شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟
سوال: آپ کی پسندیدہ فلمیں کون کون سی ہیں؟
جواب: آپ کو یہ جان کر بہت حیرانی ہوگی کہ میں نے بہت بار صرف دو فلمیں دیکھی ہیں ”پاکیزہ“ اور ”بوبی“ ۔ اور آپ یقین کریں یا نہ کریں میں ہر بار یہ دونوں کلاسکس فلمیں دیکھنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہوں۔ ”بوبی“ میں ڈمپل کپاڈیہ کی معصومیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے خاص طور پر اس منظر میں جب فلم کا ہیرو رشی کپور اس کے گھر آتا ہے اور وہ آٹا گوندھنے کے دوران میں دروازہ کھولتی ہے اور اچانک رشی کپور کو اپنی دہلیز پر دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے اور بے دھیانی میں آٹے کا ہاتھ اپنے سر پر لگاتی ہے اور اس کے بالوں پر آٹا لگ جاتا ہے۔
ویسے میں عموماً ہر قسم کی فلمیں دیکھ لیتی ہوں اور انجوائے بھی کرتی ہوں۔ ”چنائی ایکسپریس“ بھی اچھی لگی۔ مجھے فلم ”کوئین“ بھی بہت اچھی لگی۔ اب اگر آپ کہیں کہ کنگنا رناوت، مینا کماری کے معیار تک پہنچ سکتی ہے تو ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلم انڈسٹری کے مختلف شعبوں بشمول اداکاری، گلوکاری، موسیقی یا پھر شاعری کا کون نیا سپر اسٹار ہو گا اس کا فیصلہ آئندہ دس سال کریں گے۔
سوال: جب آپ بہت خوش ہوں تو کون سا نغمہ گنگنا نے کو جی چاہتا ہے؟
جواب: مجھے فلم ”کبھی کبھی“ کے نغمے پسند ہیں پھر فلم ”پاکیزہ“ کے تمام گانے پسند ہیں۔ اور میں ان گانوں کو بار بار دیکھتی اور سنتی رہتی ہوں۔ فلم ”پاکیزہ“ نے اپنی ہیروئن مینا کماری کی طرح عروج و زوال دیکھا۔ کیوں کہ یہ فلم جب پہلی بار ریلیز ہوئی تو ناکام ہو گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی بھی مینا کماری کی ذاتی زندگی کی طرح المیہ کہانی تھی اور مینا کماری اسپتال میں بستر مرگ پر تھیں۔ جب ان کے لیے فلم کے ریلیز سے قبل خصوصی سکریننگ کا اہتمام کیا گیا اور ان کی وفات کے بعد یہ فلم کلاسک کا اور اب شہرۂ آفاق فلم کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ فلم کی شوٹنگ کے آخری ایام میں مینا کماری خاصی علیل ہو چکی تھیں اور خاص طور پر جب فلم کا معروف نغمہ ”انہی لوگوں نے لے لیا دوپٹہ میرا“ فلم بند کیا جا رہا تھا۔ مینا کماری جی کے چہرے پر کافی سوجن آئی ہوئی تھی اور اس لیے ان کی عکس بندی زیادہ تر لانگ شاٹس کے ذریعے کی گئی۔ خاص طور پر ان کے چلنے کے مناظر کی۔ تو یہ تمام باتیں میری یادداشت سے کبھی محو نہیں ہو پاتی۔
سوال: آپ کی تر و تازہ شخصیت کا کیا راز ہے؟
جواب: اس حوالے سے میں صرف یہ ہی کہہ سکتی ہوں کہ یہ سب کچھ میرے والدین کی جانب سے میری جینز میں ہے۔ میں اپنی شخصیت کو تر و تازہ رکھنے یا روپ نکھارنے کے لیے کچھ خاص نہیں کرتی۔ کیوں کہ میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا یا تو میں تصنیف و تالیف میں مصروف رہتی ہوں یا پھر حالت سفر میں۔ البتہ میں ہمیشہ نوجوان نسل کی صحبت کو زیادہ انجوائے کرتی ہوں۔ بلکہ ان کی کمپنی میرے لیے ایک ٹانک کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ ان کے جو خیالات ہوتے ہیں وہ بے لاگ ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل بلا خوف و خطر اور بنا مصلحت کے ہر بات آسانی اور دیانتداری سے کہہ دیتی ہے۔ ان کے آس پاس دنیا میں چاہے کچھ بھی ہو رہا ہو وہ نوجوان نسل کے تازہ خیالات پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ اسی طرح مجھے دنیا بھر کے لوگوں سے ملنا اچھا لگتا ہے شاید انہی وجوہات کی بنا پر آپ سمیت لوگوں کو میری شخصیت تر و تازہ محسوس ہوتی ہے۔
سوال: کبھی اداس ہوتی ہیں؟
جواب: بہت کم، کیوں کہ زندگی میں انسان کے کرنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ تو اگر آپ اداسی کی کیفیت کا شکار ہو گئے تو آپ کا آگے بڑھنے کا سفر رک جائے گا۔ اور اگر آپ ایک مقصد کو ذہن میں رکھ کر زندگی کا سفر جوش و ولولے سے جاری رکھیں تو اداسی آپ کو چھو کر بھی نہیں گزر سکتی۔ کیوں کہ زندگی بذات خود توانائی کا ایک منبع ہے۔ جو انسان کو ساری عمر متحرک رکھتی ہے۔
سوال: محبت کے جذبہ کو آپ کس طرح بیان کریں گی؟
جواب: میرے خیال میں محبت ایک ایسا جذبہ یا کیفیت کا نام ہے جس کی وضاحت یا بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ انفرادی طور پر محبت ہر انسان کے لیے انبساط و مسرت کا نام ہے۔ میں رومانٹسیزم پر تو یقین رکھتی ہوں لیکن میں مرد اور عورت کے درمیان ہونے والی محبت کو مشکوک نظر سے دیکھتی ہوں۔ یہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ وہ جو کہتے ہیں پہلی نظر کی محبت۔ وہ مجھے تو کبھی بھی نہیں ہوئی۔ بلکہ میں اسے ایک پاگل پن سمجھتی ہوں۔
کیوں کہ یہ ایک قسم کے جنون کا نام ہے۔ جس کے بغیر محبت نہیں ہو سکتی۔ بعض اوقات یہ ایک تجریدی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جیسے کبھی آپ کو اپنے کام یا مشغلے سے بہت محبت ہوتی ہے جس کے باعث کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں محبت کی بہت سی اقسام ہیں اور یہ سب انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کس قسم کے نظریۂ محبت کا انتخاب کرتا ہے۔
سوال: آپ نے محبت کو کیسا پایا؟
جواب: جیسا میں نے پہلے کہا کہ ہر انسان کے نزدیک نظریۂ محبت مختلف ہوتا ہے اور اس کے بغیر زندگی بیکار ہے۔ لیکن میرے نزدیک جو محبت آپ کو اپنی اولاد سے ہوتی ہے اس کا نعم البدل دنیا میں کوئی نہیں۔
س:۔ ہندی فلموں سے منسلک نامور فوٹو گرافر گوتم راجا دھکشہ کا آپ کی پاکستان آمد سے کچھ عرصے قبل ہی انتقال ہوا، ان کا اسٹل فوٹو گرافی میں وہی مقام تھا جوآپ کا ادب، فلمی صحافت اور بطور معروف فلمی تجزیہ کار کا ہے اور آپ کا ان بڑا گہرا اور قریبی تعلق تھا اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گی؟
جواب: گوتم جی کی جو آپ بات کر رہے ہیں وہ تو میرے خاص رشتے دار بھی تھے۔ ہم کزن تھے کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا کہ ہمارا آپس میں رابطہ نہ ہو۔ وہ میرے اتنے پیارے اور قریبی دوست بھی تھے اور ان کے ساتھ میری زندگی کا سفر بہت دل چسپ اور جوش و جذبے سے بھرپور رہا۔ ان کے انتقال کے بعد میں اپنے آپ کو بہت تنہا محسوس کرتی ہوں۔
سوال: آج کی اس خوبصورت اور یادگار نشست کی کوئی آخری بات جو آپ کہنا چاہیں؟
جواب: میں صرف یہ ہی کہنا چاہوں گی کہ ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیجیے۔ آپس میں محبتوں کو فروغ دیجیے۔ دنیا میں امن و آشتی کے دیپ جلائیں۔ اس دنیا میں نفرت کو فروغ دینے کی بجائے ایک دوسرے کی قدر کرنا سیکھیں۔ کیوں کہ زندگی بذات خود بہت قیمتی شے ہے اس کو منفی باتوں کے ذریعے ضائع مت کیجیے۔




