سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد


بنگال یاترا اپنے درمیان کو پہنچ چکی تھی۔ اک طرف اداسی تھی کہ دوبارہ جانے اس خطے کا اور اپنا اجتماعی لاشعور کھوجنے کی بساط کب سجے گی۔ جانے سجے گی بھی یا نہیں۔ میں کبھی سندربن کے جنگل دیکھ بھی پاؤں گا یا نہیں۔ سارا مسئلہ اس خصوصی اجازت نامے اور اس کی گرد بنی سیاسی چال کا ہے جو اس بے چینی کا بڑا سبب ہے۔ دوسری طرف جوش تھا کہ آج بنگال کا برساتی جنگل دیکھنا، منی سندربن دیکھنا۔ پہلی منزل بولوگنج کی جھیل تھی جو عین ہند۔ بنگال بارڈر پر واقع تھی۔ راستے میں پہلے چاء باگان اور پھر دھان اور چاول کے کھیت۔ کسی پنجاب کے قصبے اور گاؤں کے سے مناظر کچھ اضافی ندی نالوں کے ساتھ۔ اینٹوں کے بھٹوں کا انداز بھی اپنے جیسا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان ٹیکنالوجی سٹی بھی خاصے کی چیز تھی۔ کھلی فضا میں میلوں تک پھیلا زیر تعمیر کیمپس۔ آج کل کی درسگاہوں سے مختلف۔ اس کے ساتھ ندی پر بنا پل بھی اپنے اندر ایک عظمت کا احساس لئے ہوئے تھا۔ لوہے کے راڈوں سے بنا، کسی حد تک زنگ آلود مگر اونچی محرابیں۔ سی این جی ڈرائیور نے بڑے شوق سے تصاویر لیں۔ ٹورسٹ کے ساتھ رہ رہ کے وہ اس کام میں خاصا ٹرینڈ تھا۔

راستے میں جگہ جگہ پولیس والے چیکنگ کر رہے تھے۔ معلوم ہوا چونکہ اس جگہ سے بہت زیادہ ڈمپروں کی بارڈر کے آر پار آمدورفت ہے، اس لیے پولیس زیادہ چوکنی رہتی ہے۔ ڈرائیور نے پولیس کی شان میں کچھ ایسے الفاظ اور لہجہ بھی استعمال کیا، ہاتھ کے اشاروں کے ساتھ کہ یقین کرتے ہی بنی کہ یہاں اور وہاں کی پولیس کے عمومی رویے میں چنداں فرق نہیں۔ ندی میں ضخیم کشتیوں کو کرشنگ مشین اور سیمنٹ اور بجری کی آمدورفت میں استعمال ہوتے دیکھ کر بھی یہ یقین ہو چلا کہ حضرت انسان کبھی بھی کسی بھی چیز کا کسی بھی طرح استعمال کر سکتا، اپنی ضرورت اور مقصد کی تکمیل کے لئے۔ چونکہ طویل و عریض پہاڑی سلسلہ سرحد کا بیشتر حصہ ہے اور تجارت سے دونوں ملکوں کا مفاد وابستہ ہے لہذا اس خطے کا عمومی سرحدی ماحول نہ تھا اور سرحد کی لکیر بناتے پہاڑوں اور ندی تک رسائی تھی۔ ندی کے گرد انتہائی عوامی سا ریزارٹ تھا۔

کچے پکے ہوٹلوں سے ہوتے ہوئے ریزارٹ کے عقبی حصے سے کشتی میں بیٹھ کر جھیل کے درمیانی اور سرحدی حصے کی طرف جانا تھا۔ قدم بنگلہ دیش میں، نگاہیں ہندوستان میں۔ سرحدیں تو بڑھتے قدموں کو روکنے کے لئے ہوتی ہیں، نگاہیں تو سب پار کر جاتیں ہیں۔ کشتی والے نی وہی ہندی، بنگلہ، انگریزی اور اشاروں کی مکس زبان میں بتایا کہ تین طرف ہندوستان ہے اور وہاں سے یہ ندی بنگال میں داخل ہوتی ہے اور چھوٹے چھوٹے نالوں میں بٹ کر فنا ہوجاتی ہے۔ ریزارٹ لوکل اور فارن دونوں لوگوں سے بھرا تھا۔ بڑے بڑے چھاتوں والے پیمنٹ پہ بارش میں چھتری اور دھوپ میں کرسی فراہم کر رہے تھے۔ ابھی گائیڈ کی بتائی ہوئی سرحد پر غور و فکر کر رہے تھے کہ تیز بارش شروع ہو گئی۔ لاؤڈ سپیکر پر چیزیں بیچنے والے خاموش ہو گئے۔ سب ایک بڑے سٹال کے چھاتے تلے جمع ہو گئے۔ تیز بارش نے سب دھندلا دیا۔ اگر بچی تو صرف تین اطراف کی سرحدیں۔ ریزارٹ پر ایک بڑے فوجی افسر کی فیملی آئی تو عام لوگوں سے ہٹ کر پورا بندوبست کیا گیا۔ ایک اور ہی دنیا بنا دی گئی۔ ٹھیک ہے یہاں ڈی ایچ اے نہیں مگر کچھ اطوار ہمارے ہاں والے ہی تھے۔ یہاں گھڑیوں پر وقت بھی بدل گیا۔ انڈین وقت ہو گیا۔ شاید اسی طرح بڑی طاقتیں چھوٹی طاقتوں کا وقت تک کھا جاتی ہیں۔

اگلا پڑاؤ راترگل جنگل تھا جسے سلہٹ کا سندربن بھی کہتے۔ بنگال آ کر اصل سندربن نہ دیکھنے کا کچھ تو غم غلط کرنا تھا۔ راستے میں چائے کے ڈھابے پر رکے تو ڈرائیور نے ہمارا تعارف پاکستانی ڈاکٹر کہہ کر کرایا۔ ڈھابے والا پہلے تو بے حد خوش ہو کہ اس کی بہت اچھی یادیں تھیں سعودیہ کی، جہاں وہ پاکستانیوں کے ساتھ رہا۔ اس نے بڑا پروٹوکول دیا اور پھر کاغذ پنسل لا کہ رکھ دی کہ معدے میں گیس بہت ہوتی، دوائی لکھ دیں۔ نجانے بنگالی پہلے سے اس معاملے میں ہمارے جیسے تھے یا یہ بھائی سعودیہ پاکستانیوں کے ساتھ رہ کر ہوا تھا۔ کچھ سوال پوچھے تو معلوم ہوا کہ موصوف سگریٹ کے دلدادہ اور ورزش سے الرجک ہیں۔ راستے میں وہی بنگال کے جادو بھرے نظارے لوکل گندگی کے ساتھ۔ دھان کے کھیت، ندیاں، نالے، روایتی گاؤں۔ جنگل سے عین پہلے دو لش امیروں والے ریسٹ ہاؤس۔ اچھا امیروں کے بارے میں بھی یہاں کا کانسیپٹ سیدھا ہے کہ امیر وہی جو کاروبار کر رہا یا جس کا کوئی گھر والا باہر سیٹل۔ کتنی صحیح بات ویسے۔ نوکری انسان کو سوائے اپنے خواب چھڑوانے کے دے بھی کیا سکتی ہے۔ گو فارنر کی فیس لوکل سے ڈبل تھی مگر کچھ جگاڑ اور کچھ میرے نیم لوکل ہونے پر یقین کر کے مجھے کم ریٹ میں ہی رسائی مل گئی۔

ایک 15، 14 سال کے بچے کو اپنا گائیڈ اور کشتی ران دیکھ کر کچھ دیر کو دل کی دھڑکن رک سی گئی۔ اجنبی دیس، جنگل، پانی اور محافظ ایک بچہ۔ کچھ دیر ایک نالے کے کنارے پیدل سفر۔ ایک طرف دور تک پھیلے میدان تو سامنے گھنے درختوں میں چھپی پراسراریت جس کا مجھے اگلے کچھ لمحوں میں حصہ بننا تھا۔ تاریخ اور انسانی رویوں کی نشانیوں کے بعد جنگلوں میں چھپی قدرت کی پراسراریت ہمیشہ مجھے کھینچتی تھی۔ انسان تو اک عام تخلیق رہ جاتا جب قدرت کی جنگلوں میں چھپی پراسراریت عیاں ہوتی ہے۔ جنگل کی داخلی حدود سے کم از کم تین فٹ پانی تھا جو سیزن میں نو فٹ تک بھی چلا جاتا تھا۔

کشتی انتہائی بیسک تھی۔ شاید دو پھٹے جوڑ کر اوپر چٹائی بچھائی ہوئی تھی۔ ایک لمحے کو پھر خوف طاری ہوا مگر وہاں چلن یہی تھا۔ آدھے آدھے پانی میں ڈوبے درخت اور جھاڑیاں۔ کبھی سیدھا کبھی پیچ کھاتا راستہ۔ گو جنگل بڑا یہیں اور ابھی والا معاملہ ہوتا ہے۔ ماضی کے دریچوں کے کھلنے کی گنجائش کم ہی نکلتی ہے مگر کشتی کی 18 ویں صدی والی ہیئت اور ہمارے ذہن کی غلام گردشوں میں بھٹکتے خیالات ہمیں پیچھے لے ہی گئے گو ہماری ناؤ آگے کو جا رہی تھی۔ کبھی بچپن میں پڑھی اشتیاق احمد کی کہانیوں کا کردار منور علی خان یاد آتا کہ کہیں کسی موڑ پر اپنا شکاری تھیلا اور آنکڑا لئے نہ کھڑا ہو۔ کبھی اپنا آپ کسی انگریزی فلم کا کردار لگتا کہ ابھی ناؤ الٹے گی اور نیچے سے کوئی معدوم ہو چکی آبی مخلوق ہمارے مد مقابل ہوگی۔ یا پھر خود کو اپنا آپ آخر شب کے ہمسفر کا کمیونسٹ لیڈر ریحان دا لگتا کہ ابھی میں جنگل میں جا چھپوں گا اور کل یہی بچہ اسی ناؤ پر بالوچر کی ساڑھی میں لپٹی کسی دیپالی سرکار کو لے کر آئے گا۔ وہ بچہ بڑا استاد نکلا اور اجازت لے کر نہایت سر میں ایک بنگلہ گیت گانے لگا۔ بھائی یو ٹیوبر تھا اور کمال تھا۔ اس کے سروں نے جیسے بنگال کی جنگل یاترا کو مکمل کر دیا۔

جون جولائی میں جب پانی نو فٹ سے اوپر جاتا ہے تو کشتی کا داخلہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ درختوں، جھاڑیوں کے بیچ پانی جہاں جہاں اپنا راستہ بنا رہا تھا، ہم کشتی سمیت بہتے چلے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک کشتی پر دو جوان کیمرا پکڑے بیٹھے تھے، معلوم ہوا کہ انٹر کشتی فوٹوگرافی کرتے ہیں۔ ایک فوٹو کا 5 ٹکا۔ ہمارے ہامی بھرنے پر انھوں نے کشتی ساتھ لگا لی اور ہر ہر زاویے سے فوٹو بنانے لگے۔ ہم بھی انڈیانا جونز سمجھنے لگے خود کو اور کافی خطرناک پوز بنا کر جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوٹو بنوا آنے لگے۔ فوٹو والا ہندی جانتا تھا لہذا ہمارا گائیڈ بن گیا۔ جنگل کے بیچ میں اک ٹاور ہے جس پر چڑھ کر پورے جنگل کا نظارہ ہوتا ہے۔ دو سال پہلے برساتی ریلے نے اسے جڑ سے ہلا دیا تھا لہذا داخلہ بند تھا۔ دل میں سوچا کہ یہ جنگل اور ٹاور یورپ کے کسی خطے میں ہوتے تو انسانی توجہ قدرت کے شاہکار اور پراسراریت کو دو چند کر دیتی اور خطے کے لئے پیسے بھی آتے۔ ایک چھوٹا سا جزیرہ سا بنتا تھا ٹاور کہ ارد گرد جہاں کے چاروں طرف گدلا پانی اور جنگل تھا۔

گائیڈ نے پانی سے ایک مچھلی اٹھائی اور پوچھنے لگا کہ پاکستان میں ایسی مچھلیاں ہوتی ہیں۔ ہم نے آبی مخلوق کے بارے میں اپنی کم علمی کا اعتراف کیا اور کا ؤنٹر سوال داغا کہ کیا بنگالی انھیں کچا کھا جاتے؟ جو اباً وہ قدرے برا مان کے بولا کہ بنگالی اب اتنے بھی بیک ورڈ نہیں۔ واپسی پر پھر فوٹوگرافر نے کشتی رکوائی اور مجھے ٹارزن بنا کر درخت پر چڑھا کر فوٹو لئے اور آخر میں 300 پلس ٹکا کی ڈیمانڈ کی۔ بنگال میں رقوم کے ایگزیکٹ فگر کی بجائے رف فگر کے ساتھ پلس لگا کر ہر سودے میں بارگیننگ کا مارجن رکھا جاتا ہے۔ 150 پہ بات طے ہوئی اور ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ شام تک تمام فوٹو مجھے واٹس ایپ ہو جائیں گے مگر وہ شام کچھ عجیب تھی شاید جو آج تک نہ آئی اور اس کے بعد ان فوٹو گرافروں کا سراغ تک نہ ملا۔

