اردو فکشن اور ڈراموں میں کارو کاری کے چند حوالے


انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ”خاندان کے مردوں کے ہاتھوں لڑکی یا عورت کے قتل کو اکثر اوقات عزت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ مارنے والے اپنے عمل کے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ مرنے والی نے ان کے خاندان کے نام اور ناموس پر بٹا لگایا ہے۔

پدر سری معاشروں میں، لڑکیوں اور خواتین کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔ عورتوں کے کنوارے پن اور جنسی پاکیزگی کو برقرار رکھنا مرد رشتہ داروں۔ پہلے اس کے والد اور بھائیوں اور بعد میں اس کے شوہر کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ عزت کے نام پر قتل کا شکار ہونے والیوں پر عموماً الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ غیر اخلاقی جنسی سرگرمیوں۔ جن میں غیر رشتے دار مردوں سے باتیں کرنے سے لے کر شادی سے ہٹ کر جنسی عمل (وہ چاہے ریپ یا جنسی حملے کا نشانہ بنی ہوں ) ، میں ملوث پائی گئی ہیں۔ ”

کارو کاری خالصتاً سندھی اصطلاح ہے جب کہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس قبیح رسم کو پنجاب میں کالا کالی، خیبر پختون خواہ میں طور طورہ جب کہ بلوچستان میں سیاہ کاری کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق ”چوں کہ عورت کو کم زور سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی کہ وہ مرد کے مقابلے میں کم عقل ہے، اس لیے اسے کنٹرول کرنے کے لیے پدرسری نظام میں مرد کو یہ حق مل گیا کہ وہ عورت کی شخصیت کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالے اور اس کی شناخت ختم کر کے اسے اپنے تسلط میں لے آئے۔“

ڈاکٹر صاحب اپنے مضمون ”عورت کے لیے انسانیت سوز سزائیں“ میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں۔ ”اس کی ابتدا گھریلو تشدد سے ہوئی لیکن بعض ایسے جرائم روشناس کروائے گئے کہ جن میں پورا معاشرہ شریک ہو گیا۔ عورت کا سب سے بڑا جرم یہ قرار پایا کہ وہ اپنے مالک سے بے وفائی کرتے ہوئے کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلق پیدا کرے۔ ہر دور اور ہر زمانے میں اس پر کڑی سزائیں رکھی گئیں، کیوں کہ اس کو جرم سمجھا جاتا تھا کہ وہ بچے میں پیدائش میں ملاوٹ کر رہی ہے۔ سندھ میں کارو کاری کے نام پر اور دیگر صوبوں میں عزت کے نام پر عورت کو قتل کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ “

ڈاکٹر مبارک علی نے یہاں ایک بہت اہم لیکن دراصل ایک بھیانک حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہمارے صوبوں میں عزت کے نام پر عورت کو قتل کرنا باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ قاتل کو اپنے کیے پر کسی بھی قسم کی ندامت یا شرمندگی نہیں ہوتی اور وہ اپنے گھناؤنے عمل کو جائز اور برحق سمجھتا ہے۔ ہمارا سماج بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے کیوں کہ وہ اس قاتل کو ایک ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے کہ جیسے وہ کوئی سورما ہو اور اس نے کوئی معرکہ سر کیا ہو۔

اگر کارو کاری سے ذرا ہٹ کر عزت و ناموس کی بنا پر ہونے والے خواتین کے قتل کی بات کی جائے تو پاکستان کی تقسیم کے وقت سکھوں نے مغربی پنجاب میں اس ڈر سے کہ اگر ان کی عورتیں مسلمانوں کے ہتھے چڑھ گئیں تو وہ ان کی بے حرمتی کریں گے، اپنی بے شمار عورتوں کو گوردواروں اور گھروں میں بند کر کے اپنے ہی ہاتھوں سے جلا دیا۔ تقسیم کے فوراً بعد مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف ہجرت کرنے والی بے شمار مسلمان عورتوں کو ان کے مردوں نے اپنے ہاتھوں سے گولی مار کر قتل کیا، بہت سوں نے کنووں اور دریاؤں میں چھلانگیں مارکر اپنی جان دی۔ یہ واقعات ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہیں۔ اس موضوع پر اردو میں بلونت سنگھ کا ناول ”کالے کوس“ ایک شاہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیدی نے اس موضوع پر ”لاجونتی“ جیسا لازوال افسانہ لکھا۔ اس دور کا شاید ہی کوئی افسانہ نگار ایسا ہو جس نے اس موضوع پر کچھ نہ لکھا ہو۔

