غیب سے پانی کی بوچھاڑ


گس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ مجھے سہارا درکار ہے لہٰذا وہ ساتھ تھا۔ ہمارے کونڈم دراز میں پڑے تھے۔ وہ کروٹ لے کے سو گیا اور اس کے سانسوں کی پرسکون لے، ساتھ لیٹے میری سماعتوں سے ٹکراتی رہی۔

میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ میرے کانوں میں میرے والدین کے یہ الفاظ گونجے۔ ’اپنے خاندان کا نام آگے بڑھانے کی ذمہ داری تم پہ ہے کیونکہ جب تمہاری بہن کی شادی ہو جائے گی تو وہ اپنے شوہر کے خاندان سے وابستہ ہو جائے گی۔‘ میں نے پہلے بھی جب کبھی یہ بات بتانے کی کوشش کی، میں اسی بات سے ڈر جاتا۔

سارا خاندان میری بہن کے محل نما گھر کے اطاق میں اکٹھا تھا۔ ہم کرسمس کی شام کے طوفان سے پڑنے والی برف اپنے جوتوں سے جھاڑ رہے تھے۔ گنبد نما چھت سے گول سیڑھیاں اوپر جاتی تھیں۔ وہیں کرسمس کا درخت لگا تھا اتنا بڑا کہ گس اس کے آگے بونا دکھنے لگا۔ وہ درخت سیڑھیوں کے جنگلے کے موڑ پہ لگا رکھا تھا۔ سجاوٹی اشیا۔ جھلمل پنیاں۔ مقدس انگور کی بیلیں۔ مائیکل اینجیلو کی شاہکار تصویر جس میں خدا آدم کو زندگی عطا کرتا ہے اطاق کی چھت پہ تنی ہوئی تھی۔ ہم وکٹوریہ دور کی کرسمس کی سرزمین میں داخل ہو گئے تھے۔ یہاں کوئی درمیانہ رستہ نہ تھا۔

خاندان والوں نے جب دیکھا کہ میرا دوست ایک مرد ہے تو ان کی مایوسی قابل دید تھی۔ یوں لگا گویا سب بڑے میری بھانجیوں کی عمر کے ہو گئے اور جیسے انھیں خبر ملی ہو کہ سانتا کلاز نہیں آئے گا۔ ماں نے پوچھا ہم نے کھانا کھایا کہ نہیں۔ نصاب کی کتابوں کے مطابق تو یہ احسن اخلاقی رویہ ہے مگر ماں ہمیشہ عملی طور پہ کر کے دکھاتی۔ اگر میں کہتا کہ مجھے بھوک نہیں تو وہ کہتی بھوک نہیں ہے پھر بھی کھانا پڑے گا۔ یہ جذبہ ضرور سچا ہی ہو گا کیونکہ اس بات پہ کبھی پانی کی بوچھاڑ نہیں برسی۔ خوش قسمتی سے رات کا کھانا دوبارہ کھانے کے اصرار پر میرے ساتھ گس تھا جو گفتگو کا رخ بدل سکتا تھا۔

میں نے اسے اپنے والدین، اپنی بہن مشیل، اس کے شوہر کیون، اس کے بچوں ٹفنی اور ایمبر سے متعارف کرایا۔ حتیٰ کہ کیون کے والدین سے بھی۔ میں ان کے مابین مترجم کا کام کر رہا تھا کہ اس دوران مجھے ایک عجیب و غریب خیال گزرا۔ کمرے میں موجود ہر کوئی کم از کم دو زبانیں بول سکتا تھا۔ مگر ایک بھی زبان ایسی نہ تھی جو سب باہم جانتے تھے۔ انگریزی کے علاوہ، گس مردہ زبانیں بول سکتا تھا۔ کیون کے والدین کینٹونیز اور مینڈرین جانتے تھے مگر انگریزی نہ آتی تھی۔ میرے والدین کو ریٹائر منٹ کے بعد سے انگریزی کی ضرورت ہی نہ پڑی تھی۔ پہلے بھی ان کی انگریزی کچھ ایسی اچھی نہ تھی۔ گس کو میں نے ایسے قلعے میں محصور کر دیا تھا جہاں موجود آدھے افراد سے تو وہ بات ہی نہ کر سکتا تھا۔ اب اگر میں اپنا سر جنگلے سے پٹختا بھی تو پیغام غلط ہی جاتا، لہٰذا میں نے ایسا نہ کیا۔

جوں ہی گس نے اکڑوں بیٹھ کر میری بھانجیوں سے بات چیت شروع کی، انھوں نے اس سے خوف کھانا چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ کھیلنے لگیں۔ شاید سبھی جسمانی طور پہ قوی افراد، چھوٹے بچوں کو چند لمحوں میں رام کر لیتے ہیں۔ وہ سب بیٹھک کی طرف بڑھ گئے۔ میں بھی سب کے پاس جانے لگا کہ اسی اثنا میں میری بہن مجھے لے کے اپنے گھر کے دفتر میں چلی آئی۔

’ تمہارا حوصلہ کیسے ہوا؟ اس نے اپنے پیچھے دروازہ دھڑام سے بند کیا۔ میں نے خود کو یاد دہانی کرائی کہ میں اس سے زیادہ مضبوط ہوں۔ وہ مجھ پہ ہاتھ نہیں اٹھا سکتی۔‘ تم اماں ابا کو مارنا چاہتے ہو؟ ’

خیر، یہ تو میری توقع سے سہل صورتحال تھی۔ وہ جانتی تھی کہ مجھے کچھ بھی اسے بتانے کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے اس بار ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ اس سے پہلے تو ایک پورا دن لگا کرتا تھا اسے مجھ پہ غصہ چڑھنے میں۔ اب کی صورتحال کے مطابق، مجھے صبح سورج طلوع ہونے تک گھر سے نکال دیا جا سکتا تھا اور مجھے ہوٹل میں رہنے جانا پڑ سکتا تھا۔ میں ہر دفعہ احتیاطاً ایک کمرہ بک کرا کے رکھتا تھا۔ اگر میں پہلے اس کے پاس نہ آتا تو اس کی ناراضگی کی انتہا نہ رہتی۔

’نہیں تو۔‘ ماں اور ابا دونوں اسے قبول کرتے ہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے۔ ’میں بس یہ چاہتا ہوں جس سے میں شادی کرنے لگا ہوں سب اس آدمی سے مل لیں۔‘

مستقبل کا تو پتہ نہیں مگر فی الوقت میں اور گس شادی کا فیصلہ کر چکے تھے اور فضا بھی خشک تھی۔ اس نے مجھے تھپڑ دے مارا۔ جوابی تھپڑ میں بھی مار سکتا تھا مگر میں جانے سے پہلے اماں ابا سے ملنا چاہتا تھا اس سے پہلے کہ وہ مجھے دھکے دے کے گھر سے نکال باہر کرتی۔

’ اماں اور ابا نے تمہیں ہمیشہ تمہاری مرضی کرنے دی، ہے نا؟ بس میں ہی نہیں کر سکتی جو میں چاہوں۔ ؟‘ وہ دروازے میں راستہ روکے کھڑی تھی۔ ’تمہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تم اماں اور ابا کو میرے ساس سسر کے سامنے شرمندہ کر رہے ہو؟‘

اس طرح سوالیہ انداز میں جملے بنانا یا ہیچ الفاظ کا استعمال کرنا پانی کی بوچھاڑ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے کہ آپ سچ کے خلاف جا رہے ہیں۔

’ ہاں جیسے مجھے پتہ تھا کہ تمہارے ساس سسر بھی آ رہے ہیں‘ ۔ میں اپنے ماں باپ کو بالکل شرمندہ نہیں کر رہا تھا۔ کم از کم اس بار قطعی نہیں۔

’ تمہارا فرض ہے۔‘ میرے چینی نام کے ساتھ میرے خاندان کا نام لے کر وہ غصے سے بولی تاکہ کوئی شبہ نہ رہے کہ اسے مجھ پہ غصہ ہے۔ ’کہ تم والدین کو پوتا دو‘ ۔

ہم دونوں یہ بات پہلے سے جانتے تھے۔ اسے بس مجھے دھمکانا اچھا لگتا تھا۔
’ میرا نہیں خیال کہ میں خود ایسا کچھ کر سکتا ہوں۔‘ کاش کہ میں نے ایسا نہ کہا ہوتا۔
اس نے مجھے ایک اور تھپڑ جڑ دیا۔ ابھی تو گال پہ پچھلے تھپڑ کی چبھن باقی تھی۔

’تمہیں اماں اور ابا سے محبت بھی ہے؟ دفعہ کرو اس گوشت کے پہاڑ کو۔ کسی چینی عورت سے شادی کرو۔ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرو اور اماں ابا کو ایک پوتا لا کے دو۔ خوشی دو انھیں۔‘

وہ جانے کے لئے مڑی مگر دو قدم بھی نہ چلی کہ جھٹکے سے واپس مڑی۔ اس نے ابھی مجھے اماں اور ابا سے بات نہ کرنے کا حکم نہ دیا تھا۔

’ اور تم اماں اور ابا سے یہ بات نہیں کرو گے۔‘ یہ حکم دے کر وہ چلی گئی۔

پانی کی بوچھاڑ نہ برسی۔ یقیناً وہ یہی چاہتی تھی۔ وہ مجھے کبھی اماں اور ابا کے ساتھ اکیلے نہ ملنے دے گی۔

میں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور سوچنے لگا کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں۔ ٹھیک ہی تو ہے۔ گس بھی تو اصرار کے خلاف ہے۔ وہ اس پہ بھی راضی ہے اگر میں ان سب کو یہ نہ بتاؤں۔ میں نہیں بتاؤں گا تو وہ بات کو سمجھے گا۔ اسی بات کو سوچ کر ہی تو میں وہ کرنے جا رہا تھا جو دراصل وہ چاہتا تھا مگر کھل کے کہتا نہیں تھا۔ یہ سب بتا دینے سے جو تکلیف ہوگی وہ گزشتہ دس برسوں سے کم ہو گی۔ اور اگلے دس برس جو تکلیف جھیلنی پڑے گی اس سے کم دکھ دے گی۔ یا پھر یہ کہ مجھے خاموش رہنا ہو گا جب تک کہ میرا پورا خاندان مر نہ جائے۔ یہ ایک مضحکہ خیز خیال تھا۔

آج کرسمس تھی۔ میں جب سو کے اٹھا، گس اپنے اسی مخصوص انداز میں موجود تھا، خاموش اور نپا تلا انداز۔ میں نے بیڈ روم سے دبے پاؤں نکلنے کی کوشش کی۔ دروازے سے مڑ کے میری نظر جوں ہی اس پہ پڑی اس کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

رات میری بہن نے اشارہ کرتے ہوئے ہمیں الگ الگ کمروں میں بھیجا تھا۔ میں اس ممنوعہ علاقے میں واپس آیا جہاں مجھے سونا تھا تاکہ ابا کے ساتھ صبح کی سیر پہ جانے کی تیاری کر سکوں۔ یہ بھی عجب تھا کہ ہم ایک لوکل مال میں دائروں میں گھومتے رہیں گے اور میں ابا سے ان کے بارے میں باتیں کروں گا اور وہ مجھے محض ہاں ہوں میں جواب دیں گے۔ مگر آج تو مجھے ان سے حقیقت میں بہت اہم بات کرنا تھی۔ میرے خیال میں ان کئی سالوں میں پہلی بار ہی مجھے ان سے کچھ کہنا تھا۔ اس بار مجھے ہر حال میں بات کرنا ہی تھی۔

جب میں سیڑھیوں سے اترا تو میری بہن ہمارے ساتھ چلنے پہ اصرار کر رہی تھی۔ ایسا بھی پہلی بار ہو رہا تھا۔ اس نے آج تک ابا کے ساتھ کبھی صبح کی سیر نہ کی تھی۔

’ ٹھیک ہے آپا‘ ۔ میں سیڑھیوں سے واپس ہو لیا۔ ’آپ ابا کے ساتھ جائیں۔ بعد میں ملتے ہیں۔‘

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6