حوریم سلطان سے کوسم سلطان تک: سلطنتِ عثمانیہ کی شاہی کنیزیں جو کسی ملکہ جتنی بااثر تھیں

نور بانو اور صفیہ سلطان اور یورپ کی ملکائیں
16ویں صدی کی آخری دہائیوں میں جب سلطنت ایک ہی وقت میں مشرق میں صفوی محاذ پر اور مغرب میں یورپ میں سفارتی اعتبار سے مشکل دور سے گزر رہی تھی تو سلطان کی والدہ نے مختلف راستے کھلے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ’تاہم والدہ سلطان ہر بار سلطان کی مرضی سے کام نہیں کرتی تھیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ذاتی مفاد میں بھی کچھ کرنے سے وہ نہیں ہچکچاتی تھیں۔‘
پیئرس نے ’امپیریئل حرم‘ میں لکھا ہے کہ والدہ سلطان کی خارجی امور میں عملداری خاص طور پر مراد سوم اور محمد سوم کے دور میں نظر آتی ہے۔ نور بانو اور صفیہ سلطان کی سفارتکاری کا ایک اہم پہلو وینس کی رپبلک کی حمایت تھاُ۔ سن 1583 میں وینس کی سینٹ نے نور بانو سلطان کو تحفہ دینے کے حق میں پانچ کے مقابلے میں 130 ووٹوں سے ایک قرارداد بھی منظور کی تھی۔
نور بانو نے اپنے انتقال سے کچھ ہی عرصہ پہلے شاید اپنے آبائی وطن کی سب سے بڑی خدمت وینس کی ملکیت جزیرے پر عثمانی حملے کا فیصلہ تبدیل کروا کر کی تھی۔
نور بانو سلطان کے انتقال کے بعد صفیہ سلطان نے بھی وینس کی حمایت جاری رکھی۔ پیئرس لکھتی ہیں کہ سن 1603 میں صفیہ سلطان کی سیاست سے کنارہ کشی کے بعد بھی وینس کے سفیروں کی طرف سے سلطان کے قریب خواتین سے قریبی رابطے رکھنے کی پالیسی جاری رہی۔
پیئرس لکھتی ہیں کہ 16ویں صدی کے اختتام پر انگلینڈ کی ملکہ الزبتھ اوّل کو ہسپانوی ہیپسبرگ سلطنت کا سامنا تھا۔ اس سلسلے میں استنبول میں ان کے سفارتخانے کی کامیابی میں صفیہ سلطان کا کافی ہاتھ تھا۔ صفیہ سلطان کے غیر ملکی سفیروں سے رابطے ان کے ایک یہودی اہلکار کے ذریعے ہوتے تھے۔ فرانس کی مادر ملکہ کیتھرین دمدیچی کا سلطان مراد سے تو رابطہ رہتا تھا لیکن ایک موقع پر انھوں نے نور بانو سے بھی رابطہ کیا جس میں انھوں نے سن 1536 میں فرانس کو پہلی بار دی گئی تجارتی سہولیات بحال کرنے کی درخواست کی۔
اسی طرح صفیہ سلطان اور ملکہ الزبتھ اوّل کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی جیسے کہ صفیہ سلطان لکھتی ہیں ’مجھے آپ کا خط ملا۔۔۔۔۔انشااللہ آپ نے جو لکھا ہے میں اس کے مطابق کارروائی کروں گی۔ اس معاملے میں آپ مطمئن رہیں۔۔۔۔خدا کرے ہماری دوستی ہمیشہ قائم رہے۔ آپ کی بھیجی ہوئی بگھی مجھے مل گئی ہے اور ہم اسے خوشی سے قبول کرتے ہیں۔ میں نے آپ کے لیے ایک لباس، سکارف،تین رومال، دو سونے کے تلے والے تولیے، ایک یاقوت اور موتیوں سے سجا تاج بھیجا ہے۔ ہماری طرف سے اتنے حقیر تحفے بھیجنے پر معذرت قبول کریں۔‘

کوسم سلطان کی نصف صدی
کوسم سلطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق یونان سے تھا جہاں سے وہ قیدی بن کر شاہی حرم میں پہنچی تھیں۔ خرم سلطان کی طرح ان کا دور بھی کئی دہائیوں پر مشتمل تھا، لیکن ان کا زیادہ تر وقت والدہ سلطان کے طور پر گزرا۔ کوسم سلطان جب سن 1651 میں شاہی محل میں قتل ہوئیں تو یہ بھی کہا گیا کہ یہ ان کی بہو طورخان سلطان کے حامی سمجھے جانے والے ایک گروپ نے کیا ۔
وہ سلطان احمد اول(1603-1617) کی پسندیدہ کنیز تھیں۔ سلطان احمد کے انتقال کے بعد وہ 28 برسوں تک سلطان مراد چہارم اور سلطان ابراہیم اور اپنے پوتے سلطان محمد چہارم کے ابتدائی دور میں والدہ سلطان تھیں۔
کوسم سلطان کا سلطان کا بھائیوں کو قتل کرنے کی روایت ختم کروانے میں کردار؟
یاد رہے کہ سلطان احمد اول کے والد سلطان محمد سوم جب 1595 میں تخت نشین ہوئے تو انھوں نے مؤرخین کے مطابق فوراً ہی اپنے 19 بھائیوں کو ہلاک کروا دیا تھا۔ اس سے پہلے ان کے دادا سلطان مراد سوم نے 1574 میں اپنی تخت نشینی پر اپنے نو اور کچھ ذرائع کے مطابق پانچ چھوٹے بھائیوں کو ہلاک کروا دیا تھا۔
اس سے پچھلی عثمانوی نسلوں میں بھائی تخت کی کشمکش میں مارے جاتے تھے لیکن جب سلطان احمد تخت نشین ہوئے تو ان کے چھوٹے بھائی مصطفیٰ کو نہ صرف یہ کہ قتل نھیں کیا گیا بلکہ سلطان کے اپنے انتقال کے بعد دماغی صحت کی کمزوری کے باوجود کوسم اور احمد اول کے بیٹوں کی جگہ شہزادہ مصطفیٰ ہی تخت پر بیٹھے۔
مؤرخین کا خیال ہے کہ بھائیوں کے قتل کا سلسلہ ختم کرنے کی کوشش اور خاندان کے سب سے بڑی عمر کے شخص کو تخت پر بٹھانے کی اس پیشرفت میں بھی کوسم سلطان کا اہم کردار تھا۔
پئیرس لکھتی ہیں کہ کوسم سلطان تاریخ سے واقف تھیں اور انھیں سمجھ تھی کہ اگر تاریخ دہرائی گئی اور سلطان احمد نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو پھر سلطان احمد کے بعد جب ان کا بیٹا عثمان دوم(کوسم سلطان کا سوتیلا بیٹا) یا کوئی اور بیٹا بھی تخت پر بیٹھا تو ان کے باقی بیٹوں کی زندگی بھی خطرے میں ہو گی۔
انھوں نے غالباً اسی خطرے کے پیش نظر کہ ان کے بیٹے ایک دوسرے کو نہ ماریں مطفیٰ کی جان بخشی اور خاص طور پر بعد میں ان کی تخت نشینی کی حمایت کی۔
لیکن یہ کیسا اتفاق ہے کہ سلطان احمد کے سات بیٹوں میں سے چار بیٹے سلطان بننے والے اپنے دو بھائیوں (عثمان دوم جو سلطان احمد کی کوسم سلطان کی آمد سے پہلے ایک اور کنیز کے بیٹے تھے) اور سلطان مراد چہارم کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔
پیئرس بتاتی ہیں کہ 17 سالہ سلطان عثمان دوم نے اپنے چھوٹے بھائی 16 سالہ محمد کو رومیلیا کے چیف جسٹس کی باقاعدہ اجازت سے یورپ میں جنگی مہم پر جانے سے پہلے ان کی غیر حاضری میں ممکنہ افراتفری کا جواز بنا کر ہلاک کروا دیا تھا۔
رومیلیا کے چیف جسٹس کا سلطنت کے علما میں دوسرا نمبر تھا۔ مؤرخ یہاں بھی غور کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ سلطان عثمان دوم نے اپنے چھوٹے بھائیوں میں سے صرف شہزادے محمد کو ہلاک کروایا جو کوسم سلطان کا بیٹا نہیں تھا۔
عثمان دوم کے انتقال کے بعد کوسم سلطان کا بیٹا مراد تخت پر بیٹھا اور اس نے پیئرس بتاتی ہیں کہ بغداد اور صفوی سلطنت کے خلاف کامیاب مہمات کی آڑ میں دو بھائی ہلاک کروائے اور ابراہیم کی جان کوسم سلطان کی براہ راست مداخلت سے بچی۔ کوسم نے مراد کو سمجھایا کہ ابراہیم تو ذہنی مریض ہے اور اس کے لیے بالکل خطرہ نہیں ہو سکتا۔
کوسم سلطان نے جب اپنے ایک بیٹے سے دوسرے بیٹے کی جان بخشنے کے لیے کہا شاید انھیں خود اندازہ نھیں تھا کہ یہ اقدام سلطنت عثمانیہ کے مستقبل کے لیے کتنا اہم ہے۔ عثمان دوم اور مراد چہارم کا جب انتقال ہوا تو ان کی جگہ لینے کے لیے ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ اس وقت عثمانی خاندان کا واحد وارث شہزداہ ابراہیم ہی تھا۔

پیئرس کہتی ہیں کہ سنہ 1640 میں ان کی تخت نشینی کے وقت سلطنت میں شدید پریشانی تھی کہ اگر ابرہیم کے بچے نہ ہوئے تو عثمانی خاندان ختم ہو سکتا ہے لیکن سلطان ابراہیم کے کئی بچے ہوئے۔ ان کی ایک کی بجائے آٹھ خاص کنیزیں تھیں اور ان میں سے تین کے ہاں ایک ایک بیٹا پیدا ہوا۔
پیئرس کے نزدیک خرم سلطان کو اگر یورپ میں اہمیت دی جاتی ہے تو ترکوں کے نزدیک کوسم سلطان عثمانی خاندان کی سب سے طاقتور عورت تھیں۔ ان کے بھی خرم سلطان کی طرح کئی بچے تھے اور ایک وقت کے بعد وہ بھی سلطان کی واحد ساتھی تھیں۔
پیئرس نے عثمانی دربار میں وینس کے سفیر سائمن کونٹارینی کے حوالے سے لکھا ہے کہ کوسم سلطان ’خوبصورت، ذہین اور بہت سی صلاحیتوں کی مالک ہے۔ وہ بہت اچھا گاتی ہے اور بادشاہ کو اس سے بہت پیار ہے۔۔۔لیکن ایسا نھیں کہ سب اسے پسند کرتے ہیں لیکن کئی معاملوں میں اس کی بات سنی جاتی ہے۔۔۔اور بادشاہ ہر وقت اسے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔‘
یہ رپورٹ سن 1612 کی ہے۔ سنہ 1616 میں استنبول میں ایک اور یورپی اہلکار نے رپورٹ دی کہ ’کوسم بادشاہ کی سب سے طاقتور اور قریبی معاون ہے۔ وہ بادشاہ سے جو چاہے کرواسکتی ہے۔۔اسے کبھی نہ نھیں کی جاتی۔‘
تاہم کونتارینی نے نوٹ کیا کہ ’کوسم سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بادشاہ کو ناراض کرنے کے ڈر سے ریاست کے اہم معاملات میں کم بولتی ہے‘۔ پیئرس کے خیال میں سلطان احمد شاید اس تاثر سے بچنا چاہتے تھے کہ وہ ایک عورت کے زیر اثر ہیں اور سلطان سلیمان کی طرح اپنے عوام کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔
کوسم سلطان سنہ 1651 میں قتل ہو گئیں تھیں۔ ایک افواہ کا ذکر ہوتا ہے کہ ان کے قتل کے پیچھے شاہی محل میں ان کی بہو طورخان سلطان کے حامیوں کا ہاتھ تھا اور اگر یہ سچ ہے تو یہ پچھلی صدیوں میں بوڑھے سلاطین اور ان کے اقتدار کے لیے بے صبر شہزادوں کے درمیان کشمکش کی یاد دلاتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



Comments are closed.