مہابھارت کا ریویو


7۔ مہابھارت لیڈرز بنانے کے ”میڈ اِن کرائسز“ فارمولے پر یقین رکھتی ہے۔ تجربات، ہجرت، جنگ، گمنامی، بن باس، ادب، فقیر ہو جانے وغیرہ کی بھٹیوں سے گزار کر وہ بادشاہ بناتی ہے۔

8۔ مشکل سائنسی تصورات کو بڑی چابک دستی سے سادہ کر کے بتایا گیا۔ اس کا مطلب ہے ہزاروں سال پہلے بھی لوگ سائنس میں ماہر تھے۔ کہتے ہیں کہ علم کی معراج یہ ہے کہ مشکل ترین چیزوں کو سادہ کر دیا جائے۔ آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ اگر تم آٹھویں جماعت کے بچے کو سمجھا نہیں سکتے، تو سمجھو کہ تمہیں خود بھی سمجھ نہیں آئی۔ ایک ڈائیلاگ ہی لے لیں ”یہ سورج کی ہی توانائی ہے جس نے زندگی کو تھاما ہوا ہے“ ۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ اگر سورج چھپ جائے تو فوٹو سنتھیز رکنے سے پودے اور غذا ختم ہو جائیں گے۔ چرند پرند دو سے تین مہینوں میں منجمد ہو جائیں گے۔

9۔ دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں بہت مشترک چیزیں ہے۔ مثلاً ”یدھشٹر نے غسل کر کے اپنے آپ کو پاک کیا۔ اپنے خیالات کو سورج دیوتا کی جانب مرکوز کیا۔ اس کے 108 ناموں کا جاپ کیا۔“ مسلمان اللہ کے 99 ناموں کا کرتے ہیں۔ اسی طرح سورج دیوتا اور کنتھی کے درمیان گفتگو سے کَرن پیدا ہوا۔ ابراہیمی مذاہب میں حضرت زکریا نے جب اللہ سے کلام کیا تو شدید بڑھاپے کے باوجود اللہ نے انہیں بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ حضرت عیسیٰ بھی بغیر باپ سے صرف ماں سے پیدا ہوئے۔ حضرت مریم نے اللہ سے رجوع کیا اور اللہ کے حکم سے جبرائیل نے ان میں اللہ کی روح پھونکی اسی لیے عیسیٰ روح اللہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

10۔ معافی ہی بھگوان ہے اور سچائی ہے اور یہ محض الوہی یگانگت اور مہربانی ہی ہے جس نے کائنات کو تھاما ہوا ہے۔

11۔ مہا بھارت محبت کا سبق دیتی ہے۔ اور کرداروں کے مکالمہ کے ذریعے اس پیغام کو قاری کے ذہن میں وقتاً فوقتاً پختہ کرتی رہتی ہے۔ مثلاً ”یہ محض یگانگت اور مہربانی ہے جس نے کائنات کو تھاما ہوا ہے“ ۔ اور ”ناراضگی دنیا میں ہونے والی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے“ ۔

12۔ تقدیر اور تدبیر پر مقالہ بہت مزے کا ہے ”بھگوان ایک کھیل کھیلتا ہے“ اور سائیکالوجی میں بھی یہ بحث ”فطرت بمقابلہ تربیت“ (نیچر ورسز نرچر) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ مہا بھارت نے تقدیر کے زور کو اس خوبصورت مکالمہ میں بند کر دیا ہے۔ ”اس نے ہر چیز دوسری چیز کو تباہ کرنے کے لیے بنائی ہے اور وجود اس کا شے سے یوں لطف اندوز ہوتا ہے جیسے بچہ مٹی کی گڑیا سے۔“ یہ ہمیشہ سے چلی آنے والی بحث ہے نہ صرف مذہب بلکہ سوشیالوجی اور ادب میں بھی۔

میر تقی میرؔ اِسی باب میں تقدیر پر اپنا پورا وشواس کرتے ہوئے کہتے ہیں
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

13۔ عقل کا تقاضا ہے جوئے میں جتنا سرمایہ داؤ پر آپ نے لگایا ہے، دیکھیں کہ کیا فریق ِ مخالف نے بھی اتنا ہی لگایا ہے۔ یہ ایک پبلک پالیسی ڈاکٹرائن بھی ہے کہ ممالک کوئی بھی خطرے سے بھرپور پالیسی اپنانے سے پہلے سوچیں۔ اگر ہم نے کراچی میں کئی لسانی گروہ بنانے، سپاہ صحابہ اور افغان جنگ اور دیگر کتنی ہی پالیسیوں کو اپنانے سے پہلے یہ سوچا ہوتا تو ہمارے ملک کا حال بہت بہتر ہوتا۔ یدھشٹر جوا ہار رہا ہے لیکن رہی سہی دولت، سلطنت اور رشتہ داریاں لگاتا جا رہا ہے۔ اس بات پر قاری کو سخت غصہ آتا ہے لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا ہم اپنی زندگی میں کئی دفعہ ایسا نہی کرتے؟ ہارتے جا رہے ہوتے ہیں لیکن سب کچھ داؤ پر لگاتے جا رہے ہوتے ہیں۔ حکومتی پالیسیز میں تو بالخصوص یہی ہوتا ہے۔ آپ پی آئی اے، سٹیل مل، پاور کمپنیز، ریلوے وغیرہ کو ہی دیکھ لیں کیا آئے روز یدھشٹر اور دریودھن کا جوئے والا سین نہیں ہو رہا ہوتا؟

14۔ مشترک احباب اگر مخلص ہوں تو سرمایہ ہوتے ہیں۔ بدترین حالات میں بھی مکالمہ کروانے والے لوگ چاہیے ہوتے ہیں۔ ویدورا، بھیشم، ویاس اسی طرح کے مذاکرات کے مواقع فراہم کرنے والے (نیگوشی ایٹنگ ٹیبل پرووائڈر) ہیں۔ ان لوگوں نے پوری کوشش کی کہ جنگ نہ ہو لیکن دریودھن (بادشاہ کے سب سے بڑے بیٹے ) کی پہاڑ جتنی انا نے جنگ کروا کر ویدورا کی پشین گوئی پوری کر دی کہ اس جنگ کے نتیجے میں کوروؤں کی پوری نسل ختم ہو جائے گی۔

15۔ دھرت راشٹر (بادشاہ) مثالی شخص بالکل نہیں۔ وہ عام زندگی کا آدمی ہے یعنی میری اور آپ کی طرح کا۔ غصے میں ویدورا جیسے قیمتی فصیح و بلیغ مشیر کو رد کر کے نکال دیتا ہے۔ پھر واپس بھی بلا لیا ہے۔ اس کو اچھی نصیحت کی قدر بھی ہے، لیکن اپنی انا اور خوف کے تحت فیصلے بھی کیا کرتا ہے۔ پھر لوگوں سے توقع کرتا ہے کہ اس کے احساس ِ گناہ (گِلٹ) کو ختم کرنے کے لیے بتایا جائے کہ یہ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ان کے مقدر کا لکھا ہوا تھا۔ وہ اپنی خامیوں کو بھی جانتا ہے کہ وہ فیصلہ کرنے میں کمزور ہے۔ وہ ضمیر کی تسکین بذریعہ بیرونی توثیق (ایکسٹرنل ویلیڈیشن) چاہتا ہے۔

”وہ اپنے ضمیر کی تسکین چاہتا تھا اور ویدورا سے وہ ایسی ہی باتوں کی توقع کر رہا تھا کہ پانڈو بالکل ٹھیک ہوں گے، جلاوطنی ان کے مقدر میں لکھی تھی اور دھرت راشٹر ذاتی طور پر کسی بات کا ذمہ دار نہیں ہے“ لیکن ویدورا نے ہمیشہ کی طرح اسے کھری کھری سنائیں اور اپنی بات دہرائی کہ اگر بادشاہ اپنے گھر کو تباہی سے بچانا چاہتا ہے، تو اسے دریودھن کو باہر پھنکوا دینا چاہیے۔ بعد میں یدھشٹر سے ملاقات میں ویدورا نے اپنی نصیحت کے جواب میں بادشاہ کے ردعمل کا منظر یوں کھینچا۔

”جیسے کوئی بیمار آدمی دوا سے نفرت کرتا ہے۔ اسی طرح کی کیفیت میرے الفاظ سن کر بادشاہ پر طاری ہو گئی۔ جس طرح ایک الہڑ دوشیزہ ستر سالہ آدمی کی پیش رفت کو ٹکرا دیتی ہے، اسی طرح دھرت راشٹر نے میری نصیحت کو ٹھکرا دیا، وہ کہنے لگا،“ تم ہمیشہ کے لیے چلے جاؤ، مجھے دنیا پر حکومت کرنے کے لیے تمہارے مشورے اور رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے۔ وہاں چلے جاؤ جہاں تمہاری نصیحتوں کی ضرورت ہے۔ کہیں بھی جاؤ لیکن یہاں سے چلے جاؤ، اب فوراً دفع ہو جاؤ۔ ”

ویدورا کو بادشاہ نے نکال تو دیا لیکن جب سے اس نے ویدورا کو نکالا ہے، وہ اپنے قابل وزیر کے جدا ہونے پر اتنا پریشان ہے کہ بادشاہ دربار میں بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے۔

وہ سخت مضطرب ہے اور افسوس کرتا رہتا ہے۔ بلند آہنگ خود کلامی میں دھرت راشٹر کہتا ہے ”میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے عضو کو کاٹ دیا۔ میں کیسے زندہ رہ سکتا ہوں؟ کیا وہ مجھے معاف کر دے گا؟“ جاؤ اور ویدورا جہاں کہیں بھی ہے اسے ڈھونڈ کر لاؤ۔ بالآخر ویدورا کو واپس بلایا جاتا ہے۔ بعد کی ہندوستانی تاریخ میں یہ بلبن کی واپسی ہے، جس کے بعد تاریخ کا دھارا ہی بدل گیا۔

16۔ جس طرح پہلے بتایا گیا ہے کہ مہا بھارت فلسفے کی دقیق گہرائیوں میں مکالمے کے ذریعے پہنچی ہے۔ یکش اور یدھشٹر کا مکالمہ بڑا جاندار ہے اور زندگی کے کئی اسرار و رموز سے آگہی دیتا ہے۔ یہ ایک بہت موثر اسلوب ہے۔ اسی اسلوب کو مولانا جلال الدین رومی نے بھی اپنی مثنوی میں اختیار کیا ہے۔ مکالمہ کا ایک حصہ قاری کی نظر:

”جو بیجتے ہیں ان کے لیے کیا اہم ہے؟ جو کامیابی چاہتے ہیں ان کے لیے کیا ضروری ہے؟“ اس سے قبل کہ یدھشٹر ”بارش“ کہہ کر پہلے سوال کا جواب مکمل کرتا ساتھ ہی اسے اگلے سوال کا جواب ”اولاد“ بھی دینا پڑتا۔ ”

یکش پوچھے جا رہا تھا، ”دھرتی سے بھاری کیا چیز ہے؟“
”ماں“
”بہشت سے بلند؟“
”باپ“
”ہوا سے تیز؟“
”ذہن“
”کیا چیز آنکھیں کھول کر سوتی ہے؟“
”مچھلی“
”کیا چیز پیدا ہونے کے بعد بھی ساکت رہتی ہے؟“
”انڈا ’
”جلا وطنی کا دوست کون ہے؟“
”راہ میں ملنے والا ساتھی“
”مرنے کے بعد کسی کا دوست کون ہوتا ہے؟“
”زندگی میں کسی نے جو کوئی نیکی کی ہوتی ہے“
”وہ کون سا دوست ہے جسے تم خدا کی طرف سے ملنے والا تحفہ کہہ سکتے ہو؟“
”ایک اچھی بیوی“
”کسی کا سب سے اہم فریضہ کیا ہے؟“
”برائی سے بچا رہے“

سوالوں کا اگلا سلسلہ کسی چیز سے باز رہنے کے متعلق تھا۔ یدھشٹر نے جواب دیے : ”غرور، اگر کوئی اس سے بچا رہے تو ہر ایک اس سے متفق ہو گا“

غصہ، اگر چھوڑ دے تو کبھی مایوسی یا رنج نہ ہو گا ”
خواہش، اگر چھوڑ دے تو کوئی امیر ہو سکتا ہے۔
لالچ، اگر کوئی چھوڑ دے تو اسے خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔

دل کا اصل اطمینان۔ رحم۔ تمام مخلوقات کے لیے سلامتی اور خوشی کی خواہش۔ جہالت کسی کے فرائض کو نہیں دیکھتی۔ دوسروں کے ساتھ بدکلامی کرنا بدمعاشی ہے۔ ”

ایک پیدا ہونے والا برہمن، اگرچہ اس نے ویدوں کا علم حاصل کیا ہو، لیکن اس کا دل صاف نہیں تو اس کو نیچ ذات سمجھنا چاہیے۔ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar