فیض احمد فیضؔ ( 1911 ء تا 1984 ء)۔
مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں۔ جوکوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے ”اب جبکہ کائنات کے راستے ہم پر کشادہ ہو گئے ہیں۔ ساری دنیا کے خزینے انسانی بس میں آسکتے ہیں تو کیا انسانوں میں ذی شعور، منصف مزاج اور دیانت دار لوگوں کی اتنی تعداد موجود نہیں ہے جو سب کا منوا سکے کہ یہ جنگی اڈئے سمیٹ لو۔ یہ بم اور راکٹ، توپیں، بندوقیں سمندر میں غرق کردو اور ایک دوسرے پر قبضہ
Read more





