کورونا، ویکسین اور پولیو

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے بھی، ویکسین کا ایک خیرات گھر کھولا ہے جس کے تحت دنیا کے کوئی نوے کے قریب ممالک کو مفت ویکسین فراہم کی جائے گی۔ اس کو کاویکس (Covax) پروگرام کا نام دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے مطابق دو ارب ویکسین خوراکوں کا انتظام کیا گیا ہے جو اندازے کے مطابق غریب ممالک کی بیس فی صد آبادی کے لئے کافی ہوں گی۔ پاکستان کا نام بھی مستحقین میں شامل ہے۔ اس پروگرام کے مطابق ہمیں ایک کروڑ ستر لاکھ ویکسین خوراکیں ملیں گی۔

بتایا گیا ہے کہ یہ کھیپ ہمیں دو قسطوں میں اگلے چھ ماہ کے اندر مل جائے گی۔ حکومت نے روس میں بننے والی ویکسین کی منظوری بھی دے دی ہے۔ غالباً ایک پرائیویٹ کمپنی کو بھی ویکسین درآمد کرنے کا اجازت نامہ دیا گیا ہے۔ وائس آف امریکہ کی اطلاع کے مطابق کئی غریب ممالک نے بھی اپنے کمزور وسائل کے باوجود ویکسین خریدنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ ہم کب تک انتظار کرتے رہیں، کیا تب تک کہ جب امیر ممالک اپنے کتوں اور بلیوں کو بھی ویکسین لگا دیں گے تو ہماری باری آئے گی۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے نہ تو ویکسین خریداری کے لئے کوئی بجٹ مخصوص کیا ہے نہ ہی خریداری کے لئے کسی ملک سے رجوع کیا ہے۔

Read more

ہے کوئی سوچنے والا!

کیا ہر معاملہ حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے؟ کیا اپوزیشن کے کندھوں پر ہر ذمہ داری ڈال دینی چاہیے؟ کیا یہ ہر ذی شعور پاکستانی کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ملکی حالات پر غور کرے؟ کیا ملکی سلامتی، انتظام و انصرام، عدل و انصاف، تعلیم و تدریس اور قانون و امن عامہ سے تعلق رکھنے والے اداروں پر لازم نہیں کہ مختلف شعبوں میں زوال کے اسباب کا سراغ لگائیں اور اصلاح احوال کی کوئی کوشش کریں۔ اس میں

Read more

طلبہ کا احتجاج اور متعلقہ اداروں کی بے حسی

کورونا وبا کے دور رس اثرات کا مکمل احاطہ کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ خانگی تنازعات سے لے کر قومی معیشت تک اس وبا نے بہت ہی منفی اثرات ڈالے ہیں۔ چونکہ وبا اب بھی جاری ہے ، اس لئے یہ منفی اثرات گہرے بھی ہو رہے ہیں اور پھیل بھی رہے ہیں۔ آج کل پاکستان کے مختلف شہروں کو طلبہ کے احتجاج کا سامنا ہے۔ آج سے کوئی چالیس سال پہلے طلبہ کے مظاہرے معمول کا درجہ رکھتے

Read more

دوسری سب سے بڑی قومی ترجیح

میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ تہتر سالوں میں ہم اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کر سکے۔ ہوا تو بس یہ کہ قومی دفاع پر قوم، سیاسی جماعتیں اور دیگر ادارے متفق ہیں۔ اس کی وجہ بھی ہم سے کہیں زیادہ ہمارا دشمن ہے جس نے بار بار ہماری سلامتی پر حملہ کیا اور ہم مجبور ہو گئے کہ اپنے دفاع کو مضبوط بنائیں۔ بھارت نے ایٹم بم بنایا تو ہمیں بھی وسائل کی کمی

Read more

ہم اور ہماری ترجیحات

دکھ کی بات ہے کہ ہم آج تک اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کر پائے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی خبر ایسی ضرور مل جاتی ہے جس سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ معاملات قومی ترجیحات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ترجیحات تسلسل کا تقاضا کرتی ہیں۔ یعنی ایک حکومت گھر چلی جائے تو آنے والی حکومت کام کو وہیں سے شروع کر دے جہاں جانے والی حکومت چھوڑ گئی تھی۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب کسی

Read more

چند خبریں، بلا تبصرہ

بد قسمتی سے آئے روز پاکستان کے بارے میں ایسی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہیں جنہیں دیکھ کر نہایت دکھ ہوتا ہے۔ خیال آتا ہے کہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والا ملک بھارت کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے بطن سے جنم لینے والا بنگلہ دیش بھی بہت سے شعبوں میں ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ خانہ جنگیوں کا شکار افغانستان بھی کچھ معاملات (مثلاً کرنسی کی قدر) میں ہم سے آگے کھڑا ہے۔ ایک ہم ہیں، جو تیز رفتاری سے ڈھلوان کے سفر پر گامزن ہیں۔ آج کل بھی کچھ افسوسناک خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یہ خبریں کسی تجزیے کی محتاج نہیں۔ آج کا کالم بلا تبصرہ ان خبروں کی نذر۔

Read more

تھوڑی سی ویکسین کا سوال ہے بابا

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ منیر نیازی کے بقول واقعی ہمارے ملک پر کسی آسیب کا سایہ ہے۔ شاعر نے کہا تھا کہ بظاہر حرکت تیز تر نظر آتی ہے اور سفر بہت آہستہ آہستہ کٹ رہا ہے لیکن ہماری حالت کچھ اس سے بھی زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ ہم نہ تو حرکت کر رہے ہیں، نہ سفر۔ بس ایک ہی جگہ کھڑے گلا پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کو گالیاں دینے، ایک دوسرے پر الزام دھرنے

Read more

تعلیم۔ ہمہ پہلو زوال

پچھلے ماہ مجھے بیسیوں امیدواروں کو سننے کا موقع ملا۔ ان میں وہ امیدوار بھی تھے، جو باقاعدہ کسی نہ کسی صحافتی ادارے سے منسلک ہیں۔ لیکن یہ تک نہیں جانتے کہ پیمرا (PEMRA) کا مطلب کیا ہے۔ اس کے ضابطہ اخلاق کا ایک آدھ نکتہ بتانے سے قاصر تھے۔ برسوں سے اخباری صحافت سے منسلک صحافی پریس کونسل آف پاکستان کے نام تک سے ناواقف تھے۔ اس دن سولہ دسمبر تھا۔ وہ دن جب سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا تھا۔ زیادہ تر کو اس بارے میں کوئی آگاہی نہیں تھی۔ بس اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہمارے نظام تعلیم پر رحم فرمائے۔ آمین

Read more

روف طاہرصاحب بھی رخصت ہوئے!

مجلسی آدمی تھے۔ کسی دعوت اور بلاوے کو رد نہ کرتے۔ افسوس کہ ان کے جنازے میں ایسے بہت سے لوگ شریک نہ ہوئے، جن پر شرکت واجب تھی۔ مسلم لیگ (ن) سے صرف خواجہ سعد رفیق شریک ہوئے۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ یہ بے وفائی مسلم لیگ کا مزاج ہے۔ مجھے خیال آیا کہ دنیا کا یہی چلن ہے۔

عباس اطہر مرحوم صحافت کا بہت بڑا نام تھے۔ پیپلز پارٹی کے نہایت قریب رہے۔ زرداری صاحب، بر سر اقتدار تھے تو کسی نے عباس اطہر کی علالت کی اطلاع دی اور یہ پیغام بھی کہ وہ ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ زرداری صاحب نے یک لفظی جواب دیا کہ ”noted“ ۔ اور آگے بڑھ گئے۔ سنتے ہیں کہ جنازے میں دوسری سے تیسری صف نہیں بن سکی تھی۔ نعیم الحق ساری عمر تحریک انصاف اور عمران خان کے علم بردار رہے۔ کینسر سے انتقال ہوا تو عمران خان سمیت بہت سے ساتھی جنازے تک میں شریک نہیں ہوئے۔ شاید اسی کا نام دنیا ہے۔

Read more

پولیس کب بدلے گی؟

اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی پولیس دستے کے ہاتھوں بائیس سالہ نوجوان اسامہ کے قتل نے پورے پاکستان کو ہلا کے رکھ دیا۔ اب بیان آتے رہیں گے، مذمت ہوتی رہے گی، وزراء تحقیقات کے اعلان کرتے رہیں گے، اخباروں میں اداریے شائع ہوتے رہیں گے، اپوزیشن کے راہنما اسے حکومت کی نا اہلی قرار دیتے رہیں گے۔ لیکن اسامہ کے والدین، اس کے بہن بھائی اب کبھی اس کی شکل نہیں دیکھ پائیں گے۔ کوئی اندازہ کر سکتا

Read more

اخوت یونیورسٹی میں ایک دن

ستر کی دہائی میں بنگلہ دیش کے پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے ہم وطنوں کو غربت کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے انہیں چھوٹے قرضے دینے کا آغاز کیا۔ 1983 میں ڈاکٹر یونس نے باقاعدہ گرامین بنک (گاؤں کا بنک) کی بنیاد ڈالی۔ اس بنک کی مدد سے انہوں نے لاکھوں بنگلہ دیشی خاندانوں کو غربت سے نجات دلائی۔ دنیا نے ڈاکٹر یونس کے اس عظیم کارنامے کو تسلیم کیا اور انہیں نوبل امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Read more

دسمبر کے زخم : سقوط ڈھاکہ، پروین شاکر اور بے نظیر بھٹو

سال کا آخری مہینہ دسمبر اپنے ساتھ بہت سی یادیں اور اداسیاں لے کر آتا ہے۔ قومی سطح پر ملنے والے کئی زخم ہرے ہو جاتے ہیں ۔ دسمبر شروع ہوتے ہی کچھ قومی سانحات اور شخصیات مجھے یاد آنے لگتی ہیں۔ 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکہ کا المناک حادثہ ہوا تھا۔ ہمار ا ملک پاکستان دو ٹکروں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ایک ٹکڑا آج بنگلہ دیش کہلاتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کئی شعبوں میں ہم سے آگے

Read more

محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد میں!

ذوالفقار علی بھٹو کی یہ بیٹی واقعتا بے نظیر (اور بے مثال) تھی۔ پینتیس برس کی عمر میں وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئی۔ دنیا کی کم عمر ترین اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ محترمہ کی زندگی مشکلات ومصائب میں گھری رہی۔ تاہم ا نہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ڈٹی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کی سیاست اور طرز حکمرانی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ مگر

Read more

سقوط ڈھاکہ۔ بھولی بسری کہانی

دنیا بھر کے دانشور درست نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دیتی اور اپنی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتی اس کا حال بھی ٹھیک نہیں ہوتا اور اس کا مستقبل بھی حادثوں کا شکار ہوتا رہتا ہے۔

ہمارے ہاں 16 دسمبر چپکے سے گزر گیا۔ ایسے ہی جیسے 15 دسمبر گزرا تھا اور ایسے ہی جیسے 17 دسمبر گزرا۔ ہمارے قومی میڈیا پر ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ یہ زیر بحث تھا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والا پی۔ ڈی۔ ایم کا جلسہ چھوٹا تھا یا بڑا۔ ایک فریق اسے تاریخی اور عظیم الشان قرار دے رہا تھا اور دوسرا اسے ناکام کہہ رہا تھا۔ شاید ہی کسی کو خیال آیا ہو کہ انچاس سال پہلے پاکستان کتنے بڑے المیے سے دوچار ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ پاکستان نصف رہ گیا تھا۔ ہماری فوج ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی تھی اور بھارت 90 ہزار قیدیوں کو ٹرینوں میں بھر کر اپنے کیمپوں میں لے گیا تھا۔ آج بھی جب سوشل میڈیا پر جنرل نیازی کے جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی وڈیو چلتی ہے تو دل دہل جاتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں

Read more

یورپی یونین کی رپورٹ اور بھارت کا مکروہ چہرہ (مکمل کالم )

بھارت کے حوالے سے پاکستان کو بہت سی شکایات رہتی ہیں۔ پاکستان اپنی استعداد کے مطابق بھارت کو جواب بھی دیتا ہے۔ حتی المقدور کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو بھارت کے اصل چہرے سے آگاہ کرے۔ ہر پاکستانی حکومت اقوام متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتی ہے۔ بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر ہم اقوام عالم کے سامنے آوا ز بلند کرتے ہیں۔ بسا اوقات اقوام متحدہ میں ڈوزئیر

Read more

نہیں پروفیسر چومسکی، یہ درست نہیں!

پروفیسر نوم چومسکی ہمارے عہد کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ لسانیات، تاریخ، سیاست، ابلاغیات، فلسفے، تعلیم اور عمرانیات کے شعبوں میں نوم چامسکی کی خدمات صدیوں فراموش نہیں کی جا سکیں گی۔ 92 سالہ امریکی پروفیسر کو حق اور سچ کی آواز سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے ہر موقع پر جبر اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی۔ امرکہ کے جنگی جنون پر سخت تنقید کی۔ اس کی بین الاقوامی پالیسوں کو نشانہ بنایا۔ ان کی ایک سو سے

Read more

”کاون“ ہاتھی اور عافیہ صدیقی

میں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ”کاون“ ہاتھی پر دو کالم لکھے۔ آج میرا ارادہ کچھ اور لکھنے کا تھا کہ مجھے اپنی ہونہار شاگرد کا فون آ گیا۔ میں اس فون کا ذکر کچھ دیر بعد کروں گی۔ پہلے یہ خبر کہ کاون بہ حفاظت کمبوڈیا کے وسیع و عریض قطعے میں پہنچ گیا ہے جہاں اپنے ساتھیوں سے اس کی دعا سلام شروع ہو چکی ہے۔ اس کے ہمراہ جانے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کاون نے سفر کے دوران ہرگز پریشان نہیں کیا۔

وہ معمول کے مطابق کھاتا پیتا بھی رہا۔ اونگھتا بھی رہا اور اپنے کمپارٹمنٹ میں بہت پر سکون رہا۔ ایسے جیسے وہ ہوائی سفر کرنے کا عادی ہو۔ ”کاون“ دنیا کا ”تنہا ترین“ ہاتھی قراردیا گیا جس کی آزادی کے لئے سوشل میڈیا پر ایک زور دار مہم چلی۔ اس مہم کو امریکی گلوکارہ ”شیر“ (Cher) نے آگے بڑھایا۔ جانوروں کے حقوق اور دیکھ بھال کی ساری تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کاون مظلومیت، اذیت اور تنہائی کی ایک علامت کے طور پر ابھرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب معاملہ اسلام آباد کی ہائیکورٹ پہنچا تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک بہت ہی یاد گار فیصلہ دیتے ہوئے کاون کو آزاد کرنے اور دنیا کے کسی موزوں مقام پر پہنچانے کے احکامات جاری کر دیے۔

Read more

” کاون“ چلا گیا!

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان میں قید ”کاون“ ہاتھی کے بارے میں لکھے گئے کالم میں قارئین اس قدر دلچسپی لیں گے اور ان کا ایسا فیڈ بیک آئے گا۔ آج پاکستان میں بھی ”کاون“ کی آزادی، صحت اور خوشیوں کے لئے بہت سے لوگ دعا گو ہیں۔ جس وقت میں یہ کالم لکھ رہی ہوں ”کاون“ کی رخصتی کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ وہ اپنے خصوصی فولادی پنجرے کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ جن سرکاری عمال اور

Read more

الوداع” کاون“

اگر سب کچھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے تو دو دن بعد، یعنی 29 نومبر کی صبح چھ بجے کارروائی شروع ہو جائے گی۔ ”کاون“ کو کئی ہفتوں سے لوہے کے بنے ایک بہت بڑے پنجرے میں داخل ہونے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کسی ترغیب کے سبب وہ اس فولادی پنجرے میں آ جائے گا۔ ٹھیک دس بجے اسے انجکشن لگیں گے جن کے باعث وہ بے ہوش ہو کر

Read more

ٓ ”میثاق پاکستان“ یا اپوزیشن کی خود فریبی؟

سنا ہے اب ایک نئے ”میثاق پاکستا ن“ کی تیاری ہو رہی ہے۔ زندہ قومیں اپنے ماضی کی روشنی میں اپنے حال کو سنوارتی اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہیں، سو وہ آگے بڑھتی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کرتی چلی جاتی ہیں۔ ہم ان کے بارے میں کچھ بھی سوچیں اور انہیں کتنا ہی برا سمجھیں، وہ اپنے مقاصد اور مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی طے شدہ راہ پر چلتی رہتی ہیں۔ لیکن ہمارا

Read more

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم : چلتا پھرتا علی گڑھ

مشکلات و مصائب میں گھری پاکستانی صحافت کا ایک المیہ یہ ہے کہ ایک ایک کر کے چراغ بجھ رہے ہیں اور نئے چراغ روشن ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ نہایت دکھ ہوتا ہے کہ صحافت کو آن بان عطا کرنے اور پیشہ وارانہ لگن کی عظیم مثالیں قائم کرنے والے بیشتر حضرات کے ساتھ ہمیں مرحوم لکھنا پڑرہا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مرحوم اور جناب سید سعود ساحر مرحوم جیسی نابغہ روزگار شخصیات کا اس جہان فانی سے

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ یا ایک رویے کی شکست؟ (مکمل کالم )۔

امریکہ اب تک دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا دعویدار ہے۔ سو وہاں کے انتخابات پر دنیا بھر نظریں جمائی بیٹھی تھی۔ ہماری سیاسی زبان کے مطابق وہاں دو جماعتوں نے ”باریاں“ لگائی ہوئی ہیں۔ کبھی ری پبلکن پارٹی حکومت بنا لیتی ہے اور کبھی ڈیموکریٹک۔ تقریباً دو صدیوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ امریکی اپنے اس دو جماعتی نظام پر فخر کرتے ہیں۔ اسے سیاسی استحکام کا ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ دنیا کے جانے مانے سیاسی مفکرین کا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اب دو جماعتی نظام گالی بن چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کیوں ہارا؟ اس پر بہت دیر تک تبصرے ہوتے رہیں گے۔ اس نے امریکیوں کی مقدور بھر خدمت کی۔ امریکی معیشت کو بڑی حد تک بہتر بنایا۔ روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا کیے۔ بیمار صنعتوں کو نئی زندگی دی۔ امریکیوں کو سہولتیں دیں۔ آباد کاروں اور نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کر کے مقامی لوگوں کے مفادات کو تحفظ دیا۔ اس نے کوئی نئی جنگ نہیں چھیڑی۔ افغانستان سمیت پہلے سے جاری جنگوں کو سمیٹنے اور اپنی فوج کو واپس لانے کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکیوں نے بڑی حد تک آسودگی محسوس کی۔ وہ ایک مقبول صدر رہا۔ نوجوان اس کے فریفتہ رہے۔

Read more

ایک مکالمہ، مکالمے پر!

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) مختلف موضوعات پر مکالمے کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ چند دن قبل اس ادارے کی طرف سے مکالمے (dialogue) کی ضرورت و اہمیت کے موضوع پر ہونے والے ایک مکالمے میں شرکت کا پیغام موصول ہوا۔ ایک سیشن میں گفتگو کی دعوت بھی ملی۔ محدود وقت اور دفتری امور کے انبوہ کثیر کے باوجود حامی بھر لی۔ وجہ یہ کہ چند ماہ قبل مجھے اس ادارے کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ میں شرکت کا

Read more

دارلعلوم سراجیہ نعیمیہ : ایک روشن چراغ

لاہور شہر نامور سکولوں، کالجوں، اور جامعات کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان کے مختلف حصوں سے نوجوان حصول علم کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ دینی تعلیم کے حوالے سے بھی یہ شہر خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ جامعہ اشرفیہ اور جامعہ نعیمیہ جیسی نامور دینی درسگاہیں ادھر قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں میں بسنے والے طالب علم بھی شہر لاہور کے مدارس سے کسب فیض کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں بیس بائیس ہزار دینی مدارس موجود ہیں۔

دینی تعلیمات کی ترویج کے ساتھ ساتھ یہ مدار س نہایت خوبی سے ہماری شرح خواندگی بڑھانے میں بھی مدد گار ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ ستر برس گزرنے کے بعد بھی ہم پرائمری تعلیم کا سو فیصد ہدف حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ ہمارے کم وبیش تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے مواقع محض مٹھی بھر نوجوانوں کو میسر ہیں۔ ان حالات میں دینی درسگاہوں کی موجودگی نہایت غنیمت ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ مدارس طالب علموں کی خوراک اور رہائش کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔

Read more

فرقہ واریت اور عدم برداشت

اب ایک اور فتنہ سر اٹھا رہا ہے، جیسے ہمارے مسائل کچھ کم نہ تھے۔ کچھ عرصے سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ قتل کی وارداتیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اس فتنے پر قابو نہ پایا گیا تو بات ہمارے بس سے باہر ہو جائے گی۔ ہم پہلے بھی اس طرح کے مسائل سے دو چار رہے ہیں۔ فرقہ واریت کی بنا پر قائم مختلف تنظیموں نے اپنے عسکری ونگ بنائے اور مخالفین کو قتل کرنا کار ثواب سمجھنے لگے۔ یہ فرقہ واریت، اقلیتوں کے حوالے سے بعض فتنہ گروں کی کارروائیوں سے بالکل الگ ہے۔

اسلام بنیادی طور پر امن، سلامتی، احترام انسانیت اور ایک دوسرے کے مذہبی اعتقاد کا احترام کرنے کا نام ہے۔ ہم نبی آخر زمان ﷺ کی عظیم تعلیمات سے ہی سیکھتے ہیں۔ حضور ﷺ اور خلفائے راشدین کے ادوار میں نہ تو ہمیں فرقوں کی کوئی تقسیم نظر آتی ہے نہ اس نوع کی کسی کشیدگی کا تصور ملتا ہے۔ قرآن کریم اور نبی پاک ﷺ کی سنت مبارکہ، یعنی آپ کے ارشادات اور آپ کے اسوہ حسنہ ہی مسلمانوں کے لئے مشعل راہ رہا۔ آج بھی عالم اسلام کے تمام جید علماء قرآن و حدیث کو ہی اسلام کا اصل ماخذ مانتے ہیں۔ اگر بات یہیں تک رہتی تو نہ فرقے جنم لیتے، نہ فرقہ وارانہ تعصب پیدا ہوتا اور نہ نوبت ایک دوسرے کو قتل کرنے تک پہنچتی۔ افسوس ایسا نہ ہوا۔ اور اب تو یہ آگ اس قدر پھیل چکی ہے کہ اس نے عالمی سیاست کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ملکوں کے باہمی تعلقات اور بلاکس، فرقوں کی بنیاد پر بننے لگے ہیں۔

Read more

آئین پاکستان: نوجوانوں کے ساتھ ایک مکالمہ

۔ ”کیا آئین میں لکھی باتیں صرف آئین کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ عملی زندگی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا“ یہ سوال شعبہ ابلاغیات میں ماسٹر ز کی کلاس کے ایک طالب علم نے پوچھا۔ میں نے اسے بتایا کہ ایسی بات نہیں۔ آئین کسی بھی قوم کی سب سے بڑی مقدس دستاویز ہوتی ہے۔ اسے بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے سماجی، نظریاتی، تہذیبی، معاشرتی اور تاریخی تصورات پر مبنی ایک ”نصابی

Read more

مہنگائی کا راکٹ: مگر ہمیں اس کی فکر نہیں

کبھی کبھی تو یہ الجھن کچھ سوچنے ہی نہیں دیتی کہ پاکستان کے کون سے مسئلے کو کالم کا موضوع بنایا جائے۔ ہمارے کچھ مسائل تو مستقل نوعیت کے ہیں۔ جیسے سیاسی عدم استحکام، قانون و انصاف کی زبوں حالی، امن و امان کی خرابی، سرکاری عمال کی ناقص کارکردگی اور سیاستدانوں کی باہمی رسہ کشی۔ پاکستان کی تیسری نسل اب یہ تماشے دیکھ رہی ہے۔ اور لگتا نہیں کہ چوتھی نسل ان سے محروم رہے گی۔ ان دائمی مسائل میں فرقہ واریت، عدم برداشت اور علاقائی تعصبات کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ہمیں جو دوسرے مسائل در پیش ہیں ان میں تعلیم و صحت جیسے سماجی شعبوں کی نا گفتہ بہ حالت نمایاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت بھی مسلسل نیچے کی طرف لڑھک رہی ہے۔ ہم قرض لے لے کر گزارا کرتے ہیں۔ یہ قرضے خیرات نہیں ہوتے۔ نا ہی قرض حسنہ ہوتے ہیں۔ عالمی ساہو کار سود بھی لیتے ہیں اور من مانی شرائط بھی منواتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان عالمی ساہو کاروں کے چنگل میں پھنس جانے والے ممالک مشکل ہی سے نکل پاتے ہیں اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہونے کے بجائے خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

Read more

کتاب کی موت

اس امر میں تو کوئی شک نہیں کہ ہماری ترجیحات کا کبھی تعین ہو ہی نہیں پایا۔ مسائل جنم لیتے اور بحران کی شکل اختیار کرتے رہے لیکن ہم نے کبھی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ نتیجہ یہ کہ ہم پٹری سے اتری اور جنگل میں بھٹکی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ بعض باتیں ایسی ہیں جو صدیوں سے ایک مسلمہ اصول کی شکل اختیار کر چکی ہیں اور مہذب دنیا

Read more

امریکی صدارتی مباحثہ، ہمارے سیاستدان اور اساتذہ

جی چاہتا ہے کہ آج کا کالم امریکی صدارتی انتخابات کی نذر کر دوں، جو نومبر میں منعقد ہو رہا ہے، لیکن ہمارے یہاں اور بھی بہت غم ہیں۔ ان غموں کے باوجود امریکی صدارتی امیدواروں کے پہلے روایتی مباحثے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ری پبلکن امیدوار، موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے درمیان یہ مباحثہ ابھی دو دن پہلے ہوا۔ کئی سالوں سے یہ روایت بن چکی ہے کہ دو بڑی جماعتوں کے صدارتی امیدوار آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

ایک ماڈریٹر اس مباحثے کو سنبھالتا اور سوالات کرتا ہے، جو عموماً اس وقت کے قومی یا بین الاقوامی مسائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایسے تین مباحثے وقفوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بعد کے مباحثوں میں حاضرین یا سامعین بھی موجود ہوتے ہیں، جنہیں سوال کرنے کا حق ہوتا ہے۔ عموماً یہ کھلے مباحثے کسی یونیورسٹی کے ہال میں منعقد ہوتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی امیدوار پر کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں کہ وہ ہر حال میں ایسے مباحثوں میں شریک ہو، لیکن جب سے یہ روایت چلی ہے، کسی صدارتی امیدوار نے اس سے انحراف نہیں کیا۔

Read more

زیادتی کے بڑھتے واقعات اور بھانت بھانت کی بولیاں

سانحہ موٹر وے کا مرکزی ملزم عابد ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا۔ البتہ ہر روز میڈیا پرجنسی زیادتی کے واقعات متواتر رپورٹ ہو رہے ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل میں نے پچھلے چند دن کے اخبارات کا جائزہ لیا تو کم وبیش دو درجن ایسے واقعات کی خبریں دکھائی دیں۔ ملک کے ہر حصے میں یہ حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک بیوہ خاتون کو اسٹیٹ ایجنٹ

Read more

تعلیم، صحت اور نظام قانون و انصاف پر بھی آل پارٹیز کانفرنسیں کیجیے!

اس کالم کی اشاعت تک اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (APC) ہو چکی ہو گی۔ یقیناً کوئی اعلامیہ بھی سامنے آ گیا ہو گا۔ جب میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں، اس کانفرنس کی خبر روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔ اے۔ پی۔ سی میں نواز شریف کے ممکنہ خطاب کی اطلاع نے حکومتی صفوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ حکومتی ترجمان میڈیا کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ کسی ٹی۔ وی چینل نے سابق وزیر اعظم

Read more

جرائم محض قانون سازی سے نہیں رکتے!

ہمارا ایک قومی مزاج بن چکا ہے۔ خواہ افراد ہوں، سماج کے مختلف طبقات، حکومت یا قانون نا فذ کرنے والے ادارے۔ ہم ردعمل (reaction) پر یقین رکھتے ہیں۔ کوئی واقعہ، حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ متاثرین سے ہمدردی کرتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں، بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، چوک میں الٹا لٹکانے کی تجاویز دیتے ہیں۔ وقتی ابال کے زیر اثر ہم جذباتی اور reactionary باتیں کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد

Read more

موٹروے سانحہ اور ورلڈ کرائم انڈیکس میں ہمارے شہر

یہ کہنا کہ جہاں انسان بستے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہو گا، حقائق کے خلاف ہے اور انسانی فطرت کے بھی۔ قتل جیسے جرم کی داستاں ہم تخلیق آدم کے ساتھ ہی سنتے ہیں جب آدم ؑ کے فرزند قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ سو لاکھوں برسوں پر محیط انسان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے کو مکمل طور پرجرائم سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر

Read more

درسگاہوں کے پھاٹک کھول دینا کافی نہیں

15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔ چھ ماہ کے لگ بھگ ہر سطح کی درسگاہوں کی بندش پاکستان بننے کے بعد طویل تریں بندش تھی۔ پاکستان بنتے وقت مہاجرین کی آمد اور دیگر مسائل کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی یا وہ رضا کارانہ طور پر خدمات سر انجام دینے کے لئے تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے مہاجر کیمپوں اور دوسری ضروری جگہوں پہ آ گئے۔ ان طلباء کو امتحان کے بغیر اگلی جماعتوں میں ترقی دے دی گئی تھی۔ ہماری تہتر سالہ تاریخ میں مختلف قسم کی تحریکوں، ہنگاموں اور قدرتی آفات کی وجہ سے ادارے مختصر عرصے کے لئے بند ہوتے رہے لیکن یہ طویل ترین بندش ہے۔ اس بندش کے اثرات بھی بہت وسیع ہوں گے۔ ان اثرات کا پوری طرح احاطہ کرنا اور ان کے منفی پہلوؤں کو کم سے کم رکھنا نہایت ہی اہم کام ہے۔

Read more

وفاقی محتسب: ایک معتبر بارگاہ انصاف

ہمارے ہاں عمومی طور پر عوام الناس سرکاری محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے شکوہ کناں رہتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں انہیں جن اداروں سے پالا پڑتا ہے، ان میں سے بہت سوں کی کارگزاری کے ضمن میں انہیں شکایات رہتی ہیں۔ کہیں بجلی گیس کے اضافی بل۔ کہیں ناقص اور غیر معیاری تعلیم کے مسائل۔ کہیں میرٹ کی خلاف ورزی کا رونا۔ کہیں سرکاری افسران کے رویے کا گلہ۔ کہیں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا نوحہ۔ کوئی نہ کوئی مسئلہ انہیں گھیرے رہتا ہے۔

اگر متعلقہ محکمے کی طرف سے شکایات کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو عام طور پر عوام کسی بارگاہ انصاف کا رخ کرنے کے بجائے، ادارے اور اس کے ملازمین کو برا بھلا کہہ کر یا اپنی قسمت کو کوس کر خاموش بیٹھ رہتے ہیں۔ ایسی باتیں بھی اکثر و بیشتر سننے کو ملتی ہیں کہ اس نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔ بے بس عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ سفارش اور رشوت کے بغیر عوام کی شنوائی نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں قائم عوامی ادارے شہریوں کی خدمت اور سہولت کے لئے زیادہ تحرک اور گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

Read more

کیا آفت زدہ کراچی کی پکار خلا میں تحلیل ہو جائے گی؟

یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے لکھے گئے کالموں میں بہت سے اہم پہلوؤں کا احاطہ نہیں ہو سکا۔ مجھے ان کالموں پر بہت زیادہ فیڈ بیک ملا۔ اکثریت نے میرے موقف کی تائید کی۔ کئی نے اس موقف کے حق میں اضافی دلائل دیے۔ کچھ اساتذہ نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم، ایک ایسا تصور ہے جو سطحی طور پر تو اچھا لگتا ہے لیکن اس کا ہمارے زمینی حقائق سے کچھ تعلق واسطہ

Read more

یکساں نصاب تعلیم: ایک اور نیا تجربہ؟(2)

فی الحال ہم اس بحث کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ آئینی طور پر تعلیم کا شعبہ وفاق کی ذمہ داری ہے یا صوبوں کی؟ اور اس سوال کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چاروں صوبائی حکومتیں، بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اس نصاب کو بڑی خوش دلی سے اپنا لیں گے یا نہیں؟ اور اس بحث میں بھی نہیں پڑتے کہ کل کلاں جب وفاق یا صوبوں کی باگ ڈور کسی اور سیاسی جماعت کے

Read more

یکساں نصاب تعلیم۔۔۔ ایک اور نیا تجربہ؟

قوم کی بد قسمتی کہ پاکستان اپنی تہتر سالہ زندگی میں ایک تجربہ گاہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں مسلسل تجربے ہوتے رہتے ہیں۔ سیاست، قانون، طرز حکمرانی، انتخابی عمل، تعلیم اور سماجی زندگی کے مختلف شعبوں کے حوالے سے ہونے والے تجربوں کے بعد ہم کچھ سیکھنے کے بجائے یا تو کوئی نیا تجربہ شروع کر دیتے ہیں یا وہی پرانا تجربہ دہرانے لگتے ہیں۔ یہ بات اب تک ہم پلے نہیں باندھ

Read more

پاک سعودی تعلقات کی نزاکت

آئے روز ہمارے ہاں کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے وہ بھی بیٹھے بٹھائے۔ ایک وزیر صاحب کے بیان نے ہمارے تمام ہوا بازوں کی تعلیم اور تربیت کو مشکوک بنا دیا۔ نتیجہ یہ کہ پہلے سے مسائل میں گھرا ہوا پی۔ آئی۔ اے ایک نئے مالی بحران میں مبتلا ہو گیا۔ کئی ممالک نے ہماری پروازوں پر پابندی لگا دی اور بیرونی فضائی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے ہمارے درجنوں پائیلٹ پلک جھپکنے میں بے روز

Read more

خواتین صحافیوں کی فریاد

تیسری دنیا کے بیشتر ممالک ابھی اس مقام کو نہیں پہنچے کہ وہاں خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں جن کی ضمانت خود ان کا دستور، عالمی قوانین، ضوابط اور مہذب دنیا کی روایات دیتی ہیں۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہے۔ لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ یہاں خواتین کو نہ صرف وہ حقوق حاصل نہیں جو اسلام جیسا شاندار مذہب انہیں دیتا ہے بلکہ وہ ان جمہوری حقوق سے بھی محروم ہیں جو ہمارے جمہوری آئین میں

Read more

ذکر میڈیا انڈسٹری کی کچھ شخصیات کا!

کرونا وائرس ہماری زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لانے کا باعث بنا ہے۔ کم و بیش تمام شعبوں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ شعبہ تعلیم کو بھی اس نے متاثر کیا ہے۔ طالب علموں اور اساتذ ہ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ کمرہ جماعت میں پڑھنے اور پڑھانے کے بجائے، آن۔ لائن کلاسیں لینا پڑیں گی۔ گھنٹوں موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ گزارنا پڑیں گے۔ ذاتی طور پر مجھے جدید ٹیکنالوجی اور خاص طور

Read more

14 اگست: جشن ضرور مگر خود احتسابی بھی!

تہتر برس ہو گئے ہیں۔ انگریزی اور برہمنی سامراج کے شکنجے توڑ کر آزادی حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اسے بیسویں صدی کا سب سے بڑا معرکہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ایک جنگ تھی۔ اسے انہوں نے بھی نہایت قوت اور بڑے پختہ عزم کے ساتھ لڑا جو ہندوستان کی تقسیم یا ایک نئی مسلم ریاست کے خلاف تھے۔ ہندوستان کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے ان کی جدوجہد اور

Read more

ضیا الرحمن اعظمی : جنت البقیع کا نیا مہمان عزیز

1943 میں اعظم گڑھ کے ہندو گھرانے میں جنم لینے والا بانکے رام میرے رب کی رحمت اور احسان کے باعث حج کے مبارک دن مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں واقع قبرستان جنت البقیع میں آسو دہ خاک ہو گیا۔ اللہ پاک پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔ نہایت خوش بخت آدمی تھے۔ ہندوستان کے ایک متمول ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر والوں سے چھپ کر اسلام قبول کیا۔ عیش

Read more

کشمیریوں کی چیخیں اور ایک منٹ کی خاموشی

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جس سہولت اور آسانی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آ ئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے اپنے دستور کے آرٹیکل 370 اور 35 کو ساقط کر دیا، اس پر کیا کیا جائے؟ کس کو دوش دیا جائے؟ کس پر الزام دہرا جائے؟ بھارت تو ازل سے ہمارا دشمن ہے ہی۔ اب اس دشمن پر انتہائی متعصب، مسلم کش ذہنیت رکھنے والی نریندر مودی کی حکومت ہے۔ وہی درندہ صفت شخص جس نے گجرات

Read more

کیا عام شہری لاوارث ہے؟

یوں تو معاشرے کے کئی بنیادی اجزاء یا عناصر ہوتے ہیں لیکن جب انسان کسی خاص نظام کے تحت ایک ریاست کے اندر یکجا ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی اجتماعی زندگی کے لئے ایک عہد نامہ کرتے ہیں۔ اس عہد نامے کو ہم عام طور پر کسی ریاست کا آئین یا دستور کہتے ہیں۔ آئین کے ذریعے ایک معاشرہ طے کرتا ہے کہ وہاں حکمرانی کا نظام کیا ہو گا؟ حکمران کس طرح چنے جائیں گے؟ انہیں کس کس

Read more

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور احترام آدمیت

نیب یعنی۔ ”قومی احتساب بیورو“ میرا موضوع نہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں یاد دلایا کہ یہ ادارہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بنا جو اس وقت سے ”سیاسی انجینئرنگ“ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ خیال آتا ہے کہ جب سیاستدانوں نے کئی مہینوں کی محنت اور مشاورت سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آمر پرویز مشرف کے تمام قوانین، ضابطوں اور آئینی ترامیم کو دستور سے خارج کر دیا تو ”نیب“ کو کس مصلحت کے

Read more

مریم نواز کے ساتھ ملاقات میں پنجاب یونیورسٹی کا کیا ذکر ہوا؟

جامعہ پنجاب میری پہلی محبت ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی میں اس میں پڑھنے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ ایک وقت تھا جب میں یہاں داخلے کے لئے مرے جا رہی تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب مجھے یہاں جز وقتی تدریس کا موقع ملا۔ سچ یہ ہے کہ یہاں پڑھنا اور پڑھانا میرے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہا۔ میرے رب کا فضل اور احسان جس نے مجھ نا اہل کو فخر کرنے کے لئے کئی حوالے عطا

Read more

ذکر کچھ اچھے اداروں کا

کرونا کی وبا ابھی تک جاری ہے۔ جب تک اموات ہوتی رہیں گی اور جب تک نئے مریض سامنے آتے رہیں گے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اب یہ ریلا گزر گیا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس کی شدت میں کمی آ گئی ہے۔ لیکن ساتھ ہی میڈیا ایسی خبریں بھی دے رہا ہے کہ سرکاری سطح پر کیے جانے والے ٹیسٹ بہت کم ہو گئے ہیں۔ لہذا وہ مریض بھی کسی گنتی شمار میں نہیں آرہے

Read more

تعلیم بنام کورونا

کورونا کی آفت نے زندگی کے کن کن شعبوں کو متاثر کیا ہے، اس کا درست اندازہ لگانے کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ سامنے کی بات تو یہ ہے کہ ہزاروں انسانوں کی جانیں گئیں۔ ان میں وہ بڑے نام بھی شامل ہیں جو ہمارا قیمتی اثاثہ تھے۔ ہر گھر کے اندر خوف کی فضا نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے اعصاب پر منفی اثرات ڈالے۔ مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں کمی یا کاروبار کی زبوں

Read more

یادیں سفر حجاز کی (آخری قسط)

جتنے دن مکہ معظمہ میں گزرے، کم و بیش روزانہ حطیم میں داخلے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ کے فضل سے میں گھنٹوں اس مقام مقدس میں بیٹھی رہتی۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حطیم بیت اللہ کا جزو ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے گزارش کی کہ میں بھی کعبہ میں داخل ہونا چاہتی ہوں۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ حجر (حطیم ) میں داخل ہو جاو، یہ بیت اللہ ہی

Read more

میرے استاد ڈاکٹر مغیث الدین شیخ مرحوم (مکمل کالم)۔

چند دنوں میں کیسی کیسی نابغہ روزگار ہستیاں رخصت ہو گئیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف کمپیئر طارق عزیز صاحب، ممتاز عالم دین مفتی محمد نعیم صاحب، معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری صاحب، جماعت اسلامی کے سابق امیر اور دانشور سید منور حسن صاحب، ممتاز ماہر تعلیم اور جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے معمار پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ صاحب۔ اللہ پاک ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ڈاکٹر مغیث مجھ

Read more

غلاف کعبہ کا حصول گھر بیٹھے کیسے ممکن ہو سکا

مکہ معظمہ میں قیام کے دوران مجھے ہر لمحہ یہ خیال رہتاکہ میں کس قدر خوش نصیب ہوں جو اس شہر مقدس میں، مسجد حرام کے عین سامنے واقع ہوٹل میں رہائش پذیر ہوں۔ اس روئے زمین پر واقع کوئی شہر، کوئی مقام، کوئی علاقہ مکہ معظمہ سے بڑھ کر حرمت اور عظمت والا نہیں۔ یہ شہر اللہ رب العزت اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سب شہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البلد میں

Read more

مدینہ منورہ کی سیر و سیاحت

مدینہ منورہ میں آخری دن اس شہر مقدس کی سیر و سیاحت اور زیارات میں گزرا۔ تین برس قبل بھی میں نے زیارتوں کی سعادت حاصل کی تھی۔ اس مرتبہ کا تجربہ مگر منفرد تھا۔ اور خوشگوار بھی۔ وجہ حافظ قاسم روف مدنی صاحب تھے۔ حافظ صاحب مدینہ منورہ میں حج و عمرہ کمپنی خدام الحرمین انٹر نیشنل کے نمائندہ خصوصی ہیں۔ صاحب علم شخص ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ اپنی دو کتابیں لکھنے میں مصروف ہیں۔ جتنے دن ہم مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے، حافظ قاسم صاحب ہر طرح کی مدد اور رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ انہوں نے زیارتوں کی پیشکش کی تو ہم سب تیار ہو گئے۔ اگلے دن وقت مقررہ پر وہ اپنی گاڑی سمیت ہوٹل پہنچ گئے۔ ہمیں کئی گھنٹے گھماتے رہے۔ ہر مقام کی تفصیلی تاریخ اور اہمیت سے آگاہ کرتے رہے۔ راستہ بھر اسلامی واقعات اور ایمان افروز باتیں بتاتے رہے۔

Read more

اعظم گڑھ کا ہندو کیسے مدینہ یونیورسٹی اور مسجد نبوی کا معلم بن گیا

یہ 2005 کا زمانہ تھا۔ روزنامہ نوائے وقت میں معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب کا ایک کالم بعنوان ”گنگا سے زم زم تک۔“ شائع ہوا۔ کالم میں انہوں نے بھارت کے ایک کٹر ہندو نوجوان کا تذکرہ کیا تھا۔ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر جس نے اسلام قبول کیا۔ نوجوان پر اس قدر احسان الٰہی ہوا کہ وہ دل و جان سے اسلامی تعلیمات کی جانب راغب ہوگیا۔ مدینہ منورہ اور مصر کی جامعات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبہ تدریس سے منسلک ہوا۔

سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسر اور ڈین کے عہدے تک جا پہنچا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقات اسلامی میں جت گیا۔ عربی اور ہندی میں درجنوں کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کتب کا ترجمہ دنیا کے مختلف ممالک کے دینی مدارس کے نصاب کا حصہ ہے۔ اس قدر با سعادت ٹھہرا کہ مسجد نبوی ﷺ میں حدیث کا درس دینے لگا۔ کفر کے اندھیروں سے نکل کر اسلام کے روشن راستوں پر گامزن ہونے والے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی کے سفر سعادت کے بارے میں لکھا گیا یہ کالم میری یاداشت سے کبھی محو نہیں ہو سکا۔

Read more

یادیں سفر حجاز کی (قسط 3 )

مسجد نبوی ﷺ کی رونق نرالی ہے۔ نماز کے اوقات میں عجیب سماں بندھتا ہے۔ موذن کی پکار سنتے ہی خرید و فروخت معطل ہوجاتی ہے۔ خواتین، مرد، بوڑھے، بچے، جوان، تیز تیز قدم اٹھاتے مسجد میں داخل ہوتے ہیں۔ صفیں بندھتی ہیں۔ باجماعت نماز ادا ہوتی ہے۔ جسے جہاں جگہ ملتی ہے، وہیں سما جاتا ہے۔ کہیں صحن میں بچھے قالین پر، کہیں ننگے فرش پر سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ تاخیر ہو جائے تو مسجد کا دروازہ عبور

Read more

کرونا وبا سے قبل عمرے کا سفر سعادت

مدینہ منورہ کے پرنس محمد بن عبد العزیز انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی ہوائی سفر کی ساری کلفت زائل ہو گئی۔ محض چند گھنٹوں میں پاکستان سے مدینہ منورہ پہنچ جانا یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔ خیال آیا کہ گزرے وقتوں میں زائرین اونٹوں کے ذریعے کئی کئی ماہ پر محیط طویل سفر طے کرنے کے بعد دیار حجاز پہنچا کرتے تھے۔ سنتے ہیں کہ خود پاکستان میں حج، عمرہ زائرین کے لئے باقاعدہ بسیں چلا

Read more

سفر حجاز اور پی۔ آئی۔ اے کی زبوں حالی ( کرونا وبا سے قبل عمرہ کا سفر سعادت)

اگرچہ دنیا جہاں کے سبھی کام میرے رب کی مرضی اور منشا سے بندھے ہوتے ہیں، تاہم حج عمرہ کی بات چلے تو یہ حقیقت عملی طور پر سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہوا۔ گزشتہ دو برس کے دوران کئی مرتبہ عمرے کی خواہش ہوئی۔ ارادہ بندھا۔ تیاری بھی کی۔ لیکن کوئی نہ کوئی رخنہ آڑے آتا رہا۔ ایک مرتبہ تو گھر والوں کے ہمراہ باقاعدہ بائیو میٹرکس کروایا۔ ویزہ اور دیگر انتظامات

Read more

کرونا: طلاق، گھریلو تشدد اور خود کشی کے بڑھتے واقعات

اطلاعات ہیں کہ چین، امریکہ، برطانیہ، ترکی اور دیگر ممالک میں لاک ڈاون کی وجہ سے طلاق کی شرح میں نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ میاں، بیوی ایک ساتھ گھر پر معمول سے کہیں زیادہ وقت گزارتے گزارتے اکتا گئے ہیں۔ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طلاق کی شرح مزید بڑھے گی۔ کرونا کی وجہ سے دنیا بھر میں خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کے

Read more

کورونا بحران: مراد علی شاہ، میڈیا اور طبی عملے کا شاندار کردار

آج کالم میں کچھ لائق تحسین کرداروں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں، جو اکثر و بیشتر ہماری تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ حکومت سندھ کی کارکردگی کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی نا اہلی، کبھی کچرے کے ڈھیر، کبھی کرپشن، کبھی بد انتظامی اور کبھی کسی اور بہانے یا جواز پر۔ ان باتوں میں جزوی یا کلی صداقت بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم کرونا وائرس سے جنم لینے والی صورتحال کے ہنگام، سندھ حکومت نے جس

Read more

فواد چوہدری کا ٹویٹ اور پنجاب یونیورسٹی

ارادہ تو یہ باندھا تھا کہ اس وبائی صورتحال کی روک تھام میں حکومت سندھ کی قابل تقلید کارکردگی کا تذکرہ کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے تحرک اور فعالیت کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔ تاہم وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ایک ٹویٹ نے میری توجہ کا محور (اور ارادہ) بدل ڈالا۔ فی الحال مراد علی شاہ کی کارکردگی کو اگلے کالم تک موقوف رکھتے ہیں۔ وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ ”کہاں ہیں

Read more

وبائی صورتحال اور ہم

کرونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ ملک بھی اس آسیب کی زد میں آکر غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جو رہنے کے لئے دنیا کے محفوظ ترین ممالک شمار ہوا کرتے تھے۔ ان معاشروں میں بسنے والے انسان کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے اپنے کاموں میں جتے رہتے تھے۔ آج یہ شہری تمام کاموں کو بالائے طاق رکھے، گھروں میں دبکے رہنے پر مجبور ہیں۔ کارخانے بند ہیں،

Read more

پاکستان اور میڈیا کی آزادی

پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کو، نیب کی روایتی خود سری کے حوالے سے دیکھنا شاید مناسب نہ ہو۔ اس واقعے کو پاکستان میں آزادی صحافت کی عمومی صورتحال سے الگ تھلگ کر کے دیکھنا بھی درست نہیں۔ صحافت اور صحافیوں پر مشکلات کی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کا تعلق صرف موجودہ حکومت سے نہیں۔ پاکستان میں آنے والی مختلف حکومتوں نے آزادی صحافت کے کوئی اعلیٰ اور قابل قدر

Read more

عورت مارچ اور ایک متنازع نعرہ

شاعر مشرق علامہ اقبال نے لگ بھگ ایک صدی پہلے کہا تھا۔ ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا۔ مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں۔ ایک اور مقام پہ علامہ کہتے ہیں، وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی کہ ہر شرف ہے اسی درج کا درمکنوں مکالمات فلاطون نہ لکھ سکی لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا

Read more

ہندو سامراج اور مسلم کشی!

جب متعصب، تنگ نظر اور انتہا پسند شخص کسی ملک کی قیادت کے منصب پر فائز ہو جائے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو آ ج کل بھارت میں ہو رہا ہے۔ نریندر مودی نے دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کے چہرے پر پڑے تمام نقاب الٹ دیے ہیں۔ کہاں کی جمہوریت؟ کہاں کا سیکولرازم؟ کہاں کے بنیادی شہری حقوق؟ کہاں کی آزادی اظہار رائے؟ کہاں کی مساوات؟ کہاں کے مساوی مواقع؟ اور کہاں کا تحمل و برداشت؟ تقریبا ڈیڑھ ارب

Read more

پنجاب اور نجی تعلیمی ادارے

تعلیمی حلقوں کے لئے یہ یقینا ایک اہم خبر ہے کہ حکومت پنجاب نے نجی یونیوسٹیوں کے مطالبات، اصولی طور پر تسلیم کرتے ہوئے ایک عمل درآمد کمیٹی قائم کر دی ہے جسے ”ہائیر ایجوکیشن ریفارمز“ کا نام دیا گیا ہے۔ آٹھ ارکان پر مشتمل کمیٹی میں چار ارکان نجی جامعات کی نمائندگی کریں گے، جبکہ چار ارکان ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے لئے جائیں گے۔ یہ کمیٹی ہائیر ایجوکیشن کے صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں

Read more

تعلیم کی زبوں حالی

مہنگائی نے سالوں بعد پہلی بار ایک طوفان کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ لوگوں کو واقعی آٹے دال کی پڑی ہے۔ دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو چلا ہے۔ لاکھوں لوگ ہر روز غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ بے روزگاری تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور حکام اپنے عوام کو اس سیلاب سے بچانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ ایسے میں تعلیم کی زبوں حالی کی بات کرنا عجیب سا لگتا ہے۔ لیکن

Read more

لا قانونیت، فریب اور بیچارے عوام!

گذشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بارے میں بعض بہت ہی اہم ریماکس دیے اور فیصلے بھی جاری کیے ہیں۔ ان فیصلوں کا تعلق سرکاری یا مختلف اداروں کی زمینوں پر قبضے، نا جائز تجاوزات اور غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی بڑی بڑی عمارتوں سے ہے۔ جناب چیف جسٹس نے بڑی سختی سے احکامات جاری کیے ہیں کہ ایسی تمام عمارات گرا دی جائیں اور

Read more

مہنگائی، بے روزگاری۔ سب سے بڑے مسائل!

ناروے کے سفر کی روئیداد تو میں نے لکھ دی لیکن کہانی ختم نہیں ہوئی۔ میں اس کہانی کو تو نہیں چھیڑنا چاہتی لیکن وہاں مقیم پاکستانیوں کی سوچ اور جذبات کا ذکر ضرور کرنا چاہتی ہوں۔ جب بھی مجھے دوسرے ممالک میں جانا پڑا، وہاں مقیم پاکستانیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ مجھے یہی محسوس ہوا کہ بظاہر یہ لوگ رزق روزی کی تلاش میں ملک سے دور آ جاتے ہیں لیکن درحقیقیت یہ پاکستان ہی میں بستے ہیں۔

Read more

ناروے میں چند روز (آخری قسط)۔

اوسلو کانفرنس اپنی تمام تر ہنگامہ خیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ لب لباب اس علمی اجتماع کا یہ تھا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا معاملہ مشکلات کا شکار ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے صحافی، پروفیسر اور دیگر احباب اپنے اپنے ملکوں میں صحافت اور صحافیوں کو درپیش مصائب کا شکوہ کرتے نظر آئے۔ ڈیجیٹل میڈیا (خاص طور پر سوشل میڈیا) کی آمد کے بعد جہاں صحافیوں اور عام شہریوں

Read more

ناروے میں سرکاری میڈیا بھی آزاد ہے

ناروے جانے کا ارادہ بندھا تو سب سے پہلا رابطہ دانیال سے ہوا۔ دانیال یونیورسٹی میں میرا شاگرد ہوا کرتا تھا۔ چند برسوں سے وہ اپنی بیوی ارم کے ساتھ اوسلو میں مقیم ہے۔ میں نے اسے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اپنے ممکنہ سفر سے متعلق بتایا تو اگلے روز اس نے فون پر رابطہ کیا۔ خوش دلی سے مجھے دعوت دی کہ ہوٹل کے بجائے اس کے گھر ٹھہروں۔ دوسرا رابطہ ثاقب سے ہوا۔ ثاقب براہ راست میرا شاگرد

Read more

کیا نواز شریف بغیر پرچی دیکھے انگریزی بول سکتے تھے؟

اس شام ناروے میں ہونے والی کانفرنس کا باقاعدہ آغا ز ہوا۔ سب سے پہلے میزبان فاونڈیشن کے ڈائریکٹر اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ آزادی صحافت کی اہمیت اور فاونڈیشن کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اور کچھ اس طرح کہ ایک لکھا ہوا پرچہ، اٹک اٹک کر حرف بہ حرف پڑھ ڈالا۔ اس کے بعد یونیسکو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ( گائے برگر) نے ڈائس اور مائیک سنبھالا۔ انہوں نے بھی کچھ لکھی اور کچھ زبانی

Read more

ترک پروفیسر طیب اردگان کے ذکر پر کیوں ہنسنے لگے؟

کھانے سے فراغت کے بعد انگریڈ ہم تینوں کو اپنے دفتر میں لے گئی۔ یہ واقعتا کسی پروفیسر کا کمرہ نظر آتا تھا۔ چھوٹا سا، بے ترتیب، کتابوں اور صفحات سے بھرا (بلکہ اٹا) ہوا۔ میری نگاہ دیوار پر پڑی۔ وہاں آنگ سان سوچی کی تصویر ٹنگی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ مجھے مبہم سا خیال آیا کہ نوبیل امن پرائز کا فیصلہ کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی ناروے میں قائم ہے۔ سوچی چونکہ نوبیل ایوارڈ یافتہ ہے، لہذا ناروے

Read more

ناروے میں پولش ڈرائیور کی اردو کیسے کام آئی؟

اوسلو ائیرپورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی سرد ہوا کا ایک برفیلا جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ پارہ منفی دس ڈگری کو چھو رہا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد میرے ہاتھ سردی کی شدت سے برفانے لگے تو میں نے دستانے پہن لئے۔ ناروے روانگی سے قبل میں نے انگریڈ سے ہوٹل تک کے راستے سے متعلق رہنمائی حاصل کی تھی۔ اس کے پیغامات میرے موبائل میں محفوظ تھے۔ مجھے ایئرپورٹ بس سروس کے

Read more

ناروے کے رستے میں آمنہ مفتی یاد آئیں

ایک ہاتھ میں سوٹ کیس تھامے اور دوسرا ہاتھ جیکٹ کی جیب میں ڈالے، میں بے خیالی کے عالم میں کھڑی تھی جب پیچھے سے ایک آواز ابھری۔ اسلام علیکم میم۔ ڈھیروں شاگردوں کے منہ سے ہر روز درجنوں مرتبہ یہ الفاظ سننا میرے معمولات حیات کا حصہ ہے۔ حسب معمول میں نے وعلیکم اسلام کہا۔ اس کے بعد رسما (اور اخلاقا) آواز کے تعاقب میں پلٹ کر دیکھا تو میری بہت اچھی شاگرد مہوش کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس

Read more

کیا ہم بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی گئے گزرے ہیں؟

کسی بھی مریض کا شافی علاج نا ممکنات میں سے ہے اگر اس کے مرض کی تشخیص نہ ہو جائے اور یہ معلوم نہ کر لیا جائے کہ اس مرض کا سبب کیا ہے۔ یہی حال اقوام کا بھی ہوتا ہے۔ جب تک کسی قوم کے زوال، اس کی پستی اور آئے روز پیش آنے والے مسائل کا حقیقی یا بنیادی سبب معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک وہ ٹامک ٹوئیاں تو مارتی رہے گی لیکن پوری قوت کے

Read more

ریل کا حادثہ، صحافیوں کا قتل، مولانا کا دھرنا

خبروں کے ہجوم میں یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس موضوع پر قلم اٹھایا جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اچھی خبروں کا قحط رہتا ہے۔ معیشت کی مسلسل گراوٹ، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ اور بجلی گیس کی بے قابو ہو جانے والی قیمتوں کا رونا اب معمول سا بن گیا ہے۔ کوئی عوام کی آہ و زاری پر توجہ دینے والا نہیں۔ دیکھتے دیکھتے سٹریٹ کرائمز کا دائرہ پھیلتا چلا جا رہا

Read more

سانحہ ساہیوال: یہ خون خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا

کوئی آٹھ ماہ قبل 19 جنوری 2019 کو پورا پاکستان ایک لرزہ خیز واردات کی خبر سے سکتے میں آگیا۔ ایک ہنستا بستا خاندان شادی کی کسی تقریب میں شرکت کے لئے گھر سے روانہ ہوا۔ ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر پنجاب پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کے چھ اہلکاروں نے ان کی گاڑی کو روکا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ میاں بیوی اور ان کی ایک بچی کے ساتھ ڈرائیور کو بھی گاڑی میں بیٹھے

Read more

آزادی صحافت امتحان سے دوچار

میڈیا کا معاملہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ، دنیا بھر میں الجھا ہوا ہے۔ حکمران چاہے وہ کتنے ہی جمہوریت پسند کیوں نہ ہوں، تنقید پسند نہیں کرتے۔ بادشاہت، آمریت اور یک جماعتی حکمرانی نے اسکا آسان اور سیدھا سادہ حل ڈھونڈ لیا ہے کہ وہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ، حکومتی کنٹرول میں ہوتا ہے ۔ یہ میڈیاوہی کہتا ہے جو حکمران چاہتے ہیں۔ اپنی رعایا کو وہی کچھ اور اتنا ہی بتاتے ہیں، جتنا ضروری ہوتا ہے۔

Read more

پاکستانی پاسپورٹ صومالیہ کے ہم پلہ۔ مگر ہمیں اس سے کیا غرض؟

دو چار دن پہلے ایک عالمی تحقیقی ادارے گلوبل پاسپورٹ پاور رینکنگ نے 2019 کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ رپورٹ ہر سال شائع کی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کسی ملک کا پاسپورٹ عالمی سطح پر کیا قدر و قیمت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر و قیمت کے یقین کے لئے بڑے سائنٹیفک پیمانے وضعکیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ

Read more

صرف تعلیمی بجٹ پر توجہ کیوں؟

جب بھی کوئی معاملہ طرح طرح کے مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہو جائے تو اس کی روح یا اس کا بنیادی مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے ہاں تعلیم کا ہے۔ آج کل تعلیمی بجٹ میں بے تحاشا کمی ایک بڑے مسئلے کے طور پر زیر بحث ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے اور یکساں نصاب تعلیم کا ذکر کیا ہے۔ یہ معاملہ ہمیشہ تحریک انصاف کے

Read more

میڈیا کا احتساب کیوں نہیں؟

چند ہفتے قبل وفاقی حکومت نے میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں بنانے کا اعلان کیا تو حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں، میڈیا مالکان، صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس فیصلے کو آزادی صحافت اور جمہوریت پر حملے کے مترادف قرار دیا۔ حکومت کی طرف سے اس قسم کی ایک کاوش جنوری 2019 میں بھی ہوئی تھی۔ وفاقی وزارت اطلاعا ت اس وقت فواد چوہدری کے سپرد تھی۔ وزیر موصوف نے پیمرا (Pakistan Electronic Media

Read more

سرکاری جامعات اور ہسپتال بھی نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسی توجہ کے منتظر

سرکاری جامعات اور ہسپتال بھی نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسی خصوصی توجہ کے منتظر ہیں۔ عمران خان کی سیاست اور طرز حکمرانی سے اختلاف رکھنے والے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کا قیام ان کے اہم کارنامے ہیں۔ عمران خان کی تقاریر ا ٹھا کر دیکھ لیں۔ کم و بیش ہر تقریر میں کرکٹ ورلڈ کپ، شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کا ذکر ملے گا۔ بر سر اقتدار آنے

Read more

ملائشیا کی سڑکوں پر شہباز شریف یاد آئے

ملائشیا میں یہ میری آخری رات تھی۔ صبح فجر کے وقت مجھے ہوٹل سے روانہ ہونا تھا۔ ائیر پورٹ یہاں سے چالیس منٹ کی مسافت پر تھا۔ منہ اندھیرے ٹیکسی میں اکیلے سفر کرنے کے خیال سے مجھ پر خوف طاری تھا۔ جینی اور ماہی سے بات ہوئی۔ دونوں نے تسلی دی کہ ٹیکسی محفوظ ہے اور پریشانی کی بات نہیں۔ لیکن میری بے اطمینانی قائم رہی۔ میں نے گھر فون کیا اور امی کو اپنی فکر مندی سے آگاہ

Read more

کشمیر اور تلخ زمینی حقائق

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے حوالے سے جمعہ کے یوم احتجاج کو کامیاب کہا جائے یا کمزور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک بات واضح ہے جو لوگ گھروں سے نہیں نکلے، جنہیں جمعہ کی وجہ سے بارہ ساڑھے بارہ بجے اپنے بچوں کو سکولوں سے لانا تھا اور وہ ٹریفک روکنے کے عمل میں شامل نہیں ہو سکے، اُن کے دل میں بھی کشمیر ی عوام کا اتنا ہی درد ہے۔ وہ بھی بھارت کے ظالمانہ طرز عمل پر وہی رائے رکھتے ہیں جو احتجاج میں عملاً شریک ہونے والوں کی ہے۔

Read more

ملائشیا میں ایک دن ماہی کے ساتھ

ملائشیا میں اپنا آخری دن میں نے کوالالمپور کی خاک چھانتے گزارا۔ ماہیما بختانی (عرف ماہی) شام ڈھلے تک میرے ساتھ رہی۔ اس دن جب بھی ہم ٹیکسی، میٹرو یا ٹرین میں سفر کرتے۔ یا کسی ریسٹورنٹ میں کچھ کھاتے، ماہی ادائیگی پر اصرار کرتی۔ اس کی ضد سے تنگ آکر میں نے اس کا والٹ (پرس) اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ اس کے ساتھ گھومتے پھرتے شعوری لاشعوری طور پر میں ملائشیا کی تیز رفتار ترقی کے

Read more

ملائشیا کی ہندو لڑکی جو پاکستانی ڈراموں کی شوقین تھی

ملائشیا روانگی سے قبل میں نے جینی سے کہا تھا کہ میرے لئے کسی مقامی لڑکی کا بندوبست کررکھے۔ جو گھومنے پھرنے کی شوقین اور کوالالمپور کے راستوں سے واقف ہو۔ جس دن میں ملائشیا پہنچی، جینی نے مجھے اطلاع دی کہ اس نے میرے لئے اپنی شاگرد خاص ماہیما بختانی (عرف ماہی) کو چنا ہے۔ میں سمجھ گئی کہ یہ ملائشین ہندو لڑکی ہے۔ ماہی کانفرنس کے پہلے اور دوسرے دن بار ہا میرے پاس آئی۔ میں چونکہ مصروف تھی، لہذا ہم ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے تک محدود رہے۔

Read more

زیب داستاں: بھارتی پروفیسر سے ایک مکالمہ

ملائشین کانفرنس میں دو پاکستانی طالبعلم محسن اور عثمان بھی موجود تھے، جو ملائشیا کی دو مختلف جامعات میں زیر تعلیم تھے۔ بھارتی پروفیسر ڈاکٹر علم بھی ایک وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شریک تھے۔ لنچ بریک میں ہم پاکستانی اور بھارتی ایک ساتھ کھانے کی میز پر جا بیٹھے۔ عام طور پر ہمارا تاثر ہوتا ہے کہ ہندو گوشت کے قریب بھی نہیں جاتے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ بہت سے ہندو گوشت کھانے سے اجتناب نہیں کرتے۔ ڈاکٹر

Read more

پاکستانی وزارت خارجہ نے کرکٹ ٹیم کو کیا ہدایت دی؟

ملائشین کانفرنس میں دو پاکستانی طالب علم محسن اور عثمان بھی موجود تھے، جو ملائشیا کی دو مختلف جامعات میں زیر تعلیم تھے۔ بھارتی پروفیسر ڈاکٹر علم بھی ایک وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شریک تھے۔ لنچ بریک میں ہم پاکستانی اور بھارتی ایک ساتھ کھانے کی میز پر جا بیٹھے۔ عام طور پر ہمارا تاثر ہوتا ہے کہ ہندو گوشت کے قریب بھی نہیں جاتے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ بہت سے ہندو گوشت کھانے سے اجتناب نہیں کرتے۔

Read more

امریکی پروفیسر اور پاکستان کی بہادر عورتیں

امریکی پروفیسروں کے بارے میں میرا (محدود) تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ان کا انداز گفتگو کچھ کھوجتا اور کریدتا ہوا ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر جین کے انداز و اطوار بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ ایک اضافی چیز وہ چھوٹی ڈائری تھی جس میں دوران گفتگو وہ کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی۔ ہم دونوں آزادی صحافت پر بات کر رہے تھے۔ جب اچانک اس نے موضوع بدلا اور آزادی نسواں پر بات کرنے لگی۔ پوچھنے لگی کہ پاکستان میں

Read more

مہاتیر کے دیس میں (قسط 2 )

ملائشین یونیورسٹی میں ہونے والی اس ورکشاپ کے تین سیشن تھے۔ ایک سیشن میں جرمنی سے آئے ڈاکٹر اولیور نے تحقیقی مضامین لکھنے، انہیں ایڈٹ کرنے اور کانفرنسز کے انعقاد، وغیرہ کے حوالے سے طویل لیکچر دیا۔ زندگی میں شاید پہلی بار مجھے کسی پروفیسر کو مسلسل دو گھنٹے تک سننا اچھا لگا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شعبہ تعلیم میں آنے سے پہلے ڈاکٹر اولیور صحافی ہوا کرتے تھے اور سفارتکار بھی۔ ان کا صحافتی اور سفارتی تجربہ ان

Read more

مہاتیر کے دیس میں

ملائشیا جانا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ اس ملک سے میری کچھ پرانی یادیں وابستہ ہیں۔ آج سے اٹھارہ برس قبل، میں نے پہلی بار اپنے والد کے ہمراہ اس ملک کا سفر کیا تھا۔ ہم لوگ سنگاپور میں تھے۔ والد صاحب کوکام کے سلسلہ میں ملائشیا جانا تھا۔ ہم بہنیں بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستانی پاسپورٹ کی عزت و آبرو قائم تھی۔ مجھے یاد ہے سنگا پور، کوریا، جاپان، ہانگ کانگ

Read more

بھارت کا بے لچک رویہ اور ہم

ہمیں اتنے زیادہ مسائل درپیش ہیں کہ بھارتی انتخابات میں ایک بار پھر نریندر مودی کی کامیابی پس منظر میں چلی گئی ہے۔ کم کم ہی تجزیے دکھائی دیے کہ انتہا پسندانہ سوچ کے حامل، مسلم کش اور پاکستان دشمن مودی کی کامیابی ہمارے لئے کیا مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یوں تو پاکستان دشمنی بھارت کی رگ رگ میں سمائی ہوئی ہے۔ وہاں کوئی بھی جماعت اقتدار میں ہو اور کوئی بھی سیاستدان وزیر اعظم کی کرسی پہ بیٹھا

Read more

”تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں میں ہوئی ہیں“

مصر میں منتخب صدر، ڈاکٹرمحمد مرسی کی افسوسناک موت ایک بار پھر کئی سوالات اٹھا گئی۔ سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ امریکہ اور یورپ، جو خود کو انسانی حقوق اور جمہوریت کا چمپیئن قرار دیتے ہیں، وہ اس طرح کی درندگی پر چپ کیوں سادھ لیتے ہیں؟ مرسی کا تختہ کس طرح الٹا گیا، کیونکر منتخب صدر کو زنداں میں ڈالا گیا، کس طرح اسے اذیتیں دی گئیں، کیسے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ایک بزرگ شخص کو علاج و معالجے سے محروم رکھا گیا، کمرہ عدالت کے اندر کن المناک حالات میں اس کی موت واقع ہوئی، کس طرح اس کے قریب تریں عزیزوں کو بھی چہرہ دیکھنے اور نماز جنازہ میں شریک ہونے کی اجازت نہ دی گئی۔

Read more

مریم نواز: جگر ہو گا تو عقاب آئے گا

علامہ اقبال کا معروف شعر ہے
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

ساقی نامہ کا یہ دعائیہ شعر یقینا ان کے عہد کی تصویر کشی کرتا ہے کیوں کہ اسی نظم میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”پرانی سیاست گری خوار ہے“۔ علامہ نے اپنی دور بیں آنکھوں سے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے ہیں اور گہری نیند کے نشے میں مست رہنے والے چینی انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگے ہیں۔ گویا آج کے چین کا نقشہ علامہ اقبال نے برسوں پہلے اپنی بصیرت کی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔ شاعر مشرق کی شاعری میں نوجوانوں کو انقلاب، تبدیلی اور جدوجہد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

Read more

ڈاکٹر انور سجاد۔ اک چراغ اور بجھا

ڈاکٹر انور سجاد اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے (آمین) ۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کی شاگردی کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحافتی حلقوں میں جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغیات کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ شعبے کی سربراہی غالبا نئی نئی استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے سپرد ہوئی تھی۔ ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ نامور ادیب اور ڈرامہ نویس ڈاکٹر انور سجاد الیکٹرانک میڈیا کی جماعت کو اسکرپٹ رائٹنگ پڑھایا کریں گے۔

Read more

جامعات کی عالمی درجہ بندی اور ہم۔ ! 

جامعات کی درجہ بندی کرنے والے بین الاقوامی ادارے کیو۔ ایس  (QS)  نے 2019 کی درجہ بندی رپورٹ شائع کی ہے۔  رپورٹ کے اجراء کے بعد، پاکستانی میڈیا میں ایسی خبریں، تبصرے اور اداریے پڑھنے اور سننے کو ملے۔  جن میں تاسف کا اظہار کیا گیا کہ تعلیم پر اربوں روپے سالانہ خرچ کرنے کے باوجود کوئی ایک بھی پاکستانی یونیورسٹی، دنیا کی ساڑھے تین سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہو سکی۔   ( پانچ سو بہترین جامعات میں البتہ

Read more

آسیب کا سایہ

وہ جو منیر نیازی نے کہا تھامنیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہےکہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہافسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کیسے گھمبیرداخلی اور خارجی مسائل سے دوچار ہے اور ہم کس طرح کے ”نان ایشوز“ میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ ہمیں ماضی میں تلخ تجربات سے پالا نہ پڑا ہو یا ہم نے اس طرح کی روش کی بھاری قیمت نہ ادا کی ہے۔ لیکن کیا ستم ہے کہ ہم ماضی کے سبق بھول کر از سر نو وہی تلخ تجربات دہرانا چاہتے ہیں اور گمان یہ کرتے ہیں کہ اس بار نتائج وہ نہیں نکلیں گے جو پہلے نکلے تھے۔

Read more

کیا نیب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے؟

کافی عرصے سے قومی احتساب بیورو (نیب) بھرپور طریقے سے ہمارے سیاسی اور صحافتی منظرنامے پر چھایا ہوا ہے۔ آج کل بھی یہی صورتحال ہے۔ تاہم اس مرتبہ موضوع بحث کوئی سیاستدان، بیوروکریٹ، صنعتکار یا ہتھکڑیوں میں جکڑا نہتا پروفیسر نہیں۔ اس دفعہ تمام تر توجہ کا مرکز و محور خود چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال ہیں۔ پہلے انہوں نے ایک معروف کالم نگار سے ملاقات کی اور ایسی باتیں کہیں جن کی وجہ سے وہ تنقید اور تنازعات کی زد میں رہے۔

Read more

اعلیٰ تعلیم: مسئلہ معیار اور مقدار کا !

معیار تعلیم کا معاملہ بے حد اہم بھی ہے اور توجہ طلب بھی۔ آئے روز کوئی نہ کوئی قصہ سننے کو ملتا رہتا ہے۔ چند دن پہلے یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے جامعہ پنجاب کے ایم۔ فل اور پی۔ ایچ۔ ڈی کے درجنوں پروگرام بند کر دیے ہیں۔ جامعہ کو ان شعبہ جات میں مزید داخلوں سے روک دیا گیاہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا تعلیم کی بہتری کے حوالے سے ایک متعین کردار

Read more

بلاول بھٹو اور مریم نواز: سیاسی قیادت میں جوہری تبدیلی

اس بات کا کریڈٹ یقینا بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کی تمام قابل ذکر جماعتوں کو ایک میز پر لا بٹھایا۔ بلاول کی طرف سے دی جانے والی دعوت افطار کے بعد سے حکومتی صفوں میں ہلچل (بلکہ ہیجان) کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر یہ اعلان کہ عید کے بعد ایک آل پارٹیز کانفرنس برپا ہو گی۔ تمام اپوزیشن مل بیٹھے گی اور حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ ہو گا۔ اپوزیشن

Read more