درد کا رشتہ
کراچی 5 اپریل 1982 ء
عامر
تمہارا کارڈ ملا شکریہ، بہت اچھا کارڈ تھا۔
امتحان ختم ہو گئے اب رزلٹ کا انتظار ہوگا۔
تم کیسے ہو، دن کیسے گزر رہے ہیں۔ پارٹ ون کا امتحان کب ہے؟ کام تو بہت ہوگا؟ تھک جاتے ہو گے۔ ضرور لکھنا کہ کھاتے کہاں ہو، کپڑے کون دھوتا ہے۔ بٹن ٹوٹتے ہیں تو کون ٹانکتا ہے۔ تم نے تو کوئی تصویر نہیں بھیجی۔ لوگ لندن جاتے ہیں پکاڈلی کی تصویر بھیجتے ہیں، ٹریفلگر اسکوائر پر کبوتر اڑاتے ہوئے تصویر کھینچتے ہیں، کراچی بھجواتے ہیں۔ تم یہ نہ کرنا مگر ہسپتال میں ہی کھینچ کر بھیج دینا۔ مجھے انتظار رہے گا۔
کل میں عذرا کی بہن کی شادی میں گئی تھی۔ وہاں تمہاری امی بھی آئی ہوئی تھیں، میں نے صرف ان کے بارے میں تم سے ہی سنا تھا۔ عذرا نے بتایا کہ وہ ہیں عامر کی امی، سفید ساڑی میں۔ دور سے اس نے دکھایا تو ایک لمحے کے لیے میں ششدر سی رہ گئی، کتنا گریس تھا ان میں۔ ایک لمحے کے لیے دل بھر آیا۔ بس یہی دل چاہا کہ ان کے سینے سے لگ جاؤں، ان کے بانہوں میں بانہیں ڈال دوں، ان کی گود میں سر رکھ دوں، مگر انسان بڑا مجبور ہے۔
ہزاروں معصوم انہونی بھولی بھالی خواہشوں کا مالک۔ میرا دل مچل مچل جاتا ہے۔ ایسے لمحوں پر میں سوچتی ہوں کیوں مر گئی میری ماں۔ کیوں چھوڑ گئی اس دنیا میں اکیلا مجھے۔ کاش میری زندگی میں بھی میری طرح کی کوئی عورت ہوتی جسے میں اپنا کہتی، اس کی چھاتیوں پر سر رکھ کر گھنٹوں روتی رہتی۔ عامر تم کتنے قسمت والے ہو۔ تمہاری ماں زندہ ہیں۔ اپنی امی کو خط لکھتے ہو ناں۔ مجھے نہ لکھنا انہیں ضرور لکھنا۔ تم ایک روح ہو، وہ اس کی خالق ہیں ان کا بڑا حق ہے تم پر۔ ان سے باتیں ہوئیں، وہ بہت اچھی طرح سے ملیں۔ میں نے بتایا کہ میں عامر کی دوست ہوں۔ جونیئر تھی کالج میں۔ کیسے بتاتی کہ وہ میرا سب کچھ ہے۔ وہ ایک مہربان درخت کے سائے کی طرح میرے وجود پر چھا گئی ہیں۔ ان سے پھر ملوں گی۔
میں بھی کہاں کی باتیں لے بیٹھی۔ ابی کے ساتھ لاہور جانے کا پروگرام ہے۔ رزلٹ سے پہلے ہو آؤں تو اچھا ہے۔ کچھ آؤٹنگ ہو جائے گی۔ نتیجے کے بعد تو پھر ہاؤس جاب ہوگا اور پھر فرصت کہاں۔ سیاست کی خبریں وہی ہیں۔ اخبارات کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے اور اس ٹھیک کے پیچھے دکھوں کا ایک سمندر ہے اس کا اندازہ سب کو ہے فکر کسی کو نہیں۔ ابی، عاصم انکل، شجاع انکل، منہاج انکل سب خوش ہیں۔ کاروبار زوروں پر ہے۔ ہر ایک کچھ نہ کچھ مڈل ایسٹ میں کر رہا ہے۔ افغانستان میں جہاد کا زور ہے۔ ساری دنیا ادھر ہی دیکھ رہی ہے۔ شاید سب کو یہی Suitکرتا ہے۔
عامر جواب جلد دینا۔
تمہاری اپنی انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 2 مئی 1982 ء
میرے اپنے، میرے اچھے عامر
کل کالج سے گھر پہنچی تو تمہارا خط ملا۔ تمہارا پارٹ ون کا امتحان اگلے مہینے ہے، پڑھ کر خوشی ہوئی۔ دعاؤں پر تمہارا اعتبار نہیں ہے، میرا تو ہے۔ تمہارے لیے دعا کروں گی اور تو کچھ کر نہیں سکتی، یہ تو کر سکتی ہوں۔ یہ ضرور کروں گی دوست۔
آج چھٹی تھی اور میں نے سیما سے کہا تھا کہ اس کے گھر آؤں گی۔ گیارہ بجے غفور بابا کے ساتھ نکلی، ناظم آباد چورنگی سے آگے والے بس اسٹاپ پر تمہاری امی کھڑی تھیں۔ چلچلاتی دھوپ میں بہت سے لوگوں کے ساتھ بس کے انتظار میں۔ ابھی تو شادی میں ملاقات ہوئی تھی، میں نے فوراً پہچان لیا۔ گاڑی رکوا کر زبردستی انہیں ساتھ بٹھایا کہ میں چھوڑ دوں گی۔ انہوں نے بہت منع کیا مگر پھر ماننی ہی پڑی۔ کہنے لگیں ”پندرہ دن سے عامر کا خط نہیں آیا ہے، نہ جانے کس حال میں ہے، خدا کرے سب ٹھیک ہو۔
اب تو یہی دعا کرتی ہوں کہ خدا نے بڑے احسان کیے ہیں مجھ پر اب اسے بھی پاس کردے اور وہ بھی لوٹ آئے میرے پاس، تو میری زندگی کا مقصد پورا ہو جائے۔ پتہ نہیں وہ وہاں کیسے رہتا ہوگا، کہاں کھاتا ہوگا، کیا کھاتا ہوگا، یہاں بھی میں ہی کھلاتی پلاتی رہتی تھی ورنہ اسے کب اپنا خیال تھا۔ شاید کل کوئی خط آئے گا۔ ”عامر دل تو بہت چاہا کہ پر سے نکال کر تمہارا خط انہیں دے دوں کہ پڑھ لیں کہ تم خیریت سے ہو، مگر تم نے خیریت کے علاوہ اور بہت کچھ لکھا تھا جو انہیں پڑھانے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔
یہ بھی نہ کہہ سکی ان سے کہ کل ہی عامر کا خط آیا تھا وہ بالکل ٹھیک ہے کہ انہیں دکھ ہوگا۔ کہ مجھ کو لکھا ہے مگر انہیں نہیں لکھا ہے۔ عامر انہیں ضرور خط لکھا کرو کہ ان کے تو خواب میں تصورات کا محل ہے، ایک ارمانوں کا دریا ہے جو بہہ رہا ہے، صرف تمہارے لیے۔ تمہیں قسم ہے میری، انہیں اداس نہ کرنا۔ جس طرح سے انہوں نے اپنی زندگی بتا دی ہے، ایسے کون کرتا ہے۔ یہ ہمارے ملکوں کے دستور ہیں اور اس میں تم بھی ساتھ چھوڑ جاؤ، یہ اچھا نہیں ہے۔
حیدری سے آگے جہاں تمہارا گھر ہے وہاں میں پہلی دفعہ گئی تھی۔ کراچی بھی کتنا بڑا ہو گیا ہے، انسانوں کا جنگل ہے۔ ہرطرف آدمی ہی آدمی نظر آتے ہیں۔ تمہاری امی نے مجھے جانے ہی نہ دیا کھانا کھائے بغیر۔ بغیر کسی لان، بغیر کسی بہت بڑے ڈرائنگ روم کے اور بہت سارے اعلیٰ فرنیچر کے تمہارا گھر میرے لیے پیار محبت کے ان گنت بول لیے بیٹھا تھا۔ گیس کے مہنگے کوکر میں کھانا پکا ہو یا مٹی کے تیل کے دھویں والے چولہے کی آنچ میں پکا ہو دونوں ہی ایک جیسے ہوتے ہیں۔
مگر ذائقہ، محبت، خلوص تو ان ہاتھوں میں ہوتا ہے جو دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ تمہاری امی سے بہت سی باتیں ہوئیں، چلتے چلتے انہوں نے کہہ دیا ”تم میری بیٹی بننے کے قابل ہو انجم، مگر ہم لوگ غریب لوگ ہیں، مجھے عامر نے لکھا تھا تمہارے بارے میں۔ مجھے ہمت نہیں ہوتی تھی کلفٹن کی طرف آنے کی، میں نے سوچا تھا کہ وہ آئے گا تو چلوں گی تمہارے باپ کے پاس، مگر اب قسمت نے تم سے ملاہی دیا ہے تو مجھے اپنا ہی سمجھنا۔
غریب کا گھر چھوٹا ہوتا ہے مگر دل بڑا۔ ”میری تو جان ہی نکل گئی۔ تم نے تو بتایا ہی نہیں تھا کہ تم اپنی امی سے بات کرچکے ہو، میرے بے اختیار آنسو ابل پڑے۔ تمہاری امی نے مجھے سینے سے لگا کر پیار کیا اور پیار سے بولیں،“ ہمیشہ خوش رہنا بیٹی ”پھر میرے ہاتھوں میں دھیرے سے سو روپیہ کا نوٹ دے دیا۔“ مٹھائی کھانا میری طرف سے ”عامر یہ سو روپیہ کا نوٹ بہت بھاری ہے۔ لاکھوں کروڑوں سے مہنگا، یہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ تم تو کہتے تھے کہ وہ بڑی دقیانوسی ہیں، بہت روایت پرست ہیں، بڑی قدامت پسند ہیں، پرانے زمانے کی خاتون ہیں۔ نہیں، تم غلط کہتے ہو، وہ تو ویسی ہی ہیں جیسی ہونی چاہیے تھی۔ بالکل میری طرح، شاید میری ماں بھی ایسی ہی ہوتیں۔
تین بجے جب میں سیما کے گھر پہنچی تو وہ حیران پریشان تھی کہ کہاں گھر سے دس بجے کی نکلی راستے سے غائب ہو گئی تھی۔ دس دفعہ ابی فون کرچکے تھے۔ بہرحال فون کر کے میں نے انہیں اطمینان دلایا کہ میں ٹھیک ہوں، فکر نہ کریں، شام تک آ جاؤں گی۔ انہیں کیا بتاتی، کہ آج خزانہ مل گیا ہے مجھے۔ پرس سے سو روپے کے اس نوٹ کو نکال کر میں نے چوم چوم لیا۔
شام کو گھر پہنچی تو بڑا سا گھر، بھرا سا گھر خالی خالی سا لگا۔ رات کے کھانے پر ابی سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ بس جیسے ڈاکٹر بنو گی تمہاری شادی کردوں گا، میں بہت تھک گیا ہوں۔ نہ جانے کس کس کا نام لے رہے تھے۔ بڑے بڑے کاروباری لوگوں کے اونچے اونچے ناموں والے لڑکے۔ میں نے تمہارا بھی ذکر کیا تھا مگر ابی نے کچھ اس طرح سے کہا کہ ”ارے ہاں عامر۔ اس کی باتیں بڑی دلچسپی ہوتی ہیں مگر انجم، اس وقت اچھی لگتی ہیں جب پیٹ بھرا ہو۔
ایسی باتیں سنی جاتی ہیں ان پر بحث ہو سکتی ہے، دلچسپ باتوں سے زندگی نہیں گزرتی ہے۔ زندگی گزارنے کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے، آدمی اس وقت مضبوط اور محفوظ ہوتا ہے جب بینکوں کی فصیلوں کے اندر ہوتا ہے۔ انجم دکھ اور سکھ بانٹے جاتے ہیں انہیں گلے کا ہار نہیں بنایا جاتا۔ ”پھر وہ ہنس دیے تھے۔ لیکن ہنستے ہنستے ہی انہوں نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو ان کے دل میں تھا۔
کیسا عجیب تھا آج کا دن عامر۔ دوپہر تمہاری امی کے ساتھ گزری۔ سادہ سی تمہاری ماں اور سادگی کا خلوص لیے ہوئے ان کی باتیں۔ دوپہر سیما کے ساتھ گزاری تمام ہفتوں کی بکواس کرتے ہوئے۔ رات کا آغاز ابی کی باتوں سے ہوا، دولت کے فقروں سے بھرا ہوا اور اب رات گئے تمہیں خط لکھ رہی ہوں۔ شاید تم بھی جاگ رہے ہو گے کسی مریض کے سرہانے یا کسی کلینک میں مریض کے سامنے یا شاید کتاب کھولے امتحان کی تیاری میں لگے ہوئے ہو۔ زندگی تو ایک مسلسل امتحان ہے اور کچھ بھی نہیں۔ تمہاری ماں بھی ایک امتحان میں ہیں، میرے ابی بھی ایک امتحان میں ہیں، میں بھی ایک امتحان میں ہوں، تم بھی ایک امتحان میں ہو، فیل کون ہوا، پاس کون ہوا، کسے معلوم۔ جو سمجھتا ہے پاس ہو گیا شاید وہ فیل ہے۔ جو سمجھتا ہے کہ فیل ہوا شاید وہی پاس ہے۔
خدا کرے تمہارا پارٹ ون پہلی ہی دفعہ میں ہو جائے۔ بہت سارا پیار۔
تمہاری انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 12 جون 1982 ء
عامر
آج عامر تمہارا خط پاس ہونے کی خوش خبری کے ساتھ ملا۔ تم نے فون کیوں نہیں کیا۔ نہ مجھے نہ اپنی امی کو۔ ہم سب یہاں دعاؤں میں لگے ہوئے تھے، اس امید کے ساتھ کہ تم فوراً خبر کرو گے۔
اب کیا پروگرام ہے۔ کب آرہے ہو؟ میرے بھی رزلٹ کا وقت آ گیا ہے۔ اگلے ہفتے رزلٹ آؤٹ ہو جائے گا۔ مگر ہم لوگوں کو un۔ officially پتہ لگ گیا ہے۔ ہم سب پاس ہیں۔ پہلی جولائی سے ہاؤس جاب شروع ہوگی۔
تمہاری امی سے فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ بہت خوش ہیں۔
تمہاری انجم
کراچی 25 جون 1982 ء
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
عامر
تمہاری کوئی خبر نہیں ہے۔ کیا کر رہے ہو، کیسے ہو۔ کہاں ہو۔ کب آرہے ہو۔ اگر خط لکھنے کا وقت نہیں ہے فون تو کرو۔
تمہاری امی بھی اچھی ہیں۔ بہت سارا پیار۔
انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 22 جولائی 1982 ء
عامر
تمہارا مختصر سا خط ملا۔
میں ٹھیک ہوں مگر بہت مصروف ہوں۔ سرجری میں ہاؤس جاب کر رہی ہوں۔ پروفیسر صاحب کبھی کبھار آتے ہیں اور اسسٹنٹ پروفیسر کا بھی یہی حال ہے۔ رجسٹرار اور ہاؤس افسر شہر کا سب سے بڑا ٹیچنگ ہسپتال چلاتے ہیں، سینئر رجسٹرار صاحب نے بھی کلینک کھولی ہوئی ہے۔ تم جانتے ہی ہو گے، ڈاکٹر مقصود ہمارے سینئر رجسٹرار ہیں۔ وارڈ میں جو ہوتا ہے اس کا تو تمہیں اندازہ ہوگا۔ زیادہ غریب مریض یا تو مر جاتے ہیں یا لوٹ پوٹ کر صحیح ہو جاتے ہیں۔
جو ان پر گزرتی ہے وہ دیکھ کر صرف رونا ہی آتا ہے۔ اوپر سے نیچے تک ہر چیز بگڑی ہوئی ہے، ہوس نے ہر اصول کو تہس نہس کر دیا ہے۔ میں تو جرنیلوں کرنیلوں اور سیاستدانوں کو ہی روتی تھی یہاں تو ہر ایک بکاؤ ہے، ڈاکٹر انجینئر، اکاؤنٹنٹ، وکیل۔ خدایا! یہ زمین، یہ آسمان، یہ سب کچھ کب بدلے گا۔ تم پھر سوچو گے کہ اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے، مگر میں کیا کروں؟ دیکھتی ہوں تو آنسو نکل آتے ہیں۔ پچھلے ہفتے نو سال کا ایک لڑکا اپنے دائیں پیر کے انگوٹھے پر زخم لے کر آیا تھا۔
ہم لوگ کیژولٹی میں ہی تھے اس وقت اسے واپس کر دیا گیا کہ کل او پی ڈی میں آنا حالانکہ او پی ڈی بھی ہم لوگوں ہی کی تھی۔ دوسرے دن جب داخل ہوا تو زخم خاصا خراب تھا۔ میں نے صفائی کر کے ڈریسنگ تو کردی مگر مجھے کچھ خدشہ سا تھا۔ بڑی مشکل سے ڈاکٹر مقصود ہاتھ آئے۔ انہیں دکھایا تو کہنے لگے کل راؤنڈ پر سر کو دکھانا، پھر فیصلہ ہوگا۔ سر نہیں آئے، کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال میں پرائیویٹ کیس کر رہے تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر آج کل چھٹی پر ہیں۔ شام کو میں نے دوبارہ دیکھا تو مجھے ایسا لگا جیسے زخز کو گینگرین ہو رہا ہے۔ میں تو پریشان ہو گئی۔ ڈرتے ڈرتے سر کو فون کیا۔ تو ناراض ہونے لگے کہ پہلے فون کیوں نہیں کیا تھا۔ رات گئے تک وہ آئے تو فیصلہ ہوا پنڈلی سے پیر کاٹ دیا جائے ورنہ کل تک شاید گھٹنے سے کاٹنا ہوگا۔
عامر میرا تو تمام جسم کانپ کانپ سا گیا تھا۔ تین دن پہلے جب یہ لڑکا آیا تھا تو اس نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ وہ اپنے جسم کے ایک حصے سے محروم ہو جائے گا۔ جب اس کے باپ کو بتایا گیا تو اس کے دھویں جیسے چہرے پر ایسا کرب تھا کہ میں نہ بتا سکتی ہوں نہ لکھ سکتی ہوں۔ وہ اب تک وارڈ میں پڑا ہوا ہے۔ اس کا کٹا ہوا پیر اس کی جوان امنگوں کا خون لیے درد سے تلملا رہا ہے۔
دوسرے دن راؤنڈ پر سب تھے، پروفیسر بھی، اسسٹنٹ پروفیسر بھی، سینئر رجسٹرار بھی اور رجسٹرار بھی، بڑی بڑی ڈگریوں کے ساتھ۔ میرا دل چاہا کہ میں چیخ چیخ کر کہوں کہ تم میں کوئی بھی ڈاکٹر نہیں ہے تم گدھ ہو، گدھ، اوپر منڈلاتے ہوئے زندگی کے ختم ہونے کے منتظر۔
کاریڈور میں شکیل کے ماں باپ اور بہن کھڑے تھے فق چہرے لیے ہوئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس عجیب سماج کا کیا اصول ہے۔ کیا روپیہ پیسہ ایک ایسی چیز ہے جو مذہبی عالموں سے لے کر ڈاکٹروں اور عدالتوں تک سب کو خرید لیتی ہے؟ یہ کیا چیز ہے جو باپ کو بیٹے سے بیوی کو شوہر سے، بھائی کو بہن سے اور پیر کو پنڈلی سے جدا کر دیتی ہے۔ عامر تم ایسے ڈاکٹر نہ بننا، تم ایسا کبھی بھی نہ کرنا۔ عامر ابی صحیح کہتے ہیں غریب سے بڑی تو کوئی گالی ہی نہیں ہے۔ یہ شکیل اگر غریب نہ ہوتا تو شاید ہسپتال میں بھی نہ آتا۔ اس ہسپتال میں نہ آتا شاید آج پورا ہوتا، اپنے دونوں پیروں کے ساتھ۔ اپنا خیال رکھنا، میں تو پاگل ہوں۔
تمہاری انجم
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