صد شکر کہ آئی فون سے ساتھ ساتھ تصاویر لی ہوئی تھیں۔ یہ واحد تھوک تھا جو بنگال میں ہمیں لگا۔ پانی کے بہنے کی آواز، جو ہمارے سامنے، ہماری کشتی کے نیچے بھی بہہ رہا تھا مگر آواز کہیں اور سے آتی تھی۔ اک فسوں سا طاری تھا جس کا میں حصہ تھا۔ واپسی پر اک لوکل قبرستان کا نظارہ بھی کیا۔ کچھ قبروں کو بارش سے بچانے کے لئے پلاسٹک کے کور چڑھائے ہوئے تھے۔ یقین ہو چلا کہ ہم اپنے ہی لوگوں میں ہیں۔ آئرلینڈ میں کلف آف موہر کا ایک حسین قبرستان یاد آ گیا کہ جہاں دل میں خواہش جاگی تھی کہ اگر واقعی بحیثیت مردہ ہم کچھ حسیات برقرار رکھیں گے تو یہیں دفن ہونا پسند کریں گے۔

رات کو ٹور آپریٹر سے کہ کر ہوٹل تبدیل کیا اور اصلی تین ستاروں والے ہوٹل میں منتقل ہوئے جو بیچ شہر میں تھا۔ جو نوجوان آتے ہوئے بس میں ساتھ تھا، اس نے رابطہ کیا کہ وہ رات کا کھانا کھلانا چاہتا ہے اور ایک فارن کوالیفائیڈ پاکستانی سے اپنی گرل فرینڈ کو ملوانا چاہتا ہے۔ مقام مین بازار میں نورجہاں ہوٹل طے ہوا۔ جانے یہ ملکہ نورجہاں کے نام پر تھا یا ہماری میڈم نور جہاں کے۔ ہماری میڈم نور جہاں بہرحال اصل ملکہ سے زیادہ عظیم ہیں اور ہوٹل سے زیادہ شہر معتبر ٹھہرے گا ان کے نام سے منسوب ہو کے۔

ہاں مغلوں کے ورثے کو بنگال میں کیسے تقسیم کیا گیا، اس پر ڈھاکہ میں کچھ روشنی پڑی مگر وہ خاطر خواہ نہ تھی۔ جب ایک سے دو ہوئے اس واسطے کہ سب الگ تھا تو بہت کچھ جو الگ نہیں تھا اس کو بے حد بھونڈے طریقے سے تقسیم کیا گیا۔ کتابیں مل جائیں گی اس پر۔ مگر جب دو سے تین ہوئے تو معاملہ زیادہ گمبھیر تھا۔ پہلے طے یہ ہوا تھا کہ سب ایک سا ہم میں، پھر یہ حقیقت بدل گئی اور باور کرایا جانے لگا کہ یہاں بھی بہت کچھ الگ۔ زبان، کلچر، ثقافت، اقدار، رواداری، اکٹھے رہنے کی یادگار عمارات، زمیں کا بوجھ ڈھونے والے لوگ، سب ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے اس ہر دفعہ کی بہیمانہ تقسیم پر۔ کاش بہیمیت کے بغیر تقسیم ہو سکتی۔ نورجہاں ہوٹل گو باہر سے سادہ تھا مگر روف ٹاپ پر ماحول ٹھیک تھا۔ دوسرے ملک کی اپنے جیسی نئی نسل سے کھانے کی میز پر بات چیت لطف انگیز تھی۔ بے مہر صبحوں کے بعد شاید مہربان رات تھی۔ یہاں کی نوجوان نسل کے مسائل بھی وہی تھے اور سب مغرب کے دیوانے تھے۔ واپسی پیدل کی اور راستے سے رس ملائی اٹھائی جو لذت میں بالکل ہمارے ہاں جیسی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6