شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟


سوال: اگر ہم بر صغیر کے ان چند گنے چنے ادیبوں کا ذکر کریں جو مرتے دم تک سرحد کے آر پار اپنے مخصوص انداز تحریر کے باعث یکساں مقبول رہے تو ان میں خشونت سنگھ کا نام سر فہرست نظر آتا ہے۔ آپ آں جہانی خشونت سنگھ کے انداز تحریر کو کس طرح پرکھتی ہیں؟

جواب: میں خوشونت سنگھ کو ایک انتہائی اعلیٰ پائے کا صحافی، کالم نگار اور ادیب سمجھتی ہوں، جن کو نا صرف انگریزی، پنجابی اور اردو زبان پر یکساں عبور حاصل تھا، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بہت بڑے تخلیق کار اور حقیقی کہانی نگار تھے۔ ایک طرف اگر ان کی تاریخ پر بڑی گہری نظر تھی تو دوسری طرف ان کے انداز بیاں میں ہمیں فکری طور پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی علم برداری بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

وہ بالکل اسی طرح ادب کے میدان کے ایک عظیم شو مین تھے، جس طرح ہندوستانی فلموں کے شو مین راج کپور تھے۔ جنہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے عوام کو تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شخصی آزادی اور برابری کا پیغام بھی دیا۔ میری نظر میں یہ دونوں شخصیات اپنے اپنے میدان کی آفاقی شخصیات تھیں۔ آپ یہ دیکھیے کہ خشونت سنگھ کی عمر ایک سو سال کے قریب تھی اور وہ علیل بھی رہتے تھے، لیکن ان کو اپنے پیشے سے اتنی محبت تھی کہ انہوں نے مرتے دم تک قلم سے رشتہ جوڑے رکھا اور اپنے کالم بھی مرنے سے کچھ دن قبل تک لکھتے رہے۔ اور وہ اکثر کہتے تھے کہ

That so far nobody has invented a condom for the pen.

اور ایسا صرف خشونت سنگھ ہی کہہ اور لکھ سکتے تھے۔ ان کی تاریخ، ادب، صحافت، فلم اور دیگر فنون کی تمام اصناف پر یکساں نظر تھی اور انتہائی مہارت سے ان تمام اصناف کو اپنا موضوع تحریر بناتے تھے۔

سوال: کیا ہم آپ کو خواتین کی خوشونت سنگھ کہہ سکتے ہیں؟

جواب: اگر چہ میری خواہش ہے کہ میرا مقام بھی خوشونت سنگھ کی سطح کا ہوتا اور وہ میرے لیے باعث اعزاز بھی ہوتا۔ لیکن اگر میں دیانت داری سے بات کروں تو میں ان کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتی۔ لیکن ایک اور شخصیت جن کو ہم خواتین کی خشونت سنگھ کہہ سکتے ہیں اور وہ تھیں عصمت چغتائی۔ یہ دونوں اپنے وقت سے آگے کی شخصیات تھیں

سوال: کیا آپ نے اردو ادب کا بھی مطالعہ کیا؟

جواب: جی نہیں میں نے اردو ادب بالکل نہیں پڑھا۔ در حقیقت ہمارا تعلیمی نظام بنیادی طور پر ایک ایسا نظام تعلیم ہے جو ہمیں ورثے میں برطانوی راج سے ملا اور وہی نظام تعلیم ابھی تک لاگو ہے۔ اور مجھے میرے والدین نے ایک اسکاٹش اسکول میں اسکاٹش اساتذہ کے ذریعے تعلیم دلوائی پھر میں سینٹ زیویئر کالج ممبئی میں چلی گئی تھی۔ وہاں کا بالکل مختلف ماحول تھا۔ جس میں میں پروان چڑھی۔ حتٰی کہ اس وقت تک میں اپنی ثقافت سے بھی رو شناس ہو پائی۔ جس کا مجھے آج تک افسوس ہے۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں اور کیا انہوں نے بھی آپ کی تقلید میں صحافت کو ذریعہ روزگار بنایا؟

جواب: میرے چھ بچے ہیں۔ اونتیکا ایک صحافی ہے اور آج کل ہندوستان کے معروف جریدے Hello سے بطور کنٹری بیوٹنگ ایڈیٹر منسلک ہے۔ لیکن وہ لکھاری نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ تر وہ اپنے جریدے کے لیے فیشن اسٹائلز کو شوٹ کرتی ہیں۔ اروندھتی بھی ایک اچھی مصنفہ ہے۔ لیکن وہ زیورات کے کاروبار سے منسلک ہے۔ میرے تمام بچے اگر چہ لکھنے لکھانے سے شغف رکھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے نہایت عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شعبہ صحافت کا انتخاب نہیں کیا۔ کیوں کہ انہوں نے اس میدان میں اپنی ماں کو ایک طویل عرصے تک جد و جہد کرتے دیکھا ہے۔ سو انہوں نے اپنے لیے الگ الگ شعبہ ہائے زندگی کا انتخاب کیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 38 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz