سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد


اسی سڑک پر آگے چل کر ماحول بہتر اور پوش ہو گیا کہ اب ان کی جگہ آنے والی تھی جن کا بوجھ غریب عوام اٹھاتی ہے۔ حکومتی طبقہ اور اشرافیہ۔ منزل پارلیمنٹ ہاؤس تھی۔ ارد گرد پولیس اور فوج کی نفری بڑھ گئی۔ صرف ملحقہ فٹ پاتھ پر چلنا منع تھا۔ باقی کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ بچپن کیا گزرا ہمارا، ہمارے ہاں سیکیورٹی کے نام پر ہر عمارت ہی معتبر ہو گئی اور اتنی معتبر کہ رسائی ہی ناممکن۔ پارلیمنٹ کے باہر پارک اور جھیل میں لوگوں کا رش تھا جیسے پبلک پارک ہو۔ عمارت آزادی میوزیم سے مشابہ تھی۔ چونکہ ہم آرکیٹیکٹ نہیں اور نہ ہی اس شعبے میں زیادہ دلچسپی ہے سو اس زاویے سے کمنٹ کرنا مشکل۔ یہ خیال ضرور آتا کہ غریب ملک میں بیٹھ کر غریبوں کے ٹیکس پر غریبوں کے لئے قانون سازی سستی اور عام عمارت میں کیوں نہیں ہو سکتی۔

کچھ دیر سامنے بیٹھ کر ساحر کی تاج محل گنگنائی۔ اوبر ڈرائیور ہندی جانتا تھا اور ہمارے پاکستانی ہونے کا سن کر بولا پھر تو ہم بھائی ہوئے۔ نجانے گاہک پھنسا رہا تھا یا واقعی سویٹ تھا۔ دونوں صورتوں میں پھر وہی بات کہ پیٹ کا جہنم بڑا ہے اور نیشنلزم کے چھوٹے جہنم کو نگل جاتا۔ پتہ نہیں سڑکوں پر درگا پوجا کے کارن رش تھا یا ویسے ہی ڈھاکہ کراچی کی طرح ہر وقت چوک رہتا ہے۔ اننیا مارکیٹ کمال کی جگہ نکلی۔ برینڈڈ کپڑوں کو نان برینڈڈ کے دام خریدیں۔ آئرلینڈ کا کلڈئیر ولیج یاد آ گیا۔ دو تین دکانوں سے بھاؤ تاؤ کر کے کافی مردانہ گارمنٹس اپنے تھیلے کا حصہ بنائے۔ واپسی کا اوبر ڈرائیور بھی پاکستانی کرکٹ اور شاہد آفریدی کا فین نکلا۔ کچھ راز کی باتیں بھی بتائیں کہ موجودہ گورنمنٹ انڈین نواز ہے اور لوکل لوگوں کا استحصال کر کے انڈین اور چینی لوگوں کو نوکریاں بانٹی جا رہی ہے۔ ویسے باقی باتیں ایک طرف رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا اقدام گورنمنٹ کا ہمیں اچھا ہی لگا۔

اگلی صبح پرانا ڈھا کا کھنگالنا تھا۔ رش کم اور ہوا خوشگوار تھی۔ وزیراعظم کی رہائشگاہ اور کینٹ کا علاقہ ویسا ہی تھا جیسا اسے ہونا چاہیے۔ سیف اور صاف۔ بی ایم ایم یو کی عمارت نئی اور وسیع تھی۔ میٹرو کے مناظر کچھ کچھ پشاور میٹرو جیسے تھے۔ بائیکیا والے نے سینٹرل شہید مینار اتارا کہ آگے کا سفر پاپیادہ تھا۔ زبان کا دکھ، زبان کا پرائیڈ، زبان کی حفاظت، یہ کیا ماجرا ہے۔ زبان تو صرف خیالات کے اظہار کا راستہ ہے۔ پھر کیوں نیشنلزم کی قبا اوڑھا کر اس کو بھی جنگ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ ماں بولی، سرکاری بولی، ترقی کی بولی اور پھر ہتھیار کی بولی۔ پھر خون ہی خون۔ مگر اس ذریعہؑ اظہار سے بہت کچھ جڑ جاتا ہے۔ اتنا کچھ کہ پھر زبان کا اولین کام پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ نمائندہ بن جاتی ہے اک قوم کا، اک تہذیب کا، اک علاقے کا، کئی نسلوں کا۔ اس کو اکھاڑنا یا یکلخت بدلنا سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں لاتا۔ اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

