پیوما (3)


سعدی کا کراچی میں قیام چند دن رہا اور وہ دوبارہ اپنے نو تفویض کردہ علاقوں میں مشن پر چلا گیا۔

اس کی روانگی سے قبل یہ واردات ہوئی کہ ایک شام پیوما اپنی کسی دوست کی سالگرہ پر ہمیں لے گئی۔ اچانک وہ میرے گھر آ گئی تھی۔ سعدی بھی موجود تھا۔ بضد ہوئی کہ ہم چلیں۔ چست سیاہ جینز، شفون کا ڈوریوں والا چھوٹی سی بغیر آستین والی، سامنے اور سائیڈ سے سینے کا بہت سا حصہ کھول کر رکھنے والی کاٹن کی ٹی شرٹ پہنی تھی۔ پیڈی کیورڈ پاؤں میں باریک پٹیوں والے رومن سینڈل۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ پیوما کی ناف کا بھنور کس قدر گہرا ہے اس کے، پیر اور کاندھے بہت ہی ترشے ہوئے اور اجلے ہیں۔ گائے کے تازہ مکھن سے بنے ہوئے۔ کلفٹن میں کوئی چھوٹا سا بنگلہ تھا۔ پانچ چھ جوڑے تھے۔ ہم نے ایک جگہ رک کر تحفے خریدے۔ اسٹور خاصا مشہور ہے۔ سعدی تو کار ہی میں بیٹھا رہا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ پیوما کے ساتھ اس اسٹور کے سکیورٹی کیمروں کی زد میں نہیں آنا چاہتا۔

پارٹی میں جس طرح گاہے بہ گاہے پیوما سعدی کے ساتھ ادھر ادھر کمروں میں غائب ہوتی رہی اور جس طرح اسے تھام کر خود سے چپکائے چپکائے رقص کرتی رہی مجھے ان کی قربت کی گہرائی کا پتہ دیتے رہے۔ سعدی دس دن بعد لوٹا تو میرے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ کچھ پولیس مقابلے اور دہشت گردوں کی جو ہلاکتیں کراچی، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں واقع ہوئی ہیں اس میں سعدی کے ڈیپ پاکٹ والے دفتر کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ اس میں لسانی، فرقہ پرست، مذہبی جنونی، قوم پرست سبھی طرح کے دہشت گرد شامل تھے۔

چند دن بعد گیلانی کے کسی قریبی عزیز کے ہاں شادی کا ڈنر تھا۔ پیوما کے پارلر سے مجھے کئی فون آئے۔ وہ سعدی کو ڈھونڈ رہی تھی۔ میں خاموشی سے اس کے ڈیپ پاکٹ والے دفتر پہنچا تو وہ وہاں بھی نہ تھا۔ پتہ چلا گھانگھرو صاحب نے بلایا تھا وہ ان کے گھر گیا ہے۔ یہ رہائش گاہ زیادہ دور نہ تھی۔ سعدی، گھانگھرو اور اسلام آباد کا کوئی افسر وہاں موجود تھے۔ میری آمد کا پتہ چلا تو گھانگھرو اور سعدی دونوں ہی بہت خوش ہوئے۔ سر کاری باتوں سے ذرا مہلت ملی تو میں نے اسے پیوما کی بے تابی کا بتایا۔ دونوں کی اپنے فون سے بات کرائی تو مجھے صرف جنگل گرین اور آئی کین ناٹ پرامس صرف دو الفاظ فون بند ہوتے ہوتے سنائی دیے۔

پیوما کو یہ فکر تھی کہ وہ شادی میں کون سا لباس زیب تن کرے۔ وہ چاہتی تھی تقریب میں سعدی کی من پسند ساڑھی پہنے۔ ثمر اور میں نے بھی اس شادی ڈنر میں جانے کا وعدہ کر لیا ہے لہذا میں نے بھی سعدی سے ضد کی کہ وہ چلے۔

سعدی جب گھر سے تیار ہو کر میری طرف مجھے لینے آیا تو پہلی دفعہ میں نے اس کی جیپ میں تین افراد بندوقیں لوڈ کیے تیار بیٹھے ہوئے دیکھے بلکہ چار افراد غیر محسوس طریقے پر بطور Security Detail موٹر سائیکلوں پر رواں تھے۔

پنڈال میں داخل ہوتے ہی جس خاتون پر ہماری نظر پڑی وہ پیوما تھی۔ سب سے نمایاں، سلک کی جنگل گرین ساڑھی میں جس کی رنگت کچھ ایسی تھی جیسے دھوپ سے محفوظ رین فاریسٹ کے چمکیلے ہرے پتے ہوتے ہیں ویسا ہی شانوں سے تیز، ترچھا موڑ کاٹ کر گردن کے پیچھے جاکر ڈوری سے بندھ جانے والا بلاؤز۔ سینے پر لاپروائی سے کھلکھلاتا ہوا بڑے سے زمرد والا پینڈنٹ۔ اس کی نگاہ بہت دیر سے مہمانوں کی آمد والے راستے پر مرکوز تھی۔ شاید اسے سعدی کا انتظار تھا۔ رنگ و لبھاؤ کا یہ برستا ساون اس کے لیے ہی تھا۔ اس لحاظ سے موقع کی مناسبت سے اس کی ایستادگی کی حکمت عملی اس لیے تھی کہ اس کی نگاہ بھی اپنے گوہر مطلوب پر سب سے پہلے پڑے۔

مجھے اور سعدی کو آتا دیکھا تو اس نے اشارہ کیا، ہم پہنچے تو اس کی مسرت دیدنی تھی۔ وہ سعدی سے کہنے لگی کہ Baby I know how tired and sleepy you must be۔ I wanted u to see me۔ ”

سعدی نے اسے انگریزی میں ہی کہا کہ وہ زیادہ دیر نہیں رک پائے گا۔ اسے بہت نیند آ رہی ہے۔ تب ہی اس نے یہ تجویز دی کہ وہ میرے گھر پہنچے۔ وہ بھی وہاں پہنچ جائے گی۔ ہم نے گیلانی کو دور کونے میں کھڑا باتیں کرتا دیکھا اور ہاتھ کا اشارہ کیا تو وہ کہنے لگی کہ وہ ابھی کچھ ہی دیر میں سنگاپور روانہ ہو رہا ہے۔

ملاقات میں مجھے پیوما کا شوہر گیلانی کچھ نا خوش دکھائی دیا۔ اس کا لباس بھی دعوت میں سج کر آنے والی بیوی کے مقابلے میں بہت عام سا تھا۔ نہ کوٹ، نہ ٹائی۔ سفید قمیص جس کی شکنیں بھی کچھ نمایاں تھیں، گرے پتلون۔ سعدی پر جب وہ نگاہ ڈالتا تھا تو مجھے لگتا کہ اس میں کچھ بے اعتنائی اور سرد مہری ہے۔ سعدی نے بھی نوٹ کیا کہ وہ بڑی حد تک بے ربط اور اکھڑا اکھڑا سا ہے۔ وہ کھانا لگنے سے پہلے ہی رخصت ہو گیا۔

ہم کھانا کھا رہے تھے کہ پیوما بھی پلیٹ تھامے آ گئی۔ سعدی نے اس سے گیلانی کے رویے میں تبدیلی کا پوچھا۔ بظاہر میں تو کسی محلے دار سے جو بہت دنوں بعد اس دعوت میں اچانک دکھائی دیا تھا محو گفتگو تھا اور اس وجہ سے میری پشت پیوما کی پشت کی جانب تھی لیکن کان ان دونوں کی گفتگو پر۔ جتنا کچھ میں نے سنا وہ ذرا ناقابل یقین تھا۔ وہ اس رویے کو اس کے سنگاپور کے تجارتی قیام کی وجہ سے اپنے مرد عشاق سے دوری سے جوڑ رہی تھی۔ ہم چلنے لگے تو پیوما نے سعدی سے کہا کہ وہ بھی ہمارے ہی گھر آئے گی مگر دلہن کی رخصتی کے بعد جو شاید ایک گھنٹے میں ہو جائے۔ راستے ہی میں مجھے سعدی نے بتایا کہ گیلانی کی جنسی ترجیحات کی وجہ سے پیوما ناخوش ہے۔ کہہ رہی تھی وہ Gay ہے۔ کوئی چیک تو کرنے نہیں بیٹھا مگر مرد سے ایک دم نفرت کا سوئچ سننے والے کے دماغ میں آن ہوجاتا ہے اور عورت سے بے پناہ ہمدردی کا سونامی آ جاتا ہے۔ نا آسودہ شادیوں اور طلاق میں یہ بہت عام سا بہانہ ہے جیسے مختلف گھریلو ملازمین کا نئے گھر میں ملازمت کے انٹرویوز میں ہر وقت یہ کہنا ہوتا ہے کہ پرانے مالکان تھے تو بہت اچھے مگر پاکستان سے باہر چلے گئے۔

وہ کہہ رہی تھی کہ پچھلے دنوں اس کی سالگرہ تھی، اس نے شہود گیلانی کو اپنی جانب راغب کرنے کے کیا کیا جتن نہ کیے مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ کچھ دن بعد جب پیوما نے اسے کسی مرد کے ساتھ بستر میں برہنہ دیکھا تو بہت ناراضگیاں ہوئیں۔ چند دن دونوں ایک دوسرے سے منہ بسورے رہے مگر دونوں نے ایک خاموش سے معاہدے پر رضامندی کرلی کہ گیلانی گھر میں کسی مرد کے ساتھ جنسی فعل نہیں کرے گا اور پیوما گھر سے باہر۔ پیوما جس مرد سے بھی ایسے روابط استوار رکھے گی گیلانی کی پیشگی منظوری اس میں شامل ہوگی۔

رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب گھنٹی بجی۔ دروازے پر پیوما کھڑی تھی۔ مجھے لگا کہ آج کی رات اس کی آمد اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اہتمام صرف اتنا ہے کہ مقام وصال کی خاطر اس نے اپنے گھر کی بجائے خاکسار کے غریب خانے کو چنا ہے۔ سعدی گھر نہیں گیا تھا۔ اس کی بیگم کی بہن ان دنوں باہر سے آئی تھیں۔ وہ انہیں کے ساتھ اپنے میکے مردان گئی تھیں، لہذا وہ میرے پاس ہی ٹھہر گیا۔

پیوما حسب وعدہ جب دلہن کی رخصتی کے بعد لوٹی تو سعدی کمرے میں سو چکا تھا۔ پیوما نے میک اپ کا اہتمام دوبارہ کیا تھا۔ اک عجب آفت روز گار، مہ جبیں کے تیور دکھائی دیتے تھے۔ کھانے کے دوران ادھر ادھر ہونے والی لپ اسٹک دوبارہ سے حاضر ڈیوٹی ہو گئی تھی۔ اس کے وجود کی نسوانی خوشبو میں کسی قیمتی پرفیوم کی لپٹ بھی شامل تھی۔ بالوں کا جماؤ بھی بہت سجیلا تھا۔ چہرے کے ابتدائی تاثرات سے مجھے لگا کہ اسے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ سعدی اس کا انتظار کیے بغیر سو گیا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ سعدی کو اپنی آمد کا احساس دلانے کے لیے اس کی آواز بھی اونچی تھی اور قہقہے بھی کھنک دار۔ اس حربے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سعدی اٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا اور اس کے پاس آن کر بیٹھ گیا۔ وہ کچھ دیر تو کھنچی کھنچی رہی مگر جب میں دوسرے کمرے سے اپنے اور اس کے لیے صدر کینیڈی اور شہرہ آفاق مصنف ارنسٹ ہمینگوئے کا پسندیدہ مشروبHemingway daiquiri جسے papa doble بھی کہتے ہیں یعنی برف، چینی، رم اور لیمن جوس کی کاک ٹیل لایا تو وہ وقتی ناراضگی اور تھکاوٹ بھری بے اعتنائی کو ایک طرف پھینک کر سعدی کی گود میں یوں بیٹھی تھی کہ دائیں کاندھے کی جانب سے بلاؤز کی ڈوری کھلی تھی اور سعدی کے ہونٹ جہاں گرہ نے نشان چھوڑے تھے وہاں پیوست تھے۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد وہ دونوں کمرے میں چلے گئے۔

صبح کوئی گیارہ بجے میری آنکھ کھلی تو میں حسب عادت ٹیرس کی جانب چلا گیا۔ جس کمرے میں سعدی قیام پذیر تھا وہ میرے کمرے سے جڑا ہوا تھا۔ چوتھی منزل سے جھانکتے اس ٹیرس کے عین مقابل روڈ تھا دونوں کمروں کی ٹیرس کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار نے خط تقسیم کھینچ رکھا تھا۔ کمرے کے باہر دیوار کے ساتھ رکھے ایک کین کے صوفے پر سعدی کی قمیص اور اپنی نجی پینٹی پہنے ریلنگ پر پیر جمائے پیوما کتاب پڑھ رہی تھی۔ اس کی اجلی برہنہ ٹانگوں پر پڑتی دھوپ نے ایک عجب سنہرا پن پھیلا دیا تھا۔

ایسا نہیں کہ میری واسطہ کبھی برہنہ ٹانگوں سے نہیں پڑا مگر پیوما کی ٹانگوں کی خراش ایسی تھی کہ ساری دنیا میں ہاتھی دانت کی فروخت، ان سے بنی اشیا پر بین الاقوامی پابندیاں با آسانی سمجھ آجاتی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ مجھے دیکھ کر وہ قریب پڑا تولیہ ٹانگوں پر ڈال لے گی مگر وہاں ایسا لحاظ نہ تھا۔ سعدی اس قمیص کے کھلے ادھ کھلے بٹنوں والے دامن میں کہیں منہ چھپائے لیٹا تھا۔ سلام کے بعد میں نے پوچھا ہی لیا کہ:

” ان حضرت کی نیند پوری نہیں ہوئی“ تو وہ ہنس کر کہنے لگی کہ:
”ان کی نیند تو پوری ہوجاتی ہے۔ خواب پورے نہیں ہوتے۔“

یہ سن کر سعدی نے دامن سے منہ باہر نکالے بغیر جواب دیا۔ ”آیت اللہ آج آپ کو پتہ چل گیا ہو گا کہ خوابوں کو بھی تعبیروں سے حسد ہوتا ہے“ ۔

کمرے سے باہر آن کر منعم بھوئیاں کو دیکھا۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا تھا اور وہ واپس جاتی لفٹ سے لانڈری کیے ہوئے دو زنانہ جوڑے لیے چلا آ رہا تھا۔ بتانے لگا کہ پیوما بی بی کا ڈرائیور دے کر گیا ہے۔ ناشتے کی میز پر ہی گھانگھرو کا فون آ گیا کہ سعدی اس کے گھر پہنچے۔ اسلام آباد سے کچھ خاص افسران آ رہے ہیں۔ ائر پورٹ پر ہی میٹنگ ہوگی۔ وہاں سے وہ پھر کسی نجی طیارے میں سکھر اور کوئٹہ چلے جائیں گے۔

پیوما نے اعلان کیا کہ وہ دوپہر تک میرے فلیٹ پر ہی سوئے گی اور سعدی کو میٹنگ سے فراغت ہو تو وہ آ جائے۔ ہم تیار ہو کر جانے کے لیے ساتھ ساتھ نکلے تو پیوما نے غیر معمولی مذاق کیا کہ ”میرے میاں کا خیال رکھنا۔ جس پر سعدی نے اسے“ شٹ۔ اپ ”کہا تو وہ مزید اترا کر کہنے لگی“ تم کو میرا بیٹا سیدھا کرے گا ”۔

نیچے جب ہم اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوئے تو میری نگاہ اوپر کھڑکی پر پڑی جس سے چپکی پیوما آنکھوں میں الفت کے دیپ جلائے سعدی کو دیکھ رہی تھی۔ پیوما کے جملوں کی روشنی میں مجھے لگا کہ وہ اس تعلق میں بہت آگے چلی گئی ہے۔ ہم اپنی اپنی سمتوں میں روانہ ہو گئے۔ پیوما کا گزشتہ رات سے اودھم مچاتا حسن آتش گیر، سعدی سے اپنی قربتوں کا بے باک اظہار اور دوستی کے باوجود میرے قلب حزیں پر حسد کے بادل بن کر منڈلاتے رہے۔

رات کو میں گھر لوٹا تو پیوما جا چکی تھی۔ سعدی البتہ اس دوران تین بجے اور چھ بجے دو مرتبہ واپس آیا تھا۔ میرے لیے یہ اندازہ لگانا ہرگز دشوار نہ تھا کہ ان دو وقفوں میں پیار کی رہی سہی رسومات بھی ادا ہوئی ہوں گی۔

