مہابھارت کا ریویو


جنگ کا میدان سج چکا ہے۔ فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اطراف عالم کے بادشاہ اور جرنیل اپنی فوجوں کے ساتھ اپنے اپنے اتحادیوں کے ساتھ سینہ ٹھونک کر کھڑے ہیں۔ لیکن یہ کیا؟ متوقع قتل و غارت اور خون آلود ماحول کا اور اپنی نسل کے اپنے ہاتھوں ختم ہو جانے کا سوچ کر یدھشٹر کو غشی کا دورہ پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ یدھشٹر ایک دور اندیش ہے۔ وہ جنگ سے پیدا ہونے والی ہولناکیوں سے آگاہ ہے۔ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اس کی امن قائم رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ آخری لمحے یدھشٹر اور ارجن اپنے چچا (بادشاہ دھرت راشٹر) ، استاد، دادا بھیشم اور عم زاد بھائیوں (کوروؤں ) کو دیکھ کر لڑائی سے بھاگتا ہے۔ اس کی جز بز حالت دیکھ کر بھگوان کرشنا (کرشن) جو رشی بھی ہے اور ”دوارکا“ کا بادشاہ بھی ہے اور یدھشٹر کا سب سے طاقتور اتحادی ہے، یدھشٹر کو طویل لیکچر دیتا ہے۔ یہ اتنی باکمال گفتگو ہے کہ بھگوت گیتا کے نام سے الگ سے ایک مقدس کتاب کی شکل میں محفوظ کر لی گئی ہے۔

کرشن نے یدھشٹر کو انسانی ذہن کی پیچیدہ خوبیوں کے بارے میں آگاہ کیا جو انسان کو مختلف قسم کے اعمال اور رد عمل کے لیے اکساتی ہیں۔ اس نے شخصیت کی حقیقی فطرت، اس کے دائرہ کار اور سماج، دنیا، بھگوان سے اس کے تعلق اور موت و حیات کے متعلق تفصیل سے بتایا۔ اس نے اسے مختلف قسم کے یوگ بتائے اور سمجھایا کہ کس طرح کوئی شخص طبعی جسم کے فنا ہونے پر روح کی لافانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ کرشن نے بار بار اس امر پر زور دیا کہ کسی شخص کو اپنا فرض منصبی کس طرح ادا کرنا چاہیے۔ وہ اسے انسانی ذہن کی پیچیدگیاں، عمل رد عمل کی نفسیات، نرگسیت پسندوں کے گھناؤنے افعال اور ان کی زندگی اور زندگی کو مدد دینے والے عناصر سے دشمنی، فتنہ کی طرف لگاؤ، حرص، مال و دولت جمع کرنے کی ہوس اور بہت کچھ بتاتا ہے۔

یہاں نظریہ وحدت الوجود پر ایک بہت خوبصورت منظر کشی ملتی ہے :

”کرشن، جسے وہ اب تک محض اپنا ساتھی سمجھتا رہا تھا، اس کی ہیئت منقلب ہونی شروع ہوئی۔ وہ بذات خود دیوتا تھا۔ کثیر جہتی اور ہر سمت پھیلا ہوا۔ وقت، مخلوقات، دوست اور دشمن سبھی یکساں طور پر زمین اور آسمان کے مابین چہار اطراف میں پھیلی ہوئی اس کی ہستی میں مدغم ہو گئے۔ جو افق تا بہ افق پھیلی ہوئی تھی۔ پیدائش، موت، قتل، تحفظ اور ہر عمل اس ہستی کا حصہ معلوم ہو رہا تھا۔ اس سے ماورا کچھ نہ تھا۔ تخلیق، تباہی، عمل اور بے عمل یہ سب چیزیں اسی ہستی کا پرتو نظر آ رہی تھیں۔“

یاد رہے کہ بہت سے مسلم اسکالرز بالخصوص خواجہ حسن نظامی، مولانا مظہر جان جاناں، مولانا عبدالوحید صدیقی، حافظ عبد القادر صاحب روپڑی وغیرہ لارڈ کرشن کو پیغمبر سمجھتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے 1917 میں اپنی کتاب ”کرشن بیتی“ شائع کی۔ بعد میں یہ کتاب ”کرشنا کتھا“ کے نام سے شائع ہوئی۔ وہ کہتے ہیں ”نوآبادیاتی حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے یہ الزامات اس لے لگائے ہیں کہ ہندوستانیوں کی کوئی تہذیب نہیں تھی، یہ دراصل غیر سنجیدہ اور جھوٹی باتیں ہیں۔“

قرآن کہتا ہے (فاطر: 25 )
ترجمہ:اور کوئی امّت نہیں مگر ضرور اس میں کوئی ڈرانے والا گزرا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (النّحل: 37 )
ترجمہ:اور یقیناً ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (الرّعد: 8 )
ترجمہ: اور ہر قوم کے لئے ایک رہنما ہوتا ہے۔

