سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد


ہمیشہ کی طرح وقت کم تھا، مقابلہ سخت، فوائیس جھیل کی راہ لی۔ اس مرتبہ سی۔ این۔ جی ہماری سواری ٹھہری۔ جنگلے اور کنڈی سے دونوں اطراف ایسے محفوظ کی گئی تھیں جیسے سوار کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہو۔ راستے میں چٹاگانگ کے مزاج کو جذب کرنا چاہا۔ کیونکہ ایک مختلف ملک میں تھا، مگر مختلف کیا قبول کروں؟ وہی ٹوپیاں پہنے اسلام و علیکم، وعلیکم سلام کرتے لوگ۔ مسجدوں سے اذانوں کی آوازیں، غریبوں کے ننگ دھڑنگ بچے اپنی غربت سے بے نیاز گلیوں میں کھیلتے ہوئے۔ وہ تاثر کے بنگالی اسلام موسیقی، رقص اور ہندو اثر سے آلودہ ہے، پہلے روز ہی مٹنا شروع ہو گیا۔ ایک تو ظلم و جبر کی داستاں رقم کرتے یہ ڈکٹیٹر اور پھر مؤرخین کو مامور کرتے تاریخ کو مسخ کرنے پر کہ آنے والی نسلیں بھی ان کے جبر کو جائز قرار دیں۔ فوائیس جھیل 1924 میں پہاڑوں کا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ ڈیم نما جھیل کے نیچے بچوں کا پارک ہے۔ سکائی وہیل سے پورے چھوٹوگرام کا نظارہ کیا۔ گو چٹاگانگ کرکٹ سٹیڈیم کا نظارہ ہمارے کمرے سے خوب تھا، پھر بھی واپسی پر قریب سے دیکھا کیے۔ مڈل کلس کلبوں اور لوئر کلاس نوجوانوں سے سٹیڈیم کے اردگرد کا علاقہ بھرا ہوا تھا۔

ہوٹل آ کر سوٹ پہنا اور کانفرنس کے فلور کی راہ لی کہ جس کام کی وجہ سے ویزہ ملا تھا، وہ بھی کر لیں۔ تین ہالوں میں مختلف کارروائیاں چل رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ ہندوستانیوں اور نیپالیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، سارک ممالک کی کانفرنس اور 22 کروڑ کے ممبر ملک سے نمائندہ صرف میں۔ تاریخ کے فیصلوں کا تاوان۔ میرے ٹرانس جینڈر سے متعلق مقالے کو توجہ سے سنا گیا، خاص طور پر نیپال سے آئے ایک سینئر سائیکاٹرسٹ نے بہت سراہا کہ اس نازک موضوع کو ہم نے تحقیق کے لئے چنا۔ بنگالی میڈیکل کے طلباء اور ٹرینیز نے بھی ہمیں سیلیبرٹی کے طور پر لیا اور تصاویر بنوائیں۔ لابی میں کمپنیوں والے۔ مندوبین کی تصاویر لے کر ٹی شرٹ پر نقش کر کے بانٹ رہے تھے۔ بہت غور سے دیکھنے پر بھی کوئی موجودہ دور کا ہم وطن نہ ملا۔ ہاں بیشتر لوگ میرے نانا دادا کے ہم وطن ضرور تھے۔ نسل در نسل وطنیت کا کانسیپٹ بدل جانا کتنا صحتمند ہے، مؤرخین کو ایمانداری سے لکھنا پڑے گا۔ آگ کے دریا سے گزرنا پڑے گا۔

بنگالی نیوی کے سائیکالوجسٹ سے بھی خوب گپ رہی۔ 91 کی بنگلہ دیش میانمار جنگ پر موصوف کو بڑا فخر تھا۔ بھلا جنگیں بھی فخر کرنے کی شے ہوتیں۔ کس طرف لگا دیا ہمیں پہلے مغلوں نے، پھر گوروں نے، پھر جرنیلوں نے اور آخر میں مولویوں نے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آج کی سرزمین بنگال کے تعلقات تو ہمسایوں سے خاصے اچھے ہیں پھر اتنا بجٹ فوج کی نذر کیوں؟ جواب آیا کہ فوج عزت کی علامت ہے۔ اچھی فوج ہو تو دنیا آپ کو سنجیدہ لیتی۔ ہم نے کہا کہ بھائی دنیا آپ کو سنجیدہ لیتی بہتر معیشت پر، عام آدمی کا معیار زندگی بہتر کرنے پر، فوج پالنے پر نہیں۔ اگر یہی سوچ رکھنی تھی تو ساتھ ہی رہتے۔ موصوف نے ڈھاکہ شاپنگ پر بھی راہنمائی کی اور بار بار اس بات کا اظہار کیا کہ میں ان کا سپیشل گیسٹ ہوں۔

کاش الگ ہو کر، تقدیر کے فیصلے کا احترام کر کے، ہم ایسے ہی ایک دوسرے کو علاقائی ساتھی کے طور پر آگمینٹ کر لیتے۔ مگر اس خطے کے خمیر میں شاید، ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر احسن طریقے سے الگ ہونا جانتے ہی نہیں۔ کوئی طلاق سکون سے نہیں ہوتی، کوئی سرحدی لکیر خون کے بغیر نہیں کھینچی جاتی۔ بھٹو صاحب اور بنگو بندھو کے درمیان کیا نہیں ہوا مگر دوسری تقسیم کے تیسرے سال بنگو بندھو پاکستان میں بھٹو صاحب کے ساتھ سٹیج شیئر کر رہے تھے۔ وہاں سے آگے جانا تھا۔ نجانے ریورس گیئر ہمارا پسندیدہ گیئر کیوں ہے جسے ہم ہر کچھ سال بعد لگا لیتے ہیں۔ کئی سینئر بنگالی نفسیات دان ہمارے ویزہ مسائل اور بنگال آنے کی لگن سے واقف تھے سو انتہائی گرمجوشی سے ملے اور ویزے کے مسئلے پر معذرت بھی کی۔ رات کھانا اور میٹھا دونوں شاندار تھے۔ انڈیا کے ایک پروفیسر جو سات سال سے ٹی ایم ایس علاج کر رہے تھے، جب سنا کہ میں نے بھی پاکستان میں یہ طریقہ علاج متعرف کرایا ہے تو بے حد خوش ہوئے اور انڈیا آنے کی دعوت دی، ویزے میں مدد کا وعدہ بھی کیا۔ کیسے بتاتا کہ اس خواہش کو میں اب خود ہی حسرت مان چکا ہوں۔

ہمارے آئرلینڈ کے دوست نے اپنے تعلقات کے ذریعے ایک ٹریول ایجنٹ سے لنک کرا دیا جو پچھلے روز سر شام ہمیں ملنے آ گیا تھا اور اگلے پورے دن کا پلان دے گیا تھا۔ چٹاگانگ کی زیادہ خوبصورتی میانمار کی سرحد کی طرف ہے۔ وہاں کوئی فارنر جانا چاہے تو تین طرح کی انتظامیہ سے اجازت نامہ درکار ہے اور کسی ایک کی بھی ناں کا مطلب مکمل ناں۔ لہذا شہر اور قریبی علاقے کو کھنگالنا ہی مناسب معلوم ہوا۔ ٹریول ایجنٹ جو کہ اب گائیڈ بھی تھا، ہندو بنگالی تھا اور زیادہ تر نیپال اور ملائشیا کے ٹرپ کراتا تھا۔ اس نے دوران سفر کافی اندرونی راز افشا کیے۔ بنگالی صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے۔ کچھ چیزیں دیواریں چننے کے بعد بھی دونوں طرف ایک سی ہیں۔

ٹور گائیڈ نے اپنے دیش باسیوں کی ڈریس سینس پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ لنگی جو سلیپنگ ڈریس ہونا چاہیے، یہ سر عام پہن کے گھومتے ہیں۔ ہم نے حیرانی کا اظہار کیا کہ یہاں اتنی غربت ہے تو سیر کرنے ملائشیا کون جاتا ہو گا؟ جواب دلچسپ تھا کہ پاسپورٹ پر ملائیشیا، سنگاپور اور چائنہ کے ویزے کی مہر لگی ہو تو یوکے کا ویزہ آسانی سے لگ جاتا ہے۔ وہی، ایک ہی رخ کی اسیری۔ جب کافی بنگال واسیوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی تو ایک نے بھید کھولا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ وہ خطہ دیکھنے کے شائق ہیں خاص طور پر نئی نسل مگر بنگالی پاسپورٹ پر پاکستانی ویزے کی مہر ثبت ہو تو انڈیا اور امریکہ کا ویزا مشکل ہو جاتا۔ وہی تیسری دنیا کے مسائل۔ راستہ طویل تھا تو گائیڈ نے راز افشانی جاری رکھی۔ مین ہائی وے پر سی این جی کو رسائی نہ دی گئی تو ڈرائیور گنجان آباد علاقے سے ہو لیا۔ آکسیجن نامی علاقہ اور بازار پنڈی کے راجہ بازار سے مشابہ تھے۔ قطار اندر قطار کریانہ سٹور اور ان کے باہر پھلوں کے ٹھیلے، ان میں کام کرتا پسینے میں شرابور عام آدمی، زمیں کا بوجھ ڈھوتا ہوا۔

بھاٹیاری میں تیسری دنیا کی زمین کا بیشتر بوجھ تھا، یعنی کنٹونمنٹ۔ مقدس سرزمین شروع ہوتے ہی منظر جیسے بہت شناسا سا ہو گیا۔ ایک طرف بیرئیر، ایک طرف کوارٹر گارڈ اور ایک طرف بی ایم اے کا راستہ۔ ہم چونکہ عام آدم تھے اور وہ بھی اب دوسرے ملک کے سو ٹریننگ ایریا کو دور سے دیکھا کیے اور سبزے میں گھری خوبصورت جھیل کے ساتھ سیر پر اکتفا کیا۔ وہاں موجود ٹینک تب کے مشرقی پاکستان اور اب کے صرف پاکستان کے تھے اور ہمارے اندر ملے جلے جذبات ابھار رہے تھے۔ گائیڈ کی زبانی معلوم ہوا کے انڈیا کے لیے نرم گوشہ ہے آج کے بنگلہ دیش میں مگر خطے کی سیاست بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آج کل دوڑ اپنی اپنی ہے۔ بنگلہ دیش میں دو ہی دن میں خد و خال میں بے تحاشا ورائٹی دیکھی۔ سب بنگالی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ چھوٹے قد اور سانولے رنگ کے تیز تیز بولتے لوگ زیادہ تر ضرور ہوں گے مگر تمام تر نہیں۔ میانمار کے پاس کے علاقوں میں بسنے والے منگول خد و خال کے مالک، 180 ڈگری کے فرق پر بسنے والے اسی ملک میں رہتے ہوئے 180 ڈگری مختلف۔ خدا کے کارخانے کا شکلیں بنانے والا شعبہ بڑا ایڈوانس ہے جی۔ 5۔ 6 ٪ آبادی ہندو اور 1 ٪ بدھ مت کے پیروکار۔ اقلیتوں کے حقوق ویسے ہی جیسے ہمارے ہاں، کچھ چیزیں تو لے کے چلنا ضروری تھا نا۔

بھاٹیاری کا خوبصورت گالف کورس، ندیوں اور پارکوں میں گھرا ہوا۔ اسے خوبصورت بناتا، لنگی پہنے سب کی زندگیوں کی گاڑی ڈھوتا عام آدمی بالکل بغل میں اپنے دن پورے کرتا۔ یہ برصغیر کے تیسری دنیا کے ہر ملک کی داستان ہے۔ بھاٹیاری کینٹ سے گزر آگے جنگل اور جھیل پہ مشتمل وہ علاقہ ہے جو بنگال کی پہچان ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے جنگلوں اور ندیوں کو کاٹ کر یہاں انسانی آبادی نے نمو پائی ہے۔ وہی سکوت جس پر تقریر اور تقدیر دونوں فدا۔ کیلے کے بے شمار درخت ادھر، نمک کی کان ادھر اور بیش قیمت اشیاء کی فراوانی غیر کے کا شانوں پر۔ جی ای سی میں شاپنگ مال اور گاڑیوں کا رش۔ وہی بے ہنگم سے نظارے، مشرق کے رش اور مغرب کے رش میں شاید یہی بے ہنگم پن فرق ڈالتا ہے۔ بنگلہ دیشی گورنمنٹ انسانی رکشوں پر پابندی کا سوچ رہی ہے۔ متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں دشواری اس پابندی میں تاخیر کا بڑا سبب ہے۔ رش میں ایک سی این جی نے ہماری سواری سے قدرے گلے ملنا چاہا اور کسی حد تک ایک جھٹکے سے مل بھی لیا تو ہم خوفزدہ ہو گئے کہ اب تو رن پڑے گا۔ نظروں کے خوفناک تبادلے پر دونوں ڈرائیوروں نے اکتفا کیا تو ہماری جان میں جان آئی۔

معلوم ہوا کہ مالکان ان ڈرائیوروں کا بھی کافی استحصال کرتے ہیں۔ یہ قصہ آج کا تھوڑا ہی۔ مغلیہ راج میں بھی زمیں کے بوجھ تلے یہی طبقہ پس رہا تھا، لوکل نوابوں کے ذریعے انگریزوں نے بھی ان ہی کے خون پسینے سے اپنی سلطنت کو سینچا۔ مغربی پاکستان کے ڈکٹیٹروں کے ادوار میں بھی یہی لوگ رل رہے تھے اور آج بھی ان ہی کا استحصال جاری۔ یا تو ان ہی کی کوئی غلطی یا پھر ”اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے“ ۔ کھلشی کا پوش علاقہ دیکھنے سے معذرت کی، ہاں یہ ضرور پوچھا کہ کوئی ڈی ایچ اے یا بحریہ ٹاؤن ہے تو دکھاؤ۔ ایسی کوئی جگہ وہاں کے باسیوں کے نصیب میں فی الحال نہ تھی۔ بچارے۔ ہانڈی ریستوران میں بیٹھ کر حیدرآبادی بریانی نوش کی۔ پاکستانی مسلمان، بنگلہ دیش میں، بنگالی ہندو کے ساتھ انڈین ڈش اڑا رہا۔ سرحدوں، ناموں اور مذہبوں کے فرق کو زبان کا چٹخارہ اور شکم کی آگ کچھ نہیں سمجھتی۔ یہ دو حقیقتیں کچھ دیر کے لئے سب کچھ نگل لیتی ہیں۔ ہوٹل کی کھڑکی سے باہر کا منظر۔ کچھ سیدھے اور کچھ ٹیڑھے کھمبے، ان میں الجھی بجلی کی تاریں، میری سوچوں کی طرح۔ مگر اپنے تمام تر الجھاؤ کے باوجود کام کرتی ہوئی، بجلیاں پہنچاتی ہوئی۔ بے ہنگم ٹریفک، ہارنوں کا شور، زندگی کی رفتار اور معیار سے جنگ کرتے لوگ۔ صرف لنگیوں کی جگہ شلواریں اور انسانی رکشوں کی جگہ رنگین سوزوکیاں لے آئیں تو منظر راولپنڈی کی مری روڈ پر بنے لاثانیہ کی کھڑکی کا سا ہو جائے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6