سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد


ٹور کا آخری حصہ، دل بوجھل کہ بنگال یاترا انت ہونے کو ہے اور پھر یہ ٹوٹا ہوا انگ دیکھنے کو ملے نہ ملے۔ ساتھ ہی سرشاری بھی کہ پچھلے کچھ دنوں میں جی بھر کہ بنگال کے حصے کھنگالے اور حسرتوں کو پورا کیا اور اب ڈھاکہ کو جیتے دیکھنا ہے، جلتے نہیں، ڈوبتے نہیں۔ اینو بس واقعی وی آئی پی بس تھی۔ جس سواری میں اپنے آپ کے چھہ فٹ رول کر کے رکھنے نہ پڑیں اور ٹانگیں پساری جا سکیں، وہی ہمارے لئے وی آئی پی ہوتی ہے۔ روڈ جی ٹی روڈ سے کچھ کم، راستے کے شہر گجرات، لالہ موسیٰ ٹائپ۔ وہی دھان، چاول کے کھیت۔ سلہٹ کے سفر کی طرح نوجوان، گرمجوش ہمسفر جو پاکستان کے بارے میں بہت غلط نہیں سوچتے، بلکہ اس پورے خطے سے نالاں ہیں اور وہی رٹ پکڑے ہیں کہ مغرب جا بسنا کسی طرح۔ ایک ساتھی مسافر نے ہاٹ سپاٹ شیئر کیا، اوبر ایپ کرائی اور بس کو مطلوبہ سٹاپ پر رکوایا بھی۔ شکریہ ادا کرنے پر کہنے لگا پاکستانی بھائی کی مدد کرنا اس کا فرض تھا۔ کوئی فلم سی چلتی محسوس ہوئی یا پرانی فلموں کی ٹیپیں گھستی محسوس ہوئیں۔ مگر نہیں، نیشنلزم کا چورن بیچ کر دکان چلانے والوں کا سروائیول ان پرانی فلموں پر ہے۔ وہ بھلا کب ان کی ٹیپیں گھسنے دیں گے۔ مہرباں راتیں اس خطے کے لوگوں کے لئے خواب و خیال ہی رہیں گی۔

ہوٹل میں سامان رکھ کر بائیکیا پر اس جگہ کی راہ پکڑی جہاں جانے کا شوق بھی بہت تھا پر شاید جانا بنتا نہ تھا۔ لبریشن وار میوزیم۔ ہمارا ہوٹل گلشن کے علاقے میں تھا جو ڈھاکہ کے پوش علاقوں میں سے تھا۔ ساتھ ہی شیریٹن ہوٹل تھا۔ پانچ ستاروں والے ہوٹل کے گیٹ کے عین باہر مانگنے والوں کو دیکھ کر یہ لگا کہ شاید ہم ان سے بہتر ہیں۔ پھر سوچا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اجازت نہیں ورنہ ہمارے ہاں بھی یہی ہوتا۔ سو سرینا اسلام آباد کے باہر غریبوں کا نہ ہونا ہمارے ویلفیئر سٹیٹ ہونے کی نشانی نہیں بلکہ سیکیورٹی سٹیٹ ہونے کی نشانی ہے۔ ڈھاکہ، سلہٹ اور چھوٹوگرام کی نسبت جدید اور بہتر شہر ہے یا شاید بنگال کا واحد شہر ہے۔ عمدہ گاڑیاں، چھاؤنی، سٹاف کا رز، ائر فورس میوزیم، سائنس کالج، بلند عمارات، کراچی کی شاہراہ فیصل کی طرح طویل شاہراہ۔ میٹرو ٹرین کا ڈھانچہ بالکل تیار۔ آنکھوں کے قومی ادارے کے پیچھے عوامی لائبریری ہے اور اس کے ساتھ جنگ آزادی میوزیم۔ جنگ آزادی 1857 والی نہیں، 1947 والی بھی نہیں۔

میوزیم کے ارد گرد تو اندرون شہر ٹائپ ہی علاقہ تھا مگر میوزیم کی عمارت بڑی پرشکوہ تھی۔ اندر باہر سے خاص طور پر تعمیر شدہ۔ ریسیپشن پر دیکھا کہ فارنر اور سارک ملکوں کی فیس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چار و ناچار سارک ممالک کا باشندہ ظاہر کرنا پڑا خود کو۔ سوال آیا، کون سا سارک ملک؟ اب بتاتے ہی بنی کہ الباکستان۔ خاتون نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ٹکٹ کاٹ دی۔ میوزیم کے ٹیرس پر ایک جنگی جہاز ٹنگا ہے۔ شکر ہے کہ ہمارا نہ تھا۔ انڈیا نے 1971 میں مدد کے طور پر بمباری کی تھی اس جہاز سے اور پھر 1998 میں تحفے کے طور پر دے چھوڑا تھا۔ تاریخ بذات خود اتنی ظالم، بھیانک اور واہیات ہوتی کہ تاریخ کا حصہ بننے والے بنا ڈالتے۔ یورپین اور امریکن پل دیتے تحفے میں یا کوئی مانومینٹ اور ادھر بمبار جہاز۔

انٹری پؤائنٹ پر سنتری نے بیگ لینا چاہا تو ہم نے ڈائری اور پین دینے سے انکار کر دیا۔ پوچھنے لگا کہاں سے ہو۔ ہم نے وہی بتایا جہاں سے تھے۔ آگے بڑھ کر اس نے ہمیں گلے لگا لیا کہ پاکستان کرکٹ، آئی لوو۔ شاہد آفریدی، شاہین آفریدی آئی لوو۔ کیسے نسلوں میں بسی بلکہ گندھی نفرت کو یا تو افلاس و ننگ کھا جاتا اور یا کھیل اور فن۔ شاہد آفریدی کی بہت مانگ تھی بنگال میں۔ ہم نے تو دو چار کو آفر بھی کی کہ بھائی تم رکھ لو۔ میوزیم چار گیلریوں پر مشتمل ہے۔ یہ چار گیلریاں بنگال کے گوروں سے پہلے دور سے آج تک کے سٹرگل کی داستاں سناتی ہیں۔ شاہ جلال جن کے مزار کو سلہٹ میں دیکھا تھا، ان کا ذکر شروع میں ہی تھا۔ ابن بطوطہ بنفس نفیس ان سے ملنے بنگال آیا تھا، ان کی کرامات سے فیضیاب ہونے۔ 2022 کے بعد ہمارے ہاں فیض یاب ہونے کے معنی بھی مخصوص ہو چلے ہیں۔ نجانے یہاں استعمال کرنا مناسب بھی ہے یا نہیں۔ اب ابن بطوطہ واقعی ملنے آیا تھا یا تاریخ کو مذہب اور روحانیت کی چھلنی سے گزرنا پڑا ہے؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے۔

بنگال کی تاریخ تقسیم ہند تک تو کم و بیش وہی تھی جو ہم نے پڑھ رکھی تھی۔ گڑبڑ اس کے بعد شروع ہوئی۔ بنگلہ زبان تحریک تو ہمیں پڑھائی ہی نہیں گئی نہ بتائی گئی۔ ایک جامع اور مربوط تحریک اپنی زبان بچانے کے لئے۔ پتا نہیں بچانا یہاں درست لفظ اور زبان کے لئے استعمال بھی ہو سکتا یا نہیں۔ قائداعظم کا بیان، سیاستدانوں کی سازشیں، لوکل بے چینی۔ کئی جانیں گئیں، زبان نے ان کا لہو پی لیا اور بچ گئی۔ آج، اس کے 70 سال بعد والا بنگال بھی نیشنلزم یا مجبوری کے باعث اپنی زبان سے بری طرح جڑا ہے تو جانے اس وقت کیسے سوچ لیا گیا کہ بنگالی زبان سے بے وفائی کر جائیں گے۔ لالٹینوں اور تالوں کی تصاویر عبرت کے نشان کے طور پر۔ چاند اپنا سفر ختم کرتا رہا۔

مارچ 1971، کہنے کو بہار کا آغاز مگر کتنی خونی بہار تھی۔ لیڈر جیلوں میں۔ الیکشن تماشا بن گئے۔ دو جہانوں کا مالک بے خبر، دو خطوں کا مالک ٹن۔ زمین کا بوجھ اٹھانے والے لاشوں میں بدلنے لگے یا خود بوجھ بن کر سر چھپانے اور پیٹ بھرنے کا آسرا ڈھونڈھنے لگے۔ کیوں کہ بھٹو اور مجیب کی نہیں بنی تھی یا جرنیلوں کی نالائقی کی بھینٹ چڑھ گیا وہ وقت اور زمانہ۔ مان لیا کہ اکٹھے رہنا ناگزیر تھا پر اپنے بوجھ ڈھونے والے عوام سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے؟ تصاویر تھیں یا انسانیت ننگی پڑی تھی۔ اس کا اگر ایک فیصد بھی سچ تو باہر کھڑا گارڈ یا تو کسی اور دھرتی کا تھا یا پھر خود شناسی کے اس درجے پر کہ اپنا نسلی ٹراما پراسیس کر چکا تھا اور بہت آگے بڑھ چکا تھا۔ بے مہر صبحوں سے مہرباں راتوں کی طرف۔ آخری دنوں کی پاک فوج کی ٹیلیفونک اور وائرلیس سیٹ کی گفتگو کو ٹرانسکرائب کر کے میوزیم مین ڈسپلے کیا گیا ہے۔ روح تک کانپ جاتی ہے۔

اس خطے میں بلکہ ہر خطے میں ہر دور میں عام انسانی جان ارزاں ہی رہی ہے مگر اس قدر ارزانی کہ ایک دوسرے کو ہی نوچ ڈالو صرف اس وجہ سے کہ اس کی زبان یا ماخذ مختلف ہے۔ بے بی ریحانہ کا کیا قصور تھا، یا وہ دل کا ڈاکٹر۔ چن چن کے انٹلیکچوئل اور اشرافیہ کو مارنا کہ نیا معاشرہ تخلیق ہو بھی جائے تو لولا لنگڑا ہی ہو۔ ہم نازیوں کو نسل کشی پر کوستے رہے جبکہ ہمارے بازو میں بھی موت کی فیکٹری اگ آئی تھی۔ اب جانے جو دنیا کیں وٹس لینے اور مداخلت کے اخباری تراشے لگے ہیں، وہ کتنی موثر تھی۔ ایک لمحے کو تو اندر کا کمینہ آدمی اٹھ کھڑا ہوا
(what good man do, bad man dream) ۔
اک خباثت بھرے فخر کے احساس نے سر ابھارا۔ ہم دنیا کے ہر میوزیم، ہر کہانی میں مظلوم ٹھہرتے تھے۔ یہ واحد میوزیم تھا، واحد کہانی تھی جس میں ہم ظالم تھے۔ ظلم ایسا کہ یا مرو، یا مارو یا کہیں اور جا بسو۔ وہ پائپ جن میں بنگالی پناہ گزین انڈیا جا کر رہے، اک سرد لہر سی رینگ گئی ریڑھ کی ہڈی میں۔

ٹھیک 24 سال پہلے اک علاقے سے الگ ہوئے کہ ان کا خدا کے وجود کا کانسیپٹ مختلف، اب جن کا کانسیپٹ آپ جیسا ان ہی سے بھاگ کر پناہ مختلف خدا والوں کے ہاں۔ تاریخ اپنے رخ بدلنے کے لئے شاید انسانی عقل پر پتھر باندھ دیتی ہے اور جب تک ہم ان پتھروں کو جھٹکتے ہیں، تاریخ رخ بدل چکی ہوتی ہے، ساتھ ہی جغرافیہ بھی اور بوجھ اٹھانے والوں کے بوجھ کی نوعیت بھی۔ کبھی این فرینک ہاؤس یاد آتا تو کبھی ہولوکاسٹ میوزیم۔ مگر ان کہانیوں کے کردار اور دنیاؤں کے تھے۔ یہ تو میری مٹی کا قصہ، میں اس ادارے کا کامی رہا، میرا باپ رہا، شکر ہے دادا نہیں رہا۔ عجیب حالت۔

آنے سے ایک روز قبل کشور آپا سے ملاقات یاد آ گئی۔ انھوں نے یہی کہا تھا کہ نہ اگلتے بنے گی نہ نگلتے۔ انڈیا مدد کو آیا۔ نیت کچھ بھی ہو، پناہ گزینوں کو روٹی، علاج، چھت دی۔ ان کیمپوں کے مناظر بھی دلخراش۔ خود اک غریب ملک اور کیسے سہارا دیتا لوگوں کے جم غفیر کو؟ بنگالی خواتین کو حاملہ کرنے کا الزام بھی تصاویر کی صورت میں موجود تھا۔ ہم نے وہاں سے ہی ایک دوست کو میسج کیا جو گو کہ اب ادارے کا ادنیٰ ملازم تھا مگر 1971 کے کئی سال بعد پیدا ہوا تھا کہ بھائی تم لوگوں کو بغاوت کچلنے بھیجا تھا اور تم ان کی لڑکیاں پریگنینٹ کرتے رہے۔ جنرل نیازی کا پورٹریٹ، سرنڈر کرتے ہوئے، ڈاکٹر سے خارش کا کہہ کر وردی ایکسکیوز لے لیتے اور کسی اور لباس میں آ جاتے۔ کچھ علامتی چیزیں بھی بڑی خوفناک ہوتی ہیں۔ میوزیم میں تاریخ کے سچ کے کچھ گوشے ڈھانپ لئے گئے تھے جیسے بہاریوں کا قتل عام یا مشرقی حصے کی فوج کے کچھ افسران کی کرنی کا بدلہ وہاں پھنسے ہوئے سول لوگوں سے لینا۔ اس کے باوجود اپنا سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ نظر نہیں اٹھتی تھی۔ ہر کوئی خود کو گھورتا محسوس ہو رہا تھا۔

بنگلہ دیش میں پوش، کم پوش اور بالکل نہ پوش علاقے ایک دوسرے میں گڈ مڈ رہتے ہیں۔ میوزیم کے ساتھ قومی ادارہ برائے چشم، سامنے قومی ادارہ برائے ہڈی جوڑ۔ ہم تو اپنے ملک میں ہر ادارے کے ساتھ عسکری کے عادی تھے چاہے طب کے ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی بہتری کا راز شاید عسکری سے عوامی شفٹ کی طرف کے کچھ اقدام ہی میں ہے۔ قومی ادارہ برائے ذہنی صحت کو کھنگالنا چاہا تو کیچڑ سے گزر کر عمارت کا مین گیٹ ملا۔ اندر بجلی ندارد۔ پرشکوہ عمارت عدم توجہ کا شکار۔ یہاں تو ہمارے بھائی ہونے کا ثبوت مل گیا۔ بالکل پاکستانی سرکاری ہسپتال کا سا حال۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6