کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…
پھر یہ ہوا کہ ’رنگیلے میاں‘ کا رشتہ ہمارے لیے آ گیا۔ پان کی پیک اکثر ان کی بانچھوں میں اتری رہتی اور دانت بالکل شریفے کے بیج تھے۔ ناک ایسی کہ شاعر بے چارا پریشان، ’ہر چند کہیں ہے کہ نہیں ہے۔ ‘ چلتے چلتے تھوڑا سا ہچکولا کھاتے اور تھوڑی دیر کو ہوا میں معلق ہو جاتے۔ اور نک سک سے اتنے درست تھے کہ اکثر لوگ یہی سمجھتے تھے کہ اصل ’رنگیلے‘ یہی ہیں اور کوئی بہروپیا (ان کی شکل کا ) رنگیلا بن کر فلموں میں ایکٹنگ کرتا ہے۔
ہم نے جو سنا تو چچا جان کی گردن میں جھول گئے اور بھاں بھاں رونے لگے، ”چچا جان! ہم نہیں کریں گے شادی وادی۔ اگر وہ رنگیلا آیا بھی تو ہم دیوار پر بیٹھ کر اس کے سر پر پتھر ماریں گے اور اس کا سرپھوڑ دیں گے، ہائے چچا جان۔ “ اور پھر اور بھاں بھاں بھاں۔ چچا جان ڈر گئے کہ اگر کہیں سچ مچ ہی اس نے رنگیلے کا سرکھول دیا تو خواہ مخواہ ہی لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ کہیں کوئی کیس ویس نہ ہو جائے اور پھر کھلے ہوئے سر کے ساتھ رنگیلا کیسا لگے گا؟
وہ تو گنجا بھی اچھا نہیں لگتا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے بابو (حمید میاں جو اس وقت بمشکل بارہ تیرہ سال کے ہوں گے ) اپنے چہرے پر چوبیس سالہ متانت اور بیالیس سالہ تجربہ کاری سجائے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور امی اور اماں کو ایک کونے میں لے جاکر کھسر پھسر کرنے لگے۔ ہمیں تشویش ہوئی، فوراً کان لگا دیے۔ پتا چلا کہ روزانہ مسجد میں ایک آدمی انہیں ملتا ہے، انتہائی گنجا، انتہائی چکنا، بلکہ چکنا گھڑا، جس کی شکل ہمارے ایک ماموں سے ملتی ہے اور جو بالکل سینک کی مانند لمبا اور سیدھا ہے، روزانہ ہماری گلی سے گزرتا ہے اور جسے اکثر طارق چچا کا خونخوار مرغا کوئی ’مزیدار کیڑا‘ سمجھ کر جھپٹنے کی کوشش کرتا ہے، وہ ہم سے شادی کا خواہشمند ہے۔
’بابو‘ ! ایک خوفناک آواز ہمارے حلق سے برآمد ہوئی اور ہم دانت کچکچا کر اس کی طرف لپکے، یعنی اب ناقدری کا یہ عالم کہ ماموؤں کی شکل کے لوگ بھی ہمیں مانگنے لگے۔ کبھی تو ہمیں بھی احساس ہو کہ ہم بھی نسل انسانی سے تعلق رکھتے ہیں اور اشرف المخلوقات ہیں۔ بخدا ہمیں تو اپنے انسان کا بچہ ہونے پر بھی شبہ ہونے لگا تھا، یہاں تک کہ تنگ آ کر ہم نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا۔ جتنا بھی بنالو، جتنا بھی چھپالو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور پھر کچھ عرصے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ لگتا تھا کہ ہر لڑکے کا برد کھوا کامیاب جا رہا تھا، ورنہ منع ہونے کی صورت میں اس یقین کے ساتھ لڑکے کی اماں آن دھمکتی تھیں کہ ان بے چاروں کے پاس تو ریجیکٹیڈ (Rejected) مال ہے، یہاں تو مطالبہ کرتے ہی سب اوندھے منہ ان کے قدموں میں گرپڑیں گے اور ساری زندگی ان کے سامنے رینکتے رہیں گے کہ اچانک ’دادا حضور آ گئے۔ یہ دراصل ہمارے ابا کے دور کے بھائی کی بیوی کی نند کے بیٹے کے سالے تھے۔
لگتا تھا کہ اپنا وزن اس زمین پر سنبھالنے کے لیے جیبوں میں چھوٹے چھوٹے پتھر ڈال کر چلتے ہوں گے۔ ہم نے اکثر پھونک ماری تو چلتے چلتے لہرا گئے۔ وہ ابا کی بڑی خدمت کرتے، انہیں دوائی کھلاتے، کھانا کھلاتے، اخبار پڑھ کر سناتے۔ ان کے آتے ہی ہم سب کو بڑا آرام ہو گیا تھا۔ بس بے چارے توے پر روٹیاں نہیں ڈالنا جانتے تھے اور ’آداب زوجگی‘ قدرتی طور پر ممکن نہ تھی۔ ورنہ ممکن تھا کہ ابا کو اماں کی بالکل ہی ضرورت نہ رہتی اور وہ دوسرے دن ہی اماں کو ٹھینگا دکھا دیتے۔
ان کی اس بے لوث انسیت کو دیکھتے ہوئے ہم سب نے ان کا نام ’دادا حضور‘ رکھ دیا تھا، کیوں کہ دادا حضور، دادا حضور کہتے ان کی زبان نہ سوکھتی تھی۔ رفتہ رفتہ وہ، ابا کو شام میں ٹہلانے بھی لے جانے لگے۔ ان دنوں ابا کو ’مثنوی زہر عشق‘ پھر سے یاد آ گئی اور اکثر وہ دادا حضور کو پی آئی اے کمپلیکس کے سبزہ زار پر ٹہلتے ہوئے زور زور سے اس کے شعر سنانے لگے یہ اور بات ہے کہ اس وقت ان کی نظریں کہیں اور ہوتیں تو گویا پہلے وہ ابا کی جاں، پھر جان جاں، پھر جان جاناں ہو گئے۔
لگتا تھا کہ اماں بے چاری تو یوں ہی خواہ مخواہ کی خانہ پری کے لیے ہیں۔ ابا کی زندگی کا اصل خلا تو دادا حضور نے آ کر پر کر دیا۔ اس زمانے میں اماں کا جلاپا اپنے عروج پر تھا، وہ دادا حضور کو بالکل سوکنوں والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ بڑی مشکلوں سے انہیں، اپنے اور دادا حضور کے درمیان ’قدرتی‘ فرق کا احساس دلایا گیا ورنہ وہ ابا کی آنکھوں سے ان کے لیے امنڈتا پیار دیکھ کر تقریباً خاک ہوچلی تھیں۔
اور پھر، ایک دن بم پھٹا کہ دادا حضور ’منی‘ (یعنی ہم سے ) شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اچھل کر چھت سے جا لگے اور پھر وہیں سے لٹکے لٹکے ٹانگیں چلانے لگے کہ خبردار! خبردار جو کوئی ہمارے قریب آیا۔ بلاؤ اس دادا حضور کو ابھی بتاتے ہیں کہ کیسے رشتہ مانگا جاتا ہے۔ ارے اس منحوس نے اگر رشتہ مانگا ہی تھا تو ابا کا مانگا ہوتا۔ کیسا دھوکے میں ’شب خون‘ مارا ہے خبیث نے۔ ارے! اصل معشوق تو وہ ہیں یا کہ ہم؟ ہم تو ان کے سامنے بالکل ’اصلی والی‘ شکل میں پھرا کرتے تھے۔
بھائی جان کا گھسا ہوا کرتا پاجامہ پہن کر، زمین پر پاؤں پسار کر گنواروں کی طرح ٹی وی دیکھتے تھے۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ہم نے شرماکر چلمن کے پیچھے سے انہیں دیکھا ہو یا ان کے تکیے کے نیچے پھول رکھا ہو (بلکہ ہمارا دل تو چاہتا تھا کہ ان کا پورا بستر بچھوؤں سے بھر دیں، ویسے بھی وہ انہیں کے خاندان سے لگتے تھے ) یا ہمارے ہاتھ پاؤں ایسے ہوں کہ وہ انہیں دیکھ کر عاشق ہوجائیں، بلکہ وہ تو اتنے بدصورت ہیں کہ خود ہم انہیں چھپاتے پھرتے ہیں۔
ان کی گول گول عینک کے پیچھے ان کی آنکھیں ہیں یا بنٹے فٹ ہیں۔ خواہ مخواہ ہی ابا کو پیار بھری نظروں سے دیکھا کرتے تھے، بھینگے کہیں کے۔ اور پھر ہم چھت سے اسی وقت واپس آئے، جب ہمیں یقین دلایا گیا کہ دادا حضور تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ہماری ’خاتون‘ (نوکرانی) کا رشتہ بھی دیا جائے۔ تم تو پھر ’تم‘ ہو (یہ اور بات ہے کہ خاتون، نک سک سے ہمارے مقابلے میں بہت بہتر تھیں )۔ بہرحال، اس دن کے بعد سے ہمیں چچی جان کے اس محاورے پر پوری طرح یقین آ گیا کہ ’دل لگے دیوار سے، تو پری کیا چیز ہے؟ ”اگرچہ چچی جان کا یہ محاورہ ان کی اپنی ایجاد تھا، مگر خود کو‘ دیوار ’سمجھتے وقت ہمارا دل بہت دکھا تھا، مگر دادا حضور کے‘ معیار ’کو دیکھ کر یقین کرنا ہی پڑا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


