پیوما (3)

میں اگر اس رات کے مکالمے سے سعدی کی بیگم کی علیحدگی اور اس کی موت کیمرے کے ایک شاٹ میں سمو کر دیکھوں تو بات تین وارداتوں پر آن کر رک جاتی ہے۔ دو کی تنہا ملزم پیوما ہے۔ وہ جب یہاں پاکستان میں میری بیوی اور امریکہ میں رہائشی گرل فرینڈ بنی تو اس اپنائیت اور وارفتگی کے عالم میں بھی میں نے اس کے ان دو جرائم کو معاف نہیں کیا۔ اسے معاف نہ کرنا اور اس سے انتقام لینا اور اسے ایسی ہی بھیانک سزا دینا تنہا میرا اپنا فعل نہ تھا۔ یہ ایک رمز نہاں ہے۔ اس میں مجھے بہت پیشہ ورانہ اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کی طرح ایک کے بعد ایک کھلتی ہوئی پروگرام کی کھڑکی جیسی معاونت بھی شامل تھی۔
اس منصوبے میں کون کون شامل رہا ہے یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ اس میں سعدی کی نجی زندگی سے جڑے افراد جن میں خاکسار، میرا کزن ثمر، اس کی بیگم بشرہ بلوچ جنہیں پیار سے سب بابین کہتے تھے، ثمر کے بہنوئی، حتی کہ گھانگھرو تک سب ہی کی کسی نہ کسی حد تک شراکت رہی۔ بلکہ سچ پوچھیں تو لمحات آخر میں اس کا رول ہی سب سے اہم تھا کیوں کہ اسے یہ احساس ندامت مارے ڈالتا تھا کہ اس نے ہی ضد کر کے سعدی کو ساؤتھ افریقہ اور ملائشیا بھجوایا جب کہ اس کے ادارے میں سعدی جیسے اور بھی افسر تھے جو یہ مشن زیادہ معاملہ فہمی سے انجام دینے کی پوزیشن میں تھے۔
آئیے تین وارداتوں کا ذکر کریں۔ پہلے ان دو کا جس میں پیوما کو ہم مجرم گردانتے ہیں۔
یہ میرا کزن ثمر بھی الو کا پٹھا ہے۔ اب بابین کی بہن یعنی اپنی سالی کی مہندی میں پیوما کو بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ پہلی چنگاری یہاں سے لگی۔ پیوما اور اس کا میاں ساتھ آئے۔ گیلانی تھوڑا ٹن تھا، ۔ وہ تو ایک کرسی پر ڈھیر ہو گیا، پیوما نے سلگتی آتشیں نارنجی رنگ کی بغیر آستین کی چولی اور ویسا ہی کام والا گھاگھرا پہنا تھا۔ میں ثمر، سعدی کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ معمولی سی دوری پر بابین، سعدی کی بیوی مہرین اور میری ہمشیرہ معصومہ کھڑے گپ لگا رہے تھے۔ ثمر کیٹرنگ والوں کو ہدایت دینے کے لیے ادھر ادھر ہوا تو پیوما لپک کر ہماری طرف آئی اور کہنے لگی۔ یہ آپ نے ہمارے سعدی میاں کو اتنا monopolize کیوں کر رکھا ہے ہماری طرف دیکھنے کی بھی انہیں مہلت دے دیا کریں۔ میری نظر چونکہ ان تین خواتین کی ٹولی پر تھی جو پیوما کو قریب آتا دیکھ کر چیتے کی مانند چوکنا ہو گئی تھیں۔
جب میں نے اسے آنکھ کا اشارہ کیا تو ذہین عورت ہونے کے ناتے اس نے بات فوراً بنائی کہ میرے میاں آپ کا تین دفعہ پوچھ چکے ہیں مگر تیر تب تک کمان سے نکل چکا تھا۔ سب سے پہلے بابین مڑی اور پیوما سے جب میں نے تعارف کرایا تو اس نے دو مرتبہ مسز گیلانی کے الفاظ دہرائے۔ پیوما نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور اس سے پہلے کہ معصومہ اور مہرین اس پر ٹوٹ پڑتیں وہ ایک طرف ہو گئی اور ناچ گانا شروع ہوتے ہی چلی بھی گئی۔
اگلی شام بابین کے گھر خواتین کی کوئی ڈھولکی تھی۔ سعدی اور مہرین بھابھی دونوں ثمر کے گھر آئے۔ معصومہ میری بہن ثمر کے گھر پر بابین کی ضد سے ہی ٹھہری تھی۔ دلہن کا تعلق بابین کی طرح نواب شاہ سے تھا مگر چونکہ ان کے اور ہمارے اکثر رشتہ دار نواب شاہ کو مستقل بنیادوں پر خیر باد کہہ کر کراچی منتقل ہو گئے ہیں لہذا مناسب یہی سمجھا گیا کہ پورا ایونٹ ہی کراچی میں منعقد ہو۔ بچوں کے اسکول چل رہے تھے خواتین کو نواب شاہ جانا وقت کا زیاں لگا۔ یوں بھی ثمر کی بیوی اور دلہن کی بہن کے پاس نہ تو وسائل کی کمی تھی نہ وقت کی۔
گاڑی سے اترتے وقت میں نے محسوس کیا کہ سعدی کچھ اداس، کھویا ہوا اور تھکا ہوا سا ہے۔ یہ قیاس کرنا بعید نہ تھا کہ پیوما کی کل کی مہندی میں گفتگو کی بے احتیاطی پر یقیناً گھر میں ہی میاں بیوی کے درمیان بدمزگی ہوئی ہوگی۔ مہرین بھابھی نے کار سے برآمد ہوتے ہوئے مجھ پر بہت معنی خیز نگاہ ڈالی جیسے وہ مجھے اس حوالے سے نہ صرف شریک جرم سمجھتی ہوں بلکہ ان کے نزدیک یہ میرا فرض بھی بنتا تھا کہ میں اس واردات کی ابتدا میں ہی انہیں اعتماد میں لے کر پیوما اور اس کی ریشہ دوانیوں کا ذکر کرتا۔
وہ سعدی کی عبادت گزاری کی وجہ سے اس کی جانب سے خاصی لاپروا ہو گئی تھیں۔ گویا یہ سجدے صلوۃ اسے عورتوں سے پرے رکھنے کے لیے ایک بہت بڑا حصار تھے۔ یہ گلہ انہوں نے قدرے شائستگی سے بابین اور میری بہن معصومہ سے بھی کیا جو ثمر اور معصومہ کے ذریعے میرے کانوں تک بھی پہنچ گیا۔
بابین نے ہمارے لیے ثمر کے والد کی اسٹڈی کھول کر چائے بھجوائی ابھی ہم چائے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ میرے فون پر پیوما کی کال آ گئی وہ کہہ رہی تھی وہ میرے اپارٹمنٹ پر پہنچ گئی ہے سعدی کہاں ہے۔ ہم آجائیں۔ ہم سعدی کے دفتر کا بہانا بنا کر راستے میں نکل کھڑے ہوئے۔ دفتر پہنچ کر گارڈز کو وہیں رکنے کا کہہ کر ڈرائیور کو بھابی صاحبہ کے پاس بھیج دیا۔
ان مراحل سے نمٹ کر ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی میں گھر پہنچے، راستے میں آج کے دن کا احوال بہت مردانہ تھا۔ دورے پر آئی ہوئی کسی ٹیم کے ساتھ پی بی گھانگرو کو اندرون سندھ جانا تھا، لہذا آج وہاں سرکاری سطح پر بڑا سکون تھا۔ صبح دس بجے حضرت گھر سے نکل کر کسی بڑی بلڈنگ میں واقع دفتر گئے اور وہاں پچھلے دروازے سے باہر نکل آئے تو پیوما انہیں لے اڑی۔ باقی مناظر بیڈ روم کے تھے۔ پیوما کی وحشت وصال کا احوال تھا، اس کے لباس کی برہنگی، تعلقات کو دوام اور گہرائی کے مطالبے، گیلانی سے بے زاری، یہ کچھ میرے لیے انوکھا نہ تھا۔ سچ پوچھئے تو مجھے پیوما کی سعدی کو سپردگی اس کے جسم و جاں کے ان حوالوں سے کوئی حسد نہ تھا۔ میرے اپنے دامن میں بھی طرح طرح کی چنگاریاں گاہے بہ گاہے بھڑکتی رہتی تھیں۔ پڑوسن زینب سے لے کر کئی اور بھی رفاقتوں کے چراغ وقت بے وقت خاکسار کے شبستاں میں بھی پوری آب و تاب سے جلتے تھے۔
ہاں سعدی کچھ زیادہ آرٹسٹ تھا۔ پیار کا پکاسو۔
پیوما نے مجھے ایسی ایک شب وصال میں بتایا تھا کہ اس کے برتنے میں لذتوں کے نئے باب اس کی شانتی کی وجہ سے وا ہوتے تھے۔ وہ ضد کر کے مجھے شاور لیتے دیکھتا تھا۔ عریاں کونے میں یوں کھڑا کردیتا تھا کہ جیسے مجھ سے ہوم ورک کرنے میں کوتاہی ہوئی ہو۔ کئی دفعہ وہ مجھے چھوتا بھی نہ تھا۔ میں مادر زاد برہنہ اجلی چادروں پر دودھ کی ملائی بنی پڑی رہتی تھی۔ بوجھل، لذیز اور اپنے وجود میں دھیمے ہلکورے لیتی۔ ایک دن مجھ سے ایسا ناراض ہوا کہ بیلٹ سے کوٹ ڈالا میں نے پوچھ لیا تھا کہ تم مہرین کے ساتھ بھی یہ سب کچھ کرتے ہو تو کہنے لگا میں جس طرح تمہیں مہرین سے ڈس کس نہیں کرتا اس طرح تمہارے لیے بھی مہرین Sacred ہے۔ میں نے پوچھ لیا اس میں مارنے کی وجہ کیا ہے۔ پیوما نے انکشاف کیا کہ یہ تو نری کمینگی ہے میں تمہارا راز ہوں، تمہاری رنڈی رکھیل۔ تمہارا ڈسٹ بن۔ تمہارا فلش وہ تو ملکۂ عالیہ ہے۔ بس اس پر تاؤ کھا گیا۔ تم نے ری ایکٹ نہیں کیا۔ اتنی مار کھا کر۔
for me it was part of training. I have been far above physical pain.
میں اسے ایک ہی کرو ماگا (اسرائیلی فوج کا مارشل آرٹس) والا Inside Chop کرتی جسے آپKnife Hand Strike سمجھ لیں تو بے چارہ کئی دن ہسپتال پڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تو وصل کا بہترین سیشن تھا۔
سعدی کی وفات حسرت آیات کے بعد جب میرے اور پیوما کے درمیان جسمانی لطف و کرم کا بازار گرم ہوتا تو نہ جانے کیوں ان لمحات وارفتگی و جنوں میں ہمیشہ پتی، پتنی اور وہ والا معاملہ ہوتا تھا۔ سعدی ہم دونوں کے بستر میں بطور ایک سلیپر سیل موجود ہوتا تھا۔ اتنی صلاحیت مجھ میں کبھی نہیں پیدا ہوئی کہ میں اپنی مدمقابل کا ذہن بھی اس کے ماضی کے دریچوں کو کھول کر پڑھ پاؤں اور پھر پیوما تو مجھے ایمزن کا کوئی کھویا ہوا قبیلہ لگتی تھی جس تک جدید تہذیب کی مداخلت نہ پہنچ پائی ہو۔
ہم دونوں کے گھر کے سفر تک ان مردانہ لطافتوں کے درمیان سعدی نے جب یہ انکشاف کیا کہ پیوما نے اسے ساؤتھ افریقہ اور ملائشیا جانے سے منع کیا ہے۔ وہ کہتی ہے گیلانی کی زبانی اسے معلوم ہوا ہے کہ یہاں بھی سعدی کراچی جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے دشمنوں کے ریڈار پر آ گیا ہے۔ سرکاری معاملات کا اپنی رشک قمر سے یہ اظہار مجھے کچھ بھلا تو نہ لگا مگر مجھے تاریخی حوالوں سے اس پر کچھ اچنبھا بھی نہ ہوا کہ سرکاری رازوں کے سب سے بڑی خزانچی یہ بری عورتیں ہی ہوتی ہیں۔
گھر پہنچے تو وہاں منتظر پیوما ہمارے داخل ہوتے ہی سعدی کے گلے میں لپٹ گئی اور اس کو چوم کر کہنے لگی کہ
Come Rain Come My Rain.Come to your desert of love and submission.Come to me my Tabriz of Destruction
آؤ اے برسات، برسو کہ میں تمہارا صحرائے عشق و سپردگی ہوں۔ آ جاؤ میری بربادی کے شمس تبریز۔
مجھے مخاطب کر کے اور سعدی کے سینے پر سر رکھ کر کہنے لگی کہ ان کے حوالوں سے میرے پاس کچھ اچھی خبریں نہیں۔ آپ ان کو سمجھائیں کہ یہ اپنا تبادلہ کسی اور ادارے یا سفارت خانے میں کرالیں۔ فرین پوسٹنگ میں آئی کین ہیلپ۔ الان بطور، موگا دیش، بون، برن، جاکارتا ٹیل می۔ میں سب چھوڑ کر اس کے ساتھ رہوں گی۔ حماد سمجھا دو اسے۔ یہاں ان کی دشمنیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کچھ خبریں اندر سے لیک ہو رہی ہیں۔ سب سے اچھا تو یہ ہے کہ یہ میرے ساتھ امریکہ چلے جائیں۔ شادی کریں تو بہت ہی اچھا ہے نہ کریں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ میرے ابو کلیان جی مہتا کا وہاں کاروبار ہے۔ ہم پنجاب سے تمہارے ذریعے سے باسمتی چاول دبئی منگوا کر مہتا باسمتی رائس کی برانڈ کے نام سے امپورٹ کریں گے اس طرح مرچوں، زیرہ اور مہندی کا بھی کام چل پڑے گا۔ you also make a good kill (آپ بھی فائدے اٹھاؤ) اس نے مجھے بھی دانہ ڈالا۔ سعدی نے کہا اسے پاکستان میں بیورکریسی کا کوئی اندازہ نہیں۔ پروگرام تبدیل نہیں ہوسکتے۔
یہ سن کر وہ کہنے لگی کہ اچھا وہ دو دن رک جائے۔ کیپ ٹاؤن میں بھارتی ڈائمنڈ انڈسٹری کی جانب سے بمبئی کٹ ہیروں کی نمائش ہے۔ نمائش کے بعد ایک لگژری Jaunt کا بھی ساؤتھ افریقہ کے بیوپاریوں نے اہتمام کیا ہوا ہے
وہ اپنے ساتھ اسے بھی پانچ گھنٹے کی ہوائی مسافت پر واقع جزائر شیشلز بھی نمائش کے منتظمین کی جانب سے Hospitality Package میں لے جائے گی
Think of it honey: sun, those pristine soft sandy beaches of Sychelles :,you and me in those whispering bikinis ready to drop at the wink of your eyes , and no Ghangro
(جانم سوچو :دھوپ، وہ مداخلت سے محفوظ یشلز کے ریتلے ساحل، تم اور میں وہ بھی ان سرگوشیوں جیسی بکنیز میں جو تمہاری نگاہ کے اشارہ پاتے ہی میرا ساتھ چھوڑ دیں اور وہاں کوئی گھانگرو بھی نہ ہو گا۔)
گھانگرو والے اضافے پر وہ خود بھی بہت محفوظ ہوئی اور تادیر ہنستی رہی۔ مجھے لگا کہ یہ شیشلز والا اس کا اشارہ سعدی کے قلعۂ انکار و مدافعت میں خاموش مگر بڑی نقب لگا گیا۔ یکایک وہ سعدی کی گود سے اتر کر کہنے لگی۔ آپ ان کو سمجھائیں، میں تھوڑی یوگا کر کے شاور لے لوں۔ پہلی دفعہ اس نے بھی سعدی کی نقل میں مجھے آیت اللہ تو نہیں سیدنا حماد بخاری کہہ کر پکارا اور کہنے لگی ”میں نے ایک جسارت کی ہے کہ آپ کے اس دوست کی سہولت کی خاطر اپنا کچھ کم وزن مختصر سا سامان اور Tone Fitness Resistance Training Band لاکر رکھ دیے ہیں۔ امید ہے آپ ان کا مناسب کرایہ مجھ سے لینے کا برا نہیں منائیں گے۔
میں نے کچھ دبے دبے الفاظ میں سعدی سے گلہ کیا کہ پیوما کو اس نے اپنی ملازمت کے حوالے سے بہت سی باتیں غیر ضروری طور پر کیوں بتائی ہیں تو سعدی کہنے لگا کہ میں جب پیوما کو پوچھتا ہوں تو وہ کہتی ہے کہ اس کے پاس یہ صلاحیت اور آپشن ہے کہ وہ مجھے میرے دشمنوں کے نرغے سے نکال کر باہر لے جائے۔ سعدی ہنستے ہوئے کہنے لگا ایسا لگتا ہے یہ spouse/conjugal partner protection program کا حصہ ہے۔ وہ کہتی ہے نہیں وہ میرا نعم البدل ایک بارٹر معاہدے کے تحت ان کو دے گی اور انتقاماً وہ گیلانی کو بھی کھڑکا دے گی۔
وہ کہتی ہے کہ گیلانی بہت گھناؤنے اور بھیانک کردار کا حامل ہے۔ میں نے اس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ اسے تمہارے میرے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اس کے لیے اس کی جنسی ترغیبات کے حوالے سے اسے بہت رعایتیں دی تھیں۔ اسے نہ جانے حسد کی کون سی آگ نے تمہارے بارے میں گھیر لیا ہے۔ تمہارا جانی دشمن ہو گیا ہے۔ میں اس سارے کھیل کو اب انجام تک پہنچانا چاہتی ہوں مگر مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ میں دو قریبی مرد بھی کھو دوں اور اپنے اصل مشن سے بھی رو گردانی کروں۔
یہ سب کچھ سن کر میں سوچتا رہا کہ پیوما کا یہ ایک دلفریب جال ہے جو وہ سعدی کے گرد بن چکی ہے۔ یہ اس کا سعدی سے بے پایاں عشق ہے جس میں جنس کا پہلو غیر ضروری طور پر دہلیز پر شور مچانے کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ اسے مہرین سے جدا کر کے گیلانی سے خود اپنی جان چھڑا کر امریکہ لے جانا چاہتی ہے۔ سیدھا سادہ گھر گرہستی کا منصوبہ۔
(جاری ہے)

