پاکستان میں جبری مشقت اوراس کی بدلتی شکلیں

سڑک کنارے اینٹوں سے بنے عارضی اور ناپائیدار چولہے میں بجلی کی متروک تاروں سے اتاری گئی ربڑ اور پلاسٹک کی انسولینشن آگ کا بھامبڑ اٹھا رہی ہے۔ چولہے پرکیمیکل لانے لے جانے کے لیے استعمال کیا جانے والے لوہے کا آدھا کٹا ڈرم ایک بڑے کڑاہے کے طور پر رکھا ہے۔ کڑاہے میں کاسٹک سوڈا کھول رہا ہے۔ کیمیائی دھوئیں سے آلودہ فضا میں سانس لینا دشوار اور آنکھوں میں جلن سے بچنا نا ممکن ہے۔  چولہے پر رکھے

Read more

بجار کا بلوچستان

”بلوچستان کے لوگ پاکستان سے آزادی نہیں چاہتے۔ ہم پاکستان سے باہرنکلنے کا نہیں سوچتے۔ ہمارا انڈیا سے کیا لینا دینا۔ ایران سے تعلق نہیں چاہتے کہ ہمیں وہاں کا سیاسی نظام پسند ہے نہ ہی وہ ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ پنجرے کا پرندہ بھی بڑے پنجرے سے چھوٹے پنجرے میں نہیں جانا چاہے گا، ہم تو پھر انسان ہیں‘‘، یہ الفاظ بلوچستان کے شہر تربت کے رہنے والے بجار کے ہیں، جو اس نے آج سے 24 سال

Read more

اُدھر تم، اِدھر ہم… مگر ذرا ہٹ کے

امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق بھارت کے بہتر فیصد ہندوؤں کا کہنا ہے کہ گائے کا گوشت کھانے والا ہندو نہیں ہو سکتا جبکہ اڑتالیس فیصد کا کہنا ہے کہ مندر نہ جانے والا ہندو نہیں ہو سکتا۔ سروے رپورٹ کے مطابق ستتر فیصد بھارتی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ سور کا گوشت کھانے والا مسلمان نہیں ہو سکتا جبکہ اکسٹھ فیصد کا کہنا ہے کہ مسجد نہ جانے والا مسلمان نہیں

Read more

امرتسر میں ناشتہ، لاہور میں لنچ، کابل میں ڈنر

ناشتہ امرتسر میں، دوپہر کا کھانا لاہور میں اور رات کا کھانا کابل میں۔ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے تقریباً ڈیڑھ دہائی قبل پاکستان کے دورے کے دوران کہے یہ الفاظ آج بھی اس بزرگ کی نصیحت جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ جو وقت سے آگے جاکر دیکھنے اور سمجھنے کا گیان رکھتا ہو۔ اگرچہ من موہن سنگھ کے الفاظ تقسیم ہند سے قبل کے ان ادوار کا احاطہ کرتے ہیں جب بارڈر نہیں تھے، اور کوئی دلیپ

Read more

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو…

ایسا نہیں ہے کہ سارے کے سارے سیاستدان ہی کرپٹ، مفاد پرست یا سیاست میں محض مال بنانے کے لیے ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ سارے کے سارے ایم این ایز قومی اسمبلی میں گالیاں دیتے ہیں اور پھر گالیوں کو اپنے کلچر کا حصہ کہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سارے کے سارے عوام مفاد پرست، سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کے ذہنی غلام ہیں یا سب ہی الیکشن میں قیمے والا نان کھا کر ووٹ ڈالتے

Read more

جب لاہور ہائی کورٹ کے جج کو ’بااثر وکیل‘ نے گالیاں دیں

جون، جولائی 1993 کی ایک تپتی دوپہر، لاہور ہائیکورٹ کی سو سالہ پرانی عمارت کے ٹھنڈے برآمدوں سے گزرتا ہوا ایک رپورٹر خبر کی تلاش میں نئے بلاک کی بالائی منزل پر واقع ایک فاضل جج صاحب کے کمرہ عدالت میں داخل ہوتا ہے۔ کمرے میں عدالت کا عملہ، چند سائیلین اور ان کے وکلاء جج صاحب کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایئرکنڈشنرکمرے میں دیگر اخبارات کے چند رپورٹرز شدید گرمی سے پناہ لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے میں

Read more