پنجاب میں کالا کالی کے واقعے پر محمد منشا یاد کا ایک بہترین افسانہ ان کے افسانوں کی کتاب ”درخت آدمی“ میں شامل ہے۔ جس کا عنوان مجھے یاد نہیں آ رہا لیکن اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ چودھری گھرانے کی لڑکی جوان ہو کر گھر سے بھاگتی ہے تو اس کا بھائی اسے ڈھونڈ کر لاتا ہے اور ماں کی منت سماجت کے باوجود اسے قتل کر دیتا ہے لیکن جب اس کی اپنی بیٹی جوان ہو کر یہی کام کرتی ہے تو وہ کوشش کے باوجود اسے قتل نہیں کر پاتا اور اس کے ہاتھوں میں بندوق کانپنے لگتی ہے۔ تب اس کی ماں اسے طعنہ دیتی ہے کہ اگر اس کی بیٹی کا باپ زندہ ہوتا تو وہ بھی اسے کبھی بھائی کے ہاتھوں قتل نہ ہونے دیتا۔

عزت کے نام پر خواتین کا قتل پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے علاقے میں کیا جاتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ واقعات سب سے زیادہ سندھ اور بلوچستان میں ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سندھ میں ہر سال پانچ سو سے ایک ہزار خواتین کو عزت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اس حوالے سے سب سے زیادہ کام بھی سندھی ہی میں ہو چکا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ سندھی شاعری، افسانے، ناول اور ٹی ڈراموں میں اس موضوعات پر بے تحاشا لکھا گیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک تھما نہیں۔

پی ٹی وی کے دور میں، ساڑھے چھ بجے سے سات بجے تک، آدھے گھنٹے کے سندھی ڈراموں پر مبنی سیریز ”ناٹک رنگ“ دکھائی جاتی تھی۔ میرا دعوی ہے کہ آدھے گھنٹے کی اس سیریز کے ڈرامے اس دور کے پرائم ٹائم میں چلنے والے بیشتر اردو ڈراموں سے زیادہ بامعنی، تخلیقی اور متاثر کن ہوتے تھے۔ وہ ڈرامے لکھنے والے علی بابا، عبدالقادر جونیجو، نور الہدی شاہ اور رحمت اللہ مانجوٹھی جیسے جید ادیب ہوا کرتے تھے۔ دراصل اس دور میں پی ٹی وی کی پالیسی تھی کہ ان کے لیے ڈرامہ وہی لکھے گا جو ادب لکھتا ہو۔ ”ناٹک رنگ“ سیریز میں ”کارو کاری“ کے موضوع پر بھی چند ڈرامے نشر ہو کر مقبول ہوئے۔ عبدالقادر جونیجو کا لکھا ہوا ایک سندھی سیریل ”راٹی جی کہاٹی“ (رانی کی کہانی) سندھی میں اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ اسے اردو میں بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وہ ”دیواریں“ کے نام سے اردو میں نشر ہوا۔ وہ اپنے دور میں یک بلاک بسٹر ڈرامہ سیریل ثابت تھا۔ عبدالقادر جونیجو نے اس ڈرامے میں سندھ میں ہونے والے کارو کاری کے واقعات کے حوالے سے وڈیروں کی پشت پناہی اور اثر رسوخ کو اپنا موضوع بنایا تھا۔

دراصل کارو کاری ایسا موضوع ہے جس کی بہت سے جہتیں ہیں اور پورا سماج کسی نہ کسی طریقے سے اس میں ملوث ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی صورت حال ہے جس کا ذکر مصطفی زیدی اپنے اس مشہور شعر میں کرتے ہیں :