کک منعم نے یہ اطلاع ذرا مچل کر دی کہ میں ہنس پڑا تو منعم بھوئیاں نے البتہ مجھے سوپ اور سلاد دیتے وقت شکوہ کیا کہ پیوما بی بی پردے کا خیال نہیں کرتی۔ آپ نہیں ہوتے تو سعدی صاحب کی مردانہ قمیص جس کے بٹن بھی ٹھیک سے بند نہیں ہوتے اور بچوں والی چھوٹی چڈی پہن کر کچن لاؤنج میں گھومتی پھرتی ہے۔ میں نے سعدی والے کمرے کا جائزہ لیا تو وصال کے آخری غدر کی علامات بستر پر بکھری پڑی تھیں۔ باتھ روم میں وہی بدنام زمانہ چڈی بھی سعدی کے باتھ روب کے نیچے لٹک رہی تھی۔ پیوما ڈرائیور کا لایا ہوا ایک لباس شاید پہن کر گئی تھی۔ دوسرا بے بی پنک کرتا پاجامہ بڑی سی پلاسٹک کی تھیلی اور ہینگر میں سعدی کی بند الماری کے دستے میں اڑسا ہوا تھا۔ میں نے جلدی سے بستر کی چادر اور تکیے کے کشنز سمیٹ کر اتارے، گٹھڑی بنائی اور منعم جی کے ہاتھ گلی کی لانڈری میں بھجوا دیا۔ لانڈری والا بھی کچھ کم بدمعاش نہ تھا پوچھنے لگا کہ کیا بات ہے آج کل تمہارے صاحب کے پہننے کے کپڑے کم اور چادریں زیادہ میلی ہوتی ہیں۔

سعدی واپس آیا تو کچھ متفکر سا تھا۔ کہنے لگا کہ ایک ہائی پاور ٹیم جو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے وہ آئی تھی۔

بتانے لگا کہ اسلام آباد والے افسران کی مرضی ہے کہ گھانگھرو صاحب اثر و رسوخ اور منصب اور طاقت کے حساب سے ادارے کے لیے ایک فیلڈ رپورٹ مرتب کرنے کے لیے جائزہ مشن پر جنوبی افریقہ چلے جائیں۔ حضرت کہتے ہیں کہ سائیں ادھر اتنی انگریزی کون بولے گا۔ میرے کو آپ گھوٹکی، ٹھل، تھانہ بولا خان سے جو رپورٹ بنانے کا بولو بن جائے گی۔ دوبئی ریاض بھی چلا جاؤں گا مگر یہ افریقہ، امریکہ، کیوبا، آسٹریلیا میرے لیے بالکل مریخ جیسے ہیں۔ اسی کی ضد ہے کہ میں اس کی جگہ جاؤں۔

میٹنگ کے حساب سے مشن خطرناک ہے۔ گھانگرو اس چکر میں ہے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ تین ممالک کے دورے پر چلا جائے تاکہ اپنا آئندہ کا بندوبست کر لے۔ سرکار میں دس طرح کی ملازمتیں ہوتی ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے سفر آخرت کا بل بھی فرشتوں کے ٹی اے ڈی اے، ایڈوانس سے ادا ہو اور چہلم کے اخراجات بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوں۔

سعدی کی بیگم صاحبہ واپس آ گئیں۔ ہم تینوں ایک ساتھ کھانا کھا رہے تھے، مجھے لگا کہ وہ کچھ کھنچی کھنچی سی ہیں۔ سعدی دوسرے کمرے میں فون سننے گیا تو مجھے شکایتاً کہنے لگیں آپ انہیں سمجھاتے نہیں۔ میں بچی نہیں۔ ایک بیٹے کی ماں ہوں۔ ان کے بیٹے کی۔ اس سے پہلے کہ اس موضوع پر مزید گفتگو ہوتی سعدی آ گیا۔ بتا رہا تھا کہ پانچ چھ دن میں اسے جنوبی افریقہ اور ملائشیا جانا ہو گا۔ بیگم نے تجویز دی کہ وہ بھی جائیں گی۔ وہ کچھ ہچکچا کر کہنے لگا نہیں اس کا یہ مشن خطرناک ہے۔ مہرین بھابھی کو یہ تردد بھرا جواب اچھا نہ لگا اور وہ یہ کہہ کر اٹھ گئیں کہ یہاں ہماری زندگی کون سی مونٹی کارلو کی آؤٹنگ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan