ناکارہ سسٹم کا غبارہ

جب سسٹم ناکارہ ہوجائے تو اس کا پہلا شکار عام آدمی ہوتا ہے۔ استحصالی قوتیں زیادہ طاقتور اور زیردست مزید کمزور ہوجاتے ہیں، اس طرح کا نظام ظالم آمروں کے لئے سب سے بہترین ہوتا ہے، جہاں مروجہ قانون ایک طرف رکھ کر وہ قانون نافذ کردیئے جاتے ہیں، جو مطلق العنان کے مزاج کے مطابق ہوں، نتیجے میں فوری فیصلوں کا رواج عام ہوتا ہے، اور ملزم کو صفائی کا حق نہیں ملتا،ابتدا میں آمر کے قوانین کو مقبولیت ملتی ہے، کیوں کہ نظام کے ستائے ہوئے لوگ، استحصالی گروہوں میں سے چند کو چوکوں پر لٹکے دیکھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا انتقام پورا ہوگیا، جبکہ سرعام ٹانگنے کا رواج آمر کی دہشت میں مزید اضافہ کرتا ہے،

Read more

واجپائی بھی چل دیے

اٹل بہاری واجپائی بھارت میں پہلے پندرہ دن، پھر تیرہ ماہ اور اس کے بعد پانچ سال وزیراعظم رہے۔ انتہائی سخت بات بھی انتہائی دھیمے انداز میں کرنا ان کا ہی مزاج تھا۔ وہ ایک شاعر اور مصور بھی تھے، لیکن ان کے یہ دونوں فن ان کی سیاست کے نیچے دب گئے، ساری عمر…

Read more