناظر میں دیکھا جائے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ عورت خود کو کیا سمجھتی ہے؟ وہ کیسا محسوس کرتی ہے؟ اس کے جذبات کیا ہیں؟ اس کی خصوصیات کیا ہیں؟ وہ اس معاشرے میں کیسے رہنا چاہتی ہے؟ ان سب سوالوں کو عورت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے یہاں ہم منتخب شاعرات کی منتخب نظموں کے تناظر میں درج بالا سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تاکہ عورت کو عورت کی نظر سے دیکھا اور سمجھا جا سکے۔

نسیم سید صاحبہ کی نظم ”اپنی تصویر مجھے آپ بنانی ہو گی“ بنیادی مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ مردوں کی تشکیل شدہ دنیا میں عورت کی تصویر میں وہ رنگ نہیں بھرے گئے جو عورت کا امتیاز ہیں بلکہ اپنی مرضی کی کاریگری کی گئی ہے اور اصل خد و خال کو بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے جس سے مصور کی ناپختگی ظاہر ہوتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ عورت اپنی تصویر خود بنائے اپنے نین نقش سنوارے اور اپنی مرضی کے رنگ بھرے۔

نسیم سید اپنی تصویر تراشنے والے فن کار کو داد دیتی ہیں کہ تو نے اپنے فہم یا اپنی خواہش کے مطابق مجھے خوب تراشا ہے نیلم کی آنکھ، چاندی کا بدن اور یاقوت کے لب بنائے ہیں۔ اپنے ذوق کی تسکین کے لیے میرے پاؤں میں پازیب بھی بنا ڈالی اور مجھ پہ قیمتی جواہرات بھی جڑ دیے ترا شاہکار تو حسین ہے لیکن اس میں مجھ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔

یہ جواہر سے جڑی
قیمتی مورت میری
اپنے سامان تعیش میں لگا دی تو نے
میں نے مانا
کہ حسیں ہے ترا شہکار
مگر
تیرے شہکار میں
مجھ جیسی کوئی بات نہیں
تجھ کو نیلم سی
نظر آتی ہیں آنکھیں میری
درد کے ان میں سمندر
نہیں دیکھے تو نے
تو نے
جب کی
لب و رخسار کی خطاطی کی
جو ورق لکھے تھے
دل پر
نہیں دیکھے تو نے

تو نے میرے لب و رخسار کی چمک کے پیچھے دیکھنے کی سعی نہیں کی ان کے پیچھے کا کرب تمھیں معلوم نہیں تمھیں معلوم بھی کیسے ہو کہ تو مجھے سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر ہے

میرے فن کار
ترے ذوق
ترے فن کا کمال
میرے پندار کی قیمت
نہ چکا پائے گا
تو نے بت یا تو تراشے
یا تراشے ہیں خدا
تو بھلا کیا مری تصویر
بنا پائے گا
تیرے اوراق سے
یہ شکل مٹانی ہوگی
اپنی تصویر
مجھے آپ بنانی ہوگی

بت اور خدا تراشنے والا عورت کی جاذبیت اور اندرون کی وسعت کو کیا پہچانے گا اس لیے تمھاری تراشی میری صورت ابھی خام ہے اس لیے تیرے اوراق سے یہ شکل مٹا کر مجھے اپنی صورت آپ تراشنی چاہیے اور بتانا چاہیے کہ مجھ میں کیا ہے اور میں کیا دیکھتی محسوس کرتی ہوں

ہوش بھی
جرات گفتار بھی
بینائی بھی
جرات عشق بھی ہے
ضبط کی رعنائی بھی
جتنے جوہر ہیں نمو کے
مری تعمیر میں ہیں
دیکھ یہ رنگ
جو تازہ مری تصویر میں ہیں

نظم کے آخری حصے میں نسیم سید نے جو عورت کی خصوصیات بیان کی ہیں اور عورت کی تصویر میں رنگ بھرے ہیں وہ عورت کو سمجھنے اور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہوش مندی، جرات گفتار، بینائی، جرات عشق، ضبط اور نمو کے تمام جوہر عورت میں موجود ہیں۔ لہذا معاشرہ یا مرد جو عورت کو کم فہم، ناقص العقل اور جذباتی سمجھ کر اسے آواز اٹھانے اور عشق کرنے سے روکنے کا خواہش مند ہے وہ عورت کی فطرت کے خلاف ہے۔

