مہابھارت کا ریویو
8۔ مذاہب عالم میں مماثلت:
حضرت صالح کی اونٹنی کے ناجائز قتل پر قوم ثمود تباہ ہوئی۔ اسی طرح رشی کے گائے کے قتل کے برے اثرات کے طور پر پانڈو (پانڈو بھائیوں کا باپ جو اندھے بادشاہ دھرت راشٹر کا قائم مقام بھی رہا ہے ) کا ختم ہو جانا بہت ہی ملتے جلتے ہیں اور انسانوں کے مشترکہ سرمائے یعنی مذہب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ حضرت مریم کنواری ہیں۔ ان سے ایک بیٹے کا اللہ کی روح کے زیرِاثر پیدا ہونا اور یہاں بھی دیوتاؤں کی دعاؤں یا اثرات سے بیٹے پیدا ہونا (دھرت، راشٹر، پانڈو اور ویدورا) بھی کافی حد تک مماثل ہیں۔
بادشاہوں کے سادھو بنے کا دستور بہت پرانا ہے اور حقیقتاً یہ دل کی بادشاہی ہوتی ہے۔ یدھشٹر جنگ جیتنے کے بعد جنگلوں میں جانے لگا ہے۔ بعد میں چندر گپت موریہ نے بھی یہی کیا۔ اس نے یونانیوں کو شکست دی، ہندوستان سے باہر نکال کر بھرپور امن دے دیا۔ اچاریہ چانکیہ جیسے مدبر وزیر اعظم کے ساتھ ایک فلاحی ریاست بنا دی اور جب سکون اور عیش سے حکمرانی کرنے کا وقت آیا تو دو سو اناسی قبل مسیح میں اقتدار اپنے بیٹے کے حوالے کر کے سادھو بن گیا۔ ان سے پہلے حضرت گوتم بدھ یا بدھا نے بھی اقتدار کو لات مار کر جنگل کی راہ لی تھی۔ خود رام جی نے بھی چودہ سال بن باس لیا تھا۔ اسلامی تاریخ میں ہارون الرشید کے ایک بیٹے، حضرت ابراہیم بن ادہم اور معاویہ ثانی نے اقتدار کو لات مار کر عام زندگی یا درویشی اختیار کی ہے۔
رشتوں کی فطری کشش کیسے غالب آتی ہے۔
یدھشٹر باوجود طاقت رکھنے کے حتی المقدور جنگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لڑنا نہی چاہتا۔ جوئے میں دھاندلی کے ذریعے اس سے نہ صرف اس کی سلطنت چھین لی گئی بلکہ چودہ سال بن باس اور گمنامی کی سزا الگ سے ملی۔ بھرے دربار میں دروپدی کے کپڑے اتارنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ساری سزا پوری کرنے کے بعد اب حسب وعدہ ان کی (پانڈووں ) کی سلطنت واپس نہیں کی جا رہی۔
وجہ یہ ہے کہ وہ رشتے داری کے تقدس کو ملحوظ رکھ رہا ہے۔ اس کا فطری رحم، اس کو جنگ و جدل سے روک رہا ہے۔ یہاں اسے بھائیوں کی تنقید سننا پڑتی ہے۔ چالاک لوگ یدھشٹر کی فطری رحم دلی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا ایک بھائی ’تنگ آمد بجنگ آمد‘ کے بقول اسے کہتا ہے ”ہم نے شائستگی اور امن کے علاوہ کسی اور چیز کا مظاہرہ نہیں کیا، جب کہ دھرت راشٹر کے بیٹوں نے ہمیشہ حرص اور لالچ کا مظاہرہ کیا ہے اور اب اس کے مناسب حل کا وقت آ گیا ہے۔ تمام کائنات، فطرت کے قوانین اور زندگی کا دار و مدار عمل اور رد عمل کے توازن پر ہے ورنہ سب کچھ ختم ہو جاتا۔ راستی اور پارسائی کے اتنے ہی بڑے مبلغ ہو تو اس وقت تم تماشا کیوں دیکھتے رہے۔ جب دروپدی کو بھرے دربار میں رسوا کیا جا رہا تھا؟ اس وقت تم نے اخلاقیات پر کوئی سبق نہیں دیا تھا۔ کیا کرن کی بے ہودہ گوئی پر تم نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی؟ اب تم کیوں نیکی کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹ رہے ہو؟ پانڈو کے بیٹے دھرت راشٹر پر اعتماد کرنے کو تیار ہیں لیکن وہ جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔ اب فیصلہ دھرت راشٹر کے ہاتھ میں ہے۔“
یدھشٹر کا ذہن ایک حل نکالتا ہے۔ وہ جنگ سے باعزت طریقے سے بچنے کے لیے ایک نادر روزگار تجویز دے کر بادشاہ (چچا دھرت راشٹر) کے پاس سفارت بھیجتا ہے۔
یدھشٹر نے کہا، ”ہم سلطنت میں سے اپنا حصہ چاہتے ہیں اگر پورا نہیں تو کسی قدر ہی سہی۔ ہمیں پانچ گاؤں دے دو، ہر بھائی کے لیے ایک ایک، اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔ اس سے بھی ہمارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔“
لیکن دریودھن کی پہاڑ جیسی انا امن کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید پانڈو بہت کمزور ہو گئے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ”ہم سوئی کے ناکے جتنی جگہ بھی پانڈوؤں کو نہی دیں گے“ ۔
سفارت کا جواب جانا ہے۔ ولی عہد اور سب سے بڑا کورو بھائی دریودھن تقریباً جنگ کا فیصلہ لے چکا ہے۔ اس نازک اور بحرانی مرحلے پر اصل موضوع پر بات کرنے کی بجائے بادشاہ اپنے وزیر ویدورا سے لا یعنی قسم کی پیچیدہ فلسفیانہ گفتگو میں پوری رات گزار دیتا ہے۔ مثلاً
”دیوتا، سکون قلب رکھنے والے لوگ اور عالم، اعلیٰ خاندانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویدورا میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اعلیٰ خاندانوں سے ان کی کیا مراد ہے؟“
دیدورا نے فوراً کہنا شروع کیا، ”ترک دنیا، اپنے آپ کو خواہشات کا اسیر نہ ہونے دینا، ویدوں کا علم وغیرہ وغیرہ۔ وہ خاندان جن میں یہ ساتھ صفات ہوں گی اعلیٰ خاندان کہلاتے ہیں۔“
لیکن ویدورا کہاں باز آنے والا تھا۔ اس کی جہاں دانائی شک و شبہ سے بالاتر ہے وہاں بادشاہ سے حقیقی وفاداری بھی بے مثال ہے بلکہ خطرناک حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کیونکہ بادشاہ اس کا والد کی طرف سے بھائی ہے (ویدورا ایک لونڈی کے بطن سے ہے ) ۔ خطرناک اس لیے کہ کئی دفعہ یہ حقیقی وفاداری اس کے لیے مسئلے پیدا کر چکی ہے۔ وہ باتوں کے درمیان ایک ٹانکا فٹ کرتے ہوئے بادشاہ کو اس کی کنفیوژن کے بارے میں بالواسطہ آگاہ کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ”یہاں زندگی کے حوادث کا جو اثر انسانی ذہن اور نفسیات پر پڑتا ہے، یوں بیان ہوتا ہے : سنت سوجا کہنے لگا،“ آتما جو مسلسل مختلف شکلوں اور حوادث سے اثر انداز ہوتی رہتی ہے، اس پر دھند چھا جاتی ہے۔ ”“
”انا آپ کی دشمن ہے۔“ اپنے سگے رشتہ داروں سے جنگ کرنے سے بچنے کے لیے یدھشٹر اپنی انا کو ختم کر دیتا ہے۔ اَنا کی ان تباہ کاریوں پر جدید فلاسفر ’ریان ہالیڈے‘ نے ایک بہت خوبصورت کتاب لکھی ہے ”اِیگو از دی اینیمی“ اگر اَنا کو آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ ایک کمال کتاب ہے۔
یدھشٹر نے امن کے لیے اپنے حصے کی ساری سلطنت جس کا دارالحکومت اندر پرستھ ہے صرف پانچ گاؤں کے بدلے میں چھوڑنے کے لیے پیش کش کی ہے لیکن انا کا پہاڑ، دریو دھن جو مرض کی حد تک نرگسی ہے کہتا ہے۔ ”میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتا۔ یا تو میں پانڈوؤں کو ختم کر دوں گا اور دھرتی پر حکمرانی کروں گا یا پھر وہ مجھے تہ تیغ کر کے حکومت کریں۔ یا میں رہوں گا یا وہ رہیں گے۔ میں ہر چیز قربان کر سکتا ہوں لیکن پانڈوؤں کے پہلو بہ پہلو نہیں چل سکتا۔ اور میرے پیارے پتا جی! تم یہ بات جان لو کہ میں ایک سوئی کے ناکہ جتنا علاقہ بھی ان کو دینے کا روا وار نہیں ہوں۔ اس لیے اس فضول بحث میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔“
اب مشورے کے لیے دھرت راشٹر ویدورا سے سوال کرتا ہے :
”مجھے معلوم ہے کہ میں فیصلہ کرنے میں کمزور ہوں اور اسی لیے تمھارے آگے بے قرار دل رکھ رہا ہوں۔ مجھے سچ بتاؤ کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ یدھشٹر کے ذہن میں کیا ہے؟“
ویدورا مزیدار جواب دیتا ہے :
”اے بادشاہ اگر کسی سے نہ بھی کہا جائے تو اسے ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ اس راستے پر نہ چلو جو سراسر نا انصافی پر مبنی ہو۔ خوشی صرف راست اعمال ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ دیوتا جسے تباہ کرنا چاہتے ہیں، پہلے اس سے اچھے برے کی تمیز چھین لیتے ہیں اور پھر وہ برے اعمال میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ تین دنیاؤں پر حکومت کرنے کی صلاحیتیں لیے یدھشٹر تمھارے حکم کا منتظر ہے اور اگر تم انصاف سے کام لو گے، تو وہ تمھارا تابع فرمان رہے گا۔ یدھشٹر تمہارا جائز وارث ہے۔ اسے بلا تاخیر اس کی اور اپنی حکومت دے دو اور تمہیں اطمینان نصیب ہو جائے گا۔“
تشدد کے نقصان اور امن کی ضرورت پر یدھشٹر کا ذہن بہت واضح ہے۔ وہ کہتا ہے ”ہم نے اس نسل میں جنم لیا۔ تشدد کی لہریں کبھی فرو نہیں ہوں گی۔ فتح ایک بہت بڑی دشمنی کو جنم دیتی ہے۔ جارحیت اگرچہ خوابیدہ رہتی ہے لیکن مسلسل جاری رہتی ہے۔ چاہے مخالفوں کا ایک چھوٹا بچہ ہی باقی کیوں نہ بچ جائے۔“ اب وہ چہار دانگِ عالم میں اپنی دانائی اور طاقت میں مشہور، دوارکا کے بادشاہ لارڈ کرشن کو بطور سفیر آخری کوشش کے طور پر بھیجتا ہے۔ لیکن دریودھن کو پہلے ہی کرشن کی اپنے لیے فوجی حمایت نہ ملنے پر سخت غصہ ہے۔ وہ کرشن کو گرفتار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سفارت ناکام ہو گئی ہے بلکہ کرشنا تو جنگ کی ڈیڈلائن بھی دے کے آ جاتا ہے۔

