اور لڑکی میں جن آ گیا (دوسرا اور آخری حصہ)
شرفو اپنی زائد آمدنی کے لئے لگاتار کوششیں کر رہا تھا۔ ہر دو تین مہینے میں وہ ایک ایسی لڑکی تلاش کرنے میں ضرور کامیاب ہو جاتا، جس کے ماں باپ کو بھی وہ کسی نہ کسی طریقے سے راضی کر چکا ہوتا اور وہ لڑکی بھی چودھری کو پسند آ جاتی۔ مگر ہر ایسی لڑکی چودھری کے پاس آنے سے پہلے جنڈل گھمباٹا کی دوستی کا ذکر چھیڑ دیتی۔ اس کے ساتھ ہی چودھری کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے اپنا ارادہ تبدیل کر لیتا۔ جنڈل گھمباٹا کا تصور اب چودھری کے دماغ پر اتنا سوار ہو چکا تھا کہ کئی بار وہ اسے خواب میں بھی نظر آنے لگا۔ وہ جنڈل گھمباٹا کو دیکھ کر ڈر جاتا۔ اس کا ایک اثر تو یہ ہوا کہ چودھری نے اس علاقے کی لڑکیوں کے بارے میں سوچنا ہی بند کر دیا۔ نجانے اس کے دماغ میں جنڈل گھمباٹا کی کیا شکل تھی مگر آمنہ بی بی نے اسے کئی بار بتایا کہ وہ سوئے ہوئے اکثر جنڈل گھمباٹا نام کے کسی شخص سے لڑتا رہتا ہے۔
ادھر سولہ سال کی عمر کو پہنچنے تک رضیہ کا رنگ روپ ایسا نکھر آیا تھا کہ وہ ناولوں، افسانوں کی شہزادی لگنے لگی تھی۔ وہی رضیہ، جو چودہ سال کی عمر میں چودہ سال کی بھی نہیں لگتی تھی، اب سولہ سال کی عمر کو پہنچ کر اٹھارہ سال کی بھرپور عورت دکھنے لگی تھی۔ تنی ہوئی کمان سا بدن، صحت مند جسم، ہرنی جیسی نشیلی مگر للکارتی ہوئی آنکھیں اور چال میں ایک پروقار تمکنت۔ عام آدمی کے لئے تو اس کے چہرے پر نظر ٹکانا بھی آسان نہ رہ گیا تھا۔
وہ اپنے کھیتوں میں دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے کھردرے کپڑے کی شلوار قمیض پہنتی اور لمبے، سیاہ، گھنے اور چمکدار بالوں کو مردوں کی طرح کی ایک پگڑی میں چھپائے رکھتی۔ سامان لے کر منڈی بھی اسی حلیے میں جاتی۔ البتہ اپنے گھر میں وہ ایک خوبصورت، نازک مگر ایک بارعب عورت کا روپ دھار لیتی۔ باپ کے چھوٹے سے مکان میں اس نے تین کھلے کمروں اور ایک وسیع غسل خانہ کا اضافہ کر لیا تھا۔ ہفتے میں دو دن گھر میں رہ کر وہ اپنے روپ سنگھار پر بھی توجہ دیتی اور اس ضمن میں مددگار عورتیں بھی اپنی ڈیوٹی دیا کرتیں۔
سعدیہ احمد اب واپس اپنے گھر جا چکی تھی۔ وہ دراصل کوئی باقاعدہ استانی تھی بھی نہیں۔ بے شک اچھی تعلیم یافتہ تھی اور ایک خاصے پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ جب رضیہ کو کسی ایسی مددگار کی ضرورت پڑی تو اس وقت وہ خود بھی کام کی تلاش میں تھی۔ اس کے خاوند کی، جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا، اچانک نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر کے اخراجات چلانا مشکل ہو رہے تھے۔ دونوں میاں بیوی نے مشورہ کیا اور سعدیہ احمد، رضیہ کی نوکری پر چلی آئی۔ اس دوران میں خاوند ہی بچوں کو سنبھالتا رہا۔ جب تک سعدیہ احمد کے خاوند کو نوکری ملی، رضیہ کو بھی اب اس کی زیادہ ضرورت نہ رہ گئی تھی۔ سو وہ واپس اپنے بچوں کی ذمہ داری سنبھالنے گھر لوٹ آئی۔
