جدت، محبت اور ثقافت کا سنگم ‘طلسم ہوش افزا’

زمانہ قدیم کے داستان گو کے ہاں افکار و خیال سے کہیں بڑھ کر کہانی کہنے کا انداز معانی رکھتا تھا، اس کے الفاظ کا اتار چڑھاؤ سننے والوں کے دلوں میں بھی جوار بھاٹے کا باعث بنے یہ اس کی کامیابی تھی۔ وہ اپنے الفاظ سے تخیل کا ایک جہان تخلیق کرتا اور اس کے سننے والے ساتھ ہی ساتھ ان جزیروں کی سیر کرتے، باغوں کے ثمرات سے لطف و اندوز ہوتے، جانوروں سے ہم کلامی کرتے اور

Read more

خولیو لیامازارایس کا ناول ”پیلی بارش“: بھلا دیے جانے والوں کا نوحہ

جنگلوں اور غاروں میں حیوان ناطق کے دو بڑے دشمن تھے بھوک اور تنہائی، وہ اپنے زور بازو سے بھوک کے عفریت سے تو نبرد آزما ہوتا رہا لیکن تنہائی کا زہر اس کے لیے تریاق ثابت ہوا، جب اس نے آگ دریافت کی اور الاؤ جلا کر اس کے گرد مل کر بیٹھا، جہاں ایک طرف وہ اپنے تخیل کے بل بوتے پر نئے سے نئے کردار تخلیق کرتا رہا وہیں وہ اپنی سماجی اور معاشی زندگی میں بدلاؤ

Read more

ژاں پال سارتر کے ناول ”سزائے موت میں التوا“ کا وجودی مطالعہ

تاریخ عالم کو بہ نظر غور دیکھا جائے تو یوں گماں ہوتا ہے کہ تخلیق انسانی میں آب و گل کے ہمراہ سوال وجود کی آمیزش بھی ہے۔ داستان گوئی ہو کہ غاروں میں مصور شکستہ اشکال، یہ تمام اثبات وجود کے ہی استعارے ہیں۔ لیکن زمیں و آسماں کی وسعتوں کو پاٹنے والا انسان تلاش ذات کے سفر میں بار بار ٹھٹک جاتا، صدیوں تک انسان نے اپنی ذات میں اٹھنے والے ان سوالوں کو نظر انداز کرنا چاہا۔

Read more