شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟


سوال: آپ ادب اور صحافت کی دنیا سے اتفاقا یا کسی منصوبہ بندی کے تحت منسلک ہوئیں؟

جواب: میں تو ادب اور صحافت کی دنیا سے اپنی مرضی سے منسلک ہوئی تھی۔ کیوں کہ مجھے اس پیشے سے شروع سے ہی محبت تھی۔ میرا ایک خواب تھا کہ میں کتابیں لکھوں، صحافی بنوں اور آج تک مجھے اس حوالے سے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اور میں زندگی کے ایک ایک لمحہ سے اب بھی محظوظ ہوتی ہوں۔ کیوں کہ اس شعبے میں ہر لمحہ آپ ایک نئی بات سے آشنا ہوتے ہیں۔ جیسے میں جب کبھی بھی لاہور یا کراچی آتی ہوں تو دو مختلف ثقافتوں اور خصوصاً کھانے پینے کے ذائقوں سے متعارف ہوتی ہوں۔

کیوں کہ مجھے لوگوں سے گھلنا ملنا اچھا لگتا ہے۔ میں اپنی دوستوں سے کہتی ہوں کہ مجھے فوڈ اسٹریٹ لے جائیے تا کہ میں یہاں کے پکوان کے ذائقوں سے آشنا ہو سکوں۔ کیوں کہ اسٹریٹ کلچر کے ذریعے ہی آپ کسی بھی علاقے کی ثقافت اور رسوم و رواج کو جان سکتے ہیں۔ آپ مقامی لوگوں سے ملاقات کے ذریعے اور ان کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھا کر مقامی ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

سوال: اگر ہم بھارتی فلم انڈسٹری کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر دور میں تین اداکار سپر اسٹار کے درجے پر فائز رہے جیسے مردوں میں دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند پھر اور اگر آگے آئیں تو راجیش کھنہ، امیتابھ بچن اور ونود کھنہ اور آخری تین سپر اسٹارز عامر خان، شاہ رخ خان اور سلمان خان۔ جب کہ خواتین میں پہلے نرگس، مدھو بالا اور مینا کماری پھر وحیدہ رحمان، وجنتی مالا اور سائرہ بانو۔ ان کے بعد ہیما مالنی، ریکھا اور ڈمپل کپاڈیہ پھر جیا پرادا، سری دیوی اور مادھوری ڈکشت وغیرہ۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ روایت دم توڑتی جا رہی ہے تو کیا یہ سلسلہ ختم ہونے جا رہا ہے؟

جواب: دیکھئے آپ جن اسٹارز کی بات کر رہے ہیں وہ اسٹارز یا سپر اسٹارز نہیں بلکہ لیجنڈز ہیں۔ اب صورت احوال یہ ہے کہ آج کل جو اداکار نوجوان نسل کے پسندیدہ ہیروز ہیں ان کی اداکاری کا دورانیہ زیادہ لمبے عرصے پر محیط نہیں ہوتا۔ جس طرح آپ نے کہا کہ ماضی میں دو تین دہائیوں تک تین اداکار ہی سپر اسٹار رہتے تھے۔ لیکن اب وقت بہت بدل گیا ہے اور کوئی بھی بدقسمتی سے لمبی ریس کا گھوڑا ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمیں مستقبل میں کوئی بھی امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان یا دلیپ کمار کا جاں نشین نہیں مل پائے گا۔

اگر چہ ہم رنبیر کپور اور ہریتک روشن کو اچھے اداکار کے زمرے میں لا سکتے ہیں لیکن ان میں اسٹار پاور والی خصوصیات نہیں۔ تاہم خواتین اداکاراؤں کے حوالے سے صورت احوال کافی بہتر ہے۔ دیپکا پڈوکون اور کترینہ کیف دونوں نے بہت کم عرصے میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ پردہ سیمیں پر ان دونوں کی شاہ رخ خان اور دیگر مرد اداکاروں کے ساتھ اچھی کیمسٹری پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ آپ یہ دیکھئے کہ شاہ رخ خان یا عامر خان نے نچلی سطح سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔

آپ کو یاد ہو گا کہ شاہ رخ خان نے ٹی وی سیریل ”فوجی“ میں اور عامر خان نے پہلے پہل اپنے والد طاہر حسین کی زیر نگرانی فلموں دنیا میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کا آغاز کیا۔ اور تقریباً بیس برس کی جہد مسلسل سے سپر اسٹار کا اعزاز اپنے نام کیا۔ یہ نہیں کہ کسی شارٹ کٹ کے ذریعے شاہ رخ خان آ گئے اور سپر اسٹار بن گئے۔ جب کہ آج کل کی نوجوان نسل راتوں رات سپر اسٹار بننا چاہتی ہے۔ جو ایک نا ممکن سی بات ہے۔ اسی طرح آج کل کے فلمی شائقین کی پسند و ناپسند بھی راتوں رات بدل جاتی ہے۔ بلکہ ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے وہ فوری نتیجہ چاہتے ہیں۔

سوال: آج کل جس قسم کی فلمی شاعری اور موسیقی تخلیق ہو رہی ہے اس حوالے سے آپ کا کیا کہنا ہے؟

جواب: فلموں میں آج کل جو شاعری ہو رہی ہے اور جو موسیقار موسیقی ترتیب دے رہے ہیں اس میں نغمگی کہیں گم ہو گئی ہے۔ لیکن جو آج کل کی شاعری اور موسیقی ہے۔ وہ زمانۂ حال کی عکاس بھی تو ہے۔ یعنی راکھی ساونت کے الفاظ میں جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے اور چلتا بھی ہے۔ جیسے آپ کچھ عرصہ قبل ریلیز ہونے والی فلم ”چنائی ایکسپریس“ کو ذہن میں لائیں جس میں شاہ رخ خان نے لنگی ڈانس کیا تھا۔ جس کا کوئی مطلب یا مقصد نظر نہیں آتا۔

لیکن چوں کہ شاہ رخ خان نے پرفارم کیا تھا اس لیے عوام میں سپر ہٹ ہو گیا۔ اور ہر شخص اس کی نقالی کرنے لگ گیا۔ لہٰذا آپ ہرگز یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ کون سی چیز فلمی شائقین سے مقبولیت کی سند حاصل کرے گی اور کون سی نہیں۔ حتٰی کہ اب تو آپ یہ بھی پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ کون سا پاپ اسٹار، کرکٹر یا پھر سیاستدان عوام میں ہٹ ہو جائے گا۔ آپ جس دور کی بات کر رہے ہیں چاہے فلم ہو، اداکاری ہو، گلوکاری ہو یا پھر موسیقی ہو وہ کلاسکس کا دور تھا اور اب چل چلاؤ کا دور ہے۔

دوسری طرف متوازی سینما بھی چل رہا ہے۔ اس تمام صورت احوال کی جرمن زبان کا ایک لفظ Zeitgeist بالکل صحیح عکاسی کرتا ہے۔ ہم سب ایک مضحکہ خیز صورت احوال سے گزر رہے ہیں۔ موسیقی بھی پاپولر کلچر کی طرح مختلف ادوار سے گزرتی ہے اب یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے دور میں اس معیار کی موسیقی تخلیق نہیں ہو رہی جو ہمارے ماضی کا خاصہ رہی ہے۔ اور اس افسوس ناک صورت احوال کا ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن مجھے امید ہے کہ بہت جلد موسیقی کا شاندار دور واپس آئے گا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 38 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz