نیئر مسعود: کس کو خبر ہے میر سمندر کے پار کی
حقیقت یک سطحی نہیں ہوتی۔ ہو ہی نہیں سکتی۔ حقیقت ایک بھید ہے، ۔ بھاؤ بتلاتی چنچل کا بھید۔ ایسی چنچل کہ بھاؤ بھی بتلاتی ہے اور چلمن سے بھی لگے جاتی ہے۔ اب ایسی ناری کا کوئی کیا کرے، اسے گرہستن کہیے یا بازارو۔ اسے گھر میں بٹھائیے کہ کوٹھے پہ، یوں تو ہر گھر میں بھی کوٹھا ہوتا ہی ہے۔ نیر مسعود کی کہانیاں ایسی ہی ہیں۔ سرسری گزرنے والوں کے لیے گزشتہ لکھنو کی سر گزشت۔ اور
Read more
