آئی۔ ایم۔ ایف ہمیں کہاں لے جائے گا؟

مسئلہ ہرگز یہ نہیں کہ عمران خان کی حکومت نے آئی۔ ایم۔ ایف سے 6 ارب ڈالر قرض لینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک آئی۔ ایم۔ ایف سے قرض لیتے رہتے ہیں۔ خود پاکستان کے لئے بھی یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ عمران خان سے پہلے پاکستان اٹھارہ مرتبہ آئی۔ ایم۔ ایف پروگرامز کا حصہ رہ چکا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان متواتر کئی سالوں تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)

Read more

کیا 2020 انتخابات کا سال ہو گا؟

عید کے بعد حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھے گا۔اگرچہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا چیلنج معیشت ہے۔ اسی حوالے سے آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ لیکن یہ سوچ بھی جڑ پکڑ چکی ہے کہ جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا، معاشی اصلاحات کے کسی بھی ایجنڈے پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو گا۔ سیاسی استحکام کا حصول اس لئے مشکل دکھائی دے رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو چور، ڈاکو اور کرپٹ قرار دیتے ہیں۔

Read more

ریاست کہاں ہے؟

چند دن قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بیان میڈیا کی زینت بنا۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران جج صاحب نے فرمایا کہ ” اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ اوردھوکہ دینے کا ہے”۔ جناب چیف جسٹس نے بالکل درست نشاندہی کی ہے۔ جھوٹ جیسی برائی (جس کی اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے) ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکی ہے۔ اسی طرح دھوکہ دہی، جعلسازی اور فریب کاری کا

Read more

ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ

اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے بجٹ میں تقریبا 50 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اس کمی کا اعلان متوقع ہے۔ حکومت کی طرف سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طالبعلموں میں انتہائی اضطراب پایا جاتا ہے۔ تعلیمی بجٹ میں کمی کا فیصلہ واقعتا قابل تشویش ہے۔

Read more

سیاسی صورت حال میں بڑھتی ہوئی بے یقینی

وفاقی کابینہ میں ہونے والی دیگر تبدیلیوں سے قطع نظر، کیا اسد عمر کا استعفیٰ مسائل کا حل ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں! فرد ہو یا قوم، کوئی سیاسی جماعت ہو یا حکومت، کوئی تنظیم ہو یا ادارہ، اس کی اچھی کارکردگی اور ترقی کا انحصار موزوں وقت پر موزوں فیصلہ کرنے پر ہے۔ گو مگو اور تذبذب، کارکردگی کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ جب بر وقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو اور شکوک و شبہات

Read more

زوال پذ یر معیشت۔ خدا خیر کرئے!

تعلیم کا ایک نظریہ غیر رسمی تصور تعلیم کا ہے۔ یعنی وہ علم یا سوجھ بوجھ جو انسان درس گاہوں کی نصابی تعلیم سے ہٹ کر گھر، معاشرے، سماجی ماحول اور اپنے تجربات و مشاہدات سے حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غیر رسمی تعلیم، درس گاہوں کی نصابی تعلیم سے کہیں زیادہ گہرا نقش چھوڑتی اور بڑی دیر پا ہوتی ہے۔ آج کل میڈیا (بشمول سوشل میڈیا) اس غیر رسمی تعلیم کا نہایت ہی موثر آلہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ غیر رسمی تعلیم میں بھی کسی حد تک رسمی تعلیم کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔

Read more

کچھ اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں

دو روزہ اجلاس کے بعد ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بعض انتہائی اہم اور توجہ طلب باتیں کہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ 1۔ نیب اور پولیس کی طرف سے ملزموں کو ہتھکڑیاں پہنانا، پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کے منافی ہے۔ اس معاملے کو جانچنے کیلئے جسٹس (ر) رضا خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ تاہم ایسے ملزموں کو ہتھکڑیاں ڈالی جا سکتی

Read more

انتہا پسندی اور عدم برداشت

محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں دلیل کی قوت مر رہی ہے۔ رفتہ رفتہ مکالمے کی روایت کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو تسلیم کرنا تو درکنار، ہم اسے سننے اور سمجھنے پر بھی آمادہ نہیں ۔ ہمارے رویے کرخت اور مزاج ہٹ دھرم ہو چکے ہیں۔ اکثر و بیشتر اپنی ہٹ دھرمی کو ہم اصول پسندی گردانتے ہیں۔ تحمل، برداشت، رواداری اور اعتدال جیسے عوامل ہماری زندگیوں سے خارج ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

شعبہ تعلیم پر توجہ لازم ہے !

ہمارے ہاں شعبہ تعلیم سے متعلق معاملات اکثر زیر بحث آتے رہتے ہیں۔ مگر اس بار سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے اس جانب توجہ دلائی ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے متعلق ایک کیس کی سماعت کے دوران جج صاحب کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بے تحاشا جامعات کھل چکی ہیں۔ جہاں ڈگریاں بیچی جا تی ہیں۔ شعبہ تعلیم تباہ اور نئی نسل برباد ہو رہی ہے، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جسٹس گلزار

Read more

ایک انسان کی خودکشی اور ”نیب“۔

پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر اسد منیر کی خود کشی نے، نیب کے حوالے سے ایک بار پھر یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ کیا یہ ادارہ بے لا گ اور غیر جانبدارانہ احتساب کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا اس کا کام محض لوگوں کی عزت نفس مجروع کرنا، الزامات لگانا اور پگڑیاں اچھالنا رہ گیا ہے۔ اس ادارے کو وجود میں آئے بیس سال ہو گئے ہیں۔ دو دہائیوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسی روشن مثال ہو کہ اس ادارے نے واقعی کسی بڑی کرپشن کے خلاف کوئی ایسی موثر کارروائی کی جو ہر طرح کی سیاسی آلائش سے پاک تھی۔ حالیہ چند ماہ میں اعلیٰ عدلیہ بھی نیب کے بارے میں مسلسل منفی ریماکس دے رہی ہے۔ آئے روز اہل کاروں کی نا اہلیت کا رونا رویا جاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے لیکن حالات کار میں کوئی بہتری نہیں آرہی۔

Read more

پہل کون کرے؟

کیا ہر پاکستانی اب پوری طرح مطمئن ہے؟ کیا اب مستقبل کے بارے میں مایوسی اور بے یقینی ختم ہو گئی ہے؟ کیا معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو گئی ہے؟ کیا ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھل گئی ہیں؟ کیا روزگار کے مواقع عام ہو گئے ہیں؟ کیا سیاسی ماحول میں استحکام آگیا ہے؟ کیا پارلیمنٹ سمیت پاکستان کے تمام ریاستی ادارے اپنے آئینی تقاضوں کے مطابق متحرک ہو گئے ہیں؟ کیا ہماری خارجہ پالیسی اس قدر مستحکم ہو گئی ہے کہ ہمیں باہر سے کوئی سفارتی دباؤ نہیں رہا؟ کیا احتساب اب ہر طرح کے شکوک و شبہات سے پاک ہو گیا ہے؟ کیا قانون و انصاف کے بارے میں اب کسی سائل کو کوئی شکایت نہیں رہی؟ کیا مہنگائی کے عفریت کو لگام ڈال لی گئی ہے؟

Read more

صاحبان علم کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں

جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ کہ انہوں نے پروفیسر حضرات کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر از خود نوٹس لے کر کاروائی کا حکم دیا۔ چیف جسٹس صاحب نے ڈی ۔جی نیب کی اسقدر سرزنش کی کہ انکی آنکھیں بھر آئیں۔ڈی جی نیب نے چیف جسٹس سے معافی مانگی اور گرفتار اساتذہ سے معافی مانگنے کا وعدہ کر کے اپنی خلاصی کروائی۔ چیف جسٹس کے نوٹس ہی کا نتیجہ ہے کہ نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے

Read more

حکومت کے شیریں اعلانات اور معیشت کے تلخ حقائق

 موجودہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مالی امداد کی درخواست کر دی ہے۔ 1980ء کے بعد یہ چودہویں مرتبہ ہے کہ حکومت پاکستان آئی ۔ ایم ۔ایف کے پاس گئی ہے۔ قرض لے کر معیشت کی ڈوبتی نبضیں اور اکھڑتی سانسیں بحال رکھنا ہمارے ہاں معمول کا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اپنے ادوار حکومت میں آئی ۔ایم۔ایف کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ لہذا یہ کوئی ایسی قابل تنقید اور قابل گرفت

Read more

جھوٹ، الزام اور دشنام کی یلغار

  بلا شبہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ آج کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ کسی بھی قسم کی معلومات درکار ہو، وہ ہمیں فوری طور پر دستیاب ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جسے ڈس انفارمیشن کا زمانہ کہا جا تا ہے۔ جھوٹی خبروں اور غلط معلومات کی ترسیل عام ہے۔ کم و بیش تمام ممالک میں یہ

Read more