مہابھارت کا ریویو


مہابھارت قدیم متحدہ ہندوستان کی ایک انتہائی طویل اور ضخیم منظوم کتاب ہے۔ جو کہ پاکستان، بنگلہ دیش، موجودہ انڈیا، سری لنکا اور نیپال کا مشترکہ ورثہ ہے۔ اس کی اٹھارہ جلدیں اور پچیس لاکھ الفاظ ہیں۔ یہ ہندو مذہب کی بہت ہی مقدس کتاب ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک قدیم عالمی جنگ کی داستان ہے جو جدید سائنس کے مطابق 900 قبل مسیح لڑی گئی۔ یہ جنگ ہستنا پور کے بادشاہ دھرت راشٹر مع اس کے سو بیٹوں جن کو ”کورو“ کہا جاتا ہے اور اس کے سگے بھتیجوں جن میں سب سے بڑا ”یدھشٹر“ ہے اور انہیں ”پانڈو“ کہا جاتا ہے، کے درمیان لڑی گئی۔ انسانی کردار کی کمزوریوں پر اس سے خوب صورت کتاب میری نظر سے نہیں گزری۔ جس صفائی سے ان کمزوریوں کو اور پھر خوبیوں کو
Reveal, relay and relate
کیا گیا ہے، کمال ہے۔ یاد رہے کہ بھگوت گیتا بنیادی طور پر ”مہا بھارت“ کا حصہ ہے۔

چیدہ چیدہ نتیجہ خیز نکات ہم یوں بیان کر سکتے ہیں۔

1۔ اکثر انسان نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں لیکن اولاد بہت بڑا امتحان ہے۔ دھرت راشٹر اولاد کے ہاتھوں مجبور رہا۔ اور نہ چاہتے ہوئے اسی ظلم کا حصہ بنا رہا۔ وہ اپنے کمینے بیٹوں کو ”رد“ نہیں کر سکتا تھا۔ دوسرے مذاہب نے بھی اولاد کو امتحان قرار دیا ہے۔ سورۃ التغابن کی آیت 15 ہے : تمھارے اموال اور اولاد بس تمھارے لیے ایک آزمائش کی چیز ہے۔

2۔ ہر گھر میں اچھے اور برے دونوں موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ کوروؤں کا سب سے بڑا بھائی دریودھن شیطان تھا اور اس کے بھائی وکرن نے انصاف اور اعلی قدروں کی بات کی۔

3۔ بڑے بھائی اور ماں کے احکامات کی تکمیل غضب ناک حد تک کی گئی، جو آج بھی انڈو پاک کے معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہاں تک کہ بڑا بھائی سارے (پانچ) بھائیوں کو جوئے میں ہارتا رہا اور انہوں نے اُف تک نہ کی۔ یہاں تک کہ یدھشٹر بیوی کو ہار گیا۔ شاید یہیں سے بے چارے جواریوں پر ضرب المثل پھبتی شروع ہوئی کہ وہ بیوی کو بھی جوئے میں ہار سکتے ہیں۔

4۔ مکاری سے بھری عاجزی اور انا کو ضرب لگانا، غلیظ موقع پرست لوگوں کا ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ جب جوئے کے گُرو اور دریودھن کے ماموں ”سکونی“ نے کہا کہ سوتیلوں کو تم نے شرط پر لگایا لیکن سگوں کو نہیں لگاؤ گے تو، تیر ٹھیک نشانے پر لگا اور یدھشٹر نے دو سگے بھائیوں کو بھی جوئے پر لگا دیا۔ جانبداری کی تہمت لگا کر سکونی نے سوچا کہ ہر دو صورتوں میں یدھشٹر یا پانڈوؤں کا نقصان ہو گا۔ سگے بھائیوں کو شرط میں ہارے گا، یا بھائیوں میں پھوٹ ڈل جائے گی۔ یدھشٹر اس تعریض پر بہت تلملایا اور اس نے چیختے ہوئے کہا، ”تمہارا شیطانی دماغ کیسے کام کرتا ہے! تم مجھ پر جانبداری کی تہمت لگا رہے ہو اور ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہو۔“

سکونی نے بہت مکاری سے عاجزی کا تاثر دیتے ہوئے جھک کر کہا، ”مجھے معاف کر دو اے بادشاہ! تمہیں معلوم ہے کہ جب جواری جیت رہا ہوتا ہے تو جو اس کے ذہن میں آتا ہے وہ بک دیتا ہے۔ وہ ایسے الفاظ بھی کہہ دیتا ہے جن کو خواب میں بھی کہنے کا تصور نہیں کیا جا سکتا، میری اس بچگانہ حرکت کے لیے مجھے معاف کردو۔“ ایک اور جگہ اس نے یدھشٹر کی انا کو ضرب لگائی ”اے بادشاہ تم بازی ہار چکے ہو۔ میں تمہیں وقت دیتا ہوں کہ تم اپنی زیر ملکیت چیزوں کو یاد کرو اور انہیں مجھے بتاؤ۔ یدھشٹر نے تڑپ کر جواب دیا“ میرے پاس مویشی، گھوڑے اور بھیڑیں ہیں۔ سندھو کے ریوڑوں میں ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ”یہ یدھشٹر نہی بلکہ پانڈو بھائیوں کی مجروح انا چیخ کر ہمکلام تھی۔ اکہارٹ ٹولے نے اپنی شاندار کتاب Power of Now میں سچ کہتا ہے۔ “ انا مسائل چاہ رہی ہوتی ہے ”

