اور لڑکی میں جن آ گیا (دوسرا اور آخری حصہ)
منصوبہ کے راز داروں میں سے کوئی پیٹ کا ہلکا تھا یا شاید کسی سازش کے تحت ہی یہ افواہ بھی پھیلا دی گئی تھی کہ اس دن شرفو نائی کی تیرہ سالہ بیٹی کی عصمت سرعام تار تار کی جائے گی۔ چہ مگوئیوں میں چودھری اکبر کا نام بھی آ رہا تھا اور شاداں کے بھائی کا بھی۔ شرفو نائی، اس کی بیوی اور بیٹی تینوں غائب تھے، یا غائب کر دیے گئے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انہیں اصل وقت تک کے لئے کہیں قید کر لیا گیا ہے۔
وقوعہ کے روز، لوگوں کے آنے سے پہلے ہی، چودھری کے ڈیرے پر ایک بڑی سٹیج بنا دی گئی تھی، جو ہر طرف سے اور آسانی سے نظر آ رہی تھی۔ علاقے کے بے شمار لوگ وہاں موجود تھے۔ عورتوں کے بیٹھنے کا علیحدہ بندوبست کیا گیا تھا تاکہ وہ بھی پورا تماشا آرام سے دیکھ سکیں۔
وقت آنے پر چودھری اکبر سٹیج پر نمودار ہوا۔ اس نے سب کو مخاطب کیا ”پچھلے تیس سالوں میں میرے باپ چودھری حاکم نے شرفو نائی کی مدد سے اس علاقے کی بہت سی کنواری لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے معززین میرے پاس ان لڑکیوں کے لئے انصاف مانگنے آئے ہیں۔ اور میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ انصاف ہو گا۔ مجرم دو ہیں۔ ایک میرا باپ چودھری حاکم اور دوسرا شرفو نائی۔ میرا باپ اس وقت پاگل خانے میں ہے، اس لئے اسے تو کوئی بھی سزا وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
شرفو نائی البتہ یہاں موجود ہے۔ اس نے چودھری حاکم کی اس جرم میں سب سے زیادہ مدد کی تھی اور وہ بھی صرف اپنے لالچ کے لئے۔ اس لئے پہلے اسے سزا دی جائے گی۔ اس کی سزا یہ مقرر کی گئی ہے کہ آج اس سٹیج پر آپ سب کے سامنے، اس کی تیرہ سالہ کنواری بیٹی کی عزت تار تار کی جائے گی۔ تاکہ سب دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو ”۔
مجمع میں سے ایک آدمی کھڑا ہو کر بولا ”لیکن یہ تو پولیس اور عدالت کا کام ہے۔ آپ شرفو کو یہ سزا کیسے دے سکتے ہیں؟“ ۔
چودھری اکبر کے کارندوں نے فوراً اس آدمی کو قبضے میں لے لیا۔
”شرفو کو یہ سزا ہم ہی دیں گے اور یہ کام کرے گا شاداں جھلی کا بھائی۔ یہاں، آپ سب کے سامنے۔ اس ڈیرے سے باہر جانے والے تمام راستے ہمارے لوگوں نے بند کر رکھے ہیں۔ جو بھی یہاں سے نکل کر پولیس کے پاس جانے کی کوشش کرے گا، اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی“ ۔
کچھ بزرگ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مشورہ کرنے کی اجازت مانگی۔ چودھری اکبر نے انہیں یہ اجازت دے دی۔ وہ لوگ مشورہ کرنے کے بعد چودھری اکبر کے پاس آئے اور استدعا کی کہ آپ لوگ شرفو کو سزا دینے کے لئے یہ کام ضرور کریں مگر یہاں سب کے سامنے نہیں بلکہ کہیں پردے میں۔
تب رضیہ بی بی سٹیج پر آ گئی۔ اس نے اکبر کو پیچھے ہٹایا، سب کو چپ کرایا، پھر وہاں موجود لوگوں سے بولی ”آپ نے سنا کہ علاقے کے معززین نے کیا استدعا کی ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ شرفو کی بیٹی کے ساتھ یہ سلوک تو بے شک کرو لیکن سب کے سامنے نہیں۔ ارے میں آپ سے پوچھتی ہوں، آپ میں کوئی ایک بھی ایسا مرد نہیں ہے جو یہ سوال کر سکے کہ شرفو کے گناہوں کی سزا اس کی معصوم بیٹی کو کیوں دی جائے؟ گناہ شرفو کے ہیں تو سزا بھی اسی کو دی جائے اور اسی طرح بعد میں چودھری حاکم کو بھی“ ۔
مجمع پر خاموشی چھا گئی۔ چودھری اکبر کے چہرے پر صاف لکھا تھا کہ یہ بات ایسے تو طے نہیں ہوئی تھی جیسے کہ رضیہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر رضیہ نے بات جاری رکھی
”میں خود شرفو کی سازش اور چودھری کے ظلم کا نشانہ بنی ہوں لیکن میں شرفو کی بیٹی کے ساتھ یہ زیادتی نہیں ہونے دوں گی۔ گناہ کسی کا اور سزا کسی اور کو؟ آپ لوگ کب تک مردوں کے گناہوں کی سزا ان کی بہنوں اور بیٹیوں کو دیتے رہیں گے؟ کب آپ کو غیرت آئے گی کہ یہ نوبت کبھی آپ کی بیٹی یا بہن کے ساتھ بھی آ سکتی ہے؟ کیوں کسی گناہ کی سزا گناہگار مرد کو نہیں دی جاتی؟ میں چاہتی ہوں کہ شرفو اور چودھری حاکم کے جرائم کا فیصلہ ہمارے علاقے کی پنچایت کرے اور پھر انہی کو سزا بھی دے۔ بولو، کون کون میرا ساتھ دینے کے لئے تیار ہے؟ ”۔
اتنے بڑے مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ مکمل سناٹا چھا گیا۔ چودھری اکبر کا خوف یا جو بھی وجہ ہو لیکن سب گردنیں جھکا کر بیٹھ گئے۔ تقریباً ایک منٹ ایسے ہی گزر گیا۔ پھر سب سے پہلے شاداں جھلی کھڑی ہوئی اور اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں رضیہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اسے دیکھ کر ایک ایک دو دو کر کے کچھ کم عمر اور نوجوان لڑکیاں کھڑی ہوئیں اور شاداں کی آواز میں آواز ملائی۔ پھر جوان اور شادی شدہ عورتیں اور بزرگ خواتین نے کھڑے ہو کر بلند آواز میں رضیہ سے کہا کہ تمہارا سوال درست ہے۔ مردوں کے گناہوں کی سزا ان کی بہنوں اور بیٹیوں کو کیوں دی جائے؟
تمام مرد ابھی تک خاموش بیٹھے تھے مگر جب تمام بچیاں، لڑکیاں اور خواتین رضیہ کا ساتھ دینے کے لئے کھڑی ہو گئیں تو ان کے پاس بھی کوئی چارہ نہ رہا۔ وہ سب بھی کھڑے ہو گئے اور رضیہ کا ساتھ دینے کا اقرار کیا۔ اس کے بعد تو سارے مجمع نے ”رضیہ بی بی زندہ باد“ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ چار و ناچار چودھری اکبر بھی اٹھا اور اس نے مجمع کی آواز کو قبول کر لیا۔
کچھ دنوں بعد چودھری اکبر اور رضیہ بی بی کی بھی شادی ہو گئی۔ چودھری اکبر برات لے کر رضیہ کے گھر آیا مگر نکاح کے بعد آخری شرط کے طور پر اسے وہیں رکنا پڑا۔ سہاگ رات کا بندوبست وہیں کیا گیا تھا۔ البتہ حجلۂ عروسی میں جانے سے پہلے رضیہ بی بی کے بڑے غسل ہال میں چودھری اکبر کو رضیہ کے آدمیوں نے دوبارہ سے غسل دیا۔
سہاگ رات کے بعد بھی رضیہ، چودھری کی حویلی میں نہیں گئی بلکہ دونوں نے اپنے اپنے پیسے ملا کر وہاں ایک گزارے لائق گھر خریدا۔ اسے بنایا سنوارا، پھر اس میں شفٹ ہو گئے۔ وہیں ایک دن اکبر نے رضیہ سے پوچھا کہ یہ جن والا معاملہ کیا تھا اب تو بتا دو۔
رضیہ بولی ”پہلے تو مجھے نہیں پتہ یہ جن ون کیا ہوتا ہے؟ لیکن یہ ضرور جانتی ہوں کہ عورت میں باہر سے کبھی کوئی جن وغیرہ نہیں آ سکتا۔ البتہ جب بھی کوئی عورت، کوئی لڑکی یہ ٹھان لیتی ہے کہ ہر ظلم کے خلاف اپنی لڑائی اسے خود ہی لڑنی پڑے گی تو اس میں اتنی طاقت، حوصلہ اور صبر آ جاتا ہے کہ دیکھنے والے سمجھتے ہیں، اس کے اندر کوئی غیر انسانی طاقت آ گئی ہے۔ گو یہ سب قوت عورت کے اندر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہے، صرف پہلے اسے اس کا اندازہ نہیں ہوتا“ ۔

