گالی سے ریپ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں نے گالی دی آپ کو برا لگا

آپ کو برا لگا اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا کہ آپ کی ہر گالی عورت سے شروع ہو کر عورت پہ ہی ختم ہوتی ہے۔

حجاب حجاب کی رٹ لگا کر عورت کو ایک انوکھی چیز بنا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں ہر گلی محلے کے نکڑ کی لڑائی میں عورت کو گالی دی جاتی ہے وہیں اب اسلام کے ٹھیکیدار برملا اپنے اخبارات میں انہی گالیوں کا پرچار کرنے لگے ہیں۔

پچھلے کئی سالوں سے سوشل میڈیا خبر رسانی کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ جو واقعات رات کی تاریکی میں دفن ہو جایا کرتے تھے، اب انہیں چھپانا ناممکن ہے ۔ موبائل کیمروں نے یہ اور آسان بنا دیا ہے۔

چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بچیاں جنسی درندوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے لیکن اب اگر ایسے واقعات سوشل میڈیا پر آ جائیں تو ملزمان پکڑے جاتے ہیں ، سزا بھی ہو ہی جاتی ہے۔

دنیا میں کوئی بھی مسئلہ گمبھیر شکل اختیار کر لے تو وہاں اس مسئلے کے محرکات پر ریسرچ شروع ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ جنسی ہراسانی، ریپ کیسز ، خودکشی۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے ریپ کیسز اور جنسی ہراسانی کو عورت کے لباس اور حجاب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ایسے واقعات میں جنسی خواہش سے زیادہ برتری حاصل کرنے کا زعم سبب بنتا ہے۔ ذہنی طور پر ایسا شخص اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ اپنے جذبات کو قابو نہیں کر پاتا۔

دل کڑا کر کے اپنے آس پاس یہ تلخ حقیقت دیکھیں تو کہیں بیٹا اپنی ماں اور باپ اپنی بیٹی کو بھی نہیں بخشتا ۔ کہیں کہیں بھائی بہن بھی انہیں جذباتی غلطیوں کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ سوتیلے باپ کی بیٹیوں کے ساتھ نازیبا حرکتوں سے ریپ تک کے واقعات تو عام ہیں۔

سوشل میڈیا کی بدولت 75 فیصد واقعات منظر عام پر آ جاتے ہیں ، ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے ایسے واقعات کو کنٹرول کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور معاشرے کا رخ متعین کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب اگر ملک کا وزیراعظم قوم سے خطاب کرے اور یہ کہے کہ بے حیائی کی وجہ سے ریپ کے واقعات ہوتے ہیں تو اس پر ہم صرف اپنا سر ہی پھوڑ سکتے ہیں کیونکہ دنیا ایسے واقعات پہ تحقیق کر کے یہ بات ثابت کر چکی ہے کہ عورت کے بھڑکیلے لباس ان واقعات کا موجب نہیں ہیں۔

دنیا کے تین بڑے ممالک امریکہ ، برطانیہ اور ساؤتھ افریقہ کے تحقیقاتی اداروں نے اس پر مکمل تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔

امریکہ کے ادارے OVC کی تحقیق کے مطابق پہلا مفروضہ یہ ہے کہ ریپ جوش اور جذبات کا جرم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ریپسٹ انتہائی غیر معمولی شہوت میں مبتلا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے پہ قابو کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

جبکہ ماہر نفسیات نے ریپیسٹ ججز متاثرہ شخص کے انٹرویوز کے بعد یہ دریافت کیا کہ ریپ کے زیادہ تر واقعات میں جنسی خواہش کو کنٹرول کرنے کا واقعہ نہیں دیکھا گیا، بلکہ جنسی حملے کے پیچھے جو محرک ہوتا ہے وہ اکثر دوسرے شخص کو کنٹرول کرنے اور اس پر قابو پانے کی خواہش ہوتی ہے۔

دوسرا مفروضہ کہ جو خواتین محتاط ہوتی ہیں ان کا ریپ نہیں ہوتا، بھی غلط ہے ۔ ایسی خواتین کا ریپ کہیں بھی کسی بھی جگہ پر ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے تحقیقاتی ادارے CPS کے مطابق بھی یہی مفروضہ ہے کہ بھڑکیلے لباس اور اکسانے کی بنیاد پر ریپ ہوتا ہے۔ جبکہ ریپسٹ کی تحقیق کے دوران اور واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی بات سامنے آتی ہے کہ ایسے واقعات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رونما ہوتے ہیں۔

ساؤتھ افریقہ کے تحقیقاتی ادارے ریپ کرائسس ہیلیبرک کے مطابق ریپسٹ سیکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

عورت کو گالی دینے سے لے کر عورت کی عزت تار تار کرنا درحقیقت کچھ مردوں کا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ اس کے سدباب کے لئے قوانین بھی موجود ہے۔

اب ان پر عمل کروانا ریاست پاکستان کا فرض ہے۔ معاشرے کی ان مکروہ روایات پر قابو پانے کے لئے ایسے اخبارات پر پابندی لگانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے جہاں عورتوں کو شہ سرخیوں میں گالی سے مخاطب کیا جائے۔ کسی بھی باشعور معاشرے میں ایسے افراد جو عورت کو گالی دیتے ہیں وہ کسی ریپسٹ سے کم نہیں ہیں۔ ان کو بھی بالکل اسی طرح سزا دے کر یہ بات ثابت کی جائے کہ عورت زاد کا معاشرے میں ایک اہم کردار ہے، اسے ہر برائی کی جڑ کہنا دراصل اپنی کوتائیوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *