حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

حوریم سلطان یوکرین سے استنبول میں شاہی حرم تک کیسے پہنچیں؟
پیئرس اپنی کتاب ’ایمپرس آف دی ایسٹ‘ میں لکھتی ہیں کہ 15 صدی کے اختتام کے بعد سے حوریم سلطان کا آبائی علاقہ سمجھا جانے والا رتھینیا ان علاقوں میں شامل تھا جو انسانوں کی تجارت سے بری طرح متاثر تھے اور اس کے پیچھے زیادہ تر کریمیا کے تاتاریوں کا ہاتھ تھا۔
تاہم وہ اس کاروبار سے منافع کمانے والے پہلے لوگ نہیں تھے کیونکہ بحیرہ اسود کا یہ علاقہ زمانہ قدیم سے غلاموں کی تجارت کا مرکز رہا ہے اور ’سلطنت روم اور پھر بازنطینی سلطنت اور بغداد کی مشہور عباسی خلافت میں بھی اس تجارت کے خریدار رہے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ اس زمانے میں انسانوں کی تجارت اور کسی کو جنگ میں قیدی بنانے میں بہت باریک فرق رہ گیا تھا۔ تاتاری اپنے آپ کو مڈل مین نہیں بلکہ جنگجو سمجھتے تھے اور کافا شہر میں غلاموں کی منڈی میں کاروبار کرنے والوں میں ’یہودی، یونانی، آرمینیائی اور کچھ اطالوی شامل تھے۔۔۔دوسرے لفظوں میں غیر مسلم۔‘
پیئرس لکھتی ہیں کہ یورپ میں ان تاتاریوں کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے تھے لیکن تنقید کرنے والوں کو ’لوگوں کے غلام بننے سے کم اور اس بات سے زیادہ مسئلہ قیدیوں کے مسلمان بنائے جانے کے امکان سے تھا۔‘ ’غلامی ان(تنقید کرنے والے یورپیوں) کے لیے نئی بات نھیں تھی، انھوں نے خود کبھی بحیرۂ اسود کی انسانوں کی منڈیوں سے ۔۔۔۔خریداری کرنے میں ہچکچاٹ محسوس نہیں کی تھی۔‘
انھوں نے لکھا کہ کریمیا کے تاتاری لوگوں کو تجارت کے لیے قیدی بنانے کے بعد سلطنت عثمانیہ کی حدود میں کافا نامی شہر(موجودہ نام فیوڈوشیا) لاتے تھے جہاں سے سمندری سفر کے ذریعے انھیں استنبول لایا جاتا تھا۔
وہ لکھتی ہیں کہ روکسیلانا کو بھی روتھینیا سے اسی راستے سے استنبول لایا گیا ہو گا۔ کریمیا کا یہ پڑوسی علاقہ براہ راست سلطنت عثمانیہ کے زیر انتظام تھا۔ اور اگر ذرائع کوسم سلطان کے بیٹے سلطان ابراہیم کی پسندیدہ کنیز اور سلطان محمد چہارم کی والدہ ظورخان سلطان کے رتھینیا سے تعلق کے بارے میں درست ہیں تو یہ مشکل سفر انھوں نے بھی کیا ہو گا۔
پیئرس کے مطابق اس علاقے میں تاتاریوں کا پہلا بڑا حملہ سنہ 1468 میں ہوا ہو گا جب تقریباً 18000 مرد، عورتیں اور بچے قیدی بنائے گئے۔ اس کے بعد تقریباً ہر سال اس طرح کے حملے ہوتے رہے۔
پیئرس کے خیال میں روکسیلانا سنہ 1516 میں ہونے والے ایک حملے میں قیدی بنی ہوں گی۔ اس برس مختلف اندازوں کے مطابق پانچ سے 40 ہزار لوگ غلام بنائے گئے تھے۔ انھوں نے پولینڈ کے ایک مؤرخ کا حوالہ دیا جن کے مطابق روکسیلانا کے علاقے میں 1509 میں ایک حملہ ہوا تھا وہ شاید اس میں قیدی بنی ہوں۔
سنہ 1578 میں کریمیا کے دربار میں پولینڈ کے سفیر نے ان حملوں کی تفصیل بتائی کہ یہ موسم سرما میں ہوتے ہیں جب دریا اور جھیلیں جم چکی ہوتی ہیں اور حرکت تیزی سے ہو سکتی ہے اور ’قیدیوں کو مناسب خوراک بھی نھیں ملتی جنھیں بیڑیوں میں پیدل چلایا جاتا ہے۔ ‘
رتھینیا سے استنبول تک کا سفر روکسیلانا جیسی کم عمر لڑکی کے لیے معمولی بات نھیں تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سن 1509 میں ہی سلطان سلیمان کی شہزادے کی حیثیت سے پہلی تعیناتی 15 سال کی عمر میں کافا میں ہی تھی جہاں وہ گورنر بنا کر بھیجے گئے تھے۔
نور بانو اور صفیہ سلطان
لیسلی پیئرس اپنی کتاب ’امپیریئل حرم‘ میں بتاتی ہیں کہ حوریم سلطان کے بیٹے سلیم دوم کی پسندیدہ کنیز اور پہلی طاقتور والدہ سلطان نور بانو کا پیدائشی نام سیسیلیا تھا۔ وہ وینس کے دو اعلیٰ خاندانوں کے ارکان کی بغیر شادی کے اولاد تھیں۔ عثمانی ایڈمرل باربروسا کے قبضے میں آنے کے بعد وہ 12 سال کی عمر میں غلام کی حیثیت سے شاہی حرم کا حصہ بنی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان سلیم دوم نے بھی اپنے والد سلطان سلیمان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نور بانو سے شادی کر لی تھی۔
سنہ 1574 میں جب سلطان سلیم کا انتقال ہوا تو ان کے بیٹے مراد سوم تخت پر بیٹھے اور صفیہ سلطان ان کی پسندیدہ کنیز تھیں جو مؤرخین کے مطابق البانیہ سے قیدی بن کر شاہی حرم تک پہنچی تھیں۔ نور بانو اور صفیہ سلطان اس دور کا حصہ ہیں جب والدہ سلطان کا عہدہ بہت اہمیت اختیار کر چکا تھا۔ عثمانی تاریخ میں ماں اور بیٹے کا تعلق ہمیشہ سیاسی طور پر اہم تھا لیکن اسے باقاعدہ طور پر تسلیم 16ویں صدی کے اختتام پر کیا گیا۔ ’اگرچہ یہ شاہی مائیں براہ راست اقتدار کا حق نھیں رکھتی تھیں لیکن یہ اس اقتدار کے سر چشمے کی نگران ضرور تھیں۔`

عثمانی خاندان کی عورتوں کو طاقت 16 صدی ہی میں کیوں ملی؟
مؤرخ کہتے ہیں کہ اس کی وجوہات بہت الجھی ہوئی ہیں ۔ لیکن ایک پہلو جو ان سب کا احاطہ کرتا ہے وہ عثمانی سلطنت میں فتوحات کے دور کی جگہ دور دور تک پھیلی ہوئی اس سلطنت میں استحکام کے دور کا آغاز اور ایک فوجی ریاست سے انتظامی اور نوکر شاہی کی ریاست میں تبدیل ہونا تھا۔ پیئرس اپنی کتاب امپیریئل حرم میں لکھتی ہیں کہ پہلے شہزادے جب اپنے صوبوں میں ذمہ داریاں سنبھالنے جاتے تھے، ان کی مائیں ساتھ ہوتی تھیں جن کے فرائض میں ان کی تربیت اور نگرانی شامل تھی لیکن جب 16 ویں صدی کے اختتام پر مادر ملکہ کا عہدہ اہم ہوا تو ’سیاسی ماؤں‘ کی سب نسلیں خاندان کے ایک ہی سیاسی مرد یعنی سلطان سے وابستہ تھیں۔
اب دارالحکومت میں ایک چھت کے نیچے شاہی خاندان اکٹھا تھا(وقت کے ساتھ ساتھ شہزادوں کا صوبوں میں جانا بند ہو گیا اور وہ زیادہ تر شاہی محل تک محدود ہو گئے تھے) جس پر سلطان کی والدہ کی برتری قدرتی بات تھی اور جس کا ایک مظہر شاہی محل کا نقشہ تھا جس میں مادر ملکہ کی رہائش گاہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، یہ حرم کے تمام حصوں سے منسلک تھی اور اس کا ان کے بیٹے اور سلطان کے رہائشی حصے سے براہ راست رابطہ تھا۔
یہ محض اتفاق نھیں ہو سکتا کہ مراد سوم جنھوں نے سلطان کی رہائش گاہ کو حرم کی حدود میں منتقل کیا پہلے سلطان تھے جن کی تخت نشینی پر ان کی والدہ شاہی خاندان کی سربراہ تھیں۔
اس طرح، لیسلی پیئرس، کہتی ہیں ان خواتین نے سلطنت عثمانیہ کے مشکل ادوار میں خاندان کے اقتدار کو بچانے اوران کے جاری رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘ اس کی ایک مثال سن 1603 میں تخت نشین ہونے والے سلطان احمد اول کی خاص کنیز کوسم سلطان کی زندگی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



Comments are closed.