شکیل پٹھان کی بائیسویں برسی کے موقع پر
پاکستان کے اقتداری ڈھانچے کے دو ادوار ہیں۔ پہلے ڈھانچے میں بھارت کے اترپردیش سے آئی بیوروکریسی نے پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کیا، جاگیردار اور مذہبی قوتیں اس کی فطری اتحادی بن گئیں، پچاس کی دہائی میں فوج اس اتحاد کا حصہ بنی، جس نے تیزی سے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، بعد کے آنے والے برسوں میں شہری صنعت کار بھی اس گروہ کا حصہ بن گئے۔
دوسرا دور بھٹو کا دور تھا۔ ان کی حکومت صرف دو سال ہی اپنے اختیار کے تحت چلی، جس کے بعد پاکستان کی فوج نے خود ملکی معاملات کو سنبھالنا شروع کر دیا، اور اگلے چند سالوں میں مکمل طور پر واپس اسی قوت سے موجود نظر آتی ہے۔
Read more