عام طور پر عورت کا مرد سے موازنہ کر کے اسے مرد کے مقابلے میں کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی جسمانی کمزوری، نازکی، فیصلے کی قوت کمی، جذباتیت، ناقص العقلی وغیرہ لیکن عورت اپنے بارے میں ایسا نہیں سمجھتی وہ خود کو ہوش مند اور ضبط کرنے والی حوصلہ مند عورت سمجھتی ہے ہاں اگر مرد جسمانی طور پر طاقت ور ہے تو اس کے الگ کام ہیں اور عورت کی الگ خصوصیات ہیں۔ عورت نئے آدم کو تخلیق کرنے کا جوہر رکھتی ہے۔

عورت ہی کا وصف ہے کہ وہ اپنے بطن سے مرد کو جنم دیتی ہے لیکن عورت کا قضیہ یہ ہے کہ اتنی بڑی خوبی رکھنے کے باوجود اس کا مقام و مرتبہ مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ ستم تو یہ کہ معلوم انسانی تاریخ میں عورت کسی ایسے مقام پر فائز نہیں رہی جس پر مرد برا جمان رہ کر معاشرے کے اصول وضع فرماتے رہے ہیں حتیٰ کہ خدائے بزرگ و برتر نے بھی لاکھوں پیغمبروں بھیجے جن میں کوئی ایک بھی عورت شامل نہیں ہے۔

شہناز نبی اپنی نظم ”درد زہ“ میں اسی مضمون کو قلم بند کرتی ہیں۔ موسیٰ کو خدا سے ہم کلامی کی سعادت ملی تو پیغمبر بن گیا جب کہ ان کی بیوی اسی لمحے درد زہ سے تڑپ رہی تھی اور نئے آدم کو تخلیق کر رہی تھی مہینوں اپنی کوکھ میں نئے انسانی وجود کی پرورش کرتی رہی لیکن اس سب کے باوجود اسے موسیٰ کی طرح کوئی بلند مقام نہ مل سکا۔

وہ تھا اک لمحۂ تخلیق
جس نے آگ روشن کی
تڑپتی تھی صفورہ درد زہ سے
اور موسیٰ کو
سر وادیٔ سینا نور کا لپکا نظر آیا
خدائے عز و جل سے
ہم کلامی کی سعادت ہو گئی حاصل
ملا عہدہ پیمبر کا
مگر وہ کوکھ میں جس نے
مہینوں تھام کر رکھا
محبت کا منزہ لمحہ
جس نے غنچۂ نورس کو چٹکایا
سر شاخ رفاقت
جس نے لوری کے بنے ہیں بول
ولی ہے وہ
نبی ہے
اور نہ پیغمبر

سارا شگفتہ ایک مضبوط نسائی آواز ہیں ان کے کلام میں تانیثیت کے ان گنت رنگ اور درد بکھرے پڑے ہیں ان کی نظم ”نمک اور عورت“ تانیثی شعور اور نسائی کرب سے بھرپور ہے۔ نظم کے آغاز میں وہ کہتی ہیں کہ عورت کو عزت کے نام پہ چار، دیواری میں قید کیا گیا۔ عزتوں کے سب سلسلہ عورت سے منسوب کر دیے گئے اور عزت کی کئی قسمیں بنا لی گئیں۔ عزت کے نام پہ عورت کے جذبات اور ارمانوں کا خون کیا گیا انھیں قید میں رکھا گیا حتٰی کہ عزت کے نام پہ قتل بھی کر دیا گیا۔ مردوں کے معاشرے میں عورتوں کو عزتوں کے نیزے سے داغا جاتا ہے اور داغا جا رہا ہے۔

عزت کی بہت سی قسمیں ہیں
گھونگھٹ تھپڑ گندم
عزت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھونکی گئی ہیں
گھر سے لے کر فٹ پاتھ تک ہمارا نہیں
عزت ہمارے گزارے کی بات ہے
عزت کے نیزے سے ہمیں داغا جاتا ہے
عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہے
کوئی رات ہمارا نمک چکھ لے
تو ایک زندگی ہمیں بے ذائقہ روٹی کہا جاتا ہے
یہ کیسا بازار ہے
کہ رنگ ساز ہی پھیکا پڑا ہے
خلا کی ہتھیلی پہ پتنگیں مر رہی ہیں

عورت کو عزت کے نام پہ پابند سلاسل کر کے ڈر اور خوف کے عالم میں بچے جنوائے گئے عورت تخلیق کی صلاحیت رکھتی ہے نئے آدم کو وجود بخشتی ہے اس کے باوجود شجرہ مرد کے نام سے جاری ہوتا ہے۔

میں قید میں بچے جنتی ہوں
جائز اولاد کے لئے زمین کھلنڈری ہونی چاہیے
تم ڈر میں بچے جنتی ہو اسی لئے آج تمہاری کوئی نسل نہیں
تم جسم کے ایک بند سے پکاری جاتی ہو

پروین شاکر ان شاعرات میں سے ہیں جنہوں نے خواتین کی نئی نسل کی نمائندگی کی۔ انہوں نے موضوعات کو مختلف رنگ میں برتا ہے اور اپنی شاعری میں نسائی جذبات کی بہترین عکاسی کی ہے۔ پروین شاکر اس ضمن میں اولیت کی حامل ہیں کہ انہوں نے پہلی بار نسائیت کو شاعری میں ایسے پرویا کہ یہ نسائی پہلو شاعری کا ایک مضبوط عقیدہ بن گیا۔ پروین کی شاعری میں موضوعات کی رنگا رنگی، اسلوب تجربات کی ندرت اور فکر کا تنوع جا بجا نظر آتا ہے وہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں تانیثی پہلوؤں کو کلام میں اجاگر کرتی چلی جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے عورت ہونے پہ فخریہ انداز اپنایا ہے اور عورت کے متعلقہ جذبات و احساسات کو بڑی خوبی سے بیان کیا۔ اس حوالے سے اردو دنیا کے ماہنامے میں ان کی تانیثیت کو اجاگر کیا گیا۔

”پروین شاکر کا پہلا مجموعہ“ خوشبو ”نو عمر لڑکیوں کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد کے سارے مجموعوں میں نسائی فکر اور نفسیاتی تجربات میں پختگی آتی گئی۔ عورت کو درپیش مسائل ان کی نظموں کے موضوع بنتے گئے۔ پدری نظام جبر کے تحت متوسط طبقے کی پڑھی لکھی اور گھریلو عورت کے ساتھ ہو رہے استحصال کو انھوں نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا“

پروین شاکر کی بے شمار نظمیں تانیثیت کی حامل ہیں، ان نظموں میں ”گیلے بالوں سے چھنا سورن، ورکنگ وومن (working woman) ، بے پناہی، سجدہ، سالگرہ، واٹرلو“ اور ”لیڈی آف دی ہاؤس“ وغیرہ خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان نظموں کے علاوہ بھی پروین کی کئی نظمیں ہیں، جن میں نسائی شعور اور لب و لہجہ موجود ہے۔

پروین شاکر کی مندرجہ بالا نظم میں بھی ان کا تانیثی پہلو واضح ہے اور ان کا قلم بلا جھجک عورت کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتا چلا جاتا ہے کہ کس طرح عورت ازل سے مرد کے اس معاشرے میں استحصال کا شکار رہی ہے اور اس کے حقوق مرد کے وجود کی مٹی میں دفن ہیں جہاں سے دادرسی ممکن نہیں۔ مرد نے عورت کو گڑیا کا نام دے کے اسے ایسی نے جان گڑیا تصور کر لیا ہے جس کے کوئی جذبات و احساسات نہیں جس کے ساتھ روا رکھا جانے والا ہر سلوک قابل مستحق سمجھا جائے گا۔

نظم ”نک نیم“ میں شاعرہ نے معاشرے میں موجود عورت کی حیثیت پہ طنز کیا ہے اور مردوں کی مردانگی پہ چوٹ کی ہے انھیں یہ احساس دلایا ہے کہ مرد نے عورت کو کیا مقام دیا اور سے گڑیا سے تشبیہ دے کے اس کے موم ہونے کی حیثیت کو اپنانے کی بجائے اسے جذبات سے عاری سمجھ لیا۔ وہ عورت جو نرم روئی کے سبب جذبات و احساسات سے بھرپور ہے اس کا پہلا اور آخری استحصال مرد کے ہاتھوں ہی ہوتا ہے۔ معاشرے کا مرد جب چاہے عورت کو جذباتی و لمحاتی محبت تحفے میں لپٹی ہوئی پیش کرے اور جب وہ مرد چاہے ان لمحاتی کیفیات کو دل سے نکال کے کسی دوسری گڑیا کو سونپ دے اور اس کے نزدیک ہر عورت ہی اس گڑیا کی مانند ہے جس میں جان نہیں۔ وہ فقط ایسے سامان کی صورت دنیا میں جلوہ گر ہے جسے مرد اپنی ضرورت کے تحت عرش و فرش کا مقام عطا کر دے۔ ان کے یہ نظم عورت کی مرد کے نزدیک حیثیت کی آئینہ دار ہے

تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو
ٹھیک ہی کہتے ہو!
کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں
جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا
میرا کوئی رنگ نہیں
جس بچے کے ہاتھ تھما دو
میری کسی سے جنگ نہیں
سوچتی جاگتی آنکھیں میری
جب چاہے بینائی لے لو
کوک بھرو اور باتیں سن لو
یا میری گویائی لے لو
مانگ بھرو سیندور لگاؤ
پیار کرو آنکھوں میں بساؤ
اور پھر جب دل بھر جائے تو
دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو
ٹھیک ہی کہتے ہو!

ماحصل یہ کہ انہوں نے اس پوری نظم میں عورتوں کے استحصال کی بخوبی عکاسی کی ہے معاشرے میں موجود مردوں کی برتری اور ان کے نزدیک عورت کی کمتری کو آشکار کیا ان کا قلم صاف گوئی سے عورت کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتا چلا گیا ہے۔ کس طرح عورت کے جذبات و احساسات اس مردانہ معاشرے میں مجروح ہوتے ہیں شاعرہ نے انھیں عمدگی سے نظم میں سمو دیا ہے۔

فہمیدہ ریاض کی شاعری انقلابی فکر، صوفیانہ مزاج اور مخصوص تانیثی نظریات کی حامل ہے۔ وہ انسان کو انسان کے جبر سے آزاد دیکھنے کی خواہاں ہیں اور کارل مارکس کو انسانیت کا نجات دہندہ سمجھتی ہیں۔ وہ عدم و ہست کے مابین اپنا وجود تلاش کرتی ہیں۔ انھیں سماج کی قید و بند سے آزادی چاہیے۔ ان کے انھیں نظریات کے پیش نظر خالدہ حسین نے انھیں ”باغی عورت“ کہا ہے۔

پدر سری سماج میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کے چکر میں عورت کے احساسات و جذبات اور خواہشات کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے۔ فہمیدہ ریاض اپنی نظم ”چادر اور چار دیواری“ میں عورت پر سماجی بندشوں کے خلاف طنز آمیز مزاحمتی رویہ اپنائے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔ وہ سیاہ چادر کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ نظم کے آغاز میں جب وہ کہتی ہیں :

حضور میں اس سیاہ چادر کا کیا کروں گی
یہ آپ کیوں مجھ کو بخشتے ہیں بصد عنایت

تو وہ ایک طرف تو وہ احسان لینے سے انکاری نظر ہیں اور دوسری طرف اس سماجی رویے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جو زبردستی یا بہلا پھسلا کر عورت کو اپنے نظریات کے تابع کرنا چاہتا ہے۔

وہ سوالیہ انداز میں کہتی ہیں کہ جب میں کسی سوگ میں مبتلا نہیں، نہ ہی مجھے کوئی روگ ہے اور نہ ہی میں کوئی گنہگار اور مجرم ہوں تو کیوں سیاہ چادر وصول کر کے مہربانیوں کا احسان اپنے سر لوں۔ یہاں وہ عورت کے بلاوجہ احسانات کے بوجھ تلے دبنے سے انکاری ہیں۔ خالدہ حسین فہمیدہ ریاض کے تصور عورت پر ایک مضمون میں کچھ یوں رقم طراز ہیں :

”شروع ہی سے اس کے ہاں ایک ایسی عورت نظر آتی ہے جو روایت کے مطابق نہ تو اپنے عورت ہونے پر شرمندہ و ملول ہے نہ ہی قہراً و جبراً اپنے آپ کو قبول کرنے کی قائل۔ وہ اپنی جنس کی قدردان ہے اور پوری زندگی کے نظام اور اس کے ارتقا میں اس کے کردار کا گہرا شعور رکھتی ہے۔“

فہمیدہ ریاض سمجھتی ہیں کہ لطف و عنایات کی مستحق وہ عورتیں ہیں جو مرد اور مرد برتر سماج کے مظالم سہ رہی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اس مہربانی کی ضرورت اس بے کفن لاش کو ہے جس کی عفونت ہر گلی کوچے میں ہانپ رہی ہے۔ اس سیاہ چادر کی ضرورت ان جسموں کو ہے جو ڈھکے ہونے کے باوجود برہنہ ہیں :

حضور اتنا کرم تو کیجے
سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے
سیاہ چادر سے اپنے حجرے کی بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے
کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت
وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے
وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر
برہنگی تن کی ڈھانپتی ہے
سنیں ذرا دل خراش چیخیں
بنا رہی ہیں عجب ہیولے
جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

وہ سماج میں موجود ایسے عناصر کو عورت کو سمجھنے اور اس کی خصوصیات باور کرواتی ہیں جو عورت کو لونڈیوں اور بیویوں کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں اور جب مطلب پورا ہو جاتا ہے انھیں پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

یہ کون ہیں جانتے تو ہوں گے
حضور پہچانتے تو ہوں گے
یہ لونڈیاں ہیں
کہ یرغمالی حلال شب بھر رہے ہیں
دم صبح در بدر ہیں
حضور کے نطفہ کو مبارک کے نصف ورثہ سے بے معتبر ہیں
یہ بیبیاں ہیں
کہ زوجگی کا خراج دینے
قطار اندر قطار باری کی منتظر ہیں

فہمیدہ ریاض ان کم سن بچیوں کے حق میں نوحہ کناں نظر آتی ہیں جن کی شادیاں کم عمری میں اپنے باپ کی عمر کے آدمیوں سے کر دی جاتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اب یہ درد ناک تماشا جو کئی صدیوں سے چلا آ رہا ہے ؛ ختم ہونا چاہیے۔

یہ بچیاں ہیں
کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت
تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے
حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے
پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ
طویل صدیوں سے قتل انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشا
اب اس تماشا کو ختم کیجے
حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

وہ سمجھتی ہیں کہ سماج اور مرد کو اپنے نظریات بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر عورت کے وجود سے تقدس کی پامالی کا خدشہ ہے تو ان خدشات کو دور کرنے کے لیے تقدس کے معیارات بدلنا ہوں گے۔ اس لیے وہ کہتی ہیں کہ اس سیاہ چادر کی ضرورت مجھے نہیں ان کو ہے جو زمین پر میرا وجود صرف شہوت کا ایک نشان سمجھتے ہیں۔

سیاہ چادر تو بن چکی ہے مری نہیں آپ کی ضرورت
کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت

فہمیدہ ریاض نظم کے آخری حصے میں عورت کی کامیابیوں اور انسانیت کی مجموعی ترقی میں عورت کے کردار کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اس مادی ترقی میں عورت کی ذہانت اور محنت کا بھی عمل دخل ہے۔ وہ تحفظ اور تقدس کا حق دار ان عورتوں کو سمجھتی ہیں جو جبر اور تشدد کی چکی میں پس رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ایسی عورت کو روکنا نا ممکن ہے جو قید و بند سے آزاد ہو کر اپنا تشخص قائم کرنا چاہتی ہے۔ وہ بنت حوا کو اس آدم نو کا ہم سفر دیکھتی ہیں جو اس کا بھروسا اور اعتماد حاصل کر سکے۔

حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت
زمین کے رخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت
یہ چار دیواریاں یہ چادر گلی سڑی لاش کو مبارک
کھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ
میں آدم نو کی ہم سفر ہوں
کہ جس نے جیتی مری بھروسا بھری رفاقت

فہمیدہ ریاض کی نظر میں عورت ذہین اور زیرک ہے وہ چادر اور چار دیواری میں مقید رہنا پسند نہیں کرتیں وہ تو عورت کو کھلی فضاؤں میں آگے بڑھتا دیکھتی ہیں اور مرد کے شانہ بشانہ چلنا چاہتی ہیں۔

حوا کا آدم کی پسلی سے پیدا ہونا خدا کی مشیت تھی لیکن عورت کے تناظر میں خدا کی اس مرضی کو مرد نے اپنے حق میں استعمال کر کے بنت حوا کو صدیوں سے اپنا ماتحت بنا رکھا ہے۔ اس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ مرد نے اس کی سوچ اور اظہار پر پہرے لگا رکھے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے سوچ نہیں سکتی، کچھ کہ نہیں سکتی۔ اگر وہ اس کے خلاف جائے گی تو اسے مجرم اور لائق سزا تصور کیا جائے گا۔ انھیں احساسات و جذبات کا اظہار ”ثروت زہرا نے اپنی نظم“ بنت حوا ”میں کچھ اس طرح کیا ہے :

بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے
میں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوں
سوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوں
میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

ثروت زہرا کو اپنا بنت حوا ہونا اور جذبات و احساسات کو اظہار میں لانا جرم لگتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں صرف سامان لطف نہیں ہوں بل کہ اپنے اندر ایک کائنات ہوں جسے تسخیر کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ طنز کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں سزا کی مستحق ہوں کیوں کہ میں سوچ سکتی ہوں۔ اس پدر سری سماج میں انھیں اظہار میں لایا ہوا اپنا ہر ایک حرف جس سے ان کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے ؛ جرم لگتا ہے۔

مرد اور مرد کو فوقیت دینے والے سماج میں یہ رویہ اور سوچ عام ہے کہ عورت کو ان کی بنائی ہوئی حدود میں رہنا چاہیے۔ اگر کوئی عورت مرد سے زیادہ سوچ سمجھ رکھتی ہے تو اس کا اظہار نہ کرنے پر اسے پابند کیا جاتا ہے۔ اس کے محسوسات کی قدر نہیں کی جاتی اسے تو صرف سامان ضرورت سمجھا جاتا ہے جو جنسی تسکین اور امور خانہ داری سنبھالنے کے کام آتا ہے۔

مجھ میں احساس کیوں ہو کہ عورت ہوں میں
زندگی کیوں لگوں؟ بس ضرورت ہوں میں
یہ مری آگہی بھی بڑا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

جس جسم میں زندگی ہوتی ہے وہ سوچتا بھی ہے اور کچھ نہ کچھ شعور بھی رکھتا ہے۔ ثروت زہرا کے نزدیک اس سماج میں عورت کے لیے آگہی و شعور حاصل کرنا، زندگی کو کھل کر جینا اور محسوسات رکھنا ایک بڑا جرم ہے۔

نظم کے آخری حصے میں وہ کہتی ہیں کہ میرا آنچل تار تار کر دیا جاتا ہے میں یہ ظلم سہتی ہوں اور چپ رہتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میں بولی تو مرا بولنا جرم تصور کیا جائے گا۔ اگر انسان کا جرم ثابت ہو جائے تو اس کی سزا یقینی ہوتی ہے لہٰذا وہ اپنے جذبات اور احساسات دل کے قید خانے میں رکھ کر ظلم سہنے اور خاموش رہنے ہی میں عافیت جانتی ہیں۔

ثروت زہرا کی مذکورہ بالا نظم عورت کا خود کو مرد اور مرد کو برتر سمجھنے والے سماج کے آئینے میں دیکھا گیا عکس ہے۔ جس میں عورت مرد اور سماج کی جکڑ بندیوں میں قید نظر آتی ہے۔ وہ زندگی کو کھل کر جینا چاہتی ہے مگر سماج کے ہاتھوں مجبور ہو کر چپ سادھ لیتی ہے۔ ثروت زہرا کی اس نظم کا پس منظر ان کا وہ فکری تحرک ہے جس کا اظہار انھوں نے ڈاکٹر خالد سہیل سے ایک مکالمہ میں کیا۔ انھوں نے اپنے عورت ہونے کے فائدے یا نقصان سے متعلق ایک سوال کا جواب کچھ یوں دیا:

”فردی سطح پر میں عورت یا مرد کی عینک سے اپنے آپ کو دیکھنا نہیں چاہتی اور جب کوئی دیکھتا ہے تو مجھے اذیت ہوتی ہے۔ ادبی اور سماجی سطح پر اپنا آپ منوانے سے پہلے، اپنی ذات کے آئینے سے مجھے صنف کی گرد جھاڑنی پڑتی ہے تب کہیں تخلیق کار کی حیثیت سے میں خود کو منوا پاتی ہوں۔ تخلیق کا تجربہ مجھے ملا تو مجھے لگا میرا عورت ہونا، زیادہ سعادت کا باعث ہے۔ جو مرد کو حاصل نہیں ہے لیکن پدرسری نظام میں عورت کی حیثیت تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ اپنے عورت ہونے سے مجھے کوئی شکوہ نہیں۔“

مردوں کی تشکیل کردہ دنیا کے اصول و ضوابط اور قوانین ہیں یا مذہبی احکامات کی تفہیم و تعبیر میں کوئی مسئلہ ہے جو بھی ہے لیکن طلاق کے معاملے کا اختیار مرد کے ہاتھ میں دیا گیا ہے وہ جب چاہے زبان ہلائے اور عورت سے کنارا کر لے عورت اس معاملے کو اپنا استحصال سمجھتی ہے

حمیدہ شاہین کی مختصر نظم طلاق ایسا ہی موضوع لیے ہوئے ہے وہ حیرت زدہ ہیں کہ کیسے خدا نے مجازی خدا کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ جب چاہے اپنے شریک سفر سے جان چھڑا لے جیسے شریک سفر انسان نہ ہو غبار سفر ہو

خدا کی مجازی خدا پر نوازش
خدائی کا تحفہ
شریک سفر کو
غبار سفر کی طرح جھاڑنے کی اجازت

نادیہ عنبر لودھی جدید شاعرانہ ماحول کی پروردہ ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ وہ عمدہ نثر کی بھی جاندار آواز ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کے اردو اخبارات میں لکھ کے بطور پاکستانی لکھاری شہرت پائی اسی حوالے سے انہیں 2017 میں ادبی ایوارڈ سے برطانیہ میں نوازا گیا۔

ان کے کلام میں جا بجا عورتوں پہ موجود استحصال کی نشاندہی ملتی ہے۔ وہ عورت کو مٹی ہوئی تحریر نہیں سمجھتیں بلکہ ان کے نزدیک عورت جیتی جاگتی آواز ہے اور اس قدر بلند آہنگ کہ جسے اب مردوں کا معاشرہ اپنی مردانگی تلے دبا نہیں سکتا۔ زیر نظر نظم کے تناظر میں نادیہ کا قلم عورت کی آواز کو اس کے حق کو بلند کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان لے نزدیک عورت عقل و فہم میں مردوں کے برابر ہے اور وہ ذی شعور مخلوقات میں سے ہے جسے اپنی خواہشات اور شوق پورے کرنے کے لیے کسی مرد کے دائرے میں پابند سلاسل ہونا ضروری نہیں۔

مرد حضرات کو اس بات سے آگاہی دیتی ہیں کہ اب عورت اس مظلوم ہستی کی صورت ظاہر نہ ہو گی جس کا اوڑھنا بچھونا مرد کی خواہشات کا محتاج ہو بلکہ عصر حاضر کی عورت مردانہ معاشرے کے اس نظام سے باغی ہے اور خود اپنی منزلیں پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ عورت کو دنیا کا بنیادی عنصر تصور کرتی ہیں جس کے بغیر دنیا میں تخیل کے رنگ بھی موجود نہ ہوتے۔ شاعرہ کے نزدیک عورت ازل سے ابد تک اپنے تن و روح کی مالک خود ہے اسے مردوں کی اجارہ داری کے نظام سے باغی دکھایا گیا۔

تم مری آواز دبا نہیں سکتے
مرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتے
نہیں رکھ سکتے مجھے پابند سلاسل
تم مری آواز دبا نہیں سکو گے
ناخن شوق سے روزانہ کریدوں گی
میں ایک نئی دیوار
تاکتا پرواز سے مسخر کروں گی
نئے جہان
پر کاٹ کر مرے
پنجرے میں مقید نہیں کر سکتے تم
خواب نوچ کر مری آنکھیں تسخیر نہیں کر سکتے تم
عورت ہوں میں
صاحب عقل و فہم ہوں
بہتا ہوا پانی ہوں
ہر صدی کی میں ہی کہانی ہوں

عورت کو کم عقل اور ناقص العقل سمجھنے والے معاشرے کو اس نظم ”عورت“ میں بتایا گیا ہے کہ عورت صاحب عقل و فہم ہے وہ بے شعور یا کم عقل نہیں ہے۔

نادیہ عنبر عورت کے جذبات و احساسات کی خوب عکاسی کرتی ہیں اور اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ عورت اب مردوں کی حاکمیت کی قائل نہیں۔ وہ دراصل عورت کے اس حق کی نشاندہی کرتی ہیں جسے معاشرہ اپنی انانیت کے باعث دبا لیتا ہے کبھی یہ انانیت عورت کے حق میں باپ کے رشتے کی صورت ظاہر ہوتی ہے، کبھی بیٹے، بھائی اور شوہر کی صورت میں غرض معاشرے کا مرد کسی نہ کسی روپ میں عورت کو اس کی خواہشات اس کے شوق پورے کرنے میں رکاوٹ رہا ہے۔ نادیہ نے اسی پہلو کے خلاف عورت کو باغی دکھایا اور اپنے کلام میں تانیثی رجحان کی بخوبی عکاسی کی۔

درج بالا نظموں کے تانیثی مطالعے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ عورت خود کو اس نظر سے نہیں دیکھتی جس نظر سے معاشرے نے یا معاشرے کے قوانین، معاشرے کی اخلاقیات اور اصول وضع کرنے والے مردوں نے اسے دیکھا ہے۔ عورت خود کو مرد سے کمتر اور احقر چیز خیال نہیں کرتی بلکہ اس کے نزدیک اس میں کئی ایک ایسی خصوصیات موجود ہیں جو مرد میں نہیں۔ عورت مرد کو جنم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کا جذباتی ہونا مرد کے نزدیک کمزوری ہو سکتی ہے لیکن اس کی یہی جذباتیت اسے ممتا عطا کرتی ہے۔ عورت ناقص العقل نہیں ہے بلکہ وہ مکمل شعور و ادراک رکھتی ہے اور معاشرے میں اپنی مرضی سے رہنے کا حق رکھتی ہے۔

دوسری طرف یہ پہلو بھی اہم ہے کہ ہمارے ہاں کی عورت آزادی کا وہ مطلب نہیں لیتی جو اہل یورپ لیتے ہیں وہ جنسی حوالے سے اس قدر بے لگامی نہیں چاہتی البتہ معاشرتی جبر روایات کے بندھن اور اپنے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔

حوالہ جات
1۔ https://www.rekhta.org
2۔ ایضا
3۔ ایضا
4۔ شہناز نبی، پس دیوار گریہ، ایم کے آفسٹ پریس دہلی، اشاعت 2008، ص 88
5۔ سارا شگفتہ، آنکھیں، تشکیل پبلشرز، کراچی، اشاعت 1985، ص 50
6۔ ایضا
7۔ ماہنامہ: اردو دنیا، دہلی، جولائی 2015 ص 23
8۔ پروین شاکر، صد برگ، کلیات: ماہ تمام، ص 77
9۔ فہمیدہ ریاض، کلیات: سب لعل و گہر، سنگ میل پبلشرز، لاہور، اشاعت 2011، ص 345

10۔ خالدہ حسین، نسائی خود شناسی اور فہمیدہ ریاض، مشمولہ، سب لعل و گہر (کلیات) از فہمیدہ ریاض، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ص 76

11۔ فہمیدہ ریاض، کلیات: سب لعل و گہر، سنگ میل پبلشرز، لاہور، اشاعت 2011، ص 345
12۔ ایضا
13۔ ایضا
14، ص 346۔ ایضا
15۔ ایضا
16۔ ثروت زہرا، وقت کی قید سے، سنگ میل پبلی کیشنز، راولپنڈی، ص 120
17۔ ایضا
18۔ https://www.mukaalma.com/62523/
19۔ حمیدہ شاہین، زندہ ہوں، ملٹی میڈیا افئیرز لاہور، اشاعت 2010، ص 161
20۔ https://www.rekhta.org

Facebook Comments HS