رضیہ کا اس سے ملنا جلنا اب بھی جاری تھا۔ وہ جب بھی کسی کام سے شہر آتی تو موقع پاتے ہی سعدیہ احمد کے پاس پہنچ جاتی۔ اس کے لئے بہت سے تحفے لے جاتی اور گھنٹوں اس کے ساتھ گزارتی۔ رضیہ ایک تابعدار شاگرد کی طرح اب بھی ہر کام کے لئے اس سے مشورہ لیتی۔ سعدیہ بھی پورے دل سے اس کی رہنمائی کرتی۔ مردوں کی اس دنیا میں عزت سے جینے کے طریقے اور دانائی کی ہر بات جو خود جانتی تھی وہ رضیہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہتی۔
رضیہ کے کھیتوں پر کام کرتی ہوئی عورتوں نے ثابت کر دیا تھا کہ افزائش چاہے انسانوں کی ہو یا نباتات کی، ان کی نگہداشت جس محبت سے عورت کر سکتی ہے، ویسے کوئی مرد نہیں کر سکتا۔ بیج بونے سے لے کر اسے سینچنے اور اس کی دیکھ ریکھ کرنے کی خاص طاقت جو فطرت نے عورت کو ودیعت کی ہے وہ مردوں کے حصے میں نہیں آئی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک مربع اراضی پر محیط رضیہ کے کھیتوں کو حکومت کی طرف سے ایک مثالی فارم کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ محکمۂ زراعت کے بڑے بڑے لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے، اسے سراہتے اور اس مثالی فارم کی ترقی کے لئے جاری کیے گئے فنڈز میں مزید اضافے بھی کرتے رہتے۔ چودھری حاکم نے اپنے ذرائع سے کئی بار ان معاملات میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی مگر اسے کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔ یوں ملکی سیاست میں بڑے بڑے اہم سازشی منصوبے بنانے والا چودھری حاکم اس چھوٹی سی لڑکی کے سامنے بے بس نظر آتا تھا۔
یہ پچیس ایکڑ جو کبھی چودھری حاکم کی ملکیت تھے۔ اب وہاں چودھری کا نام تک بھی نہیں لیا جاتا تھا۔ ان کی مالک اب رضیہ تھی۔ چودھری کی سینکڑوں مربع زمین کے عین درمیان میں، مثالی فارم کے نام سے مشہور صرف ایک مربع اراضی کا یہ ٹکڑا اس کے سینے پر مونگ دل رہا تھا۔
اسی آگ میں جلتا ہوا چودھری، آئے دن وکیلوں اور پٹواریوں سے مشورہ کرتا کہ کیا طریقہ ہو جو وہ یہ زمین واپس حاصل کر سکے۔ رضیہ کو اس کے ارادوں کی خبر ملی تووہ سیدھی اس کے پاس جا پہنچی۔ اس نے چودھری کو بتایا کہ کھیت ملکیت کے نام کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس محبت کے سبب ترقی کرتے ہیں جو ان سے کی جاتی ہے۔ اس نے چودھری کو وارننگ بھی دی کہ اگر وہ اپنے ان شیطانی ارادوں سے باز نہیں آیا، تو وہ اسے ایسی حالت میں پہنچا دے گی، جہاں مرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا اور زندگی اس کا ساتھ نہیں دے گی۔ چودھری کے لئے یہ بہت بڑا چیلنج تھا مگر اسے ابھی اس عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
بہار اپنے عروج پر تھی۔ صرف سرسوں کے کھیت ہی پیلے پھولوں سے بھرے ہوئے نہیں تھے بلکہ کیکر کے درختوں کی شاخیں بھی سونے کی ننھی ننھی کلیوں سے لدی ہر آنے جانے والے کو فخریہ انداز میں دیکھ رہی تھیں۔ رضیہ نے بینک کے ذریعے قسطوں پر ایک ٹریکٹر، ٹرالی اور ایک چھوٹی گاڑی بھی خرید لی تھی۔ ان دنوں اس کے فارم سے سبزیوں کی لدی ہوئی ٹرالیاں روز شام کو شہر کا رخ کرتیں اور دوسرے دن نوٹوں سے بھرے ہوئے تھیلے لے کر لوٹتیں۔ سترہ سال کی عمر میں ہی رضیہ کی ذہانت، قابلیت، محنت اور حسن کا ڈنکا بج رہا تھا۔ جن خاندانوں میں طلاق یافتہ لڑکیوں کو آج تک اچھوت سمجھا جاتا تھا، ان کے نوجوان بھی اب رضیہ کے خواب دیکھنے لگے تھے۔
انہی دنوں چودھری حاکم کے بڑے بیٹے چودھری اکبر کی گاؤں میں آمد ہوئی۔ وہ کئی مہینے پہلے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اب کوئی اچھا سا کاروبار کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔ اس کا قیام تو پڑھائی کے دوران بھی لاہور کے ایک علیحدہ بنگلے میں رہا تھا، جہاں اسے نوکر چاکر اور ہر طرح کا آرام حاصل تھا۔ وہ اب بھی وہیں رہ رہا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی چودھری انور بھی اس کے ساتھ اسی بنگلے میں رہائش پذیر تھا۔ باپ کے فارم ہاؤس میں تو دونوں کبھی کبھار ہی جاتے تھے لیکن آپس میں بھی دونوں کی سوچوں میں کوئی سانجھ نہ تھی۔
ایک بات البتہ دونوں میں مشترک تھی۔ دونوں کو ہی باپ کی کھیتی باڑی یا انداز سیاست سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ بڑا یعنی اکبر تو کسی بڑے کاروبار کے دھیان میں تھا مگر چھوٹا نفسیات اور تاریخ کا طالب علم تھا۔ اس کے پروگرام میں ایم اے تاریخ اور ایم ایس سی نفسیات کی ڈگریوں کا حصول ضروری تھا۔
چودھری اکبر اپنے کچھ سرمایہ دار اور مہم جو دوستوں کے ساتھ، بہار کے موسم میں آنے والے پرندوں کے شکار کے لئے آیا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں آ کر رضیہ کی محبت کا شکار ہو جائے گا۔ گاؤں کی زندگی تو کیا اسے تو کبھی اپنی عیاشیوں کے ضمن میں بھی دیہاتی لڑکیوں میں کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ باپ کے بارے میں بھی ایسی خبروں کو اس نے کبھی توجہ کے قابل نہیں سمجھا تھا۔
اس وقت وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ باپ کی حویلی میں قیام پذیر تھا۔ وہ سب صبح کے ناشتے کے بعد ہی نوکروں کو ہمراہ لیتے اور پرندوں کے شکار کو نکل جاتے۔ دن بھر وہ شکار کرتے، شام کو حویلی آ کر شراب پینے اور موسیقی سننے میں مصروف ہو جاتے۔ ان کی بھوک کے تیز ہونے تک، دن بھر کا کیا ہوا شکار پک کر ان کے دسترخوان پر آ جاتا اور کھانا کھانے کے بعد سوائے چودھری اکبر کے سب گہری نیند سو جاتے۔
چودھری اکبر جب سے یہاں آیا تھا وہ رضیہ کے حسن، اس کی ذہانت اور ہر دل عزیزی کی خبریں سن رہا تھا۔ وہ چند دن اس کے باپ کی بیوی رہ چکی تھی، اس کی تھوڑی بہت بھنک تو تھی اسے، مگر وہ اتنی چھوٹی عمر میں اس علاقے کی ایسی اہم شخصیت بن چکی ہے، اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لگاتار کئی دنوں تک بار بار اس کے قصیدے سننے کے بعد ایک دوپہر وہ بن بلائے مہمان کی طرح اکیلا اس کے فارم پر جا پہنچا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