جب قرآن کی دوسری قوموں میں مبعوث انبیا کے بارے میں ان آیات کے پس منظر میں دیکھیں اور اکثریت کا ان ہستیوں کی تعظیم کرنا دیکھیں تو ان مسلم سکالرز کی تحقیق سے اتفاق کیے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

مولانا وحید الزمان صدیقی کہتے ہیں ”ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم دیگر انبیاء کی نبوت کا انکار کریں جن کا ذکر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں نہیں کیا اور کافروں میں تواتر کے ساتھ وہ معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نیک انبیاء تھے۔ جیسے رام چندر، لچھمن، کرشن جی جو ہندؤں میں ہے اور زرتشت جو فارسیوں میں ہیں اور کنفیوشس اور مہاتما بدھ جو چین اور جاپان میں ہے اور سقراط جو یو نان میں ہیں ہم پر واجب ہے کہ ہم یوں کہیں ہم ان تمام انبیاء پر ایمان لائے اور ان میں کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے اور ہم سب کے فرمان بردار ہیں۔“ ہدایۃ المہدی ص 85

پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق حفیظ جالندھری نے جہاں شاہنامہ اسلام لکھا ہے، کرشن جی کی شان میں بھی کم از کم دو نظمیں لکھی ہیں۔ ”کرشن کنھیا“ نظم کا آغاز یوں ہوتا ہے :

یہ نقش خیالی
یہ فکرت عالی
یہ پیکر تنویر
یہ کرشن کی تصویر
معنی ہے کہ صورت
صنعت ہے کہ فطرت
ظاہر ہے کہ مستور
نزدیک ہے یا دور
یہ نار ہے یا نور
دنیا سے نرالا
یہ بانسری والا
گوکل کا گوالا
ہے سحر کہ اعجاز
کھلتا ہی نہیں راز
کیا شان ہے واللہ
کیا آن ہے واللہ
حیران ہوں کیا ہے
اک شان خدا ہے

اقبال نے اپنی نظم ”سرگزشت آدم“ میں بھی شری کرشن کی تعریف کی ہے اور ان کی فکر کو پیش کیا ہے۔

البتہ ہندو انہیں یعنی کرشن کو پیغمبر نہی بلکہ خود خدا کی الہامی تجسیم (اوتار) سمجھتے ہیں۔ خدا کو ایسی چیز نہیں سمجھتے جو باقی مخلوقات سے الگ تھلگ ہو بلکہ خدا کو اجتماعی اور کل آگہی، اجتماعی اور کل قوت، اجتماعی و کل دانشمندی اور شعورِ کل کی انتہائی مرتْکز شکل سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں قاری لارڈ کرشنا (کرشن) کی اس منظر کشی سے زیادہ بہتر طور پر لطف اندوز ہوں گے۔

بہر حال صلہ رحمی کی یہ مثال یا انتھک کوشش اور باب میرے لیے ایک توانا یاد داشت کے طور پر ہمیشہ محفوظ رہے گا۔ بدترین حالات اور رشتے داروں کی زیادتیوں اور قتل کیے جانے کی کوششوں کے باوجود ان سے اچھا سلوک ہی صلہ رحمی ہے، جو ایک حدیث کے مطابق عمر میں اضافہ کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم انسان کھلے اور سخی دل کے ہوتے ہیں، بلکہ یہ ان کی روح اور دل کی سخاوت اور کھلا پن ہوتا ہے۔ جو ان کو مہان بناتا ہے۔ بونے لوگ طاقت اور اقتدار کے نشے میں چور ہو کر رشتوں اور تعلق کا تقدس بھول جاتے ہیں بقول جگر مراد آبادی

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے مے کدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے

ہماری مسلم تاریخ میں فتح مکہ صلہ رحمی کی درخشاں مثال ہے۔ باوجود جانی دشمنی اور کفر کے نبی آخر ﷺ نے رشتہ داری کے تقدس کو ملحوظ رکھا اور سارے مکہ کو عام معافی دے دی۔ ایک دوسرا واقعہ۔

جس قبیلے میں سیدہ شیما بنت حلیمہ سعدیہ (آپ ر ﷺکی رضاعی بہن) کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں جنگ میں گرفتار ہو گئے۔ سیدہ شیما ان کو چھڑانے حضور ﷺ کے خیمہِ نوری میں داخل ہوئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے۔ یاد رہے کہ اس وقت تک حضرت شیما مسلمان نہی ہوئی تھی۔ آپ ﷺفوراً اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا؟

کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں اُن کو چھڑانے آئی ہوں۔

حضور ﷺ نے بہن کے بیٹھنے کے لیے تعظیما اپنی چادر بچھا دی۔ فرمایا بہن تم نے زحمت کیوں کی۔ پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا۔

پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا۔ کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیما کو تحفے میں دے دیں۔

حضور ﷺ رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی۔ فرمایا اے صحابہ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دیے۔ آپ جو چاہیں کریں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی ارشاد تو فرمائیں۔ فرمایا! میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar