کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انہوں نے تسلی دینے کے لیے ’ان‘ کا ہاتھ پکڑ لیا تو بنگالی ہونے کے باوجود پسینے پسینے ہو گئے اور آخر کار تنگ آ کر اس نے سب کے سامنے کیمپس کی جھاڑیوں کے کنج میں بیٹھ کر ’بری‘ کی تفصیل طے کرنا چاہی تو موصوف بالکل ہی ’بدک‘ گئے اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بھی ہتھے سے اکھڑ گئیں۔ بڑے طنطنے سے ناک چڑھا کر انہوں نے انہیں ’مریل ٹٹو‘ کے خطاب سے نوازا اور ٹھک ٹھک ٹھک، بھناتی ہوئی بس اسٹاپ کی طرف چلی گئیں اور یہ دور تک ان کے کان سے دھواں نکلتے دیکھا کیے، مگر آگے بڑھ کر منایا نہیں۔

یہ چھٹی لڑکی تھی، جو ان کے خود ساختہ شریفانہ اصولوں سے ٹکراکر ٹوٹ پھوٹ گئی۔ مگر ان کے پائے استقامت میں ذرا جنبش نہ آئی اور یوں یہ قصہ بھی تمام ہوا۔ بہرحال، انہوں نے اسی وقت ساتویں دفعہ قسمت آزمائی کا عہد کیا اور ’جذب‘ کے عالم میں طے کر لیا کہ پندرہ دن کے اندر اندر جو بھی دکھائی دی، پکڑ کر اپنی دلہن نہ بنالیا، تو نام نہیں! اور یوں ہم ان کے گھر آ گئے۔

ہمیں اس سے قطعی کوئی غرض نہیں کہ ان کے ایسے اور کتنے ناتمام قصے تمام ہوئے، ہمارے تو پاؤں اس وقت مارے خوشی کے زمین پر نہیں ٹکے جب ہمیں یہ پتا چلا کہ یہ ’اکیلا لڑکا‘ چودہ سال سے لوکی ’کاٹ‘ رہا ہے اور ابال ابال کر کھا رہا ہے۔ تیل کو وہ صرف سر پر لگانے کی چیز سمجھتا ہے۔ اسے ناریل کے ’تیل‘ اور ’تلو‘ میں کوئی فرق نہیں محسوس ہوتا۔ کبھی کبھار آلو بھی ابال لیتا ہے۔ اور اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ اپنی انگلیاں بھی ابال لیں، مگر پھیکی ہونے کی وجہ سے کھائی نہ جاسکیں۔

اب خود ہی سوچیے کہ اگر ابلی ہوئی لوکی میں ذرا سا تیل پڑجائے اور کوئی آپ کو یہ بتا دے کہ جس تیل کو آپ نے سر پر چپڑا ہوا ہے، اسے مچھلی کے سرپر چپڑ کر اگر توے پر ڈال دیں تو اس سے نہ صرف مچھلی کی ذہانت پر بھی خاطر خواہ اثر پڑے گا، بلکہ آپ کی آنکھوں پر چھائی ہوئی دھند بھی خاصی صاف ہو جائے گی، کیوں کہ اکثر ’تلو‘ ان کی آنکھوں میں اتر آیا اور یہ بھاگے اپنی آنکھیں ٹیسٹ کرانے۔

تو صاحب! اگر قحط سالی کا یہ عالم ہو تو ساون کے اندھے کو تو ایک آدھ چھینٹا ہی بہت ہے۔ پھر تو اسے سارا عالم ہرا ہرا ہی نظر آئے گا۔ اور یہ بڑے فخر سے لوگوں کو بتانے لگے، ”پتا ہے ہماری بیگم بہت اچھا کھانا پکاتی ہیں۔ کبھی آئیے گا ہمارے گھر، کھانا کھانے۔ انڈا تو ایسا ابالتے ہیں کہ واہ! واہ اور لوکی تو۔ “ اماں سے جب انہوں نے یہ کہا تو وہ سانس روک کر کھڑی ہو گئیں کہ شاید یہ ’نوشے میاں‘ کے طنز کا انداز ہے، اصل گولا تو تب پھٹے گا جب یہ ہمیں چھوڑ کر چلتے بنیں گے۔

مگر جب ان کا خیال غلط نکلا تو وہ بہت خوش ہوئیں، مگر پھر بھی حیرانی ان کی آنکھوں سے جھانکتی رہی۔ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ انڈے پہ ہاتھی کیسے کھڑا ہو گیا، وہ بھی سر کے بل۔ اب آپ سے کیا پردہ، جہاں انہوں نے کسی دوست کو کھانے پر بلایا، کھٹ فون گھما دیا، امی اور طاہرہ سے کہہ دیا، آپ لوگ ذرا سویرے سے آ جائیے گا۔ پھر ظاہر ہے کہ رات کو لوگ انگلیاں چاٹتے ہوئے واپس جاتے اور ہمارے میاں ہم پر صدقے واری جاتے اور ہم ا می اور بھابی سے نظریں چراتے۔ مگر آفرین ہے دونوں کی فراخدلی پر کہ انہوں نے کبھی ہمارا بھانڈا نہیں پھوڑا۔ بہت ممکن تھا کہ ہم بڑھاپے تک بی فاختہ کے انڈے کھاتے رہتے اور وہ انڈے سہہ سہہ کر ہلکان ہوجاتیں۔

آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی اوقات بھول گئے اور اسی لیے اکڑ اکڑ کر چلنے لگے، بلکہ اتھلے پانی کی مچھلی کی طرح خوب اچھلے، خوب کودے۔ قدرت کو ہمارا یہ بلاوجہ کا غرور بے انتہا برا لگا۔ اور جس طرح جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچایا جاتا ہے، اللہ میاں نے ہمیں ہماری سسرال (یعنی بنگلا دیش) پہنچا دیا۔ وہاں ہماری ساس اماں نے وہ وہ لاڈ کیے، وہ وہ نخرے اٹھائے کہ ہم دم بخود رہ گئے۔ ہمیں یقین آ گیا کہ اللہ جب بھی دیتا ہے، چھپر پھاڑ کر ہی دیتا ہے۔

خوب مزے کیے۔ ایک سے ایک پکوان ہاتھ ہلائے بغیر دسترخوان پر حاضر۔ اور ہماری ساس اماں سلیقہ مندی اور گھر داری میں ہماری امی اور بھابی سے بھی چار ہاتھ آگے۔ کھانے والا چاہے کہ اس کھانے کے بعد ان کی انگلیاں بھی چٹ کر جائے یا کم ازکم پتیلیاں ہی توڑ کر کھا جائے۔ اچار چٹنیاں اور مربہ بنانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ اگر انناس کا مربہ ہے تو لگے گا کہ ابھی ابھی تازہ کاٹ کر پلیٹ میں سجایا ہے۔ آم کا مربہ ہے تو کسی کنواری کی آنکھ کی طرح شفاف کہ اس پار سے اس پار دیکھ لو۔

مچھلی پکائی ہے تو وہ بھی سالن کے ڈونگے میں سانس روکے آنکھیں کھولے پڑی ہے۔ لگے گا کہ ابھی پر پھیلائے گی اور تیرنا شروع کردے گی۔ مرغ پکایا ہے تو وہ بھی ایسا ’سالم‘ کہ ککڑوں کوں کی آواز صاف سنائی دے گی۔ سچی ڈر لگتا تھا کہ ڈونگا کھولا اور وہ کڑکڑاتا ہوا اپنی گردن واپس لینے نکل بھاگے گا اور ادھر ہم؟ جس نے اگر گائے کا گوشت پکایا ہے تو ڈھکن کھولنے پر لگے گا کہ پتیلی میں ایک ’لگڑ بھگا‘ بیٹھا ہے اور اگر مرغی پکائی ہے تو لگے گا کہ کوئی ’الو‘ ہنڈیا میں بیٹھا پلکیں جھپکا رہا ہے۔

اور پھر ایک دن جب ہماری ساس اماں نے بڑے پیار سے ہمارے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم بوؤ ماں (بہو ماں ) کا ہاتھ ہانڈی میں لگوائیں گے تو ہم بے ساختہ اچھل پڑے۔ وہ تو ساس کا ہاتھ سر پر تھا، ورنہ بہت ممکن تھا کہ اس جھٹکے سے ہم سیدھے چھت سے جا لگتے۔ بخدا ہمارا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ یہاں تو ان کے باورچی خانے میں اتنی جگہ بھی نہیں ہے کہ پتیلیوں اور تسلوں پر سوار ہو کر سیر کی جائے۔

اور اگر یہاں کوئی نند، پتیلی پر سوار ہو کر باہر نکل بھی گئی تو لوگ کیا کہیں گے۔ اور کیا ہم انہیں کسی بڑے صدمے سے دوچار کر سکتے ہیں؟ اور پھر یہاں تو سارے ہی احترام کے رشتے ہیں، ہم کیسے انہیں کسی پتیلی میں گرتا دیکھ کر ’اچکیں‘ گے۔ اور پھر یہاں کس کو فون کریں گے، یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے میکے والا۔ ہماری آنکھوں میں سچ مچ کے آنسو آ گئے، دل ہی دل میں کلس گئے۔ اللہ میاں سے گلہ کیا کہ کیوں دیارغیر میں اپنوں سے دور مارا، کچھ تو ہماری بے کسی کی شرم رکھ لی ہوتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6 7