درد کا رشتہ


کراچی 15 ستمبر 1982 ء
عامر

ہفتے گزر گئے تمہاری کوئی خبر نہیں ہے۔ کل تمہاری امی سے بات ہوئی تو کہنے لگیں کہ دو ہفتے پہلے ان کے پاس ایک مختصر سا خیریت نامہ تمہارا آیا تھا۔ عامر، تم کیا کر رہے ہو مجھے پریشانی سی ہو رہی ہے۔ جلد جواب دینا۔

میری ہاؤس جاب چل رہی ہے۔ بہت کام ہے اور بہت تھکن ہے۔ سرجری کے بعد میڈیسن میں جانا ہے۔ پتہ نہیں کس وارڈ میں جانا ہوگا۔ مجھے گانی نہیں کرنی ہے لہٰذا ادھر کا دھیان بھی نہیں ہے۔

تمہاری انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 5 اکتوبر 1982 ء
عامر
تمہاری کوئی خبر نہیں ہے۔

کل شام میں تمہارے گھر بھی گئی تھی۔ تمہاری امی سے بڑی باتیں ہوئیں۔ وہاں بھی تم نے مختصر سا خط لکھا ہے اپنی خیریت کا۔ مجھے خط کیوں نہیں لکھا ہے؟ کیا ناراض ہو، کیا بات بری لگی ہے۔ پلیز فون کرو یا خط لکھو۔

میں بہت پریشان ہوں۔ بہت دیر تک تمہاری امی اور چھوٹے بھائی سے تمہاری باتیں کرتی رہی۔ وہ مجھے بتا رہی تھیں کہ تم بچپن میں کیسے تھے، کیا کرتے تھے، کیسے روتے تھے، تمہارے اسکول کے قصے، تمہاری کالج کی باتیں۔ انہوں نے تمہاری زندگی کے ایک ایک لمحوں کو چن چن کر جیسے ایک تسبیح بنا رکھی ہے اور ہر ہر دانے کو کئی کئی بار پڑھا ہے۔ ہم دونوں عورتیں تمہارے بارے میں بہت دیر تک نہ جانے کیا کیا باتیں کرتے رہے اور الگ الگ نہ جانے کیا کیا سوچتے رہے اور تم دور، بہت دور، کیا کر رہے ہو گے، کچھ پتہ نہیں۔

جلدی جواب دینا عامر۔
تمہاری انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 2 نومبر 1982 ء
عامر

تمہاری امی کا فون آیا تھا کہ تم نے کوئی خط نہیں لکھا ہے۔ عامر تم ٹھیک تو ہو ناں؟ اگر مجھے نہیں لکھ رہے ہو تو اپنی امی کو تو لکھو۔ تمہاری خبر نہ آنے سے بڑی بے چینی ہے اور عجیب چڑچڑے پن کا شکر ہو کر رہ گئی ہوں، تم جہاں ہو جیسے بھی ہو اپنا خیال رکھنا۔

پلیز خط کا جواب تو دو۔
تمہاری انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 20 نومبر 1982 ء
عامر

تمہارا کوئی بھی خط نہیں آیا ہے۔ تمہاری امی سے خبر ملی کہ تم ٹھیک ہو مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ تم نے یکایک خط لکھنا کیوں بند کر دیا ہے۔ اگر ناراض ہو تو لکھو، کوئی بات بری لگی ہو تو بتاؤ۔ میرے تمہارے تعلقات ایسے تو نہیں ہیں کہ ایک دوسرے سے چھپیں۔ ایسی کیا بات ہے کہ تم خط بھی نہیں لکھ سکتے ہو۔ میں انجانے خوف کا شکار ہو کر رہ گئی ہوں۔

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر دل نہیں کرتا ہے۔ دل ڈرتا ہے۔
انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی یکم دسمبر 1982 ء
عامر

آج بڑی دیر تک فون پر تمہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ تمہارے ہسپتال کی آپریٹر بڑی اچھی تھی۔ اس نے بتایا کہ تمہارے پاس پیجر نہیں ہے اور تم اب ڈاکٹروں کے ریزیڈینس میں رہتے بھی نہیں ہو۔ وہ تمہیں میرا پیغام ضرور پہنچا دے گی۔

عامر میں تمہاری طرف سے ہر خبر سننے کے لیے تیار ہوں، میں کیا لکھوں کہ تمہاری امی بھی بڑی پریشان ہیں۔ اس کا تو تمہیں اندازہ ہوگا تم تو ویسے بھی مجھ سے زیادہ اچھے انسان ہو، زیادہ Caring ہو، تم خوب سمجھتے ہو۔ جو بھی لکھنا ہے لکھو۔ مگر خط کا جواب تو دو۔

منتظر انجم
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
کراچی 20 دسمبر 1982 ء
عامر

یہ شیوان کون ہے؟ مجھ سے کچھ چھپانا مت کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کل ڈاکٹرز کیفے ٹیریا کے سامنے نسیم سے ملاقات ہو گئی۔ وہ پرسوں ہی لندن سے دو ہفتوں کی چھٹی پر آیا ہے۔ میں نے اسے دیکھا تو لپک کر پہنچی کہ تمہاری خیریت پوچھوں۔ پہلے تو وہ گھبرا سا گیا مگر شاید جھوٹ کہہ نہ سکا۔ چائے پینے کے لیے ہم دونوں بیٹھے تو رک رک کر اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا۔ کاش جھوٹ ہی بول دیتا تو میری سبکی نہ ہوتی۔ میں اکیلے میں بہت روئی ہوں مگر دوسروں کے سامنے اپنے لیے کبھی آنسو نہیں بہائے ہیں۔

تمہاری وجہ سے یہ بھی ہو گیا اور بے قرار آنسو بے اختیار ٹپک پڑے۔ بے چارے نسیم نے بھی کیا سوچا ہوگا۔ اس نے بتایا کہ تم تقریباً سال بھر سے کسی نرس شیوان کے ساتھ رہ رہے ہو۔ ہسپتال میں تم بہت اچھا کام کر رہے ہو، سب تمہیں چاہتے ہیں اور تمہیں پارٹ ٹو کے بعد کنسلٹنٹ کی جاب بھی مل جائے گی اور آخر میں یہ کہ تم نے اب نہ آنے کا فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں تمہیں اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا ہے کیونکہ بے ایمان اور کرپٹ لوگوں میں تم کام نہیں کر سکتے ہو۔

میرا دل چاہا کہ نسیم سے پوچھوں ”نسیم اس شیوان میں ایسی کیا بات ہے کہ جو مجھ میں نہیں ہے کہ برسوں کے یہ وعدے، قربتیں، چاہتیں تم سب کچھ بھول گئے اور اب کچھ بھی یاد نہیں ہے، لیکن ہمت نہیں ہوتی۔ تھوڑی دیر میں وہ خود ہی بولا“ انجم، مجھے پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا ہے۔ مجھے تم دونوں کے بارے میں بہت زمانے سے پتہ تھا۔ تمہارا اور اس لڑکی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے لیکن عامر کی حرکتیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ تمہارا اور اس کا بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میں بہت سی باتیں بتا نہیں سکتا ہوں۔ لیکن انجم اسے بھول جاؤ تو اچھا ہے۔

کتنے بے رحم الفاظ تھے یہ۔ تم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے ہو، عامر میں تم کو بھول جاؤں گی جیسے بہت ساری باتیں بھول چکی ہوں، لیکن یہ شکایت کا حق تو ہے مجھے کہ تم جو بڑے صاف گو تھے۔ جماعتیوں سے زیادہ ایماندار، ہمیشہ سچائی اور انقلاب کی باتیں کرنے والے، تم نے مجھے یہ سب کچھ خود ہی کیوں نہیں بتا دیا۔ میں سن لیتی، سمجھ لیتی، برداشت کر لیتی، شکایت تو نہ کرتی۔ جیسے بھی ہو، جہاں بھی ہو خوش رہو۔

انجم
کراچی 8 جنوری 1983 ء
٭٭٭٭ ٭٭٭٭
عامر

یہ میرا آخری خط ہے۔ آج کے بعد تمہیں کبھی بھی کوئی خط نہ لکھوں گی اور نہ میں تمہارا کوئی خط پڑھوں گی۔

تم نے فون پر جو کچھ کہا، وہ عجیب باتیں ہیں، وہ کسی ایماندار انسان کا لہجہ نہیں تھا۔ ایک ڈرپوک، بزدل اور کھوئے ہوئے آدمی کی باتیں تھیں۔ تم نے مجھ سے جو بددیانتی کی ہے، وہ تو کی ہی ہے مگر جو بے ایمانی اور بددیانتی اپنی ماں سے کی ہے، اس کا مجھے جب خیال آتا ہے تو تم اندازہ نہیں لگا سکتے ہو کہ مجھے کتنا غصہ آتا ہے۔ تمہارے جیسے بچے نہ ہی ہوں تو اچھا ہے۔ ایک غریب عورت جس نے زندگی کے ایک ایک پل میں تمہارے نام کی مالا جپی ہے، جس نے تمہاری خوشی کے لیے اس سماج کے اندھے اصولوں کو اپنایا، اپنی جوانی کے دن اور رات میں تمہارے لیے سہانے مستقبل کے خٖواب دیکھتی رہی، اس کو بھی تم چھوڑ رہے ہو۔

شیوان بہت اچھی ہوگی لیکن تم قیمت بہت بڑی دے رہے ہو دوست۔ مجھے افسوس تمہاری ماں پر نہیں ہے نہ ہی میں ان پر رحم کی نظر ڈال رہی ہوں۔ افسوس تم پر ہے اور رحم کے قابل بھی تم ہو۔ اور افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ تم ان کے بیٹے ہو، افسوس اس بات کا ہے کہ وہ تمہاری ماں ہیں۔ میں تو جو بھی دل میں ہے کہہ دوں گی۔ ایک سہانے خٖواب کی طرح اس پورے لمحے کو بھول جاؤں گی۔ مگر وہ ہر جگہ، ہر وقت تمہارا دفاع کریں گی، تمہارے لیے روئیں گی۔ تمہیں برا نہیں کہیں گی، شیوان کو کہیں گی، تم ایسی ماں تو Deserve نہیں کرتے ہو۔ قدرت نے ان کے دامن میں غم بھرے مگر ساتھ میں تمہیں اپنانے کی کیا ضرورت تھی۔ اوپر والے کی یہ حکمت بھی عجیب ہے۔

تمہارے اس احسان کا شکریہ کہ تم میرے خط مجھے لوٹا دوگے۔ مجھے ان خطوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے نہ ہی وہ خط ایسے ہیں جن پر میں شرمندہ ہوں گی اور نہ ہی ایسے ہیں کہ کوئی ان خطوں کے توسط سے مجھے بلیک میل کرے گا۔ میرے تمام خط ایک اعتماد کی کہانی ہیں، ایک اعتبار کا اظہار ہیں، ان لمحوں کی کہانی ہیں جو ایک خیال، ایک تصور، ایک امید سے وابستہ ہیں۔ میری زندگی کے چند ضروری اوراق میں جو چھپانے کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی میں ان پر شرمسار ہوں کیونکہ میں نے کسی کے اعتماد کو دھوکہ نہیں دیا ہے، کوئی جھوٹ نہیں بولا ہے۔

اگر کسی کو شرمسار ہونے کی ضرورت ہے، تو وہ تم ہو۔ آج کے بعد تم سے تمام تعلق ختم۔
انجم

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4