کیا حکومت مستحکم ہے؟

مہنگائی کی بنا پر عوام میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور وہ حکومت کو ہر وقت ہر مقام پر کھری کھری سُنا رہے ہیں۔ خواتین جنہیں باورچی خانہ سنبھالنا ہوتا ہے حکومت مخالف گفتگو کرتی ہوئی نظر آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ عمران خان کو ذرا بھر احساس نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لوگوں کا جینا مشکل کیا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ مگر وہ ٹیکسوں پے ٹیکس لگا کر حکمرانی کے

Read more

نرسوں کے موبائل فون اور سرکاری حکم نامہ

ایک خبر کے مطابق پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے علاوہ ازیں وہ یونیفارم پہننے اور محکمے کا کارڈ آویزاں کرنے کی بھی پابند ہوں گی۔ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جب سے سمارٹ فون ( ٹچ موبائل ) عام ہوا ہے ہمارے سماجی رویے بھی بدل گئے ہیں کیونکہ اس میں موجود ”دنیا“ اعصاب پر اثرات مرتب کرنے لگی

Read more

دُکھ درد کے مارے لوگ کدھر جائیں؟

موجودہ حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی جمع پونجی ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔

ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سننے کو مل رہی ہے کہ جس کے بعد بندہ ایک لمحے کو ساکت ہو جاتا ہے بعد ازاں وہ اس سوچ میں پڑجاتا ہے کہ اب وہ کیسے جیئے گا۔ مگر اس کے جذبات و احساسات سے بے خبر دھڑا دھڑ حکومت ”قانونی سینہ زوری“ میں مصروف ہے۔ نفسیاتی طور سے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے انہیں یہ کہتی ہے کہ بس جو نہی دو برس کا عرصہ بیتے گا ان کے زرد چہروں پر سُرخی نمو دار ہو جائے گی جبکہ عوامی شعور اس کی اس منطق و دلیل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اس کے مطابق جب مسرت و انبساط کے لمحات کا کوئی امکان ہو گا بھی تو عوام بیزار اور دوبارہ انہیں مفلسی و تنگدستی کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائیں گے کیونکہ وہ عوام کو کسی صورت خوشحال اور پر سکون نہیں دیکھنا چاہتے، ان پر خرچ ہونے والی دولت کا رخ اپنی طرف موڑتے چلے آئے ہیں۔

Read more

دہائی ہے تبدیلی سرکار کی!

مہنگائی کا اژدھا مسلسل پھنکار رہا ہے جس سے غریب عوام سہم سہم جا رہے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ موجودہ حکومت کو کھری کھری سنا رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں سر براہ حکومت سے کیا انہیں اسی طرح تنگدستی کی زندگی بسر کرنا ہے۔ یہ کہ انہوں نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا جو راستہ اختیار کیا تھا اس پر اب بھی چلتے رہنا ہے؟ اس کا جواب حکومت یہ دیتی ہے کہ چونکہ

Read more

ہماری لرزاں معیشت

ملکی معیشت میں بہتری کی نوید دی جا رہی ہے مگر اس وقت اُس کی ناتوانی نے بائیس کروڑ عوام کو بے حال کر کے رکھ دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات بھی جاری ہیں مگر اس کے باوجود ناجائز منافع خور سینہ تان کر غریب عوام کی کھال کھینچ رہے ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو لوگوں کو تاجرانہ لوٹ مار سے محفوظ کر سکے!

Read more

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا ایجنڈا کیا ہے؟

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف سیاسی محاذ گرم کرنے جا رہی ہے۔ اس کا انہیں حق بھی حاصل ہے۔ حکومت کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خود احتجاج کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر چکی ہے مگر اس کا موقف واضح تھا کہ وہ بد عنوانی کو کسی صورت قبول نہیں کرتی لہٰذا حکمرانوں نے جو لوٹ مار کر کے ملکی دولت باہر بھجوا رکھی ہے اسے واپس لائے گی یہ کہ تبدیلی لا کر عام آدمی کو سہولتیں فراہم کرے گی۔ مگریہ دونوں جماعتیں پی پی پی اور مسلم لیگ نون جو احتجاجی تحریک چلانے جا رہی ہیں ان کا کیا ایجنڈا ہے؟

Read more

ہم بائیس کروڑ کی حیثیت ہی کیا؟

ہم لکھنے والے بھی کیا سادہ ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ حکمران طبقہ ان کے مشوروں اور تجاویز کو ذرہ بھر اہمیت نہیں دیتا، مسلسل اپنی توانائیاں صرف کرتے چلے جا رہے ہیں! ایک وقت تھا کہ جب مدیر اخبار کے نام لکھا گیا کوئی خط قابل غور ہوتا اور اس پر عمل درآمد بھی ہو جاتا تھا۔ ایسا اس لیے تھا کہ حکمران ایک حد تک آزاد تھے۔ عالمی سامراج کے زیر اثر نہیں تھے۔۔۔ مگر جوں جوں

Read more

خدا کرے کہ اب آئے نہ آندھیوں کا موسم

کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت نے انتظامی امور بہتر بنانے کے لیے با ضابطہ اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کے بارے میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ صوبے کے معاملات کو بہ احسن طریق نمٹانے میں سست روی کا شکار ہے، جس سے عوام میں بد دلی و بے چینی پھیل رہی ہے۔ اس کا مطلب پورے ملک میں حالات خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ لہٰذا وزیر اعظم پاکستان نے عثمان بزدار سے خصوصی ملاقات کر کے انہیں اہداف دیے کہ وہ انہیں حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ بصورت دیگر پی ٹی آئی کی ساکھ مجروح ہو گی اور وہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

Read more

اپنی مرضی کیسی؟

ان دنوں سیاست کے کوچے میں بڑی گرما گرمی دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی جو اقتداری جماعت ہے کے چیئر مین عمران خان وزیر اعظم بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں ان کے اور بلاول بھٹو کے علاوہ بھی دونوں اطراف کے سیاسی راہنما زبانی آگ کے گولے برسا رہے ہیں۔ فریق اول یہ کہہ رہا ہے کہ حکومت نے غریب عوام کو زندہ در گور کر دیا ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسوں نے اخیر کر دی ہے۔

Read more

عمران حکومت: حکمرانی کے پرانے دھڑے پر

ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت کی سوچ کا زاویہ تبدیل ہو گیا ہے کیونکہ وہ روایتی طرز فکر و عمل کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ واضح طور سے دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے منشور سے اتفاق کرنے والے قریبی رفقاء کو ایک ایک کر کے ہٹانا شروع کر دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ تبدیلی کا خواب ادھورا رہے گا۔ ؟

ویسے اگر غیر جانبدارانہ صورت حال کا تجزیہ کیا جائے تو موجودہ حکومت کے لیے اپنے نعروں پر عمل در آمد کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ جب تک ہم عالمی مالیاتی اداروں کے مرہون منت رہتے ہیں تو کسی بھی عوامی خواہش کی تکمیل ممکن نہیں کیونکہ مالیاتی ادارے اپنا الگ پروگرام و مقصد رکھتے ہیں انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگوں کو سہولتیں ملتی ہیں یا نہیں وہ تو اپنا قرض مع سود کے وصول کرتے ہیں اس کے ساتھ ان کے سیاسی عزائم بھی ہوتے ہیں تاکہ ان کے سرمائے کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور مقروض ممالک ان کی ہدایات پر عمل در آمد کرتے ہوئے اپنی معاشی پیش بندی کرتے رہیں تا کہ وہ اپنے منافعوں و خواہشات کو متاثر نہ ہونے دیں لہٰذا ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی کوئی ان سے قرض حاصل کرے وہ ان کی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھے۔

Read more

کہیں ایسا تو نہیں کہ ذہین لوگ اب طاقت پا چکے ہیں؟

کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ ملک کے سویلین ادارے تنزلی کی طرف رواں ہیں جس سے سماجی حلقوں میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تعمیر و ترقی کے راستے مسدور ہیں۔ حکومت کچھ سوچ رہی ہے تو وہ ادارے کچھ اور، انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید حکومت ان کے خلاف ہے لہٰذا وہ کیوں نہ اسے بھول بھلیاں میں ڈالیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کی طرف دست تعاون بڑھا رہی ہے تاکہ وہ انتظامی معاملات میں کسی لغزش سے محفوظ رہ سکے مگر عجیب بات ہے کہ ادارے تیقن کی حدود میں داخل ہونے سے گھبرا رہے ہیں ان کے اس طرز عمل سے ملک کی اجتماعی صورت حال بہتر نہیں خراب ہو رہی ہے۔

Read more

پھول، امن ہی سے کھلتے ہیں!

اس وقت پاک بھارت کے مابین کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں دو بھارتی لڑاکا طیارے ہمارے شاہینوں نے مارگرائے ہیں بھارت کے دو ہوا باز بھی پکڑ لیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایل او سی کی خلاف ورزی کی گئی مگر جوں ہی پاک فضائیہ کی طرف سے اڑانیں بھری گئیں بھارتی طیارے بھاگ گئے اب انہیں فرار کا موقع نہیں مل سکا!

کہا جا رہا ہے کہ مودی سرکار ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جنگ کا ماحول پیدا کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنے عوام کو غربت افلاس اور بے روزگاری سے چھٹکارا نہیں دلا سکی لہٰذا اب وہ انہیں جذباتی طور سے اپنا گرویدہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟

Read more

کبھی عوام سے بھی پوچھیے حال دل؟

اب تک کے حکومتی اقدامات سے عوام میں خوشی کی لہر نہیں ابھر سکی وہ پہلے بھی مایوس تھے اب بھی ہیں حکومت مگر انہیں یقین دلا رہی ہے کہ بس جلد وہ خوشحالی کا در وا ہوتا دیکھیں گے کیونکہ چند امیر ممالک یہاں سرمایہ لانے کا پروگرام بنا چکے ہیں جس سے ملکی معیشت ایک ہی جست میں اوپر جا سکتی ہے لہٰذا غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے؟

عوام کا کہنا ہے کہ ایسے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں، منصوبے بھی بنتے رہے ہیں، معاہدے بھی کیے گئے اور وفود کا تبادلہ بھی ہوتا رہا مگر ان لوگوں کے تب بھی نہیں پھرے لہٰذا وہ مطمئن نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکومت کے وعدوں سے کہ وہ جو کہتی ہے اس پر من و عن عمل بھی کر پائے گی۔ شاید ایسا اس لیے ہوا ہے کہ وہ (حکومت) احتساب پر بڑی شد و مد کے ساتھ کہہ رہی تھی کہ احتساب ہو گا اور بلا تفریق ہو گا۔ ملک سے باہر گیا پیسا واپس لایا جائے گا مگر اب ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا احتساب کسی بڑے کا نہیں ہو رہا جو ہو رہا ہے وہ محض دکھاوا ہے؟

Read more

فاختاؤں نے گیت امن کے گاتے رہنا ہے!

زندہ رہنے کے لیے ہر کوئی طاقتور بننا چاہتا ہے اور طاقت دور کہیں محو استراحت ہے اس تک پہنچنا مشکل ہے مگر نا ممکن نہیں!

جو اڑ سکتے ہیں وہ وہاں تک با آسانی پہنچ سکتے ہیں ان کے دلوں میں خوف بھی ہے کہ اگر وہ ناکام ہو گئے طاقت کے جال میں الجھ گئے تو پھر کیا ہو گا۔ ؟

ابھی تک شاید ہی کوئی کمزور طاقتور بن سکا ہو گا مگر اب نیا سورج طلوع ہونے جا رہا ہے اس کی روشنی نا توانوں اور لا چاروں کے تن بدن میں ایک نئی توانائی بھر رہی ہے۔ وہ شعور کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں اور جہاں شعور جا گتا ہے راستے اور منزلیں خود بحود اس کے قریب آ جاتے ہیں۔ !

Read more

نقارخانے میں طوطی کی آواز؟

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ادھر پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی اُدھر تمام مسائل حل ہو جائیں گے دوسرے لفظوں میں بہار کا سماں ہو گا اور دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں گی مگر اب جب تبدیلی سرکار کو آئے قریباً چھ ماہ ہو چکے ہیں تو انہیں دلکش و دلفریب نظارہ دیکھنے کو نہیں ملا لہٰذا وہ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں مایوسی ان میں تیزی سے آتی جا رہی ہے جو پی ٹی آئی کے کارکنان ہیں وہ کہتے ہیں کہ تبدیلی کا مطلب ہرگز کوئی انقلاب نہیں تھا کہ جو پلک جھپکتے میں صورت حال بدل کر رکھ دیتا لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ انتظار کریں اگلے چھے سات ماہ میں واضح طور پر انہیں نظر آئے گا کہ حالات تغیر پذیر ہیں جو بہتری کی جانب جا رہے ہیں!

دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کے مصداق عوام کو اب یقین نہیں آ رہا کہ موجودہ حکومت بھی ان کے لیے آسانیاں پیدا کر سکے گی ان کے نزدیک یہ پہلے چند ماہ ہی ہوتے ہیں جن سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ حکمران کتنے پانی میں ہیں لہٰذا ان کے بارے میں بھی وہ جان چکے ہیں کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ حالت موجود کو کیسے قابو میں کیا جا سکتا ہے مگر یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ معاشی، معاشرتی اور سیاسی ڈھانچہ بری طرح سے متاثر ہے جو ٹھیک ہونے میں وقت لے گا اگر حکومت پوری طرح فعال ہوتی ہے تب وگرنہ اگلے پانچ برس بھی ناکافی ہوں گے۔

Read more

سیاسی اتحاد اور عوام

رائج الوقت سیاسی نظام میں اعداد و شمار کو بڑی اہمیت حاصل ہے کہ جس کسی سیاسی جماعت کے پاس زیادہ نشستیں ہوں وہ ”بادشاہ“ اور جس کو کم نشستیں حاصل ہوں وہ اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے!

پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں چونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون سے زیادہ نشستیں مل گئیں لہٰذا اس نے حکومت قائم کر لی اور اپنا کام شروع کر دیا مگر اس کی مخالف جماعتیں تنقید کر رہی ہیں کہ وہ امور مملکت چلانے میں مہارت نہ رکھنے کی بنا پر مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ معیشت کو سنبھال نہیں پا رہی انتظامی معاملات میں بھی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی جس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی بڑھنے لگی ہے اور وہ پریشان ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا وہ ایک اتحاد کے ذریعے حکومت کو متحرک کرنا چاہتی ہیں اگر وہ پھر بھی صورت حال کو جوں کا توں رکھتی ہے تو وہ اسے ”ہلا جلا“ بھی سکتی ہیں۔

Read more

عمران خان کو ناکام کرنے کے لئے سیاسی اتحاد اور عوام

رائج الوقت سیاسی نظام میں اعداد و شمار کو بڑی اہمیت حاصل ہے کہ جس کسی سیاسی جماعت کے پاس زیادہ نشستیں ہوں وہ ”بادشاہ“ اور جس کو کم نشستیں حاصل ہوں وہ اقتدار سے محروم ہو جاتی ہے!

پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں چونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ نون سے زیادہ نشستیں مل گئیں لہٰذا اس نے حکومت قائم کر لی اور اپنا کام شروع کر دیا مگر اس کی مخالف جماعتیں تنقید کر رہی ہیں کہ وہ امور مملکت چلانے میں مہارت نہ رکھنے کی بنا پر مزید مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ معیشت کو سنبھال نہیں پا رہی انتظامی معاملات میں بھی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی جس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی بڑھنے لگی ہے اور وہ پریشان ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا وہ ایک اتحاد کے ذریعے حکومت کو متحرک کرنا چاہتی ہیں اگر وہ پھر بھی صورت حال کو جوں کا توں رکھتی ہے تو وہ اسے ”ہلا جلا“ بھی سکتی ہیں۔

Read more

کچھ کچھ سحر کے رنگ پُر افشاں ہوئے تو ہیں

حکومت کی توجہ ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے پر مرکوز ہے لہٰذا وہ جہاں کہیں سے ممکن ہو سکتا ہے مدد و تعاون حاصل کر رہی ہے مگر اس کے سیاسی حریفوں کو اعتراض ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے یہ تو انداز بھکاریوں ایسا ہے۔ وہ نجانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ اب تک ہم ایک بار بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی پوزیشن میں نہیں آ سکے اگرچہ اکہتر برس میں بعض حکمرانوں نے یہ کوشش کی کہ وہ کسی سے قرض وغیرہ نہ لیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے!

دراصل ہمارا نظام سرماریہ دارانہ و جاگیردارانہ ہے جو چند خاندانوں کو تمام سہولیات فراہم کرتا ہے لہٰذا وہ ہی سوچ بچار اور فیصلوں کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں اس میں عام آدمی کو شریک نہیں کیا جاتا کہ وہ اکثریت کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرے جو ریاست کو دوسروں کے دست نگر ہونے سے محفوظ بناتی ہو۔ اس نظام میں چونکہ چند بڑے انتظامی امور نمٹانے کی اہلیت و قابلیت ظاہر کرتے ہیں لہٰذا وہ اپنی فصیل سے باہر نہیں نکلتے اور خود کو ہی منظم و طاقتور بناتے چلے جاتے ہیں جس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت و نا انصافی کے دائرے میں مقید زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے نتیجتاً حساب کتاب کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے کہ آج تک جتنے بھی قرضے لیے گئے اور امدادیں حاصل کی گئیں وہ عام آدمی کو آسائشیں بہم نہیں پہنچا سکیں مگر اہل اختیار و اقتدار کو بڑے بڑے دولتمندوں کی قطار میں کھڑا کر گئیں!

Read more