5۔ جوئے کی تباہ کاریوں پر بہت خوبصورتی سے لکھا گیا ہے۔ جواریوں کی فطرت کے مطابق اس (یدھشٹر) نے اپنی آخری کوشش کرنے کا سوچا۔ جواری بہت زیادہ اور جلدی پانے کے لیے سب کچھ ہار جاتے ہیں اور نقصان کو واپس لینے کے لیے مزید نقصان کرتے ہیں۔ نقصان کو قبول کر لینا بھی بہت بڑی بات ہے۔ سلطنت ہار دینا، پانچ بھائی، بیوی، 12 سال کا بن باس اور اس پر مستزاد ایک سال کی گم نامی۔ وہ بھی معلوم ہو گیا تو مزید 12 سال بن باس۔ ہارنے کے لیے باقی کیا رہ گیا تھا؟

6۔ امید و بیم کی کیفیت کو بڑی چابک دستی کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ غلط کر رہے ہونا اور ہلکی سی امید رکھنا کہ آخر کار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ دھرت راشٹر (بادشاہ) مضطرب رہتا ہے۔ وہ اولاد کے ہاتھوں اپنے پیارے بھتیجوں کی درگت روکنے کی طاقت ہونے کے باوجود ایک تماشائی کے طور پر دیکھتا رہتا ہے۔ لیکن بھتیجوں کو تکلیف میں بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہ سننا چاہتا ہے کہ پانڈو جو اس کے بھتیجے ہیں، ان کو کوئی گزند نہیں پہنچا۔ اسے طفل تسلیوں کی ضرورت تھی۔ جانتے ہوئے بھی وہ یہ مانگ رہا تھا۔ فرانسیسی ادیب ’انیس نن‘ نے اسی طرح کی صورت حال پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے ”وہ سچ نہیں چاہ رہے تھے بلکہ ایک ایسا دھوکہ چاہ رہے تھے جس کے ساتھ وہ زندہ رہ سکیں“ ۔ ہمارے ملک کا یہی حال ہے۔ دھرت راشٹر کی بیوی کا نام گندھاری ہے اور اس کا آبائی ملک ہے گندھارا۔ جو شومئی قسمت آج کا اسلام آباد ہے۔ 77 سالوں سے ہماری لیڈر شپ کی اکثریت بھی تباہ کن پالیسیوں پر گامزن ہے لیکن چونکہ دل میں ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی خواہش بھی ہے۔ تو باتوں کے سراب پر گزارہ کرتے ہیں۔ اس لیے میڈیا اور ماتحت عملے سے یہی سننا چاہتی ہے کہ ”ان کا پیارا ملک ٹھیک چل رہا ہے اور اسے کوئی گزند، کم از کم، ان کے ہاتھوں نہیں پہنچ رہا۔ اسی کو کہتے ہیں ’امید کے برخلاف امید رکھنا‘

خیر پانڈوؤں کو بن باس دینے کے بعد اُمید و بیم کی کیفیت میں، وہ (دھرت راشٹر) سخت مضطرب تھا اور اس کا ضمیر اُسے ملامت کر رہا تھا اور اُسے ایک ہلکی سی امید تھی کہ آخر کار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ جیسے ایک بھیانک خواب کے بعد ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا وزیر ویدورا اسے طفل تسلی دے لیکن ویدورا ڈنکے کی چوٹ پر سچ بولتا ہے۔ اور پانڈوؤں کے دارالحکومت سے نکلنے کے منظر کو یوں بیان کرتا ہے۔

”یدھشٹر ایک راست باز آدمی ہے اس نے اپنا چہرہ اس لیے ڈھانپا ہوا تھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر کسی نے اس سے آنکھیں ملائیں تو وہ شخص فوراً جل کر راکھ ہو جائے گا۔ وہ تمہارے بیٹوں اور ان کے دوستوں کو بری تقدیر سے محفوظ رکھنے کی خواہشات رکھتا ہے۔ بھیم اپنے پٹھوؤں اور ہتھیار کو اس لیے دیکھ رہا تھا کیوں کہ وہ چودہ سال بعد انہیں مناسب طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہاں مہا بھارت ایک دلچسپ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کسی چیز کی دستیابی بھی اس کی اہمیت ختم کر دیتی ہے۔ کئی مخلص لوگ صرف اس وجہ سے اپنے حق سے محروم رکھے جاتے ہیں کیونکہ وہ ہاتھ باندھے بادشاہ کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں اور ان کے اخلاص کے حصول کے لیے چونکہ بادشاہ کو کوئی خاص محنت نہیں کرنا پڑ رہی ہوتی ہے۔ ویدورا بادشاہ کو بتاتا ہے۔ تین دنیاؤں پر حکومت کرنے کی صلاحیت لیے یدھشٹر تمھارے حکم کا منتظر ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar