ڈی آئی جی کی محبوبہ (9)
آٹھویں قسط کا آخری حصہ
حضرت رفاقت کے لیے بہت بے تاب تھے. لاہور میں قیام کا پوچھ رہے تھے. بینو کو بڑی الجھن ہوئی. کسی مرد سے یوں سر راہ بے تکلف ہونے کا پہلا موقع تھا. اس وجہ سے اس نے اپنا نام بھی غلط یعنی نینا عباسی بتایا. نمبر مانگنے پر کہا. ان کا نمبر کارڈ پر موجود ہے. وہ کال سپل برگ گی. شاید کھانے پر مزید گفتگو ہو. بھلے سے معروف و مصروف اداکار تھے مگر بینو کو پیشکش کی کہ ان کے لیے لنچ، ناشتہ، رات کا کھانا، لیٹ نائٹ ڈرائیو کا کوئی ایشو نہیں. مزید دانہ یہ کہہ کر ڈالا کہ اداکاری میں نام ہوگا تو شہرت کی یہ کنجی ماڈلنگ کے راستے دولت کے دروازے کھول دے گی. بتانے لگے کہ ان کے پچھلے ڈرامے کی ہیروئن نے بسکٹ اور دھلائی پاؤڈر کے اشتہارات سے ہی رواں سیزن میں تین کروڑ روپیہ کمایا. بینو چونکہ دس کروڑ روپے اپنے ہاتھ سے ایک بکس سے دوسرے بکس میں منتقل کرچکی تھی اس لیے اسے تین کروڑ کچھ زیادہ نہ لگے. اس نے سوچا وہ ٹیپو کو ضرور بتائے گی کہ ایک تم ہی نہیں تنہا، الفت میں میری رسوا. اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
*** ***
ائرپورٹ پر ٹیپو اس کے سواگت کے لیے موجود تھے. مگر احتیاط و اجتناب کے ساتھ.
اس نے انہیں دیکھا تو وفور مسرت سے اس کا دل چاہا کہ چیخ کر ان سے لپٹ جائے. ہدایت کے عین مطابق انہیں دیکھ کر بینو نے بڑے اہتمام سے بیگ میں سے عبایہ نکال کر پہن لیا. یہ اشارہ تھا کہ اس نے انہیں دیکھ لیا ہے. جب اس کا سوٹ کیس کنویر بیلٹ پر آ گیا تو وہ اسے ٹرالی پر رکھ کر باہر آ گئی.
ٹیپو اس کے آگے پیچھے ہو کر نظر رکھ کے چل رہے تھے. طے شدہ ہدایات کے بموجب سفید شلوار قمیص اور جامنی واسکٹ والا ڈرائیور جیپ کے سامنے ہی کھڑا تھا. یہ وہی سیاہ رنگ کی جیپ تھی جو بینو کے گھرانے کو پہلی دفعہ ظہیر سمیت لاہور میں لے کر گھومی تھی. ایک کمال احتیاط سے آزمودہ کار بیگمات کے اسٹائل میں بینو ایک رکھ رکھاؤ سے جیپ میں بیٹھ گئی. کچھ دور چل کر ڈرائیور نے ایک ویران مقام پر جیپ روکی تو اس کے پیچھے ایک چھوٹی جیپ آن کر رک گئی یوں ٹیپو نے اپنی والی جیپ اس ڈرائیور کو دے دی اور اس کے والی جیپ کے اسٹیرنگ پر آن کر بیٹھ گئے اور بینو اگلی نشست.
طے ہوا کہ اسلام آباد سے وہ سیدھے ایبٹ آباد کے علاقے ڈونگا گلی چلے جائیں گے وہاں کسی دوست کا بنگلہ ہے، نتھیا گلی بھوربن، مری وہ اسے خود ہی لے جا کر دکھا دے گا مگر قیام ڈونگا گلی میں ہی رہے گا.
راستے میں رک کر ناشتہ کیا اور پانچ گھنٹے میں وہ اسلام آباد پہنچ گئے. وہاں سے آگے ڈونگا گلی کا راستہ بہت حسین تھا. مناظر فطرت کی ہماہمی میں ایک پچھتاوا بینو کے دل میں بس گیا. اسے لگا کہ اس نے ظہیر سے شادی کر کے غلطی کی ہے. اس کے لیے بہترین رشتہ ضویا کے چھوٹے ماموں اور سیاست کار و عہدے دار روحیل ڈاہا کا تھا. وہ اس دنیائے عیش و عشرت کی باسی تھی نہ کہ پولیس لائن ملتان سے جڑے سرکاری اسکول کی استانی والی زندگی اس کا مقدر تھی.
بینو کو ناچنے اور گانے دونوں کا شوق تھا. جیسے بدن لچکیلا اور تال ترنگ کا متوالا تھا ویسے ہی آواز میں تربوز جیسا رسیلا پن تھا گو سر کا بہت گیان نہ تھا لیکن لے بخوبی نبھا لیتی تھی. ٹیپو بھی کوئی مدن موہن یا آر ڈی برمن تو تھے نہیں. بس لطف و کرم کے سلسلے تھے. رفاقت کے کئی باب بہ یک وقت کھلے ہوئے تھے. ٹیپو کہنے لگے کہ وہ راستے میں میوزک اس لیے نہیں بجا رہے کہ وہ ان کے کاندھے پر سر رکھ کر گنگناتی رہے.
تین گھنٹے تک ڈونگا گلی میں وہ اپنے مہمان خانے پہنچ گئے. برف باری کی وجہ سے اس مقام پر سیاح کم تھے. جو تھے وہ بہت خاص قسم کے آسودہ حال. ایک صاحب جو ایک خاتون کا ہاتھ تھامے انہیں اپنے مہمان خانے کے قریب سے گزرتے دکھائی دیے ان پر ٹیپو ایک شبہ ہوا کہ انہیں کہیں دیکھا ہے مگر چونکہ جیپ کو پارک کرنے میں دھیان تھا اور اس دوران وہ عورت مرد بھی کہیں دوسری طرف نکل گئے لہذا بات آئی گئی سی ہو گئی. بینو کے ساتھ لمحات وصل میں ان کا خیال تک نہ آیا.
بنگلہ بہت پر تعیش تھا. سجاوٹ عملہ سب ہی لاجواب. راستے میں ایک آدھ مرتبہ اسے کچھ دیر کو نیند کا جھونکا بھی آیا. ٹیپو نے بتایا کہ اس موسم میں اس طرف لوگ کم ہی آتے ہیں. اس نے پوچھ لیا کہ اس کے سب دوستوں کے گھر اتنے اچھے اور مہمانوں کے لیے اس قدر کشادہ دل کیوں ہیں تو وہ کہنے لگا مالدار آدمیوں کو طاقتور افسران کو پالنے کا بہت شوق ہوتا ہے. یہ جن سیاست دان کا بنگلہ ہے. ان کی سیاست میں آمد ٹیپو کی وجہ سے ممکن ہوئی. یہ وہی خاندان ہے جن کا لاہور میں بھی بنگلہ اور جیپ ہے.
کاروبار سیاست مال سب ہی ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں. اربن سرداری سسٹم. سو ہر وقت کے احسان مند ہیں. یہ تو بہت چھوٹا فیور ہے. اس نے پوچھا کہ نام کیا ہے تو کہنے لگے اس وقت صوبائی وزیر ہیں. بینو کو ڈر لگا کہ کہیں یہ روحیل ڈاہا کا تو نہیں مگر کریدنے پر معلوم ہوا ان کا تعلق فیصل آباد سے ہے.
بینو کو لگا کہ کک اور وہاں موجود کئیر ٹیکر کو ان کی آمد کا وقت شاید پہلے سے معلوم تھا. جلدی سے کھانا لگا اور کھانا کھا کر وہ جب بستر میں گھسے تو اسے پہلے دفعہ مرد کے سمندر جیسے سینے کی خوشبو اور تحفظ کا احساس ہوا. ٹیپو نے اس کی کمر سہلانا شروع کی تو رات بھر کی جاگی بینو پل بھر میں سو گئی.
چار بجے سہ پہر کو اٹھی. حضرت مزے سے کمرے کے باہر ٹریس سے لگی ریلنگ پر پیر جمائے سگریٹ انگلی میں دبائے جام لگا رہے تھے مگر جام میں ٹی بیگ دیکھ کر اسے حیرت ہوئی. معلوم ہوا کہ اس کا نام Hot Toddy ہے. وہسکی یا رم میں شہد، برانڈی، گرم پانی، لیموں اور چائے ڈال کر پیو تو سرور قریب اور سردی دور چلی جاتی ہے. ٹیپو کے کہنے پر اس نے ان کی گود میں بیٹھ گلے میں بانہیں ڈال ایک دو گھونٹ جام کے بھی لیے اور سگریٹ بھی پیا.
سر شام دونوں نہا دھو کر سیر کو نکل گئے. رخصت ہوتے ہوئے سورج کی ہلکی سی دھوپ پھیلی تھی. دلہن کے زرتاج دوپٹے جیسی. چند جوڑے اور بھی گھومنے نکلے تھے. سب ہی تصویریں کھینچ رہے تھے. ایک جوڑے کو دیکھ کر ٹیپو جز بز ہوئے. اس کا ہاتھ پکڑ کر دوسری جلدی سے دوسری طرف نکل گئے. ایسا لگا جیسے چھپ رہے ہوں. جتنی جلدی انہوں نے بینو کو گھسیٹ کر ایک طرف کھینچا وہ ڈر ہی گئی کہ سانپ تو نہیں. ٹیپو نے بتایا کہ سانپ بچھو سردی میں سطح زمین پر نہیں ہوتے، وہ اس موسم میں hibernate کر رہے ہوتے ہیں. اس نے مزید کچھ نہیں پوچھا اور انہوں نے بھی نہیں بتایا گو اسے لگا کہ جن مناظر کی وہ تصویر لے رہے تھے شاید اس کے فریم میں یہ دونوں بھی آ گئے خاص طور پر اس لمحے جب وہ ان کی گود میں پر سر رکھے لیٹی تھی. فوٹو لینے والا جوڑا ان سے اونچائی پر تھا. دوسری طرف تھا. اسے اپنی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا لہذا وہ چپ رہی اور ٹیپو کی تو ساری دلداریاں تھیں ہی دہشت گردوں کے ساتھ. سو یہ سوچنا کہ ان سے کوئی چھیڑ خانی کر سکتا ہے. اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا. اتفاق کی بات یہ بھی ہوئی کہ یہی جوڑا انہیں ایوبیہ میں بھی چئیر لفٹ کے پاس بھی دکھائی دیا. ٹیپو نے اسے ایوبیہ، نتھیا گلی، بھوربن، مری، ایبٹ آباد سب ہی کی سیر کرائی. ڈونگا گلی میں پائپ لائن ٹریک اور مشک پوری ٹاپ اسے بہت اچھے لگے
کینیڈا میں وہ سوچتی ہے تو بینو کو یہ چھ دن سات راتیں اپنی زندگی کا سب سے بہترین عرصہ لگتا ہے. یہ بھی خیال آتا ہے کہ ہر لڑکی اسی لیے اپنے بہترین دنوں کے خواب اپنی شادی کے ایام سے جوڑ لیتی ہے. جب کہ جینے کے مواقع ہر وقت ملتے ہیں. بینو نے اپنی بے باکی کے سو جواز ڈھونڈ لیے. ان ہی جگہوں پر وہ جسم و جاں کے نئے رشتوں سے آشنا ہوئی. ٹیپو نے اسے بہت پیار سے برتا.
تیسری یا چوتھی رات جب ان کی وحشت وصال نے کچھ دم پکڑا تو بینو پوچھ لیا کہ اتنا اودھم مچاتے ہیں. خان بادشاہ، میرے سلمان خان، میرے شاہ رخ خان، احتیاط نہیں کرتے میں ماں بن گئی تو کیا ہوگا. جام اس کے ہونٹوں سے لگا کر، چھاتی پر ہات مار اسے بانہوں میں بھر کر کہنے لگے "شیشہ نہیں فولاد ہیں ہم پختونوں کی اولاد ہیں” . انداز گرفت میں خاصی اتراہٹ اور ہوس کا غلبہ تھا. یہ بھی ادراک تھا کہ اب کی دفعہ زیر تسلط آنے والی عورت کنواری ہے، تعلیم یافتہ، خوش پوش اور کسی دوسرے سے چرائی ہوئی ٹرافی ہے. اسی لیے فرمانے لگے "چھوری تجھے ڈر کس بات کا ہے. بچے کا? تو یاد رکھو تم ماں نہیں بنو گی میں باپ بنوں گا. بینو بیگم خاکسار نے اپنی بیوی سے بھی دل سے محبت کی. جوانی کی بھول. جس کا ہر طرح کا پچھتاوا ہے. میری غیرت و حمیت دیکھو زیرو سیکس اور ایسے سڑیل مزاج کے باوجود نبھا رہا ہوں. تم میری آخری محبت ہو. میرا ایمان، میری جان ہو تم. بچہ تو دور کی بات ہے اگر تمہاری دوسری ناک بھی نکل آئے تو میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی”.
ان دونوں کا بیٹا زونی، اسی عرصۂ لطف و غیبت ازدواجی کے دوران جو ڈونگا گلی میں گزرا، وہیں بینو کے پیٹ میں آیا. پیدا کینیڈا میں ہوا. اس نے ظہیر کو بتا دیا کہ شادی کی رات وہ بطور دلہن ٹوانہ صاحب کے پاس رہی تھی.
وہ یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جس کی تصدیق کی ہمت ظہیر کے اندر موجود نہیں. وہ چاہے بھی تو اس کی لاکھ کھوج رکھتے ہوئے بھی اس بات کو اپنے باس محمود ٹوانہ ڈی آئی جی سے جنہیں وہ کینیڈا میں بھی ڈی آئی جی صاحب ہی کے سرکاری عہدے کے حوالے سے ریفر کرتا ہے. ان سے اس بارے میں کچھ پوچھ گچھ نہیں کر سکتا. لگے ہاتوں اس نے یہ بھی جھوٹ باندھ دیا کہ وہ ہر ہفتے اس کے ڈی آئی جی صاحب کے خفیہ ٹھکانوں پر لاہور میں ان کے پاس ہوتی تھی. نکاح ثانی اسی کی رضا سے ہوا تھا سو میاں بیوی والے معاملات تقریباً ایسی ہر رات کا قصہ ہیں. انہوں نے مجھے رات بھر اپنے پاس دعائے قنوت اور درس نظامی سیکھنے کے لیے نہیں رکھا ہوتا تھا. اس معاملے میں مزید گفتگو تعلقات میں دونوں طرف تلخی اور رسوائی کا باعث ہوگی. اس نے جان لیا ہے کہ اس رشتے میں اب وہ ظہیر پر مکمل طور پر حاوی ہے.
ویسے تو دھیمے مزاج کا ہے مگر جانے کیوں اس دن تھوڑا اتھرا (پنجابی اودھم مچانا) ہو گیا.
عدالت لگا کر بیٹھ گیا کہ یہ بچہ کہاں سے آیا? کس کا ہے? بینو نے بہت سکون سے جواب دیا
دو مردوں کے حوالے کر کے اپنے باس کی بدکاریوں میں معاونت کے لیے کینیڈا بھاگ آنے سے پہلے کیوں نہیں پوچھا کہ اس کا باپ باپ کون کون بن سکتا ہے. ٹوانہ جی کو نکاح کی اجازت کس نے دی. اس لپک جھپک میں اس نے پوچھ لیا کہ کیا وہ اتنی بری تھی کہ وہ اپنی سب سے سندر کزن کو اس طرح ہیرا منڈی کے دلال کی طرح اس کینیڈا کی دو کوڑی کی زندگی کے لیے سونپ کر بھاگ لیتا. اس موقع پر وہ پہلی دفعہ رویا بھی. لگا کہ اندر سے ریزہ ریزہ ہو گیا ہے. پیر بھی چومے. بینو جانتی ہے غیرت کی لکیر اگر کوئی مرد ایک دفعہ پھلانگ لے تو باقی سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے. مانو جیسے دیس کا بٹوارہ ہو گیا. حمیت اور بے غیرتی کے دو دیس بن گئے نئی راجدھانی اور نئی لائن آف کنٹرول بن گئی. اب واپس جا کر پیچھے چھوڑا ہوا ترکہ واپس لانا ناممکن ہے.
اسی نوحہ خوانی میں اس نے ظہیر کو بتا دیا کہ ٹوانہ صاحب نے ظہیر سے طلاق کی سند عدالت سے بنوا لی تھی. اس لیے زونی کی ولدیت میں ظہیر کا نام ہے. یہ ان کی مہربانی ہے کہ وہ بینو جیسی دلربا عورت کو اپنی بیوی ہوتے ہوئے بھی ایک اے ایس آئی ماتحت کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں. ظہیر کو شک ہوا کہ اس کی نامردی کا علم اس کے باس کو بھی ہو چکا ہے جس پر اس نے شدید احتجاج کیا تو بینو نے اسی قاتلانہ Chill کا مظاہرہ کر کے جواب دیا کہ اگر تم کو بستر میں کنواری عورت کو برتنا نہیں آتا تو تمہیں اتنا تو معلوم ہوگا کہ تمہارے باس ڈکیت ڈی آئی جی ٹوانہ کی تو ہر رات کسی نہ کسی عورت کے ساتھ گزرتی تھی. وہ جو تمہارے ساتھ عورتوں کی تصاویر ہیں اس کا میں کیا مطلب نکالوں. تمہارے لیے مجھ میں کوئی لبھاؤ یا تحریک نہ تھی یا وہ عورتیں تم بطور سرکاری کنجر لاتے لے جاتے تھے. ظہیر اسے تھپڑ مارنے کے لیے کھڑا ہوا تو بینو کہا بیٹھ جاؤ ورنہ کینیڈا میں باقی زندگی جیل میں گزرے گی. یہ وہاڑی نہیں کہ زنانی کٹ کے مرد بنو. ظہیر کو ایسا لگا کہ کسی نے اس کے غصے اور جرات کے سلگتے انگاروں پر برف کا پانی ڈال دیا ہے.
ظہیر نے چند دن بعد ایک آدھ دفعہ مذاق میں کہا بھی کہ بیٹا بھلے ٹوانہ جی کا سہی مگر عادات اور شکل و صورت بالکل ٹیپو صاحب جیسی ہیں. اس پر بینو نے کہا خود تو یہاں بھی لاہور والیوں کی طرح گوریوں کے ساتھ گل چھڑے اڑاتا تھا اور مجھے اپنے بڑے افسروں کے حوالے کر کے دوڑ گیا. زونی آپ جیسا ہے کہ ٹوانہ جی جیسا کہ ٹیپو جیسا. مجھے اس کی چنتا نہیں مگر کان کھول کر ایک دفعہ اور آخری دفعہ سن لو زونی صرف میرا بیٹا ہے. اسے میں نے صرف تمہیں سوچ کر Conceive کیا اور اپنا خون پلا کر پیدا کیا ہے تم کو یا ٹوانہ کو کوئی اعتراض ہے تو مجھے چھوڑ دو.
یہ سب سن کر ظہیر برگ لرزاں بن گیا. ذونی کا قد اپنے باپ جیسا دراز، بدن مضبوط، توجہ بھر پور، ہے ویسی ہی خود اعتمادی اور ایک مردانہ لاتعلقی ہے. ماں کا دیوانہ ہے. ٹوانہ جی اور ظہیر کو زیادہ لفٹ نہیں دیتا. دنیا میں کوئی کچھ بھی کہے، بینو کو پتہ ہے کہ ٹیپو سے جنسی تعلق کی پہلی رات ہی وہ ماں بنی تھی.
آئیں، کینیڈا کا درمیان میں آنے والا ذکر چھوڑ واپس ایبٹ آباد کی ڈونگا گلی چلیں.
ڈونگا گلی کا ذکر تھا جہاں بینو کے نمبر پر دو تین دفعہ فون بھی آئے چونکہ ٹیپو کی ہدایت تھی کہ فون نہیں سننا لہذا وہ گھنٹی بجتے ہی سائیلنٹ پر کر دیتی تھی. ایک پیغام بھی تھا پلیز کال ظہیر باس. اس نے اسے بھی اگنور کیا.
ظہیر سے اس کا رابطہ وہاڑی پہنچ کر ہوا. اس کے فون کے بعد ابو کے فون پر ٹوانہ صاحب کا فون آیا. جس رات بہت برسات اور سردی تھی ٹیپو بھی وہاڑی آئے. بینو نے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ وہ آرہے ہیں. ابو کی ضد تھی کہ وہ انہیں کے گھر ٹھہریں. امی کو مادرانہ چھٹی حس کے تحت البتہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کراچی سے واپسی پر جو یہ ایک چھوٹا سا ہفتے دس دن کا عرصہ غیبت ہے. یہ بینو نے یقیناً ٹیپو کے ساتھ گزارا ہے. وہ شاید اس کی ٹائمنگ پر حیران ہو کر اپنی صاحبزادی کو دل ہی دل میں داد بھی دیتی ہوں کہ ظہیر کے جاتے ہی بغیر وقت ضائع کیے وہ کتنی جلدی ٹیپو سے جڑ گئی ہے.
بینو کی والدہ معاملہ فہم عورت ہیں. بیٹی کی اپنی میاں سے بے وفائی کی تفصیلات سے آگہی و فہم کی بنیاد پر جان گئیں تھیں کہ ظہیر بھلے اپنا سگا بھتیجا ہی سہی مگر بیٹی کے معاملے میں بن تیل کا تل نکلا تھا. عورت کب تک صبر کرے. پیٹ روٹی مگر دل بھی تو پیار مانگتا ہے. بینو نے محفوظ راستہ چنا ہے. مرد بھی اچھا ہے. بچے وچے کا چکر چلا تو سب کچھ انڈر کنٹرول ہو گا. اب ہم اس قصے کو سمیٹ لیں تو مناسب رہے گا. بینو ایک دو دفعہ ابو اور ٹیپو کے ساتھ لاہور بھی گئی. ٹھہری بھی ان کے پرانے والے ٹھکانے پر ہی. ابو کو نیند کی گولی کی خوراک بڑھا کر سلا دیا اور خود ٹیپو کے پاس سوئی.
لاہور کی پے در پے آوک جاوک میں بینو اور اس کے ابو کی ملاقات ٹوانہ جی سے ہوئی. ٹوانہ جی نے یہ طریقہ کار اختیار کیا ہے کہ اسے براہ راست کوئی ہدایات دینے کی بجائے اس کے والد کے ذریعے تمام معاملات کو سرانجام دیتے ہیں. اس کو انگریزی میں وہ Path of Least Friction کہتے ہیں. (کم از کم مخاصمت کی شاہراہ)
موساد اور سی آئی اے دشمن ممالک میں موجود اپنے ایجنٹوں کو نفسیاتی طور حربے کے طور پر یہ سکھاتے ہیں کہ ہر معاملے میں Path of Least Friction اختیار کی جائے. ایسی کوئی صورت حال اگر پیش آئے کہ واردات ڈالنے کے بعد شواہد کا ڈھیر لگا ہو تو مقامی ایجنٹوں کی Mop Up Teams اس کو سرعت سے ضائع کریں تاکہ سین آف کرائم سے جرم کے ارتکاب کا پتہ نہ چلے. بے نظیر کی راولپنڈی میں شہادت کے بعد آپ کو تو یاد ہی ہو گا کہ مختلف ٹیمیں کیسے موقع کی دھلائی میں لگ گئی تھیں جیسے ریپ کے بعد عورت کو اس گھناؤنے فعل کی غلاظت سے باہر آنے کے لیے غسل کی سوجھتی ہے.
ابو ہی کی ہدایت پر وہ ٹوانہ جی کے ایک افسر بکار خاص کے ساتھ نادرہ دفتر اور پاسپورٹ آفس بھی گئی. ظہیر سے اپنی طلاق کی سند، ٹوانہ جی سے شادی کا ایک نیا جعلی نکاح نامہ اور اسی کی روشنی میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا لیا. بینو کا ٹوانہ جی سے نکاح کسی بنگلے پر ہوا. تصویروں کی خاطر اسے باقاعدہ دلہن بننا پڑا.
سہاگ رات چونکہ طے شدہ منصوبے کے تحت ٹیپو کے مقدر میں تھی لہذا ٹوانہ صاحب کے اکاؤنٹ میں وہ ایک بہترین سے پارلر نئی نویلی دلہن کے طور پر سجی. ہار پھول سب ہی کچھ ہوا. گواہ میں ابو اور ٹوانہ کے جاننے والے دو سپاہی تھے. ٹوانہ صاحب کمرے میں کچھ دیر رہے بھی. ہات تھاما، گلے بھی لگایا، کافی دیر تک چوما بھی. بینو سوچا ان بوسوں سے سوائے لپ اسٹک کے اس کا نقصان کچھ نہیں. ظہیر کے باس تھے. اتنا تو اس سازش میں ان کا حق بنتا تھا۔
ڈرامے باز بینو نے بانہوں میں سمٹ کر پوچھا. ٹوانہ جی آپ کو تو قانون پڑھایا بھی جاتا ہے اور آپ کی روزی روٹی بھی قانون کی پاس داری سے آتی ہے. ایک دفعہ اس نے اپنے اللہ والے لاکٹ پر ان کا باہر چھلکتے آدھے سے زیادہ عریاں سینے پر ہات رکھوا کر کر پوچھا بس اتنا بتا دیں. میں بیوی کس کی ہوں. اس میل ملاپ سے جو بچہ ہو گا اسے میں بن باپ کا وجود مانوں. آپ ٹیسٹ کرا لیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا میری کوکھ اس وقت بچے کی نعمت سے محروم ہے.
کہنے لگے "رب کی قسم لی ہے تم بھروسا رکھو بینو بیگم، یہاں یا کینیڈا. تم بھی میری ہو، تمہارے بچے بھی میرے نام سے موسوم ہوں گے.
سلامی میں دس لاکھ نقد اور ہیرے کی ایک انگوٹھی بھی دی. جب زیادہ جذباتی ہونے لگے تو بینو بس بس کہہ کر
Not in day time . Not so soon
Let me come to term with this strange relationship..
My nikah is fake but groom is horny and real
ٹوانہ صاحب کو جملہ بہت اچھا لگا تو مزید چوم کر پانچ ہزار روپے انعام برائے خوش گفتاری یہ کہہ کر دیے کہ جس طرح پانچ نمبر صفائی کے ویسے یہ پانچ ہزار My nikah is fake but groom is horny and real. والے جملے کے جس کا مطلب یہ تھا کہ نکاح بھلے سے جعلی سہی مگر دولہا میاں اصلی اور بھرپور ہیں. بینو جب ان کی آغوش سے علیحدہ ہوئی تو انہوں نے یقین دلانے کے لیے وضاحت کی کینیڈا کی شہریت کے لیے یہ سب ہونا لازم تھا. ظہیر کو میں نے بتادیا تھا۔ کینیڈا میں شہریت دینے سے پہلے خفیہ تحقیقات بہت ہوتی ہیں. زیادہ تر رات کو وہ لوگ چیک کرنے آتے ہیں کہ جعلی پیپر میرج ہے کہ اصل میں میاں بیوی والا رشتہ ہے. سو بینو کو میرے پاس میرے کمرے میں بیوی کے انداز لباس میں رہنا ہوگا. اس نے کہا تھا مجھے سر آپ پر پورا وشواش ہے. کینیڈا میں ایک دفعہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا.
بینو نے کہا، "کینیڈا میں وہاں کا قانون چلے گا. پاکستان میں پاکستان کا. سو صاحب ہاتھ نہ لگائیے، پاس نہیں آئیے، کیجئے نظارہ دور دور سے” . وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے اور کہنے لگے ہم اکیڈیمی میں ایک شعر پڑھا کرتے تھے کہ
سب حسن تمہارا بے قیمت، گر داد نہ ہم سے پاؤ گی
تمہیں راہ پر اک دن آنا ہے، تم راہ پر ایک دن آؤ گی
بینو شعر سن کر فوراً ان کے گلے لگی اور آہستہ سے کہا
"صاحب آپ کے پولیس مقابلے سے نہیں، آپ کے پیار سے ڈر لگتا ہے” .
ٹوانہ صاحب نے بھی تماش بینوں کے انداز میں اللہ مار ڈالا کہا اور
اسے پانچ ہزار کا دوسرا نوٹ یہ کہہ کر دیا کہ جاؤ ورنہ تمہاری خوش گفتاری اور جملے بازی کی نذر ہو کر میری ڈی آئی جی والی پتلون بھی بک جائے گی.
بینو نے اپنے ابو کو تو ٹوانہ صاحب والی گاڑی میں یہ کہہ کر واپس وہاڑی بھیج دیا کہ ٹوانہ صاحب کے ساتھ صبح کینیڈا کے لیے کپڑے لینے ہیں. وہاں بہت سردی ہوتی ہے. وہ رخصت ہوئے تو خود ٹیپو کے ساتھ اسی بنگلے پر شب عروسی گزار کر اگلی صبح وہاڑی واپس لوٹ گئی.
ظہیر نے اس اثنا میں وہاں وینکور میں گھر لے لیا. تصویروں میں اچھا لگا. بینو کی مرضی تھی کہ وہ بتا دے کہ وہ ٹوانہ صاحب کے ساتھ شادی کے نتیجے میں حاملہ ہو چلی ہے. اس کی امی نے مگر اسے سختی سے روک دیا. ظہیر کینیڈا میں تھا. اس سے یہ بعید نہ تھا کہ وہ یہ سن کر اتنی بڑی رقم سمیت کہیں اور سرک لیتا. مرد کا کیا بھروسا. وہاں عورتوں کی کیا کمی. کوئی سکھنی، گوری کالی، چینی اتنی رقم اور ایسا شریف النفس مرد دیکھ کر کب انکار کرتی. بینو اور اس کی امی کو ظہیر-ٹوانہ اعلی سطحی میثاق مفاہمت کا اندازہ نہ تھا جس کی روشنی میں ٹوانہ جی نے بینو کو بطور بیوی برتنے کا معاہدہ کر لیا تھا.
بینو نے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وینکور پلان پر عمل درآمد اس کی ہدایات کے عین موجب جاری ہے اس نے ٹوانہ سے نکاح کی دو تصاویر یہ لکھ کر ای میل سے بھیج دی تھیں کہ
تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
جان بہت شرمندہ ہیں
اللہ مار ڈالا
کم حرفی ظہیر نے اس کے جواب میں صرف اتنا لکھا تھا. تصویر کو سچ مان لیں تو میڈیا کی خبر سب سے بڑا سچ ہو گی. یوں بھی وہ اسے کہتا رہتا تھا کہ اصل خبر وہ نہیں جو دکھائی جا رہی ہے. اصل خبر وہ ہے جو ناظرین سے چھپائی جا رہی ہے۔
بینو کی مرضی تھی کہ وہ ٹوانہ صاحب کے سر منڈھ کر ان کے بچے کی ماں بننے کی خبر ظہیر کو بتا دے. حالات کا یہ جبر بھی خوب ہے کہ تینوں مردوں کو جو اس کے بدن پر تسلط کے دعوے دار ہیں انہیں اس کے ماں بننے کی کوئی خبر نہیں. امی نے اسے سمجھایا کہ جب بچے کی ولدیت کا سوال ظہیر کے باس اور اس کے
Conjugal Partner کے حوالے سے سامنے آئے گا تو اس کی پوزیشن قانوناً زیادہ مستحکم ہوگی. ظہیر بزدل آدمی ہے، Bloody Wimp۔
بینو کو حیرت ہوئی کہ کمزور، نامرد، دلال قسم کے مرد کے لیے اس کی والدہ نے انگریزی کی یہ اصطلاح کہاں سے اچکی ہے. پتہ چلا ہندوستان کی کسی ویب سیریز میں استعمال ہوئی تھی. وہ کہہ رہی تھیں کہ اس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اسے چھوڑ دے. ظہیر ایسا کرے تو ایسی صورت میں وہ قانوناً ٹوانہ صاحب کو قابو کر سکتی ہے. کینیڈا تو یوں بھی اس کی آمد ان کی منکوحہ کی حیثیت سے ہوئی ہے. اس کے پاس اس حوالے سے تصویری ثبوت اور دستاویزات بھی ہیں. وہ اب لاہور جاکر ٹیپو کی مدد سے فارن آفس سے ان اسناد کی تصدیق کرا لے گی. کام پکا. دونوں مرد بین الابراعظمی بینو میزائل کی زد پر.
پیشہ ورانہ مصروفیت کے بہانے ہر دوسری تیسری رات شام ٹیپو جی وہاڑی بینو کے گھر آ جاتے ہیں. عوام کی اکثریت اور عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں. بینو کا سوچنا ہے کہ ان دونوں کو ایک مضبوط چرواہا ہانکنے کے لیے درکار ہوتا ہے. ٹیپو ایک مضبوط مرد ہیں. کہیں کوئی چہ مگوئیاں ہوتی بھی ہوں تو انہوں نے کون سا یہاں وہاڑی میں رہنا ہے. ٹیپو اور بینو دونوں ہی سحر خیز ہیں. امی کو اس نے بتا دیا ہے سو انہیں ٹیپو.بینو تعلقات کا بخوبی علم ہے. مان لیں کہ ان کی پہلی ہمدردی یقیناً اپنی بیٹی سے ہے، داماد اور بھتیجے ظہیر سے نہیں.
