منٹو کے افسانے بلاؤز کا تجزیہ


منٹو پر تنقیدی جائزہ تو نہیں البتہ تجزیہ ضرور کر سکتے ہیں۔ منٹو فحش نہیں تھا اور نہ ہی بد گو۔ وہ صرف سچ کا پرستار تھا یا سچ منٹو کا پرستار۔ ایک مرتبہ سوشل میڈیا پر کسی لڑکی نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ بتائیں کہ افسانہ بلاؤز کا معاشرے سے کیا تعلق ہے۔ لاعلمی کے باعث وہاں کمنٹ میں موجود دوسری لڑکی نے اس بات کو مزاح میں اڑا کر ادھر ادھر کی چھوڑ کر رفع دفع کر دیا۔ مگر سوچا کہ لوگوں کو گروپ کے اصل مقصد کی طرف لانا چاہیے اور سب سے پہلے بلاؤز کے تجزیے سے ہی آغاز کیا جانا چاہیے۔

یہ منٹو کی گہری سوچوں کا عنصر، افسانہ ہے۔ یعنی اتنی باریک بنی سے ایک ایسے بچے کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سن بلوغت کی اصطلاح میں قدم رکھ رہا ہے۔ بچے کا نام مومن ہے جو کہ ایک بڑے گھر میں کام کرتا ہے اور اس گھر میں دو نوعمر لڑکیاں بھی رہتی ہیں۔ مومن ایک ایسا لڑکا ہے جو کہ اپنے اندر ہونے والی تبدیلیوں سے پریشان بھی ہے اور خوش بھی۔ وہ نہیں جانتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر وہ یہ مانتا ہے کہ جو ہو رہا ہے ایک دم الگ ہے۔ کوئی بھی اس کی تبدیلیوں کو محسوس نہیں کر رہا۔ بقول اوشو:

جب آپ جنسی ہو جاتے ہیں تو چیزیں رنگین معلوم ہونے لگتی ہیں۔
ہر شے مختلف دکھائی دینے لگتی ہے اور اس کی چمک میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
آپ مزید زندہ ہو گئے ہیں۔
اب آپ چلتے نہیں بلکہ بھاگتے ہیں۔
آپ کچھ نہیں کہتے بلکہ صرف گاتے ہیں۔
آپ کی زندگی رقص کی صورت اختیار کر گئی ہے۔

شاید اوشو کی یہ رائے سن بلوغت میں داخل ہونے والے بچوں کے لیے ہو۔ یہ رائے تو اس کے لیے بھی ہو سکتی ہے جو زندگی جینے کا ڈھنگ جانتا ہے۔

رہی یہ بات کہ اس افسانے کا معاشرے سے کیا تعلق ہے تو بات یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس تجربات کرنے کا زاویہ ہے تم دیکھنا چاہو تو کئی بچے تمہیں مومن جیسے اس معاشرے میں بکھرے پڑے نظر آئے گے۔ جس معاشرے میں ادب کو فحش تو کیا جہاں جنسیات کی تعلیم کو بھی بے حیائی اور بے راہ روی سے تشبیہ دی جائے تو اس معاشرے کا وقار پسماندہ ہی ہو گا۔ مومن کے اندر جنسی تبدیلیاں تیزی سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں مگر اسے بتانے سمجھانے والا کوئی نہیں۔ ایک وہ اس جماعت سے ہے جس کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں اور انہیں بھکاریوں اور کمینوں میں گنا جاتا ہے۔ پنجاب میں ان کے لیے کمی کمین کی اصطلاح میں گنا جاتا ہے۔ وہ اپنی تبدیلیاں کبھی بہلاتا ہے تو کبھی اس سے اکتاہٹ محسوس کرتا ہے۔

یہ افسانہ منٹو نے نفسیات دانوں کے لیے ایک ایسا تجربہ چھوڑا ہے کہ وہ اس سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ نفسیات جس باریک بینی سے تجربہ کرتی ہے یہ افسانہ اسی طرح روداد کو پیش کرتا ہے۔ منٹو نے بھی کافی جگہوں پر اس بات کی تردید کی تھی کہ انہوں نے فرائیڈ اور ہیولاک ایلس جیسے نفسیات دانوں کو پڑھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ افسانہ انھی کے مرہون منت ہو سکتا ہے۔

اس افسانے میں منٹو نے کافی استعاراتی تکنیک استعمال کی ہے اور سن بلوغت میں قدم رکھنے والے بچے کو کیسے محبت کا جوش چڑھتا ہے کی روداد بیان کی ہے کہ مومن کیسے شکیلہ کی بگل کے بالوں اور اس کے بلاؤز کو ایک استعاراتی سانچے میں ڈھالتا ہے جیسے کہ:

”جب شکیلہ نے اسے اتارنے کی کوشش کی تو مومن کو سفید بغل میں کالے کالے بالوں کا ایک گچھا نظر آیا۔ مومن کی اپنی بغلوں میں بھی ایسے ہی بال اگ رہے تھے۔ مگر یہ گچھا اسے بہت بھلا معلوم ہوا۔ ایک سنسنی سی اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی۔ کہ کالے کالے بال اس کی مونچھیں بن جائیں۔ بچپن میں وہ بھٹوں کے کالے اور سنہرے بال نکال کر اپنی مونچھیں بنایا کرتا تھا۔ ان کو اپنے بالائی ہونٹ پر جماتے وقت جو اسے سرسراہٹ اسے محسوس ہوا کرتی تھی۔ اسی قسم کی سرسراہٹ اس خواہش نے اس کے بالائی ہونٹ اور ناک میں پیدا کر دی۔

شکیلہ کا بازو اب نیچے جھک گیا تھا۔ اور اس کی بغل چھپ گئی تھی۔ مگر مومن اب بھی کالے کالے بالوں کا وہ گچھا دیکھ رہا تھا۔ اس کے تصور میں شکیلہ کا بازو دیر تک ویسے ہی اٹھا رہا۔ اور بغل میں اس کے سیاہ بال جھانکتے رہے۔ ”

آگے چل کر مومن ان بالوں سے ایک عجب محرک حاصل کرتا ہے :

”دوسرے روز اس نے جیب سے کتریں نکالیں اور الگ بیٹھ کر ان کے دھاگے الگ کرنے شروع کر دیے۔ دیر تک وہ اس کھیل میں مشغول رہا۔ حتیٰ کہ دھاگے کے چھوٹے بڑے ٹکڑوں کا ایک گچھا سا بن گیا اس کو ہاتھ میں لے کر وہ دباتا رہا، مسلتا رہا۔ لیکن اس کے تصور میں شکیلہ کی وہی بغل تھی۔ جس میں اس نے کالے کالے بالوں کا چھوٹا سا گچھا دیکھا تھا۔“

یہ محرکاتی تبدیلیاں سن بلوغت میں کافی پریشان حد تک بھی لے جاتی ہیں ایک جگہ ویڈیو دیکھی جس میں ایک ڈاکٹر صاحب بیان کر رہے تھے کہ لڑکی کو سن بلوغت میں اتنی مشکلات پیش نہیں آتیں کیونکہ انہیں اس کی ماں بہن یا سہیلیاں بتا دیتی ہیں اور لڑکا کلاس میں سب سے بد تمیز اور حرامی لڑکے سے یہ سب سیکھتا ہے۔ دونوں میں حیا کا فرق تو ہو گا۔ افسانے میں مومن کو شکیلہ کے بلاؤز سے ایک ایسا محرک ملتا ہے جس سے وہ اطمینان حاصل کرتا ہے۔

سماجی ڈر اور مذاق میں اڑا کر جب تعلیم پر مبنی شعور کو فحش، جنسی بے راہ روی کا نام دیا جائے تو وہاں ہوس کے مارے بھیڑیا صفت انسان ہی پیدا ہوں گے۔ یہ معاشرے چور لٹیروں کو عزت تو بخشتا ہے مگر جنسیات کے موضوع کو بے حیائی سمجھتا ہے۔ سنا ہے کہ بیکن ہاؤس سکول میں باقاعدہ جنسیات کے متعلق بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اور ہمارا نچلا طبقہ اسے جاہل اور بے غیرت سمجھتا ہے۔ لوگوں کی نظر میں تعلیم دینے اور بے حیائی پھیلانا ایک جیسا ہی ہے۔ مومن کی یہ تبدیلیاں ہر اس بچے کی تبدیلیاں ہیں جو ابھی بلوغت میں قدم رکھ رہا ہے۔ بچوں کو جنسیات کی تعلیم دیں تاکہ وہ چنگاری بن کر ہر ایک کا نا جلا دے۔

عام انسان کو دو ہی چیزوں کی طلب ہوتی ہے ایک روٹی اور دوسرا سیکس اور دونوں کی طلب اسے کہیں کا نہیں چھوڑتی۔

Facebook Comments HS