Author: وقار خان
ماڑی پور کے فٹ پاتھ سے آگے کا سفر
خدا جانے رئیس امروہوی مرحوم نے کب چکوال کا دورہ کیا اور اپنا مشاہدہ نوک قلم پر لائے کہ : یہ شہر ، شہرِ بخیلاں ہے اے دلِ بیمار یہاں تو زہر بھی ملتا نہیں دوا کے لیے یا حیرت !گھن سے بچانے کے لیے گندم کے بھڑولوں میں زہریلی گولیاں رکھی تھیں۔ گھن پھر بھی لگ گیا ،زہر جعلی تھا ۔ ہم سے لکڑی کا برادہ ملا اور کیڑے زدہ گندم کا آٹا نہیں کھایا جاتا ۔ ہم کھیتوں
Read moreدودھ سے شراب تک ہر شے میں ملاوٹ
ملاوٹ پر برا وقت ہے ۔ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کے خلاف بولنے کا فیشن یوں فروغ پا رہا ہے جیسے آصف علی زرداری کے دور میں ملک کو کرپٹ ٹولے سے نجات دلانے کا رواج تھا ۔ جو کاہل اپنے کمرے کی چھت سے مکڑی کا جالا اتارنے سے قاصر تھا ، وہ بھی ملک کو اس ٹولے سے نجات دلانے پر کمر بستہ تھا اور ہمارے ایسا بے نوا ،جسے گھر والی باعزت طریقے سے کھانا نہیں دیتی
Read more