یہ معاملہ اردو ہندی تنازعے سے مختلف اور بڑا تھا اور انجام بھی اتنا ہی مختلف اور بھیانک ہوا۔ سرخ خونی بیک گراؤنڈ کے آگے جیل نما مینار بڑی صحیح نشانی ہے عبرت کی۔ ارد گرد ڈھاکہ یونیورسٹی کو گھیرے ہوئے وہ گلیاں جنھوں نے مارچ سے دسمبر 1971 پورے 9 ماہ ایک ریاست جننے کا کشت اٹھایا اور بے شمار کٹھنائیوں کے بعد اپنی کٹی پھٹی کوکھ سے بنگلہ دیش جنا۔ 9 مہینے ان گلیوں میں خوف تھا، ہراس تھا، امید تھی، یاس تھی، غربت تھی۔ سب چلا گیا یا پروسیس ہو گیا، غربت رہ گئی۔ اس غربت سے آزادی شاید اصل آزادی ہے جو اس خطے کے لوگوں کو شاید کبھی نہ ملنے دیں گے اس کائنات کے اصل ٹھیکادار۔

راستے میں بھی کیا کیا منظر انسان کے قدم روک لیتے ہیں اور منزل کی نوعیت ہی بدل دیتے ہیں۔ مجسمہ باغ۔ شازی سکدر نے آزادی کے متوالوں اور اس عمل کو مجسمہ سازی سے پیش کرنی کی کوشش کی ہے۔ چونکہ ہم اس فن کے فین یا پارکھ نہیں سو صرف عبرت ہی پکڑ سکتے تھے۔ ایک سیدھا، اونچا مجسمہ، آسمان کی سیدھ میں جیالے بنے ہوئے اور ان کے اوپر بنگو بندھو اور سب سے اوپر پرچم، پیارا پرچم۔ تھے بہت بیدرد لمحے ختم درد عشق کے۔ بنگو بندھو بھی دلچسپ خطاب ہے۔ کافی افقی۔ قائداعظم کافی عمودی اور خادم اعلیٰ غیر شائستہ ٹائپ محسوس ہوتا ہے۔ مگر بنگال کا دوست ہو، پاکستان کا محسن ہو یا ہند کا مہاتما سب کا انجام ان کی اپنی اقوام نے دردناک ہی کیا۔

دھاکیشورری مندر، بارہویں صدی سے چلتی آ رہی ہندو روایت یا عبادت گاہ۔ درگا پوجا کے دن تھے سو باہر سے ہی بے حد رش تھا۔ مندر کے باہر کے حصے میں درگا ماں کی مورتیاں اور نئے کپڑے پہنے، خوشبو لگائے زمیں کا بوجھ اٹھانے والے۔ شاید اپنے ہی پیسے خرچ کے اپنا کچھ بوجھ ان دیکھی طاقتوں کو منتقل کرنا تھا۔ بہرحال میلے کا سا سماں تھا اور اگر اسی بہانے لوگ خوش ہو رہے تھے، اک دوجے سے مل رہے تھے تو کوئی مضائقہ نہ تھا۔ بھر چاہے پنڈت، پادری یا مولوی کی دکان بھی چلے اسی بہانے۔ ہم بھی گھنٹی بجا کر ہاتھ جوڑا کیے مگر گھنٹی سنانا اپنے خدا کو منظور تھا۔ مندر کی عمارت میں سرخ رنگ اور بدھ مندروں سے مشابہت دلچسپ تھی۔ اس کو قومی مندر کا درجہ حاصل ہے اور سرکار اس کو چلا رہی ہے۔ شاید ڈھکا شہر اسی کی اماں میں ہے۔ کیونکہ بنگال میں پانیوں کی حکومت بھی مسلم ہے سو ہر مذہب کی عبادت گاہ کے ساتھ ہولی واٹر کا ریزر وائر ضروری ہے۔

مندر سے قلعے کا راستہ اندرون شہر کی گلیوں سے ہو کر جاتا تھا۔ راولپنڈی کے اندرون کا ٹور یاد آ گیا۔ وہی ذلتوں کے مارے لوگ۔ غربت اور کسمپرسی سے سمجھوتا کیے ہوئے۔ لال باغ قلعہ اورنگزیب کے پتر نے بنوایا تھا جو خود بادشاہ بننے کے خواب دیکھتا تھا۔ وہ خواب، خواب ہی رہے اور یہ قلعہ کبھی شاہی قلعہ ہونے کا درجہ نہ پا سکا۔ انسان، عمارتیں سب کو اک اعلیٰ لیبل درکار ہوتا مگر وہ اعلیٰ لیبل کبھی ہمیشہ رہنے کی گارنٹی نہیں دیتا۔ جب یہ بات سمجھ آتی ہے بھت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ گلابی دیواروں کو وقت کی سیاہی بھی ماند نہیں کر پائی۔ ایک کونے میں گلابی مسجد اور سامنے وسیع لان۔ لال باغ قلعہ اب نجانے گلابی دیواروں کی وجہ سے اس نام سے منسوب یا یہاں بھی کوئی لال بیبیاں تھیں۔ کوئی لذیذ کہانی کھوجنے پر بھی نہ ملی۔ ہاں قلعے کے باہر آوارہ کتے منہ کھول کر آسمان کی طرف تکتے تھے۔ شاید عہد رفتہ کے بادشاہوں کو منہ چڑا رہے تھے کہ جو تمھارے محل کا علاقہ تھا، پوش علاقہ تھا، عام آدمی کی رسائی نہ ہوتی تھی۔ اب وقت کی چکی میں پس کر اندرون شہر ہے، جہاں صرف غریب لوگ اور آوارہ کتے بستے ہیں۔

لال باغ قلعے سے حسینی دالان کی طرف سفر۔ گلیاں اور تنگ ہوتی گئیں۔ تاریخ، کلچر اور مذہب کی گود میں بیٹھا زمیں کا بوجھ اٹھاتا عام آدمی۔ ننگا، بھوکا، بلکتا۔ کھلے دروازوں میں بیٹھ کر لفافے بناتی عورتیں، غربت کو جھیلتی، زندگی کو نپٹاتی۔ بخشی بازار سے گزر کر حسینی دالان پہنچے۔ ایک طرف وہی متبرک پانی کا تالاب، احاطے کے اندر اک قبر چومتی عورتیں اور بڑے سے علم کے نیچے منبر۔ یہ امام بارگاہ 17 ویں صدی کے بادشاہ کے سنی بیٹے نے بنوائی تھی اور اسے تمام مسلمانوں کی مشترکہ عبادت گاہ بنا دیا تھا۔ بڑے کمال لوگ تھے۔ مذہبی علماء کا دیں بھی تب شاید ریاست کے تابع رہنا سکھاتا تھا۔ یا مذہب شاید خدا تک پہنچنے اور زندگی بتانے کا راستہ تھا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ خیر چونکہ یہاں ہمیں کوئی جانتا نہیں تھا سو بحفاظت شیعہ مسجد میں سنی طریقے سے مسلمانوں کے خدا کو راضی کرنے کے واسطے دو نفل پڑھے۔

ٹانگیں چل چل کر اور آنکھیں غربت دیکھ دیکھ کر تھکنے لگی تھیں مگر ابھی اندرون ڈھاکہ باقی تھا۔ تارہ مسجد اگلی منزل تھی۔ انسانی رکشہ گھنٹی بجا بجا کر لوگوں کو چیر کر اپنی جگہ بناتا رہا۔ راستے میں ڈھاکہ سنٹرل جیل بھی آئی۔ گو 2016 میں باہر ایک جدید جیل بن چکی ہے مگر اس کی تاریخی حیثیت مسلم ہے۔ شاید یہ جگہ بھی کبھی شہر سے باہر ہوگی۔ آنندی یاد آ گیا۔ اس جیل میں 1952 اور 1971 میں قیدیوں کو ڈالا گیا مگر 1975 کے حکمرانوں کے قاتلوں کا آنا اور اسکینڈل زیادہ مشہور ہوئے۔ بنگو بندھو کے بہیمانہ قتل کے بعد جیسے اک لڑی سی چل پڑی۔ بنگال آزاد کرانا اپنی زبان اور تشخص کے لئے تھا یا اقتدار کی جنگ میں لاشیں بچھانے کے لئے۔ 19 ویں صدی میں مرزا غلام پیر نے تارا مسجد کی تعمیر کی۔ مغلوں نے اپنا انداز چھوڑ کے چائینیز کو فالو کیا اور نیلے اور سفید رنگ سے ستارے اور پس منظر بنایا۔ چینی ٹکڑی آرٹ کی اس علاقے میں نمائندہ عمارت یہ چھوٹی سی مسجد۔ ظہر کی نماز پہ اندازہ ہوا کہ 1971 میں مغربی پاکستان کے فوجیوں کو اور 2022 تک کی نسلوں کو بنگالیوں کے دینی عقائد کے بارے میں گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔ زیادہ تر مڈل کلاس لوگ روایتی طریقے کے دیندار بلکہ کافی تو اہلحدیث ٹائپ۔ اور پھر مڈل کلاس کی پریکٹس ہی تو کسی بھی خطے کے مذہبی رجحان کو ڈیفائن کرتی ہے۔

انسانی رکشے پر غیر احسن طریقے سے بیٹھ کر احسن منزل روانہ ہوئے۔ بوڑھی گنگا کے کنارے نوابوں کی رہائشگاہ۔ 18 ویں صدی کے عنایت اللہ سے لے کر 1953 کے لوکل نوابوں کے سر چھپانے کی جگہ۔ طرز تعمیر مغلیہ طرز کی مگر گلابی رنگ نمایاں۔ پہلے نواب یہاں شہر سے غریبوں کی لڑکیاں بلوا کر محفلیں سجاتے تھے۔ اب غریب خود یہاں تک آ پہنچے بلکہ آگے نکل گئے۔ اردگرد گندگی کے جوہڑ، گرتے پڑتے غرباء اور گلیوں کے آوارہ بیکار کتے۔ اک طرف سکون سے بہتی بوڑھی گنگا۔

بوڑھی گنگا بوڑھی ضرور ہے مگر ناکارہ نہیں۔ مغلوں کی تجارت سے لے کر آج کی بنگلہ دیش کی آمدورفت تک کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ گدلا پانی، سست روی سے بھتا ہوا۔ آج درگا ماں کا اشنان تھا سو رونق خوب تھی۔ پانیوں سے وابستہ مذہبی قصے بھی خوب ہوتے ہیں۔ کہیں ایڑیاں رگڑنے سے زمزم نکل آتا تو کہیں سامنے دریا کے ہوتے ہوئے بوند بوند ترسا جاتا اور کہیں راکھ بہا کر جنت کی توقع کی جاتی۔ گنگا چاہے ہند کی ہو یا بنگال کی، بوڑھی ہو یا جوان معاشرے کا گند سمیٹتی جاتی ہے اور پل پل بہتی جاتی ہے۔

شام کو ایک لوکل ڈاکٹر کے ایڈیکشن سنٹر ایتھینا میں ہمارے اعزاز میں عشائیہ تھا۔ خود ہوٹل سے لینے آئے۔ ساتھ ان کی کونسلر سبرین چودھری بھی تھیں۔ پاکستانی ری ہیب سنٹر ٹائپ ہی تھا اور بغیر سائیکاٹرسٹ کے رواں دواں تھا۔ فارن ڈاکٹر کے طور پر اپنے مریضوں کا گروپ سیشن کرایا۔ کھانا نہایت پرتکلف تھا۔ لوکل چاول مچھلی، بڑے گوشت کا قورمہ، بینگن کی سبزی، کوفتے انڈے۔ کھانے کے بعد اپنی ایک جونئیر ڈاکٹر ہمارے حوالے کی جو ہمیں انسانی رکشے پر بٹھا کر قریبی مارکیٹ لے گئی۔ ایسا رش اور بے ہنگم پن نہ کراچی دیکھا، نہ نیویارک، نہ لندن، نہ ڈبلن، نہ پیرس۔ نجانے انسانی رکشے اس کی وجہ ہیں یا کچھ انسانوں کی بدنظمی۔ آدھے میں رکشا چھوڑ کر مستقبل کی بنگالی گائناکالوجسٹ کو پیدل چلوایا۔ اس کو لانا بہت کام آیا۔ 18000 کی ساڑھی 5000 میں۔ خیر یہ سب بتا چکے تھے کہ بنگال میں شاپنگ کرنی تو بھاؤ تین گنا کم کرانے کا گر آنا چاہیے۔ واپس ہسپتال آ کر بنگالی مٹھائی کی تعریف کی تو ڈاکٹر صاحب قریبی دکان پر لے گئے۔ پہلے دکاندار نے زبردستی سب پیس چکھائے اور پھر پاکستانی مہمان سے گلاب جامنوں کے پیسے بھی نہ لئے۔ اکٹھے رہ کر اک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونے سے بہتر مہمان بن کے عزت کی اور کروائی جائے۔

آٹھ دن جیسے پر لگا کر گزر گئے۔ بنگال کا تقریباً راؤنڈ ٹرپ۔ ہر طبقے کے لوگوں سے انٹریکشن۔ کہیں بھی نفرت کی باس نہیں۔ سب شاہد آفریدی کو چاہتے۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور اور کشمیر دیکھنا چاہتے۔ بے مہر صبحوں کے بعد مہرباں راتیں چاہتے۔ یوں تو ہر طرف سرحدیں ہیں، لکیریں ہیں، انسان کو بانٹتی ہوئی، میل ملاقات میں رکاوٹ بنتی ہوئی۔ کبھی سیکیورٹی کے نام پر تو کبھی شناخت کے نام پر۔ مگر بنگال اور پاکستان کی یہ لکیر جو زمین پر ہے بھی نہیں، پھر بھی اتنی گہری کیوں ہے؟


صفحات: 1 2 3 4 5 6