بنتے بگڑتے رشتوں کی اس دھما چوکڑی میں انہیں علم ہے کہ بیٹی کا شب زفاف سے ہی تا دم روانگی وظیفہ زوجیت ادا کرنے سے قاصر اصلی شوہر ظہیر چپ چاپ چوروں کی طرح کینیڈا جا کر پناہ گزین ہو گیا ہے. ان کی صاحبزادی کو کینیڈا کی جنت میں آباد کرنے والے ڈی آئی جی صاحب سے نکاح پر نکاح کی اجازت، ان کے اپنے شوہر اور داماد یعنی گھر کے دونوں مردوں نے باہمی رضامندی سے بینو کو شریک مشورہ کیے بغیر دی ہے.
ان تین مردوں میں ان کی بینو لیلیٰ مہجور بنی نالہ غمی کشد (آہ ؤ بکا کرنا) کرتی پھرتی ہے. عورت یوں بھی عورت کا دکھ سمجھتی ہے. ماں ہو تو اس کے جرائم پر بھی پردہ ڈال کر اسے دکھ مان کر ہمدردی کرتی ہے. وہ اس تکون پر یوں بھی راضی ہیں کہ بینو کا ٹیپو سے نکاح ہو جائے.
بینو ٹیپو کے کے بچے کی ماں بننے کا والی ہے اس کا والدہ صاحبہ کو بخوبی علم ہے. یہ نہ ہوا تو اس خاندان کا یہاں قیام چند ماہ کی بات ہے. ان ہی سب وجوہات سے انہیں بیٹی کی ملاقات شبینہ پر کوئی اعتراض نہیں.
اب اس حمل کو دو ماہ ہونے کو آئے ہیں. ٹیپو یہاں وہاڑی آتے ہیں تو رات ابو کے اصرار پر گھر پر ہی قیام کرتے ہیں. بینو کو اپنی امی کی جانب سے بھرپور سپورٹ ہے. عام طور پر وہ جس وقت آتے ہیں تو یہ ابو کے سونے کا وقت ہو چکا ہوتا ہے. بینو کہہ دیا ہے کہ کوئی سرکاری مصروفیت ہو بھی تو پہلے گھر پر کچھ دیر ابو کے پاس بیٹھ کر چلے جائیں اور رات کو ڈیوٹی ختم کر کے اپنی مرضی سے واپس آجائیں. اس سے ان کا شکوک کے دروازے بند ہوجائیں گے. کنیز انارکلی تو آپ کی الفت میں ہمہ وقت سراپا انتظار ہوتی ہے.
اب چونکہ آمد میں قدرے باقاعدگی ہو چلی ہے سو اوپر کی منزل جہاں مہمانوں کا کمرہ ہے وہاں گرم پانی کا بندوبست اچھا ہو گیا ہے کہ ٹیپو جی نے گیزر بدلوا دیا تھا. ٹیپو جی کے بندے آئے فٹا فٹ گرم پانی کا انتظام کر گئے. سعودی عرب والے پی وی سی پائیپ ڈال گئے. کمرے میں باتھ روم بھی جاکوزی باتھ بھی لگ گئی تھی. ایک باتھ ٹب کا بھی علیحدہ سے بندوبست ہو گیا. اس کی امی اسے چھیڑ رہی تھیں کہ کہیں ٹیپو جی شادی کے بعد گھر داماد ہی نہ بن جائیں. ویسے بینو کو حیرت ہوئی کہ انہیں اپنی بیٹی کا ٹیپو کے ساتھ بغیر کسی تعلق کے یہ جنسی تال میل برا نہیں لگتا. انہیں خود بھی گھر میں آمدنی کی کشائش کی وجہ سے سجنے بننے کا شوق لگ گیا ہے. صحت اچھی ہے. یو ٹیوب چلانا سیکھ گئی ہیں تو ڈائیٹ، یوگا اور انڈین کرائم پٹرول کی ویڈیوز کی بہت چس آ گئی ہے. بینو لاہور جاتی ہے تو امی جی کا بھی بیوٹی پارلر اپائنٹمنٹ ہوتا ہے. خوش لباسی سے اور بیوٹی پارلر کی توجہ سے عمر سے دس سال چھوٹی لگتی ہیں. بینو نے امی کو کہا بھی کہ ٹیپو جی کو کہہ کر ایک مقدمہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج غلط تھا. نیا سرٹیفیکٹ بنوا کر دوبارہ ملازمت کر لیتے ہیں. وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ کھل گیا ہے تو بینو کو بھی اب ہری ہری سوجھتی ہے۔
(جاری ہے)















