سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد
درگا پوجا کا ماحول تھا۔ اقلیت میں ہونے کے باوجود اندرون چھوٹوگرام کے کچھ علاقے ہندوؤں سے آبا تھے اور پوجا کے ماحول نے انھیں خاصا رنگین بنایا ہوا تھا۔ پتا نہیں لفظ رنگین خدا اور خدائی کاموں سے منسوب کرنا ٹھیک بھی یا نہیں؟ بہرحال پنڈت پارٹی کی لٹ لگی ہوئی تھی۔ جگہ جگہ مندر سجے تھے اور خدا کو راضی کرنے کے لئے مسکین لوگ نجانے کیا کیا کرنے کے درپے تھے۔ گنہگار جو ٹھہرے، خدا تو خدا ہے۔ وہ تو گناہوں سے مبرا ذات ہے۔ مسکین پیدا ہونا تو پیدا ہونے والے کا گناہ ہے۔ ایک مندر میں گھس کر کچھ دیر انھی سوچوں کے تانے بانے درست کیے۔ انھی سوچوں میں غلطاں تھا کہ اک پولیس والے نے آ کر تیز موسیقی اور بھجن رکوائے کہ قریب کی مسجد میں اذان ہو رہی تھی۔ بھجن کی موسیقیت پہ تھرکتی ٹانگیں رک گئیں کہ اب اذان کا جواب دینا تھا اور وہ بھی شرعی طریقے سے۔ اذان کا جواب دیا اور درود بھی بھیجا، درگا ماں پر نہیں، اپنے انتہائی ذاتی خدا اور رسول پر۔ ہاں ہو سکتا درگا ماں اسے ہائی جیک کر لیں یا پھر میسنجر کا کام کریں اور بحفاظت اپنے مقام پر پہنچا دیں۔
ایک اور مندر دیکھنے کی فرمائش پر گائیڈ ڈی سی پارک سے ہوتے ہوئے دوسری جانب لایا۔ ڈی سی پارک لیاقت باغ راولپنڈی نما جگہ تھی۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لوگ اور کتے ورزش میں یا وقت گزاری میں مشغول تھے۔ یہ یورپ تھوڑا ہی ہے کہ ایک ہی پارک میں محمود و ایاز مل لیں۔ پارک کے باہر ایک بدھ مندر تھا جس کی تزئین کا کام چل رہا تھا۔ جائے خدا کی تزئین نجانے مخلوق خدا کی تزئین سے منسلک کیوں نہیں۔ تعمیراتی کام کی وجہ سے خدا کو بڑے مندر سے ملحق چھوٹے کمرے میں رکھ دیا گیا ہے۔ مقفل خدا اور اس کے سامنے پڑا غیر مقفل جل، دونوں اپنے ماننے والوں کا نصیب بدلنے سے قاصر، فی الحال۔ ساتھ ہی گلیوں میں بابا لوگوناتھ کا مندر تھا۔ تنگ گلیوں میں ننگ دھڑنگ بچے اور کھلے کواڑوں والے چھوٹے گھر۔ معلوم ہوا کہ کچھ ہندو ان میں سے خاصے امیر ہیں مگر اپنے لوگوں کے بیچ رہنے کی خواہش انہیں اس علاقے سے جانے نہیں دیتی۔
واپسی پر ٹور آپریٹر کے دفتر ٹھیکی لی۔ وہی اپنے ملک کے مڈل کلاس پلازوں جیسا پلازہ۔ الیکٹرانکس کی دکانیں، درزیوں کی دکانیں، ان میں بحث کرتی ؑعورتیں۔ کونے میں بنے کھوکھے سے کڑک چائے پی اور ہندو گائیڈ کے دفتر میں پڑی چپلوں میں وضو کر کے پلازے کی مسجد میں نماز پڑھی اور سلہٹ کا ٹرپ پلان کیا۔ واپسی میں ایک خاتون نے ایک فائل سی این جی کے اندر سرکائی اور بنگلہ، ہندی، انگریزی اور اشاروں کی زبانوں میں بتایا کہ اس کا شوہر گردوں کے مرض کا شکار ہے۔ شاید یہاں کوئی صحت کارڈ نہیں۔
رات کو اے سی بس سے سلہٹ روانگی تھی۔ اے سی کا لاحقہ لگانا اس لئے ضروری کہ زیادہ تر لوگ عام بس استعمال کرتے جو کافی عام ہوتی۔ 1200 ٹکا کے ٹکٹ میں 12 گھنٹے کا سفر بمعہ کمبل، پانی اور کو میلا سٹاپ پر بوفے۔ سودا مہنگا ہرگز نہ تھا۔ ساتھ والی سیٹ پر 16 سالہ لڑکا براجمان تھا جو اپنی گرل فرینڈ سے ملنے 12 گھنٹے کا بس کا سفر کر کے جا رہا تھا۔ اس کے والد گاڑیوں کے سپیر پارٹس کا کام کرتے تھے اور اپنی عمر کے تمام بنگالیوں کی طرح وہ بھی اعلیٰ تعلیم اور روزگار مغرب میں ہی چاہتا تھا۔ میرے ڈاکٹر ہونے کا اور مغرب میں کام کرنے کا سن کر خوامخواہ مرعوب ہو گیا اور بے شمار سوال کر ڈالے۔ اس لڑکے سے مکالمے کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ انگریزی تعلیم اب بھی بنگال میں عام نہیں اور اپنی زبان اب جتنا پرائیڈ ہے اتنی ہی مجبوری۔ کو میلا میں بوفے کی پریزنٹیشن اور معیار بس ٹھیک تھا۔ جی ٹی روڈ کے کسی درمیانے سے ریسٹورانٹ کا سا ماحول تھا۔ زیادہ ڈشز سبزی اور چاول کی تھیں، ایک ڈش آلو چکن کی تھی جس پر تعینات شخص سب کو خود ایک ایک بوٹی ڈال کر دے رہا تھا۔ ہوٹل کے پلازے میں درمیانے درجے کی کپڑوں کی دکانیں بھی تھیں جو رات کے آخری پہر بھی کھلی تھیں۔ راستے میں بارش بہت تیز تھی اور سفر تھا کہ طویل تر ہوتا جاتا تھا۔ رہتے یہ لوگ ہمارے ساتھ اور آتی نون لیگ کی حکومت تو میاں صاحب موٹر وے بنا کر یہ سفر سکیڑ دیتے۔ چونکہ ٹریول ایجنٹ نے معاملات سیٹ کر رکھے تھے لہذا سلہٹ کا گائیڈ کم سی این جی ڈرائیور بس اسٹینڈ پہ موجود تھا۔ اتوار کی صبح تھی لہذا بیشتر شہر بند تھا۔ ہوٹل کاغذوں میں تو تین ستاروں والا تھا، مگر حقیقت مختلف تھی۔ تھوڑی سی بحث سے ناشتہ اور بہتر کمرہ مل گیا۔
کچھ آرام کے بعد سی این جی پکڑ کر سلہٹ یاترا شروع کی۔ انڈیا سے بہت سے دریا کبھی زحمت تو کبھی رحمت لے کر سلہٹ کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہوتے ہیں۔ گورے کا بنایا ہوا لوہے کا پل آج بھی رکشے اور پیدل سواروں کا بوجھ ڈھو رہا ہے۔ گورا جو کام نیت سے کرتا تھا پائیدار ہوتا تھا۔ پل پائیدار اور ملک ناپائیدار۔ بنگلہ دیش عوامی بینک اور ہائی کورٹ کی عمارات کم اور وزیراعظم کا سرکٹ ہاؤس زیادہ پرشکوہ تھا۔ اب اگر وزیراعظم صاحبہ غریبوں کے مسائل حل کرنے کے لئے سلہٹ کا دورہ کریں تو سر چھپانے کا کوئی تو آسرا چاہیے۔ ڈی سی آفس اور سرکٹ ہاؤس بھی ویسے، ارد گرد غریب عوام بھی ویسی اور انسانی رکشہ چلاتے ہوئے انسانوں کی لنگی میں سے جھانکتی پسینے میں شرابور ایک ردھم میں چلتی ہوئی ٹانگیں بھی ویسی۔ 12 گھنٹے کی مسافت کے وقفے سے عام آدمی کی ہیئت پر کوئی فرق نہ پڑا تھا۔ 12 گھنٹے ہی کیوں؟ یہاں تو گھڑیوں کی سوئیاں بھی تبدیل ہو جاتیں ہیں مگر آئینہ وہی رہتا، چہرے بدل جاتے ہیں۔ جندہ بازار، راجہ بازار راولپنڈی نما تھا۔ اس میں ایک بورڈ حسن بازار ( 1959 ) کا ثبت تھا۔
ڈرائیور نے بنگلہ، انگریزی مکس میں سمجھایا کہ یہ بازار تب کا ہے، جب یہ پاکستان تھا۔ کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا۔ شہید مینار بھی شہر کے بیچوں بیچ ایستادہ ہے۔ سب بنگلہ میں درج تھا اس پر۔ کسی سے ترجمہ نہ کرانا چاہا، دل میں چور جو تھا۔ اگلی منزل شاہ جلال کا مزار تھی۔ ہمیشہ کی طرح ویزے کے مسئلے نے اس دورے کو ذہن و روح میں اس طرح پنپنے نہ دیا تھا جس طرح اس کی ڈیمانڈ تھی سو ہم شاہ جلال کے جلال اور عظمت سے اس طرح واقف نہ تھے۔ وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ بنگال کی اجتماعی روحانی تاریخ میں اس بزرگ کا کافی کردار ہے یا بنا دیا گیا ہے۔ چلیں مورخوں کے بارے میں مشتبہ نہیں ہوتے اور سب سچ مان لیتے ہیں۔ بعد میں ڈھاکہ میوزیم میں بنگال کی تاریخ اور ہوائی اڈے کے نام کو دیکھ کر شاہ صاحب کے جلال پر یقین اور پختہ ہو گیا تھا۔ اندرون شہر کے بازار کے ایک کونے پر تسبیح اور عطر فروشوں اور فقیروں میں گھرا شاہ جلال کا مزار کا کامپلیکس۔ اندر ایک طرف کبوتروں کا راشن چل رہا ہے تو ایک طرف ضخیم دیگوں میں انسانی دوزخ بھرنے کا سامان تیار ہو رہا ہے۔ ایک طرف گندے پانی کا جوہڑ نما تالاب ہے جس میں مچھلیوں کے ساتھ کوڑا بھی تیر رہا تھا۔ گائیڈ نے اس پانی کے متبرک ہونے پر سیر حاصل گفتگو کی جسے ہم نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینے میں ہی عافیت جانی۔
رنگ برنگی چادر کے کونے پکڑے مزار کی سیڑھیاں چڑھتے لوگ۔ نجانے ان صوفیاء کی قبروں نے ان لوگوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے یا یہ لوگ ان قبروں اور مجاوروں کے بوجھ کو ڈھو رہے ہیں۔ یا پھر ایک باہمی رضامندی سے معاہدہ طے ہے کہ دونوں فریقین ایک دوسرے کا بوجھ ڈھوئیں گے۔ عطر چھڑکاتے، نعرے لگاتے، اردو ہندی میں نعتیں پڑھتے لوگ شاید اسی معاہدے کی پاسداری کر رہے تھے۔ اوپر ایک طرف قبرستان تھا کم کراماتی لوگوں کا تو دوسری طرف شاہ صاحب آرام فرما رہے۔ مجاور سب کو موبائل کے استعمال سے منع کر رہا۔ ہر رنگ نسل مذہب کے لوگ قبر کا احاطہ کیے ہوئے تھے۔ اردو/ہندی میں بآواز بلند نعتیں جاری تھیں۔ کونے میں بیٹھ کر ماحول کو جذب کرتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ سعودیہ جانا سب کی جیب کے بس کی بات نہیں۔ یہ لوکل روحانی آؤٹ لیٹ کتنے اہم ہیں غریبوں کی زندگیوں کے خلا بھرنے کے لئے۔ پھر چاہے سعودی گورنمنٹ کے اثاثؤں میں اضافہ ہو یا لوکل مجاور کی دکان چمکے۔
اندرون شہر سے نکلے اور قدرے پوش علاقے سے ہوتے ہوئے سلہٹ کرکٹ سٹیڈیم دیکھا۔ کرکٹ سٹیڈیم کے آگے ہی وہ علاقہ شروع ہوجاتا جسے ہم بچپن میں معاشرتی علوم کی کتاب اور جوانی میں عینی بیبی کے ناولوں میں پڑھ کر یہاں آنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ لاکاتوری (سلہٹ کا ایک کونہ) سے شروع ہونے والے یہ دیدہ ذیب باغ آسام سے کہیں جا ملتے ہیں۔ اب ایک تو ان باغوں کا کمرشل پہلو ہے۔ پوری دنیا کو اک توانائی، اک نشہ، اک ڈرائیو فراہم کرتے۔ پوری دنیا کے انسانوں کے اجتماعی پیٹرول کا ایک بڑا حصہ۔ ادھر نمک، ادھر چائے، مگر عام آدمی کے نصیب نہ بدل پائے۔ نہ اکٹھے رہ کر، نہ الگ۔ مالنی چیرا نامی پرائیویٹ ٹی اسٹیٹ میں داخل ہونا چاہا تو مقامی گارڈ نے بخشش طلب فرمائی۔ 1854 سے یہاں چاء باگان ہیں اور کاشت جاری ہے۔ وہی زمین کا بوجھ اٹھانے والے ڈھیٹ لوگ، جو کسی سرکار کے ساتھ نہ بدلے اور نہ ہی اپنا نصیب بدلنے کی کوشش کی۔ اب آتا ہے چاء باگان کا دوسرا پہلو۔ ان کا جمالیاتی حسن۔
ہلکی بارش شروع ہو گئی۔ طویل سلوپ نما جگہوں پر سبز چھوٹے پتوں والے پودے۔ جہاں تک نگاہ جائے، اک سین سا۔ یوں لگا جیسے میں یہ سین جی چکا ہوں، ان ہلز اور چاء چنتی اپنی ٹوکری میں ڈالتی دوشیزاؤں سے کوئی سامنا پہلے ہو چکا ہے۔ مگر میں تو کبھی آسام یا بنگال یا کینیا نہیں گیا (چوتھی چائے کے باغوں والی جگہ میرے علم میں ہی نہیں ) اور ماضی میرا ویسے بھی کافی شریفانہ گزرا ہے۔ پھر یہ کوئی اجتماعی لاشعور ہے یا شدید خواہش کی تکمیل۔ ڈرائیور بار بار چلنے کے اشارے کرتا رہا جن کو ہم نے درخور اعتنا نہ سمجھا۔ اس سین کا حصہ بنے رہنے میں کتنی عافیت، کتنا سکون تھا۔ اس سکون کا انجام بارش میں باغ کے سامنے کے کیفے میں چائے کے ساتھ ہوا۔ واپسی پر کیڈٹ کالج سلہٹ بھی یہ باور کرانے کو کافی تھا کہ ہم کبھی ایک تھے اور کبھی ایک کی کالونی تھے۔ رات کو ٹور آپریٹر خود آیا اور اپنے موٹر سائیکل پر لوکل بازار کا چکر لگوایا۔ پرائیویٹ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی بہتات، بیشتر سائن بورڈ بنگلا زبان میں۔ سڑک کنارے ریڑھیوں کا جم غفیر۔ اک ریڑھی سے میزبان نے اورنج چاء پلائی۔ بے ہد لذیذ اور سستی۔ ہماری فرمائش تھی کہ سلہٹ سے ڈھاکا ٹرین سے جانا کہ سب ٹرانسپورٹ کے ذرائع ٹک ہو جائیں مگر معلوم ہوا ٹرینیں کم اور سواریاں زیادہ ہیں، اس واسطے بیشتر ٹکٹ بلیک ہوتے اور اب ہم بلیک ٹکٹوں کے لئے بھی لیٹ سو بس ہی سواری ٹھہرے گی۔ ایک ماڈرن کیفے سے برگر ڈیل لی اور کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے پاکستانی مہمان کو خاص رعایت دی۔ اب تک کے بنگال میں اشیا کی قیمتیں امید سے کم لگ رہی تھیں اور لوگوں میں گرمجوشی امید سے زیادہ لگ رہی تھی۔