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

خالد احمد جو تھیٹر اور ٹی وی کے اداکار ہونے کے علاوہ ٹی وی ڈراموں کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی رہ چکے ہیں، 2006۔ 7 میں برٹش قونصل نے ان کے ساتھ کارو کاری کے موضوع پر پچاس منٹ کے دورانیے کے چار اردو ڈرامے بنانے کا معاہدہ کیا۔ چار میں سے دو ڈرامے رحمت اللہ مانجوٹھی نے اور دو میں نے لکھے تھے۔ میرے لکھے ہوئے ڈراموں میں سے ایک کی کہانی ایک سچے واقعے پر مبنی تھی۔ وہ کہانی مجھے شرجیل بلوچ نے سنائی تھی۔ اس کہانی میں ایک لڑکی اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہوتی ہے لیکن پکڑی جاتی ہے۔ اس کے بھائی اسے قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اپنے والدین اور گاؤں کے وڈیرے کے دباؤ میں آ کر اسے اپنے وڈیرے کی پناہ میں دے دیتے ہیں۔ وہ وڈیرہ اسے ایک مال دار بوڑھے کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے۔ بوڑھا اس کی جوانی اور حسن سے متاثر ہونے کی وجہ سے اسے اپنی دوسری بیوی بنا لیتا ہے اور اس سے اس کا بیٹا ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد اس کا شوہر مر جاتا ہے اور اس کی پہلی بیوی اس کی جائیداد کی مالک بن جاتی ہے۔ دوسری بیوی کئی برس تک بوڑھے کے گھر میں قیدیوں کی سی زندگی گزارتی ہے۔ جب اچانک اسے پتا چلتا ہے کہ اس کی ماں شدید بیمار ہے اور مرنے سے پہلے اس سے آخری بار ملنا چاہتی ہے تو وہ اپنے بیٹے اور گھر کے کسی فرد کو بتائے بغیر اپنی ماں کے گاؤں جانے کے لیے نکل کھڑی ہوتی ہے۔ اس کی اچانک گم شدگی پر گھر میں طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں۔ بوڑھے کی پہلی بیوی اس کے بیٹے کو طعنے دیتی ہے کہ تمہاری ماں تو پہلے ہی کاری تھی، جسے میرے شوہر نے اپنی دوسری بیوی بنا کر سخت غلطی کی۔ وہ پھر کسی یار سے ملنے گئی ہے۔ یہ باتیں سن کر اس کا جواں سال بیٹا طیش میں آتا ہے۔ جب اس کی ماں اپنی والدہ کو دفن کر کے لوٹتی ہے تو وہ اس سے کوئی بات کیے بغیر اس حملہ آور ہوتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے۔ فاروق رند نے اس ڈرامے کو کوٹری میں جا کر شوٹ کیا۔ یہ ڈرامہ برٹش قونصل لائبریری میں دکھایا گیا اور اس کی بہت تعریف کی گئی۔ یہ بعد میں پی ٹی وی سے نشر ہوا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں رہنے والے بیش تر اردو ادیبوں نے ہمیشہ خود کو اندرونِ سندھ کی زندگی اور اس کے مسائل سے کافی دور رکھا۔ ایسے ماحول میں صرف حسن منظر صاحب ہی تھے جو حیدرآباد کے علاقے میں لطیف آباد میں رہتے ہوئے اندرون سندھ کی زندگی کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کر رہے تھے۔ جس کا نتیجہ ان کے ناول ”دھنی بخش کے بیٹے“ کی صورت سامنے آیا۔ یہ ناول بنیادی طور پر دھنی بخش کے گاؤں میں رہنے والے اس کے بیٹوں دو علی بخش اور احمد بخش کی کہانی ہے۔ علی بخش سندھ کا روایتی وڈیرہ ہے۔ وہ تین شادیاں کرنے کے باوجود عورتوں کا رسیا ہے اور اس کی جنسی بھوک کسی طور کم ہونے میں نہیں آتی۔ وہ ایک بوڑھے صوبیدار کی جواں سال بیوی کے ساتھ عشق کرتا ہے اور ایک دن اسے بھگا کر حیدرآباد احمد بخش کے فلیٹ پر لے جاتا ہے۔ صوبے دار اور اس کے جواں سال بیٹے مہ ناز کو ڈھونڈتے ہیں تا کہ اسے کاری کر کے مار سکیں۔ لیکن وہ ان کے ہاتھ نہیں آتی۔ حالات سنگین صورت حال اختیار کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے علی بخش صوبے دار سے ایک معاہدے کے تحت اس کی بیوی کو اس کے پاس واپس بھیج دیتا ہے۔ صوبے دار مہ ناز سے اپنی شدید محبت کی وجہ سے اسے دوبارہ قبول کر لیتا ہے اور اپنے بیٹوں کو اسے قتل کرنے سے روک دیتا ہے، یوں مہ ناز کاری ہونے سے بچ جاتی ہے اور علی بخش پر بھی کوئی آنچ نہیں آتی۔ یہ کہانی ناول ”دھنی بخش کے بیٹے“ میں ایک ضمنی قصے کے طور پر آتی ہے اور ختم ہوجاتی ہے۔

جیم عباسی نے بہت تھوڑے عرصے میں اردو فکشن میں اپنا مقام بنایا ہے۔ ان کے افسانوں کی پہلی کتاب میں کارو کاری کے حوالے ایک شان دار طویل افسانہ شامل ہے جس کا نام ہے ”مونچھ میں اٹکے آخری قطرے کی کہانی“ ۔ یہ دیہی سندھ میں رہنے والے ایک سادہ لوح شخص کی کہانی ہے جو اپنی پہلی بیوی کی ناگہانی موت کے بعد دو بچے ہونے کے باوجود تنہائی کا شکار ہے۔ اس کے خاندان اور گاؤں میں کوئی عورت ایسی نہیں جس سے وہ شادی کرسکے۔ وہ ایک دوست کے ذریعے پیسوں کے عوض کسی دوسرے قبیلے کی لڑکی بیاہ لاتا ہے جو اس کے من کو بھا جاتی ہے۔ شادی کو کافی عرصہ گزرنے کے باوجود جب ان کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو وہ کچے کے علاقے سے کشتی پارکر کے ایک بزرگ کے مزار پر جاتے ہیں واپسی پر کشتی ڈوب جاتی ہے۔ اس کی بیوی کی جان اس کے گاؤں کا ایک شخص بچا لیتا ہے لیکن اس کے گاؤں والے اس بات کا بتنگڑ بناتے ہیں اور اس کی بیوی پر اس آدمی کے ساتھ کاری ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ وہ طعن و تشنیع کے ذریعے گُلو کے جذبات کو اتنا زیادہ انگیخت کرتے ہیں کہ وہ غصے میں آ کر اپنی دوسری بیوی کو قتل کر دیتا ہے۔ جیم عباسی نے اپنی اس کہانی میں سماج کے منفی اور گھناؤنے کردار کی عمدگی سے عکاسی کی ہے جو ایک معصوم سیرت انسان کو شیطان میں تبدیل کر دیتا ہے۔

میرے ناول ”میرواہ کی راتیں“ پر سندھی کے شاعر اور ادیب علی آکاش نے اپنے مضمون میں لکھا کہ یہ ناول پڑھتے ہوئے اسے لگتا رہا کہ اس ناول کا موضوع کارو کاری ہے۔ اس کے بقول، ناول کے مطالعے کے دوران کئی موڑ ایسے آئے جب اس نے سمجھا کہ اب ناول کا مرکزی کردار نذیر پکڑا جائے گا اور دیگر سندھی ناولوں کی طرح اسے کارا کر کے مار دیا جائے گا لیکن یہ واقعہ آخر تک پیش نہ آنے پر اس کی حیرانی بڑھتی چلی گئی۔

میرے افسانے ”ایک وڈیرے کی کہانی“ جو ادبی رسالے سویرا میں شایع ہو چکا ہے، ایک وڈیرہ اپنی بیوی اور بچوں کے تلخ رویے سے نالاں ہو کر بھٹ شاہ پر اپنی زندگی کے آخری سال گزارنے کے خیال سے، گھوٹکی سے اپنے بہترین قسم کے بھاری بھرکم سوٹ کیس کے ساتھ سفر کر کے، حیدرآباد کے اسٹیشن پر اترتا ہے۔ اسٹیشن پر اچانک اس کی ملاقات اپنے ایک پرانے گوٹھائی سے ہوجاتی ہے جو کبھی اس کا جگری دوست رہ چکا تھا۔ اس کا دوست گاؤں سے ایک لڑکی کے ساتھ سے فرار ہو گیا تھا اور وڈیرے نے تب فرار ہونے میں اس کی مدد کی تھی۔ گاؤں والے آج تک لڑکی اور اس کی جان کے پیاسے ہیں اور ان دونوں کو کارو کاری کر کے مارنا چاہتے ہیں۔ اسی خوف سے وہ کبھی گھوٹکی واپس نہیں گیا لیکن آج بھی مارے جانے کے خوف کے سائے تلے گزار رہا ہے۔ وہ حیدرآباد میں امریکن کوارٹرز نامی ایک غریب سے علاقے میں رہتا ہے۔ وہ وڈیرے کو زبردستی اپنے گھر لے جاتا ہے۔ وڈیرے کو اس کے دو کمروں کے گھر میں گھٹن کا احساس ہوتا ہے لیکن بھنگ پینے کے بعد یہ احساس جاتا رہتا ہے۔ اس کا دوست اپنی بیوی اور دو بیٹوں کے مل کر نیم آسودہ زندگی گزار رہا ہے۔ وہ اور اس کے بیٹے مل کر مزدوری کرتے ہیں اور اپنا گھر چلاتے ہیں۔ اس کے بیٹے اور بیوی اس کی عزت کرتے ہیں۔ وڈیرے کو ان کی زندگی اپنی زندگی سے بدرجہا بہتر محسوس ہوتی ہے۔ اس کی جاگیر دار بیوی اس سے بدتمیزی کرتی ہے کیوں کہ وہ اپنی ساری زمین عیاشیوں میں اڑا چکا ہے اور اس کی بیوی اپنی زمین میں سے ایک ایکڑ بھی اسے دینے پر تیار نہیں ہوتی۔ اس کے بیٹے اسے گالیاں دیتے رہتے ہیں۔

اگلی صبح وہ اپنے دوست سے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ کچہری میں کسی کام سے آیا ہے اور واپس آنے کا جھوٹا وعدہ کر کے اپنا قیمتی کپڑوں سے بھرا ہوا سوٹ کیس اس کے گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس کا دوست اس کے ساتھ کچہری جانا چاہتا ہے مگر وہ اسے ساتھ چلنے سے روک دیتا ہے اور گاڑی کھاتہ کے علاقے میں اس سے الگ ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بھٹ شاہ جانے کی والی بس پر وہ اپنی چشمِ تصور میں اپنے دوست اور اس کے بیٹوں کو نئے نویلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھتا ہے اور خوشی سے نہال ہوجاتا ہے۔

جب تک ہمارے معاشرے پر خواتین پر انسانیت سوز مظالم ہوتے رہیں گے، اس کے خلاف لکھا بھی جاتا رہے گا۔ جب تک ہمارا معاشرہ عورت کو مساوی حقوق اور مقام نہیں دے گا، اپنے تعصب، نفرت اور انتقامی جذبات ختم نہیں کرے گا اس وقت تک ہمارے معاشرے کی حقیقی ترقی ممکن ہی نہیں ہے۔ اذیت ناک اور ظالمانہ سزائیں عورت کے وجود کو ختم نہیں کر سکتیں۔ ہماری آج کی عورت اپنی آزادی کی جدوجہد میں چند قدم اگے بڑھ چکی ہے اور مزید پیش قدمی میں مصروف ہے لیکن حقیقی آزادی کی منزل اب بھی کافی دور ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments