شکیل پٹھان کی بائیسویں برسی کے موقع پر

پاکستان کے اقتداری ڈھانچے کے دو ادوار ہیں۔ پہلے ڈھانچے میں بھارت کے اترپردیش سے آئی بیوروکریسی نے پنجاب کی بیوروکریسی سے اتحاد کیا، جاگیردار اور مذہبی قوتیں اس کی فطری اتحادی بن گئیں، پچاس کی دہائی میں فوج اس اتحاد کا حصہ بنی، جس نے تیزی سے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا، بعد کے آنے والے برسوں میں شہری صنعت کار بھی اس گروہ کا حصہ بن گئے۔

دوسرا دور بھٹو کا دور تھا۔ ان کی حکومت صرف دو سال ہی اپنے اختیار کے تحت چلی، جس کے بعد پاکستان کی فوج نے خود ملکی معاملات کو سنبھالنا شروع کر دیا، اور اگلے چند سالوں میں مکمل طور پر واپس اسی قوت سے موجود نظر آتی ہے۔

Read more

ناکارہ سسٹم کا غبارہ

جب سسٹم ناکارہ ہوجائے تو اس کا پہلا شکار عام آدمی ہوتا ہے۔ استحصالی قوتیں زیادہ طاقتور اور زیردست مزید کمزور ہوجاتے ہیں، اس طرح کا نظام ظالم آمروں کے لئے سب سے بہترین ہوتا ہے، جہاں مروجہ قانون ایک طرف رکھ کر وہ قانون نافذ کردیئے جاتے ہیں، جو مطلق العنان کے مزاج کے مطابق ہوں، نتیجے میں فوری فیصلوں کا رواج عام ہوتا ہے، اور ملزم کو صفائی کا حق نہیں ملتا،ابتدا میں آمر کے قوانین کو مقبولیت ملتی ہے، کیوں کہ نظام کے ستائے ہوئے لوگ، استحصالی گروہوں میں سے چند کو چوکوں پر لٹکے دیکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا انتقام پورا ہوگیا، جبکہ سرعام ٹانگنے کا رواج آمر کی دہشت میں مزید اضافہ کرتا ہے،

Read more

واجپائی بھی چل دیے

اٹل بہاری واجپائی بھارت میں پہلے پندرہ دن، پھر تیرہ ماہ اور اس کے بعد پانچ سال وزیراعظم رہے۔ انتہائی سخت بات بھی انتہائی دھیمے انداز میں کرنا ان کا ہی مزاج تھا۔ وہ ایک شاعر اور مصور بھی تھے، لیکن ان کے یہ دونوں فن ان کی سیاست کے نیچے دب گئے، ساری عمر سیاست کی اور اپنے اندر موجود شاعر اور مصور کو سیاست کے ہاتھوں مرنے سے بچانے کی کوشش کرتے رہے، اب وہ نہیں رہے، ایک

Read more