بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ
”تھانہ انچارج نے اُس سے پوچھا :“ تم کو معلوم ہے کہ تم نے کس کو قتل کیا ہے؟ ”
”ایک شیعہ کو اور اُس کے ساتھ ایک شیعہ بچے کو“
انچارج نے اپنے غصے کو دباتے ہوئے کہا : ”تمہیں معلوم ہے۔ وہ ایک بہت بڑا ڈاکٹر تھا، جس نے ہزاروں لوگوں کی جانیں بچائی تھیں“۔
خالد نے جواب میں کہا : ”پھر تو بہت ہی اچھا کیا اُسے مار کر۔ مسلمانوں کو کسی کافر کا احسان نہیں لینا چاہیے“۔
انچارج نے دانت پیستے ہوئے کہا : ”تمہارے سر میں دماغ کی جگہ گوبر بھرا ہوا ہے۔ خدا غارت کرے اُن لوگوں کو، جو لوگوں سے انسانیت چھین کر اُنہیں درندہ بنارہے ہیں“۔
انچارج ذرا سوچ کر دوبارہ یوں گویا ہوا : ”کیا تمہیں اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں؟ “
خالد نے کہا : ”پچھتاوا کیسا۔ ؟ اپنے امیر کے حکم کو بجالانے میں دنیا میں بھی خیر ہے اور آخرت میں بھی۔ اور اگر امیر کا حکم غلط بھی ہو، تو اُسے بجالانے میں ثواب ہی ہے“۔ انچارج نے خالد کو دیکھے بغیر سب انسپکٹر کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا :
”اس کا اسلحہ واپس کرکے اسے چھوڑدو۔ البتہ اگر کبھی یہ تھانے کی حدود میں دوبارہ نظر آئے، تو اس سُوَر کو گولی ماردینا، یہ کوئی عام سُوَر نہیں بلکہ اللہ کا خاص اور مقرب سُوَر ہے“۔
امن کی آشاؤں سے نفرت کرنے والے ان اللہ کے بندوں نے دونوں ملکوں میں جنگ کے امکانات فراہم کردیئے۔ بھارت میں انتہا پسندی کی علامت ”پروفیسر مکر جی“ نے پاکستان سے جنگ کے لئے جنتا کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کردیاتو دوسری طرف پاکستان میں یہ سرگرمیاں پہلے ہی موجود تھیں۔ اس ملک میں فوج مستحکم ترین ادارہ ہونے کی بدولت سیاستدانوں اور ایوانوں کو کہاں خاطر میں لاتی تھی، اس لئے دونوں طرف ایٹمی ہتھیار لانچنگ پوزیشن میں کھڑے کردیئے گئے۔ دونوں ملکوں کی سیاست ابھی آپسی رابطوں میں مصروف تھی، جبکہ یہاں افواج ِپاکستان کے سربراہان جو ایک عرصے سے ان مجاہدین کی پشت پناہی کرتے چلے آرہے تھے، ایک نئی جنگ کا بگل بجانے کے لئے خود کو تیار کرچکے تھے۔ مگر شاید ہمسایہ ملک کی نفرت میں وہ اس ایٹمی جنگ کے بعد آنے والی تباہی کا خیال کرنا بھول گئے تھے۔ پاکستان نے خود کو غزوہ ہند کا فاتح سمجھ کر دلی کی طرف میزائل داغ دیا۔ ہندوستانی آرمی کمان نے فوراً امریکہ کی فراہم کردہ میزائل دفاعی ڈھال کو متحرک کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف ایٹمی میزائل داغنے کا حکم جاری کردیا۔ پاکستان نے بھی امریکہ کی فراہم کردہ دفاعی ڈھال سے اپنی فضائی حدود محفوظ کرلیں۔
اس طرح غالب اور نظام الدین اولیا کی دلّی اور اسلام کے نام پر بنا ہوا اسلام آباد تو بچ گیا مگر۔ یہ ایٹمی میزائل منتشر ہوکر شمالی پہاڑی سلسلوں میں دنیا کے سب سے بڑے گلیشئرز سے ٹکرا گئے اور سیاچن پر فوجیوں کے جسم پگھلنے کے ساتھ ساتھ گلگت، سکردو، لیہ، لداخ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے لگے۔ کیلاش تک کے ا س پورے پہاڑی سلسلے کا نظام ِزندگی تباہ ہوکر رہ گیا۔ میزائلوں میں موجود تابکاری مواد نے پل بھر میں شیوجی کے لنگم سمیت سب کچھ بھسم کرڈالا۔ گلیشیئرز پگھل گئے۔ دریاؤں کا رخ مڑگیا۔ نہروں کے بند ٹوٹ گئے۔ سمندر بے قابو ہوگیا اور افزودہ پانی سیلاب کی صورت ہر علاقے میں داخل ہونے لگا۔ فطرت اپنے بھرپور انتقام پر اُتر آئی۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم سب زمین بوس ہوگئے۔ دونوں ملکوں سے بجلی آناً فاناً غائب ہوگئی۔ سڑکیں، ریلوے، سب پانی میں بہہ کر مٹ گئے۔ ہر طرف صرف دھاڑیں مارتا ہوا پانی تھا اور اُس میں بہتی لاشیں تھیں۔ سرحدیں تک مٹ چکی تھیں۔
”حکومت ہند و پاکستان نے ایک تاریخی اعلان کے ذریعے دونوں ملکوں کے شہریوں کو ایک دوسرے ملک میں آنے جانے کے لئے پاسپورٹ اور ویزے سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔ اس سہولت سے فی الحال کچھ زیادہ فائدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ زیادہ تر ہندوستانی شہری پاکستان کی طرف بہتے پانی میں لاشوں کی صورت داخل ہو رہے تھے۔ جنہیں پاسپورٹ اور ویزے کی ویسے بھی ضرورت نہ تھی۔ “
اس کے بعد پوری دنیا نے ایٹمی ہتھیارو ں کو تلف تو کردیا مگر کسی نے ان میزائل چھوڑنے والوں کے گریبان پکڑنے کی زحمت نہ کی۔ اور یہ تک پوچھنا گوارا نہ کیا، کہ تم اپنی قوم کے کیسے نگہبان تھے، کہ اُن کی دنیا جہنم بناڈالی اور خود اپنے محفوظ ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھ کر باہر کو اُڑان بھرنے کے لئے تیار بیٹھے ہو۔ ؟ پاک و ہند میں حکومت محض ایوانوں تک محدود ہوگئی۔ ٹیلیفون تنصیبات تک کٹ گئیں۔ پیٹرول کی عدم فراہمی کی بدولت سائیکل، خچر اور گدھا گاڑیاں اسلام آباد جیسے ”Model City“ میں چلنے لگیں اور لوگ غذائی اجناس، آٹا، چاول، سبزی تک کے محتاج ہوگئے۔ پوری دنیا ان دونوں ملکوں کی مدد کے لئے لپکی تو ضرور، مگر یہ تباہی کوئی معمولی ڈیزاسٹر نہیں تھا۔ تابکار ایٹمی مواد تباہ شدہ پلانٹ سے مسلسل بہہ کر سیلاب کے پانی میں شامل ہورہا تھا اور لوگ اس پانی کو پینے یا اُس میں تیرنے کے بعد صرف ایک اُلٹی کرکے لقمہ ¿ اجل بنتے جارہے تھے۔ تابکار مواد ان میں جلدی امراض بھی پیدا کر رہا تھا۔
محض ایک غلطی نے انسان کو ہزارو ں سال پیچھے پھینک دیا تھا۔ سالوں بعد سیلاب اترنے پر ایسا قحط پڑا کہ پھر آسمان برسا، نہ زمین نے پانی نکالا۔ ویسے بھی اس تابکار پانی سے کیا کیا جاسکتا تھا! زمین کا درجہ حرارت اتنا بڑھ گیا کہ پہاڑی علاقوں میں بھی بارش ناپید ہوگئی۔ اگر بارش ہوبھی جاتی تو گلیشئرز کیسے بنتے! پینے کے لئے پانی نہ بچا۔ سبزیوں کی شکلیں تبدیل ہونے لگیں۔ اور تو اور جانوروں، انسانوں کے بچے بھی عجیب الخلقت پیدا ہونے لگے۔ ”جینیاتی تغیرات“ نے ہر پیدا ہونے والی شے کی شکل بگاڑڈالی۔ حکومت ِہند نے تو اپنے رہے سہے باشندوں کو ملک سے باہر محفوظ مقامات پر منتقلی کا حکم دے دیا۔ لوگ اب بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے رات کو کام کرتے اور دن کو آرام۔ پیٹ بھرنے کے لئے ایک ایک روٹی کی خاطر قتل ہونے لگے۔ طاقت اور اسلحے کے زور پر خوراک اکٹھی کی جانے لگی۔ پہلے لوگوں نے پیسوں سے خوراک خریدی، پھر زیورات سے، گاڑیوں سے، حتیٰ کہ اپنی لڑکیاں بیچ کر بھی روٹی حاصل کی جانے لگی۔ ان حالات میں وہی زندہ بچا، جس نے دوسرے کو مارکر روٹی ہتھیالی اور غار کھود کر اُس میں گرمی سے بچنے کے لئے پڑرہا۔ درخت سوکھے پڑگئے تو جلانے کے لئے روپے استعمال ہونے لگے۔ پھر انسان اصلاً آدم خوری پر اتر آیا اور زندہ رہنے کے لئے اپنے ساتھی کو مارکر اُس کا گوشت کھانے لگا۔ جہادی تنظیموں کے وہی مجاہد اب غنڈہ گرد بن کر خوراک کے پیچھے دہشت پھیلانے لگے۔
یاد رہے کہ ایٹمی حملوں سے تباہی کی جو صورت صفدر زیدی نے اس ناول میں دکھائی ہے وہ میزائلوں کو دفاعی ڈھالوں سے زائل کردینے کے بعد کی ہے۔ ذرا سوچئے! اگر ان میزائلوں کے اثرات زائل نہکیے جائیں تو زندہ جل کر بھسم ہوجانا ہمارا مقدر ٹھہرے گا۔ کوئی جنازہ اٹھے گا، نہ چتا جلے گی۔ نوحہ کرنے والے تو درکنار۔ قبر کھودنے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔ اور ہم سب جنگ کی اس گہری کھائی میں ایسے دفن ہوجائیں گے کہ کوئی نام لیوا نہ بچے گا۔ میرا اُن سب لوگوں کے لئے مشورہ ہے، جو جنگ کے نام پر اچھلنے کودنے لگتے ہیں کہ وہ یہ ناول پڑھیں۔ تاکہ آئندہ ہونے والی جنگ کے کم از کم اثرات اُن کے ذہنوں میں جاگزیں ہوسکیں اور امن کی آشاؤں کے بارے میں ذرا سا سوچنے کے قابل ہوسکیں۔
اس پورے ناول میں دو کردار ایسے ہیں، جو انسانیت کی اس جھوٹی تفریق سے بہت اوپر ہیں۔ مذہب کے نام پر انسان کے بنیادی جینے کے حق کی سلبی اور آدم خوری اُنہیں بالکل نہیں بھاتی اور وہ ہر ممکنہ موڑ پر اس کا احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ ”بھاگ بھری“ اور ”اللہ وسایا“ کے یہ دونوں کردار انسانیت کی تذلیل برداشت نہیں کرسکتے۔ مٹی کا سینہ چیرنے والے اُن کے محنتی ہاتھ انسان کو چیرنے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہوتے۔ ان کی گفتگو نہ صرف آفاقی اقدار کی حامل ہے، جو ساون جیسوں کی سمجھ میں بالکل نہیں آتی، بلکہ یہ دونوں کردار ”Folk wisdom“ کی بھی ایک علامت ہیں۔
بھاگ بھری کو جب معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا ساون اپنے اصلی نام کو چھوڑ کر اب ”خالد سفیانی“ ہوگیا ہے اور اُس کے قاری صاحب نے ساون کو غیر اسلامی نام قرار دے دیا ہے تو وہ کہتی ہے :
”اب ساون بھادوں کا بھی دین دھرم سے ناطہ ہوگیا ہے۔ کل کلاں کو بہار کا بھی کوئی دھرم ہوجائے گا۔ جس نے تیرا نام بدلا ہے اُس بے وقوف سے پوچھنا کہ کیا ساون بھادوں کسی خاص دین دھرم کے ماننے والوں پر برسے ہے؟ “
جب بھاگ بھری اور خالد کو ملا سواتی شرعی عدالت میں طلب کرتا ہے اور خالد کے ہاتھوں ہونے والی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے اُس کی ماں سے سب کے سامنے جنسی زیادتی کی داستان سنانے کا کہتا ہے تو بھاگ بھری اُسے کچھ یوں جواب دیتی ہے۔
”کیا تم اپنی بیٹی سے بھری محفل میں یہ کہو گے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کی داستان سب کو سنائے؟ تم کو بھگوان نے علم تو دے دیا ہے، پر تم سے شرم و حیا چھین لی ہے“۔
”تمہارے خیال میں عورت کو ہر وقت چار گواہ ساتھ میں رکھنے چاہئیں تاکہ جہاں ضرورت ہو، پیش کیے جا سکیں“
اور پھر عدالت یہ جان کر کہ بھاگ بھری ابھی ابھی مسلمان ہوئی ہے، اُسے باعزت بری کرنے کا اعلان کرتی ہے، تو بھاگ بھری کا جواب پڑھئے :
”باعزت بری؟ میں کہتی ہوں میری عزت داغدار کرنے والا وڈیرہ تم لوگوں سے لاکھ درجہ بہتر تھا۔ کم از کم اُس نے میری عزت سے اکیلے میں کھلواڑ کیا تھا، جبکہ تم لوگوں نے تو سینکڑوں لوگوں میں میری عزت تار تار کرڈالی ہے۔ تم مذہب کے نام پر مجھے بہن کہنے کی کوشش نہ کرو۔ تمہاری زبان غلیظ اور تمہاری آنکھیں ہوسناک ہیں۔ میں تمہارا مذہب تم کو واپس کرتی ہوں۔ میں اپنے دھرم میں ہی بھلی ہوں۔ تمہارا اسلام تم کو مبارک ہو“۔
اس جواب پر بھاگ بھری کو ارتداد کی مرتکب ہونے کی وجہ سے سزا ئے موت سنائی جاتی ہے۔ مگر سیلاب کے بعد جب یہی ملا سواتی اُسے پانی میں ڈوبتا دکھائی دیتا ہے، تو اُس کے اندر جذبہ ¿ ترحم جاگ اٹھتا ہے اور وہ ساون سے کہتی ہے کہ یہ جیسا بھی مولوی ہے، مگر ہے تو انسان۔ خالد جیسے سفاک جہادی کی یہی ماں بھاگ بھری تو کتوں کو بھی بھوکا نہیں رہنے دیتی اور قحط کے دنوں میں بھی اپنے حصے کی روٹی کے کچھ ٹکڑے اُنہیں بھگو کر دے دیتی ہے۔ یہ اچھوت انسانیت کے اُس اعلیٰ مرتبے پر فائز ہے، جہاں وہ کتوں کو بھی مرنے کے لئے نہیں چھوڑسکتی اور اُن کی موت پر بھی اُس کے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔
سیلاب اور پھر اُس کے بعد قحط کے سارے مناظر دیکھ کر بھاگ بھری کا وشواس تو اپنے بھگوان سے اٹھ جاتا ہے۔ مگرایک ساون ہے، جس کو ابھی تک غزوہ ¿ہند کے سالار ِاعظم کے طور پر دلّی جاکر جھنڈا لہرانے کی پڑی ہے اور وہ قاری سفیان کے ایک اشارے کا منتظر ہے۔ اُس کے ذہن سے جہاد کا لفظ نہیں نکل پاتا۔ اُسے اب بھی انسانی خون کی بُو ستاتی ہے اور وہ بار بار اپنی ماں سے جہاد پر جانے کے لئے کہتا ہے تو ایک دن بھاگ بھری اُسے جواب دیتی ہے :
” مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تُو لڑنے پر اتنا فخر کیوں کرتا ہے؟ تمہارا اللہ نہ ہوا کسی ملک کا راجہ ہوگیا، جو ہر طرف دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہم سے دشمنی تو اللہ کا نام لینے والوں نے کر رکھی تھی اور سن! بھلا انسان کی کیا مجال کہ اُس کی پہنچ بھگوان تک ہوسکے۔ اور وہ اُس کا کچھ بگاڑ سکے“۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


