مہابھارت کا ریویو


17۔ تفریحی مشاغل، فطرت، درخت، اور جنگل اصل خوشی دیتے ہیں۔ تیرہ سال جب پانچوں پانڈو بھائیوں کو سلطنت چھوڑ کر فطرت کے درمیان رہنے اور اپنی بنیادی فطرت کی آواز ( کالنگ) کا کام کرنے کا ملا تو وہ بہت خوش تھے۔ لگتا ہے کہ بعد میں جس طرح شواز کیمپ کی خوفناک قید نے وکٹر فرینکل کو ”سرچ فار مِیننگ“ میں مدد دی تو پانڈوؤں کو بھی اس بن باس اور گمنامی کی سزا نے زندگی کا گہرا مفہوم دیا۔ اُن کو ”خوش ہونے اور رہنے کا“ قرینہ آ گیا۔

18۔ دریو دھن ایک نرگسی (نارسسٹ ) ہے کبھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ دوسروں کو مورد الزام کرتا ہے۔ وہ یدھشٹر اور باقی پانڈو بھائیوں کی خوبیوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور انہیں خوبیوں کو ان کے اوپر الٹ دیتا ہے۔ وہ اس کی جان بچاتے ہیں لیکن وہ اپنا کینہ ختم نہیں کر سکتا ہے۔ وہ اتنا کمینہ ہے کہ کرشن بھگوان سفیر بن کے آ رہا ہے۔ اس کو گرفتار کرنا چاہ رہا ہے۔ دریو دھن میں ظاہری اور مخفی نارسسٹ کی ساری برائیاں اور قباحتیں موجود ہیں۔ سب کو تباہ کر کے وہ پھر بھی اپنے آپ کو معصوم سمجھتا ہے اور لوگوں سے ایسے گلہ کرتا ہے۔

”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ہر وقت مجھے قصور وار کیوں ٹھہراتے ہیں، جیسے میں نے کوئی سفاکانہ کام کیا ہو۔ پانڈوؤں کو سکونی نے کھیل میں شکست دی جس کے باعث انہیں اپنی سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یدھشٹر کو کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ دوبارہ آ کر کھیلے؟ وہ مجھے اپنا دشمن کیوں سمجھتے ہیں؟ آخر کس وجہ سے؟ ان کی تقدیر کی خرابی اور کھیل میں نا اہل ہونے کی وجہ سے مجھے کیوں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟ اے کیسو! انہیں بتا دو کہ جب تک میری سانس میں سانس ہے، میں انہیں سوئی کے ناکے جتنی جگہ بھی نہیں دوں گا اور یہ حرف آخر ہے۔“

19۔ یدھشٹر ایک کوڈیپنڈنٹ ہے جو دوسروں کی ضروریات کو اپنی ذات پر مقدم رکھتا ہے۔ باوجود اسے پوری آگہی ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ بادشاہ کی تابعداری نہیں چھوڑتا۔ یہ غیر تعمیری اور غیر حقیقی وفاداری ہے۔

20۔ یہاں مذہبی لوگوں کے درشت طرز تکلم کو مہا بھارت نے بہت ہدف تنقید بنایا ہے۔ پانڈوؤں نے چن کر ایک فصیح و بلیغ اور علم الکلام پر حاوی سفیر بھیجا، جس نے دھرت راشٹر کے دربار میں پیغام تو بہت دبنگ پہنچایا لیکن اثر صفر ہوا۔ بلکہ منفی اثر پڑا کیونکہ اس کی گفتگو نے صرف کورووں کی انا کو ہوا دی۔ اس کے طرز تکلم پر بھیشم نے جو کہا وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے ”کتنی خوش قسمتی کی بات ہے کہ وہ لوگ امن چاہتے ہیں۔ تم نے جو کچھ کہا ہے، سب سچ ہے لیکن تمہارا لہجہ درشت ہے۔ شاید تم مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے لفظوں کو ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرتے ہو اور شاید تمہیں اسی لہجے میں بات کرنے کو کہا گیا ہو گا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ پانڈوؤں کو قانون کے مطابق ان کا حق واپس ملنا چاہیے اور اگر ارجن کو للکارا گیا تو وہ ناقابل تسخیر ہے۔“

مذہبی لوگ عموماً ایکس کتھیڈرا بولتے ہیں یعنی ایسے جیسا کہ نعوذ با اللہ خدا ان کی جیب میں ہے۔ یا خدا جنت اور جہنم اور سزا و جزا کے فیصلے ان مذہبی جنونیوں کے حکم پر لیتا ہے۔ بھئی جو فیصلے خود خدا نے اپنے ہاتھ میں ہونے کے باوجود قیامت تک مؤخر کر دیے ہیں، ان کے اوپر تبصرہ نہ کیا جائے۔

21۔ دریائے سندھ کی اہمیت پر قدیم ہندوستانی ادب میں بار بار زور دیا گیا ہے۔ چونکہ میرا خمیر بھی انڈس کے معاون دریاؤں کی مٹی (چناب) سے اٹھایا گیا ہے، تو میں ان اشلوکوں کو پڑھتے ہوئے ایک بہت بڑے ”کل“ سے جڑتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ ”سندھو“ جو ازل سے بہہ رہا ہے اور ابد تک بہتا رہے گا۔ پہاڑ، وادیاں، صحرا، شہر نہ جانے کس کس کو سراب کر رہا ہے۔ یہ محسوسات، جب آپ کارل ساگن کو سنتے ہیں، تو آپ میں پیدا ہوتی ہیں۔ جب یہ ذرہ بے نشاں انسان، ایک وسیع، پر پیچ کائنات سے اپنے آپ کو جڑتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔

22۔ سندھو کی اہمیت پر ایک اور خوبصورت مکالمہ ملاحظہ ہو۔ یدھشٹر جب اپنے ایک خبر رساں سے اپنے بھیجے گئے سفیر کے ساتھ کوروؤں کے سلوک کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ کہتا ہے ”ہمارے سفیر کو بہت اعزاز و اکرام سے رخصت کیا گیا ہے۔ اور اس کے رتھ کے آگے سندھو گھوڑے جتے ہوئے ہیں۔“ یعنی سندھو کے گھوڑوں کی سواری، عزت اور احترام اور پروٹوکول دینے کا عروج سمجھا جاتا تھا۔

23۔ انسانی رویے و جذبات کس طرح افراد، خاندان، معاشرے اور سلطنت بناتے ہیں اور بگاڑتے ہیں اس پر مہا بھارت نے اعلیٰ تبصرہ کیا ہے مثلاً

1۔ جس وقت کو ہم بھاری کہتے ہیں وہ ہے جب ہم جذباتی طور پر ذہین نہیں رہتے۔ ہمارے لیے ہمارے ہی عمل اور رد عمل پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔

2۔ مہا بھارت نصیحت کرتی ہے کہ ترش کلامی اس دنیا میں ہونے والے تمام تنازعات کی جڑ ہے۔ کسی سے سخت بات نہ کرو۔ چاہے بھائی ہو، عام آدمی ہو یا بادشاہ۔ یدھشٹر کو جب ایک نجومی بتاتا ہے

”میں نے حساب لگایا ہے اگلے تیرہ برس تمہارے لیے بھاری ہیں۔ عمل اور رد عمل پر قابو پانا مشکل ہو گا اور اس سے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تیرہ سالوں کے اختتام پر کھشتریوں کی تمام نسل ختم ہو جائے گی اور اس تباہی کا موجب تم ہو گے۔“

تو وہ اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ ”تیرہ سال تک میں کسی سے سخت بات نہیں کہوں گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، چاہے کوئی بادشاہ ہو، بھائی ہو یا عام آدمی۔ میں کوئی ایسی بات نہیں کروں گا جس سے لوگوں کے مابین تفریق پڑے۔ ترش کلامی اس دنیا میں ہونے والے تمام تنازعات کی جڑ ہے۔ میں ان کو نظر انداز کروں گا۔ شاید اسی طرح میں تقدیر کے لکھے کو ٹال سکتا ہوں۔“

3۔ جوا کھیلنا غیر اخلاقی کام ہے۔ یہ تلخی اور تنازعات کی طرف لے جاتا ہے۔ ہم کیوں خود کو اس برے کام میں الجھائیں۔ ہمیں معلوم ہے یہ کہاں لے جاتا ہے۔

4۔ ”لیکن ہم وہاں جائیں گے اور کھیلیں گے“ یہ کھشتریوں کے اصول کے خلاف ہے کوئی انہیں کھیل کی دعوت دے اور وہ اسے رد کریں (یہاں ثبوت ہے کہ اعلیٰ اصولوں پر مطلق عمل کرنا جب کہ وہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہوں، غلط ہے )

5۔ ”سفلے اور کم ظرف سے بھی درشتی سے بات نہ کرنا“ ۔ ترش بات نہ کرنے پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ ایک پانڈو بھائی غالباً بھیم دوسرے بھائی کو دریودھن کے ساتھ متوقع ملاقات کے حوالے سے کہتا ہے

”دریودھن سفلہ اور کم ظرف ہے لیکن اس کے ساتھ درشتی سے بات نہیں کرنی چاہیے۔ تم ان کے ساتھ ازراہ کرم نرم رویہ اختیار کرنا۔ اگر کوروؤں کی نسل ختم ہوتی ہے تو ہم سب ہی پر اثر پڑے گا۔“

6۔ ویدورا پانڈوؤں کو جلاوطنی اور بن باسی کے موقع پر بڑی اچھی نصیحت کرتا ہے جو ہم میں سے ہر شخص کے لیے اتنی ہی درست اور اہم ہیں۔

”دکھ اور مصیبتیں ہر آدمی پر ہزاروں کی تعداد میں دن رات آتی رہتی ہیں۔ لیکن اس کا اثر صرف وہی لیتے ہیں جو ناسمجھ ہوتے ہیں۔ تمہارے جیسے ذہین آدمی کو بدلتے ہوئے حالات سے پریشان نہی ہونا چاہیے۔ جن حالات میں تمہیں گھر سے بے گھر ہونا پڑا، سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑے، دربدر اور عزیز و اقارب سے جدا ہونا پڑا، یہ سب عارضی چیزیں ہیں۔“ اس نے اسے صبر اور مستقل مزاجی کے فلسفے کا درس دیا۔ اس نے چھپی ہوئی حقیقتوں کے ایسے گوشے بے نقاب کیے، جن سے کسی بھی شخص کو دولت، جوانی، حسن اور ملکیت جیسی چیزوں کی عارضی حیثیت کا ادراک ہو جاتا۔

جدید جذباتی ذہانت کے موضوع کا ایک بنیادی ستون زندگی میں پیش آنے والے مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا (ایڈورسٹی کوشنٹ) ہے۔ یہ نصیحت ایڈورسٹی کوشنٹ کو مضبوط بنانے کے گرد گھومتی ہے۔

7۔ انتہائی برے حالات میں بھی کرن، پانڈو ارجن کو اس کی توقیر کا واسطہ دے رہا ہے۔ یعنی کسی کی خوبی کو اس پر پلٹ رہا ہے۔ خوبی کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ یہ مہلک کن نرگسیت کی انتہا ہے، جب کہ اس کے بیٹے یعنی اپنے بھتیجے جو عمر میں 3 گنا کم ہے، اُس کو قتل بھی کر چکا ہے۔

دریو دھن آخری لمحے مرتے ہوئے بھی بدکلامی اور اس چیز کے طعنے دے رہا ہے جو خود کرتا رہا ہے مثلاً ران پر ضرب لگانے کو فریب کاری اور زیر ناف (بیلو دا بیلٹ) قرار دے رہا ہے۔ یہ نرگسی لوگوں کی پستی کا عروج ہوتا ہے کہ جو کام لمحہ موجود میں خود کر رہے ہوتے ہیں، وہ دوسروں کو اس کا طعنہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب کرشن، دریو دھن کو کہتا ہے :

”میں نے اس (جنگ) کو انجام تک پہنچا دیا ہے اور جنگ کو روکنے کے لیے، جو کہ بذات خود غیر ضروری ہے، کسی اقدام کو غلط نہیں سمجھتا۔ کم از کم اب آخری لمحات میں تو تم ندامت کا اظہار کردو۔“ تو دریو دھن جواب دیتا ہے :

”ایک قریب المرگ سے کینہ جوئی کی جائے۔ مجھے ان سب چیزوں کی پروا نہیں ہے۔ کیونکہ میرا مستقبل سورگ ہے، جہاں جنگجو پہنچتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے خیر خواہ وہاں موجود ہیں اور وہ مجھے خوش آمدید کہیں گے۔ تم اور تمہارے رذیل پانڈو زمین پر پابند رہیں گے اور آنے والے تمام کھشتری، تمہاری گھٹیا اور ناقابل اعتبار چالوں کو یاد کر کے تمہیں ٹھکرا دیں گے۔“ دریو دھن وہی دوسروں کو طعنے دے رہا ہے، جو خود کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar