بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ


 ”ایک روز وہ اصطبل میں گھوڑوں کی لید کو ہاتھ گاڑی میں بھر رہی تھی کہ وڈیرے نے اُسے ایک درندے کی طرح جھنجھوڑ کر اپنی ہوس مٹاڈالی۔ یوں تو وہ اچھوت تھی۔ اُس کو چھونا منع تھا۔ لیکن کچھ دیر کے لئے وہ اچھوت نہ رہی تھی۔ چاہے کچھ لمحوں کے لئے ہی سہی، لیکن اُس کی ذات وڈیرے کی ذات کے برابر آہی گئی تھی۔ “

اور پھر تیرہ سال کی اس معصوم بھاگ بھری کے پیٹ سے ہوجانے پر اُس کے پھیرے اُسی کی ذات کے کسی اچھوت مزدور سے پھروادینا، جو اُس کے باپ سے بھی بڑا ہو، کہاں کی انسانیت ہے؟ یہ انسان ہی ہے، جو اپنے جیسے دوسرے انسان کے منہ سے نوالہ تک چھین لینے پر تُلا ہوا ہے۔ وہ آدمی کا شکار اس طرح کرتا ہے، کہ اُسے جان سے بھی نہ مارے اور وہ کھینچ تان کر سانس لینے کے چکر میں جینے کی بھونڈی سی نقل بھی اتار سکے۔ انسانیت کے ان غلاموں کو اُن کے وڈیرے ذہنی و جسمانی طور پر مکمل خصی کردیتے ہیں تاکہ یہ کبھی بھولے سے بھی نہ پھڑپھڑاسکیں۔ ان اچھوتوں میں سے جب ”ساون“ وڈیرے کی حکمرانی کو آنکھیں دکھاتا ہے تو اُسے تین دن جانوروں کے ساتھ باڑے میں بھوکا پیاسا رکھنے کا حکم صادر کردیا جاتا ہے، جہاں وڈیرے کی گائے ”لالی“ اُسے اپنا تازہ گرم دودھ پلاکر اشرف المخلوقات کے اُس رتبے پر فائز ہوجاتی ہے، جہاں سے وڈیرہ حیدر شاہ گرچکا ہے۔

ساون کی یہ بغاوت ایک دن اُسے مزید اکساتی ہے۔ وہ گوٹھ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیتا ہے اور وڈیرے کے کھیتوں سے کپاس شہر لے کر جانے والے ٹرکوں میں سے ایک ٹرک کے بورے میں گھس جاتا ہے۔ اس وقت ”اُسے اپنا وجود وڈیرے کے کتے کالو کی طرح لگ رہا تھا، جو اپنے کپاس کے ڈھیر میں گھس کر بیٹھ جاتا تھا“۔ اچھوت ہونے کی وجہ سے انسانیت کی باعزت گدّی کا حقدار تو وہ تھا نہیں، اس لئے کپاس کا بورا ہی سہی۔ راستے میں ساون کو پیاس لگنے پر کھانے کے ایک ڈھابے کا منظر دیکھئے :

 ”وہاں میزوں پر گلاس الٹے رکھے ہوئے تھے اور جگ پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر اُس کی پیاس شدت اختیار کرگئی۔ وہ بے اختیار ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ ابھی اُس نے گلاس ہاتھ میں اٹھایا ہی تھا کہ ڈھابے کے مالک نے اُسے دور سے چپل پھینک کر مارنے کے ساتھ ایک موٹی سی گالی بک کر اُسے وہاں سے بھاگنے کو کہا۔ شاید ساون اپنے حلیے سے کوئی اچھوت یا بھکاری لگ رہاتھا۔ “

بطور انسان ساون کے بنیادی حقوق کی پائمالی اور انسانیت کے درجے سے گرے ہوئے رویے سے گزرنے کے بعد وہ قاری سفیان کے مدرسے پہنچتاہے، جہاں سب اُس کی آؤ بھگت میں مصروف ہیں۔ اُسے پہننے کے لئے نئے کپڑے دیے جاتے ہیں۔ زندگی میں پہلی بار اُسے پاؤں میں اڑسنے کے لئے چپل ملتا ہے۔ ساری عمر ساگ چپڑی روٹی کھانے والے کو نت نئے کھانے ملتے ہیں۔ جس ساون نے ساری زندگی لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر حکم سننے میں گزاری تھی، اب اُسی ساون کو قاری صاحب اپنے سامنے بیٹھنے کا کہتے ہیں۔ یہاں ہر آدمی اُس سے باعزت طریقے سے ہاتھ ملاتا اور گلے ملتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے وہ صرف ایک ٹھوکر کا حقدار ٹھہرتا تھا۔ وڈیرے کے آدمیوں کی جن بندوقوں سے وہ ڈرتا تھا اور اُنہیں ہاتھ لگانے کے منصوبے بناتا تھا، اب باآسانی اُس کی دسترس میں تھیں۔ اتنی عزت ملنے پر ایسی کونسی بات رہ جاتی ہے، جس کی بدولت ساون اسلام قبول نہ کرے اور جہاد جیسے عظیم مقصد کے لئے خود کو قربان نہ کردے! اُس کی تو محض ایک ہی شرط ہے۔

 ”کیا مسلمان بن جانے سے روز ایسا کھانا ملے گا؟ “

بھوک، نا انصافی کا یہی کمپلیکس ساون کی سوچنے کی طاقت کو سلب کردیتا ہے۔ وہ دماغ کی بجائے پیٹ سے سوچتا ہے اور جو دھرم اُس کے پیٹ کو پالنے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ ساون اُس کا پرچار کرنے کے لئے خود کو پیش کردیتا ہے۔ یہ بھوک صرف ایک ساون کا المیہ نہیں، بلکہ اس دھرتی پر ایسے بہت سے ساون پیدا ہوئے، جو اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لئے خود حوروں کی آغوش میں جانے کو تیار ہوگئے اور بغیر ختنوں کے دائرہ اسلام میں داخل کرلئے گئے۔ یہ وہ لوگ تھے، جن کا ہتھیار اُن کا ہنر تھا۔ کھیتی باڑی تھی، اجناس کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تھی۔ مگر اب ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں آگئی تھیں۔ بارود اُن کا ہتھیار بن چکا تھا۔ اور یہ لوگ کھیتوں میں کبڈی کبڈی اور گلی ڈنڈا کھیلنے سے تائب ہوکر جہاد جیسے عظیم مقصد پر فائز ہوچکے تھے۔ دین کے ان ہونہار، نام نہاد طالبعلموں کے لئے ادب فرضی داستانوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ منطق اور دلیل سے بحث کرنے کی اُن کو ویسے ہی اجازت نہ تھی۔ فلسفہ اور تاریخ اُن کے لئے ناپاک جراثیم ٹھہرے تھے۔ ابن رشد وہاں ملحد قرار دیا جاچکا تھا۔ صرف اپنے امیر کی اطاعت اُن کا پہلا اور آخری سبق تھا۔

دکھ کی بات تو یہ ہے کہ طالبعلموں کے دماغ بند کرکے سوچنے سمجھنے کی طاقت سلب کردینے کی یہ آفت صرف مدارس پر ہی نہیں ٹوٹی بلکہ یہ مائنڈ سیٹ بہت منظم طریقے سے اسکولوں، حتیٰ کہ انگریزی اسکولوں، کالجوں اور پھر یونیورسٹیوں تک میں پھیل گیا اور وہاں بھی انتہا پسند، جہادی قوتیں سر اٹھانے لگیں۔ انتہاپسندی کے اس پورے کھیل سے ہم اسکالر پیدا کرنے کی بجائے ”فدائی“ بناتے گئے۔ اور عملی زندگی میں سرپٹ دوڑنے سے پہلے ہی اُن کی آنکھوں پر جنونیت کی پٹیاں باندھ دی گئیں۔

ساون جیسے ان فدائیوں نے گوریلا ٹریننگ کے بعد انسانی کھوپڑیوں کا ناچ ناچتے ہوئے ایسے ایسے کرتب دکھائے کہ جنگلی جانور، درندے، بھیڑیئے سب حیرت سے دیکھتے رہ گئے کہ کیا انسان بھی ایسا کرسکتا ہے؟ کیا وہ بھی اپنے جیسے دوسرے آدم کی بو کا متلاشی ہے؟ اب ان بھیڑیوں کو کیا پتہ کہ انسان نے مختلف فرقوں، ذاتوں میں خود کو بانٹ دیا ہے اور افضل ترین کے درجے پر فائز ہوکر اپنے سے کمتر کو کچل دینا چاہتا ہے۔ افغانستان، یمن، عراق، شام، لیبیا، کشمیر، بلوچستان، وزیرستان میں رہنے والی جنگلی مخلوق دنگ رہ گئی اور اچھل اچھل کراعلان کرنے لگی کہ اے ساتھیو! پہلے تو انسان کے ہتھیاروں کا رخ رزق کی تلاش میں ہماری طرف تھا اور ہم ان سے چھپ چھپ کر مارے پھرتے تھے، مگر اب اس کی یلغار سے تو اس کے اپنے بھی محفوظ نہیں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ یہاں سے کوچ کرجاؤ۔ اب انسان خود اپنے ہاتھوں اپنی بربادی کا نوحہ لکھے گا۔

 ”بھاگ بھری“ کا ساون بھی آخر کار تاک تاک کر مارنے میں ایسا ماہر ہوگیا، جیسے یہ انسان کا قتل نہ ہو، بلکہ آسمان پر اڑتے پرندوں، عقابوں، چڑیوں، کبوتروں، بٹیروں کا شکار ہو۔ وہ سب جہادیوں میں ”ڈاکٹرز اسپیشلسٹ“ کے نام سے جانا جانے لگا۔ کمیونزم، مذہب، شیعت اور قادیانیت کے نام پر انسانیت کی یہ توہین اُس پر اتنی حاوی ہوگئی کہ جس دن کوئی شکار اُس کے ہاتھ نہ لگتا، اُسے نیند نہ آتی۔ حتیٰ کہ جب قاری سفیان اُسے کارروائی روکنے اور انڈر گراؤنڈ ہونے کا حکم دیتے، تو وہ دن گزارنا ساون کے لئے عذاب ہوجاتے۔ پھر اسلام کا یہ مجاہد ِاعظم ”خالد سفیانی“ اپنا خنجر نکال کر اپنے ہی ہاتھوں، بازوؤں کو زخم دیتا، خون کی بو سونگھتا اور اپنے چہرے پر مَل کر خود کو تسکین دیتا نظر آتا ہے۔ تازہ انسانی لہو کی مہک اُس کی طبیعت کو بشاش کردیتی ہے۔ اب دیکھئے کہ آدم بے زاری کے اس قابل نفرت رویے نے انسان کو آدم خوری تک پہنچادیا اور اماوس کی راتوں میں جہاد کے نام پر انسانی کھوپڑیوں سے خون پینا اُس کا پسندیدہ ترین مشغلہ قرار پایا۔ یہ کھیل صرف ہمارے نام نہاد مجاہدوں یا طالبان نے نہیں کھیلا بلکہ عظیم عالمی طاقتیں بھی ”نیٹو فورسز“ کے نام پر اس کھیل کا حصہ رہیں۔ اور اپنے چہرے پر انسانیت کا لہو ملتے ہوئے ”سپر پاور“ تو کہلائیں، اپنے ڈالرز اور پاؤنڈز بھی کھرے کرلئے، مگر اشرف المخلوقات کے عہدے سے گرگئیں۔ اس پوری جنگ میں ہمارے مجاہد تو گدھوں گھوڑوں کی طرح اندھادھند استعمال ہوئے۔ آپ ذرا ساون کی نفسیاتی حالت پر غور کریں کہ زندہ شیعہ، قادیانی تو واجب القتل تھے ہی، اُس نے قبروں میں پڑے مردوں کو بھی نہ چھوڑا اور قبرستان میں دھماکے کردیئے۔

تاریخ پر نگاہ دوڑائیے۔ نظریات کی یہی انتہاپسندی یہودیوں کو لے ڈوبی۔ جرمن قوم کی نسلی انتہا پسندی نے دوسری جنگ ِعظیم کو جنم دیا۔ یورپ میں کالے اور گورے کے امتیازات خون خوار جنگوں اور غلامی کی وجہ بنے رہے۔ مذہبی انتہا پسندی نے برصغیر جیسے اٹوٹ انگ کو کاٹ دیا، مگر یہ جنگی جنون کم ہوتا دکھائی نہ دیا۔ یہ پاگل پن کبھی فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ جاتا، تو کبھی برصغیر پاک و ہند کے باسی ایک دوسرے کو فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگتے۔ گویا ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں جھنڈے گاڑ کر شراب پینا ان کی آخری خواہش ہو۔ معلوم نہیں یہ دونوں ملک اور اس کے عوام کس دھرم کے پجاری ہیں جس میں احترام ِآدمیت سے بڑھ کر مذہبی انتہا پسندی سکھائی جاتی ہے۔ ان کے عوام نہ جانے کیوں جنگ کی بات پر اتنے پرجوش دکھائی دیتے ہیں، جیسے دونوں ملکوں کے مابین چھڑنے والی یہ جنگ محض ”چھپن چھپائی“ یا ”باندرکلا“ جیساکوئی کھیل ہو۔ یہ بات جانتے بوجھتے بھی کہ اب دونوں ملک خوفناک ایٹمی ہتھیاروں کے مالک ہیں، جن کی ہولناکی کا شکارناصرف یہ دونوں ملک ہوں گے، بلکہ پورا جنوبی ایشیا اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔ اور ہم اپنے ساتھ سب ہمسایہ ملکوں کو بھی لے ڈوبیں گے۔ ناول نگار صفدر زیدی نے ”بھاگ بھری“ میں پاکستان کے انتہا پسند طبقے پر بات کرنے کے ساتھ بھارت کی مذہبی دہشت کے مناظر دکھانے میں بھی پس و پیش نہیں کیا۔ مذہبی انتہا پسندی کو ایک طرف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا تو دوسری طرف بھارت سرکار بھی بالکل پیچھے نہ رہی۔ ہم سب نے دیکھا کہ وہاں ایک جماعت انتہا پسندی کے بل بوتے پر اقتدار میں آئی اور اُس نے ایوانوں میں مذہبی منافرت کا زہر گھولنے کا یہ دھندہ اور تیز کردیا۔ دونو ں ملکوں کی نام نہاد افواج کشمیر کے بارڈر پر کھڑے ہوکر اس منافرت پر مناسب وقفوں سے مہر ثبت کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتیں۔ جس کے نتیجے میں کشمیر کے بے چارے باسی محض جغرافیئے کے معتوب ہی کہے جاسکتے ہیں۔ ان لوگوں کا جرم حسین وادیوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں لڑتے رہنے کے لئے پیدا ہونا ہے۔

صفدر زیدی نے اس ناول کے ذریعے جنگ کی ممکنہ کم از کم تباہ کاریاں ہمیں دکھانے کی کوشش کی ہے، جس کو لڑنے کے لئے غزوہ ہند کی بشارتوں پر ہم مسلمان اور اکھنڈ بھارت بنانے کے چکر میں بھارت جنتا تیار بیٹھی ہے۔ ناول نگار نے ہمیں حقائق سے روشناس کرانے کی اپنی سی کوشش کی ہے کہ اس ہولناک ایٹمی جنگ کے بعد آنے والی تباہی بھوک، قحط، لاشوں، گِدھوں کا سامنا ہم عوام ہی کریں گے اور وہ بڑے آدمی، جن کے اشاروں پر چل کر ہم یہاں تک پہنچے، سب جہازوں میں سوار ہوکر امریکہ کے جزیروں پر جابسیں گے۔

آپ ملاحظہ کیجئے کہ خالد جیسے جانباز کو غزوہ ہند کی بشارتوں کے ساتھ سالار اعظم کے طور پر کس طرح اسمگلرز کے ذریعے سرحد پار روانہ کردیا گیا، جہاں سات ماہ گزارنے کے بعد آخر کار یوم ِجمہوریہ کو خالد نے ”یوم ِجہاد ہند“ قرار دیتے ہوئے دو فدائیوں کے ساتھ پریڈ پر دھاوا بول دیا۔ یوں خالد نے بنا کچھ سوچے سمجھے اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان نہ ختم ہونے والے فساد کی بنیاد رکھ دی اور جان بوجھ کر اپنی پاکستانی شناخت وہیں چھوڑتے ہوئے خود راہی ملکِ عدم بنا۔ اس آدم خور کو پورے ناول میں لوگوں کی گردنیں اڑاتے ہوئے کہیں بھی احساس جرم نہیں ہوا۔ اُس کی نظر میں اُس کا ہر فعل درست اور واضح تھا۔ حتیٰ کہ کراچی میں ایک شیعہ ڈاکٹر نسیم نقوی کے ساتھ اُن کے پوتے کو مارتے ہوئے بھی اُس پر ذرا گمان نہ گزرا کہ وہ کونسا گھناؤنا فعل سرانجام دے رہا ہے۔ تھانے میں خالد کی انچارج سے ہونے والی گفتگو اُس کی سفاکی اور بے مہری کی عکاس ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4