مہابھارت کا ریویو
اب واپس مہابھارت کی طرف۔ مہا بھارت فلسفہ کی گئی گہری گتھیاں سلجھاتی ہے مثلاً معافی اور سزا و جزا کی بحث۔
یدھشٹر ایک سوال کرشن سے کرتا ہے کہ ”مجھے بتاؤ کہ کیا اندھا دھند معافی انصاف کے غصے سے بہتر ہے؟“ وہ جو تمام اسرار و رموز سے واقف تھا، نے جواب دیا، ”بچے! نہ تو جارحیت ہی ہمیشہ ٹھیک ہوتی ہے اور نہ ہی معافی۔ وہ جو ہمیشہ معاف کرتا رہتا ہے۔ خود بھی اذیت سہتا ہے اور اپنے متوسلین کے لیے ابتلاء کا سامان پیدا کرتا ہے۔ خدام، اجنبی اور دشمن اس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں۔ اس کی ناک کے نیچے سے اس کی چیزیں چرا لیتے ہیں بلکہ اس کی بیوی کو بھی لے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدطینت لوگوں پر کبھی رحمدلی کا اثر نہیں ہوتا۔ ناروا غصہ اور طاقت کا اظہار بھی اتنا ہی برا ہے۔ غصیلا اور متشدد و آدمی ہر ایک کی نفرت کا شکار ہوتا ہے اور ایسا شخص ہمیشہ اپنی بے اعتدالیوں کے نتائج سے متاثر ہوتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کوئی رویہ اپنایا جائے۔“
ایک اور موقع پر غالباً دروپدی۔ جو کہ خود بھی ایک بادشاہ (پانچال کے راجہ) کی بیٹی ہے اور امورِ ریاست کو سمجھتی ہے یدھشٹر سے کہتی ہے ”آدمی اس دنیا میں محض درگزر سے کام لے کر خود کو نہیں بچا سکتا۔ حد سے زیادہ درگزر ہی کا نتیجہ ہے جو تم اور تمہارے بھائی آج اس حال میں ہیں۔ بدحالی اور خوش حالی، دونوں صورتوں میں تم یکساں طور پر اپنے نظریات سے بری طرح چمٹے رہے۔“ یہاں دروپدی ایک جگہ بالکل روایتی بیوی کی طرح جو خاوند کی اچھی سے اچھی خوبی پر بھی تنقید اور تنقیص کرتی نظر آتی ہے، کہتی ہے ”تم اپنی اس خوبی کے دکھاوے کے لیے تینوں دنیاؤں میں مشہور ہو۔“
بھگوان کے کھیل پر دروپدی کا مکالمہ بڑا دلچسپ ہے
” مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون بھگوان سی ان دیکھی قوت ہے جس کے زیر اثر تم نے اپنی دولت، مملکت اور ہم سب کو کھونے میں ذرا بھی تامل نہ کیا اور یکبارگی ہمیں فقیروں اور آوارہ گردوں کی سطح پر پہنچا دیا۔ جب میں یہ سب کچھ سوچتی ہوں تو میرا ذہن گھوم جاتا ہے اور مجھ پر جنون سوار ہو جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سب بھگوان کی مرضی ہے اور جو کچھ بھی دنیا میں ہوتا ہے۔ اسی کی مرضی سے ہوتا ہے۔ ہماری حیثیت تو ان تنکوں کی سی ہے، جنھیں طوفانی ہوائیں اِدھر سے اُدھر اڑائے پھرتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ بھگوان فریب نظر پیدا کرتا ہے اور اس نے ہر چیز دوسری چیز کو تباہ کرنے کے لیے بنائی ہے اور وہ خود اس سارے تماشے سے اس طرح لطف اندوز ہو رہا ہے جیسے ایک بچہ اپنے مٹی کی گڑیا کو جوڑ اور توڑ کر خوش ہوتا ہے۔“
خیر گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔
یہاں ایک کامیڈی اِن ٹریجڈی ہوتی ہے، جب ایک دن جنگ میں کوروؤں کے ہاتھیوں نے اپنی فوجوں کو کچل دیا۔ بعد میں پورس کے ہاتھیوں نے بھی یہی کیا۔ یہ ایک طربیہ المیہ اس لیے ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ہتھیار، اپنے بنانے والوں یا اپنی ہی فوجوں پر الٹ پڑتے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں اسی اور نوے کی دہائی میں افغان وار کے لیے تیار کردہ مجاہدین، دیگر لسانی اور مذہبی تنظیموں کو دی گئی تربیت، فنڈنگ اور ہلہ شیری نے سال 2000 کے بعد وہ طوفان مچایا کہ الامان و الحفیظ۔ پاکستان کو اپنی بقا کے لالے پڑ گئے۔
مہا بھارت اس عجیب نشے کو بھی زیر علم لاتی ہے وہ ہے جدوجہد اور کشمکش کی لت لگ جانا (ایڈیکشن ٹو چیلنج اینڈ سٹرگل) ۔ یعنی فوری مقاصد کے حاصل ہونے کے بعد ایک ملول، افسردگی اور خالی پن کا احساس، جو کامیاب انسانوں کو اندر سے کھانا شروع کر دیتا ہے۔ اس موقع پر زندگی کو مفہوم دینے والا یا انسانی فلاح کا بہت بڑا کام، جان بچانے والی دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ ورنہ یہ ڈپریشن کئی دفعہ تو خودکشی پر منتج ہوتا ہے۔
دنیا کی کئی بڑی یونیورسٹیاں اور ہسپتال اور ادارے کامیاب لوگوں نے زندگی کو بھرپور معنی دینے کے لیے بنائے۔ سیلف ایکچولائزیشن ہے ہی یہی۔ ورنہ اکثریت جمع کر کر، جوڑ جوڑ کر، فتوحات کر کر کے ’ابراہم ماسلو‘ کی ضروریات کی درجہ وار تنظیم کے پہلے دو درجوں جسمانی اور حفاظتی (فزیالوجی کل اینڈ سیفٹی) سے اوپر اُٹھ ہی نہیں سکتے۔ یہ دونوں درجے بہرحال جانوروں کے لئے مخصوص ہیں اور انسان کے اپنے میمل پس منظر کی علامت ہیں۔ پاکستان کے بڑے ہسپتال گنگا رام، گلاب دیوی، اور این ای ڈی یونیورسٹی، ایدھی ایمبولینس اور پنگھوڑے اور اولڈ ہوم، چھیپا نیٹ ورک، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، اخوت فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن، آغا خان فاؤنڈیشن، سٹیزن فاؤنڈیشن، دارالسلام، انڈس ہسپتال، فاسٹ یونیورسٹی بھی اسی جذبے کی مثالیں ہیں۔
خیر یہ ڈپریشن یاپوسٹ ٹرامِک سٹریس ڈس آرڈر یدھشٹر میں در آیا ہے۔ یدھشٹر کا سگا بھائی بالآخر بھائی کی حد سے بڑھے رحم، گوشہ نشینی کی خواہش پر اس کے منہ پہ تنقید کرتا ہے : اور یہاں اس کا بھائی اسے سلطنت کی تعمیرِ نو کے ذریعے زندگی کے معانی ڈھونڈنے کو کہتا ہے۔ پہلی دفعہ دونوں بھائیوں کے درمیان تلخ کلامی ہو جاتی ہے۔ چھوٹا بھائی کہتا ہے ”تم پاگل ہو گئے ہو اور پاگل کی اطاعت نہیں بلکہ علاج کروایا جاتا ہے“ ۔ ”تمہاری حالت اُس آدمی کی سی ہے جو ایک کنواں کھودتا ہے۔ جب وہ مٹی میں لتھڑ جاتا ہے اور پانی پھوٹنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اپنی کوششیں ترک کر دیتا ہے۔ تم اُس آدمی کی طرح ہو جو اپنے تمام جانی دشمنوں کو ختم کرنے کے بعد خود کشی کر لیتا ہے۔ براہ کرم ہماری حالت پر بھی نظر ڈالو۔ تم اپنے نظریات کے لیے خود غرض ہو رہے ہو۔ گوشہ نشینی کی زندگی صرف ان بادشاہوں کو اختیار کرنی چاہیے جو کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوں یا پھر شکست خوردہ ہوں۔ اگر گوشہ نشینی اور مجہولیت بہت بڑی خوبیاں ہوتیں تو تمام مخلوقات میں سے درخت اور پہاڑ سب سے افضل ہوتے، جو چپ چاپ اور الگ تھلگ کھڑے رہتے ہیں اور کسی کی راہ میں مزاحم نہیں ہوتے۔“ کہتا ہے
”اس کا طبیب سے علاج ہونا چاہیے اور اس کے کسی بھی حکم کو نہیں ماننا چاہیے۔ میں تم سب سے زیادہ قابل رحم ہوں لیکن اب بھی میرے اندر زندہ رہنے کی خواہش موجود ہے، حالانکہ میں نے اپنے تمام بچے کھو دیے ہیں۔ تمہیں میری اور اپنے بھائیوں کی باتوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دیوتاؤں میں جو زیادہ ظالم ہیں ان کی زیادہ عزت کی جاتی ہے۔ ردر، سکنہ، اگنی اور درون، تمام کے تمام غارت گر اور قاتل ہیں۔ لوگ ان کے سامنے سہم جاتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی ایسی مخلوق نہیں ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر زندہ رہ سکے۔ جانور، جانوروں کے طفیل زندہ ہیں۔ طاقت ور اپنے سے کمزوروں کو کھا جاتے ہیں۔ بلی چوہے کو کھا جاتی ہے، کتا بلی کو کھا جاتا ہے اور چیتا کتے کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے اور پھر ان سب چیزوں کو موت ہڑپ کر جاتی ہے۔ یہاں تک کہ گوشہ نشین لوگ بھی بعض مخلوقات کو مار کر زندہ رہتے ہیں۔ پانی میں، ہوا میں اور سبزیوں میں کئی جاندار ایسے ہیں جو اس قدر چھوٹے ہیں کہ دکھائی بھی نہیں دیتے ہیں لیکن ایک تارک الدنیا شخص بھی جب غذا لیتا ہے تو ان جانداروں کی ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے“ ۔ یہ ڈائیلاگ ایک طرح سے جنگ کو جواز فراہم کرر ہے ہیں۔ یاد رہے کہ ہزار سال قبل مسیح بدھ مت نے عروج پکڑنا شروع کر دیا تھا۔ بدھ مت جنگ کو اور قتل و غارت کو بالکل غیر ضروری اور فضول سمجھتا تھا۔ لگتا یہ ہے کہ یہاں ہندو منت اس ابھرتے ہوئے چیلنج کو رد کرنے کے لئے دلائل دے رہا ہے۔ لیکن جنگ سے جھکی ہوئی انسانیت ”مہابھارت“ کی عالمی جنگ کے نتیجے میں جنگ سے اور متنفر ہو گئی اور بدھ مت اور پھیلا۔ یہاں تک کہ چندر گپت موریہ کے پوتے اشوک اعظم نے تیسری صدی قبل مسیح بدھ مت قبول کر لیا۔
جنگ کے آخر میں کوروؤں کی پوری نسل ختم ہو جاتی ہے۔ دھرت راشٹر کو اس وقت اپنے وزیر ویدورا کی یہ نصیحت تو بہت یاد آتی ہو گی اور وہ سوچتا ہو گا سب سے بڑے کمینے بیٹے دریو دھن کو ختم کر کے سلطنت بھی اور باقی ننانوے بیٹے بھی بچا لیتا۔
ویدورا نے عین جوئے کے کھیل کے عروج کے موقع پر جب دیکھا کہ سکونی (دریودھن کا پارٹنر اور جوئے کا گرو) پیچیدہ قسم کی چالیں استعمال کرتا رہا تھا اور کر رہا تھا تو اس نے بادشاہ کو ببانگ دہل نصیحت کی تھی ”کہ وہ ابھی اور اسی وقت دریودھن (اپنے سب سے بڑے بیٹے ) کو ختم کر دے۔ اس طرح تم اپنی پوری نسل بچا سکتے ہو۔“ اس نے کہا کہ
”وہ جو شہد کے حصول کے لیے چکرا دینے والی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ان کی پشت پر گہری کھائی ہے۔“ ویدورا نے اپنی بات جاری رکھی، ”اے بادشاہ تمہارے پاس دولت کی کمی نہیں اور تمہیں جوئے کے ساتھ دولت کمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر خود پانڈو ہی تمہاری طرف ہو جائیں تو یہ تمہارے لیے بڑی دولت ثابت ہو سکتی ہے۔ تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سکونی کو فوراً معطل کردو اور اسے کہو کہ وہ واپس اپنے ملک چلا جائے۔ پانڈوؤں کے ساتھ اس مقابلہ بازی کو فوراً ختم کردو۔“
وزیر کی نصیحت بہت اچھی تھی لیکن بھلا بادشاہ اتنی ببانگ دہل نصیحت سن سکتے ہیں؟ بقول شاعر
ناصح تجھے آتے نہیں آداب نصیحت
ہر لفظ ترا دل میں چبھن چھوڑ رہا ہے
اگر یہ منظر یاد کریں تو کچھ اس طرح تھا
بادشاہ دھرت راشٹر تو خاموش ہے لیکن دریو دھن یوں جواب دیتا ہے
”ہمیں کچھ بھی غلط نظر نہیں آتا۔ تم اپنے ضمیر کی پیروی کرو اور میں اپنے ضمیر کی پیروی کرتا ہوں، چاہے یہ مجھے تباہی کی طرف ہی کیوں نہ لے جائے۔ اگر ہم تمہارے مزاج کے مطابق نہیں ہیں تو تم جہاں خوش رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔“
ویدورا جیسا دانا اور مدبر مستقبل دیکھ رہا ہے۔ بدقسمتی سے کوتاہ نظر الٹا ایسے بندوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ویدورا، دریو دھن کو جواب دینے کی بجائے بادشاہ سے یوں مخاطب ہوتا ہے ”تم سمجھتے ہو کہ تمہارے بیٹے تمہارے خیر خواہ ہیں اور اگر تم ان کا ساتھ دے کر اپنی تباہی کو آواز دے رہے ہو تو میں تمہیں اس سے نہیں بچا سکتا۔ میری کوئی بھی نصیحت اس دوا کی مانند ہو گی جسے ایک بیمار آدمی مسترد کر دیتا ہے، ایک ایسا آدمی جو مر رہا ہو۔“
لیکن کیا کریں جنگ کی ہولناکیوں، کشت و خون، درد ناک انجام، جنگ سے پیدا ہونے والی غربت نے یدھشٹر کا دل اچاٹ کر دیا ہے :
خاص طور پر اسے دادا بھیشم کا خیال آیا جس کی گود میں وہ بچپن میں کھیلا تھا، وہ کہتا ہے ”جب میں نے سکندی کو اس پر حملہ کرتے دیکھا اور اس حملے کے وقت اسے کانپتے ہوئے دیکھا اور اس کے جسم کو تیروں سے چھدتا ہوا دیکھا اور اسے رتھ سے ایک کمزور مینار کی طرح گرتے دیکھا تو میرا سر چکرا گیا اور دل درد سے بھر گیا۔ اس نے ہمیں پروان چڑھایا اور ہم نے اپنی حرص کی خاطر اس کی تباہی کا بندوبست کر دیا۔ درونا، میرا استاد، جس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کمان پکڑنا سکھائی۔ میں یہ مناظر کیسے بھول سکتا ہوں اور ایسے بادشاہ بن سکتا ہوں؟“ وہ بار بار ایسی یادوں سے خود کو اذیت پہنچاتا رہا۔
آخرکار نظم بحال کر کے، کرشن کے مشورے پر یدھشٹر اپنے دادا (دادا کا بھائی) بھیشم جو بہت مضروب اور تیروں کے بستر پر پڑا ہے، کے پاس جاتا ہے۔ بھیشم علم کا ایک سمندر ہے۔ وہ بادشاہ کا بڑی شفقت سے استقبال کرتا ہے۔ کئی روز جاری رہنے والی ملاقات میں وہ ہر اہم علم یدھشٹر کو منتقل کر دیتا ہے۔ اور اپنی جان دے دیتا ہے۔ یدھشٹر اس کی رسومات گنگا کنارے ادا کرتا ہے جہاں دریا کی دیوی، گنگا، بھیشم کی ماں اس کی روح کو آ کر آسمانی گھر لے جاتی ہے۔ یدھشٹر برطرف بادشاہ اور اپنے چچا دھرت راشٹر کا بہت خیال رکھتا ہے۔ کچھ عرصے بعد دھرت راشٹر اپنی بیوی گندھاری کے ساتھ باقی زندگی جنگل میں گزارنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ یدھشٹر سارے انتظامات بھی کر دیتا ہے اور وقتاً فوقتاً چچا سے ملنے اور دیکھ بھال کرنے کے لیے جنگل میں جاتا رہتا ہے۔ آخر ایک روز جنگل میں آگ بھڑک اٹھتی ہے اور سابق بادشاہ اور اس کی وفا کی پیکر بیوی جل جاتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہو گا کہ گندھاری اپنے اندھے خاوند کی وفا میں ہمیشہ اپنی آنکھوں پر آہنی پٹی باندھے اور اپنے آپ کو جبرا اندھا بنا کے رکھے آئی ہے۔ یدھشٹر چھتیس برس حکومت کرتا ہے۔ اور بالآخر سورگ پہنچ جاتا ہے۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ہے کہ جذباتی ذہانت پر مہابھارت ایک شاندار کتاب ہے۔ اس کا انطباق یوں کیا جاسکتا ہے۔ اندھا بادشاہ دھرت راشٹر ”انا“ ہے جو اکثر سچ کو دیکھ نہیں پاتی یا جھوٹ کو جانتے بوجھتے ہوئے سچ سے کنارہ کر کے جھوٹ کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے۔ اس کے 100 بیٹے (کورو) سو قسم کے جذبات اور احساسات ہیں جن میں سب سے خطرناک دریودھن ”ہوس“ کا نام ہے۔ بادشاہ کا وزیر ویدورا اصل میں ضمیر کا نام ہے۔ جو ہر حال میں صحیح مشورہ دیتا ہے۔
پانچ پانڈو بھائی پانچوں حواس خمسہ ہیں۔ جن کو مکمل حاضر رکھیں تو وہ آپ کو ثابت قدمی دیتے ہیں۔ ان پانچ بھائیوں کی مشترکہ بیوی دروپدی ”عزت نفس“ کا نام ہے۔ کرشن اجتماعی بھلائی، دانش کل اور طاقت کل یعنی کائنات کی سب سے برتر ہستی کا نام ہے۔
کُنجِ حیرت سے چلے، دَشتِ زیاں تک لائے
کون لا سکتا ہے، ہم دِل کو جہاں تک لائے؟
میرؔ
(ختم شد)

