شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ کمرے کے باہر بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ ہر سو ماحول نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ، نمی کے باعث دھندلا سا گیا تھا۔ لیکن کمرے کا ماحول بہت خواب ناک تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ آتش دان میں دھیمی دھیمی چٹخنے والی لکڑیوں کی آواز کا اثر تھا یا ہندوستان کی معروف کالم نگار اور ناول نگار شوبھا ڈے کی موجودگی کا، جن کے ساتھ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے محو گفتگو تھے۔ جی ہاں! وہی شوبھا ڈے، جن کو بھارت کی ”جیکی کولینز“ بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے ہندوستان کی فلمی صحافت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نیا رنگ اور انداز دیا۔ شوبھا ڈے کا جنم بر صغیر کی تقسیم کے تقریباً پانچ ماہ بعد 7 جنوری 1948ء میں ہوا۔ ان کا اصل نام شوبھا راجا دھکشہ ہے لیکن ادبی و صحافتی حلقوں میں وہ شوبھا ڈے کے نام سے مقبول ہوئیں۔ انہوں نے گریجویشن کے بعد ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ لیکن ہندوستانی فلمی دنیا میں ان کا نام اس وقت جانا مانا گیا جب 70ء کی دہائی میں معروف فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ سے بطور پہلی خاتون ایڈیٹر منسلک ہوئیں۔

شوبھا ڈے اب تک انیس کتب تصنیف کر چکی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی تمام کتب کے ٹائٹل ان کے نام کی طرح انگریزی حرف ایس سے شروع ہوتے ہیں۔ اس شام شوبھا ڈے سے کن کن موضوعات پر مکالمہ ہوا۔ آئیے آپ بھی پڑھیے :

سوال: آپ ہندوستان کی وہ پہلی خاتون صحافی تھیں، جو مشہور انگریزی فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ کی ایڈیٹر رہیں اس سے قبل آپ کا شمار ہندوستان کی معروف ماڈل میں بھی ہوتا تھا تو ماڈلنگ سے صحافت تک کا سفر کیسے طے کیا؟

جواب: ویسے بہت ہی لمبی کہانی ہے پر اتنا تو ضرور کہنا چاہوں گی کہ اسٹار ڈسٹ سے جب میں منسلک ہوئی، تب وہ سوٹ کیسز میں بھر بھر کے سرحد پار بھی جاتا تھا، جو میری پہچان بن گیا اور خاص طور پر یہاں پاکستان میں اس کی شناخت ابھی تک اتنی مضبوط ہے اور پاکستانی قارئین کی اس جریدے سے اتنی جذباتی وابستگی ہے کہ جب بھی وہ پاکستان میں یا کسی بھی دوسرے ملک میں مجھ سے ملاقات کرتے ہیں تو ہمیشہ اسٹار ڈسٹ کی یاد ان کو بھی آتی ہے اور وہ مجھے بھی اس کی یاد دلا دیتے ہیں۔

اگر چہ مجھے اسٹار ڈسٹ کو چھوڑے بہت عرصہ گزر گیا ہے لیکن اس کا جو نام ہے وہ اتنا طاقتور ہے کہ وہ میرے نام کا حصہ بن چکا ہے اور اس بات سے مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔ اگر چہ اب بطور مصنفہ بھی میری ایک الگ شناخت بن چکی ہے، کیوں کہ جب میری کتب پہلی مرتبہ پاکستان آئیں تھیں تو وہ میرے لئے ایک تاریخی لمحہ تھا۔ میں اب تک پاکستان چھے مرتبہ آ چکی ہوں اور جب میں یہاں آتی ہوں، مجھے بہت پیار ہی پیار محسوس ہوتا ہے اور اچھا لگتا ہے۔

سوال: آپ پاکستان متعدد بار آ چکی ہیں یہاں آ کر کیسا محسوس کرتی ہیں؟

جواب: جب میں پہلی مرتبہ کراچی آتی تھی، تو کراچی پر ممبئی کا گمان ہوا تھا۔ میں کبھی کبھی کہتی ہوں کہ دونوں شہر جڑواں شہر جیسے ہی ہیں۔ ثقافتی طور پر بھی دونوں شہروں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے اور ممبئی کی طرح کراچی میں بھی ہر شعبے میں لوگ زبردست پیشہ وارانہ مہارت رکھتے ہیں جو مجھے ہمیشہ ممبئی کی یاد دلاتا ہے۔ اسی طرح لاہور بھی میرا تین چار مرتبہ جانا ہوا وہ بھی ثقافتی اور ادبی حوالے سے ایک تاریخی شہر ہے۔

وہاں کے جو ثقافتی حوالے ہیں وہاں کی جو ثقافتی وابستگی ہے وہ میرے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔ مجھے پاکستان کے لوگ، ان کے فیشن اور یہاں کے پکوان بہت اچھے لگتے ہیں۔ خاص طور پر یہاں کا اسٹریٹ کلچر اور ایسے لگتا ہی نہیں ہے کہ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان کوئی رکاوٹ موجود ہے۔ بلکہ لوگوں سے مل کر مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ یہ سب رکاوٹیں مصنوعی طور پر خواص نے عوام کے لیے بنائی ہوئی ہیں۔

سوال: آپ نے اپنی تحریروں، کالم اور تصانیف کے ذریعے اردو، انگریزی اور ہندی الفاظ و تراکیب کو اکٹھا استعمال کر کے ایک نئے امتزاج کو متعارف کروایا، جو اب آپ کے انداز تحریر کا خاصہ بن گیا ہے، جس کو ہم بارہ مسالے کی چاٹ بھی کہہ سکتے ہیں، اس حوالے سے آپ کا کیا کہنا ہے؟

جواب: میرا ماننا ہمیشہ یہ ہی ہے کہ اظہار کے معاملے میں زبان جو ہے وہ بہت ہی رواں اور سلیس ہونی چاہیے، بالکل ایک ندی کے مانند۔ کیوں کہ ایک قاری کو بھی وہی تحریر مزہ دیتی ہے جس میں سلاست ہو تا کہ اس میں قاری کی دل چسپی برقرار رہے۔ کیوں کہ میرے خیال میں الفاظ سے کھیلنا بھی ایک آرٹ ہے اور اگر آپ اس میں کامیاب ہو جائیں تو بہت اچھے طریقے سے آپ ایک نئے اسلوب تحریر کو جنم دے سکتے ہیں۔ تو جب میں نے ہندی اور انگریزی الفاظ کو ملا کر لکھنا شروع کیا جس کو آج کل Hinglish کہتے ہیں خاص طور پر جب اسٹار ڈسٹ میں میری شروعات ہوئیں تھیں تقریباً نصف صدی قبل۔ تب لوگوں نے یہ سمجھا کہ مجھے شاید انگریزی، ہندی اور اردو زبان پر عبور نہیں ہے۔ جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ بس میں نے یہ سوچا کہ ان تینوں زبانوں کے الفاظ کو ملا کر، مرچ مسالا لگا کر اور ایک نئے طریقے سے بارہ مسالے کی چاٹ اس طریقے سے پیش کی جائے کہ ابلاغ کے اس انداز میں بر صغیر کی جو مختلف زبانوں کی جو خوب صورتی ہے جس میں، میں بہت ہی دل چسپی بھی لیتی ہوں ان میں بات کی جائے اور آپ بالکل درست فرما رہے ہیں، کہ میری تحریر الفاظ و بیان کے حوالے سے بارہ مسالے کی چاٹ کی طرح ہی ہوتی ہے۔

کیوں کہ یہ خالصتاً کسی ایک زبان پر مشتمل نہیں ہوتی بلکہ اس میں بہت سی دیگر زبانوں کے اثرات جھلکتے ہیں۔ خاص طور پر انگریزی زبان کا بھی خاصا اثر اس میں ہے یعنی اگر آپ مختلف زبانوں کو ملا کر ایک ڈش بنا دیں جیسے ہمارے بمبئی میں بھیل پوری ہوتی ہے، تو وہ میرا انداز تحریر ہے۔ جو اب میری ایک مستحکم شناخت بھی بن چکا ہے اور میں اس کو تسلیم بھی کرتی ہوں۔ آپ چاہے اس کو Hinglish کہیں یا پھر Minglish کہیں یا کچھ اور۔ یہ اب ابلاغ کا ایک نیا انداز تحریر بن چکا ہے۔ اور اس میں جو چٹ پٹا مزہ آتا ہے وہ اب آپ کو نہ تو وکٹورین انگریزی کے انداز تحریر میں آئے گا نا ہی دکنی اردو میں۔ یہ جو بھاشا ہے جو ہم نے خود بنا دی ہے مجھے تو یہ روایتی زبان سے زیادہ دل چسپ محسوس ہوتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6

سجاد پرویز

سجاد پرویز ڈپٹی کنٹرولر نیوز، ریڈیو پاکستان بہاولپور ہیں۔ ان سے[email protected] پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 37 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz