سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد
80 اور 90 کی دہائی گلے ملنے والی تھیں کہ اس دنیا میں مجھے پہلا سانس نصیب ہوا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے، وہاں بھی جنت اور دوزخ کی تقسیم تھی۔ تقسیم کا یہ کیڑا شاید انسان وہاں سے ہی ساتھ لایا ہے۔ پیدائش کے وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ آگے چل کے میری پیدائش کا خطہ مجھ سے اٹوٹ رشتہ قائم کر لے گا، شاید سب سے ہی کرتا ہو گا۔ مجھے اس وقت معلوم نہ تھا کہ اس خطے کے کوائف کیا ہیں ورنہ شاید حالات مختلف ہوسکتے تھے۔ زمان اور مکان کی اجتماعی شر انگیزیوں سے حضرت انسان ازل سے ہی حیرانی اور پریشانی کا شکار ہے۔ اس پریشانی میں اضافہ آخری صدی میں سوا ہو گیا جب سائنسی ایجادات، مذہبی رویے، زمین کی تقسیم، زمان کی تقسیم، مکان کی تقسیم، سپر پاورز کا ابھرنا، کولونیل نظام کی جڑیں کمزور ہونا اور نجانے کیا کیا ہوتا ہی چلا گیا۔ کبھی زمان اور مکان کا تاثر اتنا وسیع ہو گیا کہ دنیا ایک دھوکہ معلوم ہوئی اور کبھی اتنا تنگ ہو گیا کہ دنیا کے باہر کی دنیا بھی اپنی گرفت میں معلوم ہونے لگی۔ دنیا میں اپنے ٹکڑے کی بات کریں تو اٹھارہ سو ستاون اور پھر انیس سو سینتالیس نے عجب غضب ڈھایا۔ اپنا پرایا، مذہب غیر مذہب، دوست دشمن، مستقل جڑیں، عارضی جڑیں، میری زمین تیری زمین، سب گڈمڈ ہو گیا۔ حالات و واقعات کی شرانگیزی نے برصغیر کے انسانوں کے اجتماعی لا شعور میں وہ بھونچال برپا کر دیا کہ دو نسلوں کے بعد بھی آج غم روزگار کے گرد طواف کرتی اور گیجٹ کے گرد گھومتی زندگی میں بھی میری نسل ان باتوں کو سوچ کر انگشت بدنداں رہتی ہے۔
ویزا کیا ہے، خصوصی اجازت نامہ۔ امرتسر، بٹالہ والے بالکل میرے جیسے۔ زبان، رہن سہن، کھانا پینا، شاید خراٹوں کی فریکوینسی بھی ایک ہو مگر لکیر پار کرنے کو خصوصی اجازت نامہ درکار۔ بلوچ یا پختون برادر جو بولتے مجھ کم علم کو سمجھ نہیں آتا، ان کے کھانوں میں نمک کم لگتا، ان کے خد و خال بھی مجھ کم رو جیسے نہیں پھر ان کے علاقے میں بغیر کسی خصوصی اجازت نامے کے میں کیوں دندنا سکتا۔ ”اس لیے کہ گاندھی اور جناح کی نہیں بنتی تھی“ ۔ ان مسائل کا حل کسی قرآن یا گیتا میں نہیں۔ دانشور جو تصویر کھینچتے، ابہام اور بڑھتا۔ مذہب اگر مضبوط رسی تھی تو اس کی پائیداری صرف 24 سال کیوں نکلی؟ بچپن میں جب لوگوں کے پرکھوں کی تقسیم کے وقت کی قربانیوں کے قصے سنتا تھا تو احساس کمتری ہوتا تھا کہ میرے نانا دادا کیوں تقسیم سے پہلے ہی یہاں کے باسی تھے۔ میرے پاس پرکھوں کی کہانیاں کیوں نہِیں؟ کبھی کبھی نانا کانپور کے سفر اور وہاں کے حکیموں کی کہانیاں سناتے تھے۔ اس ماضی کا بظاہر تعلق نہ ہونے کے باوجود شاید اجتماعی لاشعور کا اثر اتنا شدید تھا کہ ٹین ایج کے گزرتے ہی انڈیا، بنگلہ دیش اور گریٹ برٹن دیکھنے کی شدید آرزو ہو گئی۔ جہاں میرے بزرگ خصوصی اجازت نامہ کے بغیر جا سکتے تھے کم ترقی یافتہ دور میں، ترقی کا ثمر مجھے ویزے کی پابندی کی صورت میں ملا۔ اپنا آپ، اپنے مریض، ارد گرد کے لوگ، سب کبھی کبھی منٹو کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کردار لگتے جو شاید وہ بے چینی جینز میں حاصل کرتے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بھلا بانٹ دیے جانے کا دکھ اور بے چینی دوا سے مٹ سکتی ہے؟ مٹ سکتی تو انتظار صاحب اور عینی بی بی اتنے صفحے کالے کرتے۔ مسائل کا حل نہ ہندو دیومالائی قصوں میں اور نہ ہی صوفیوں کی خانقاہوں میں۔
دلی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر میر کے شعر گنگنانے کی خواہش کو تو حسرت تسلیم کر لیا مگر بنگال کی سرزمین نے ہلکی سی آواز دی تو ہم نے بآواز بلند لبیک کہا۔ کبھی لگا کی اپنی ہی ایک پرانی کو لونی جا رہے، سو احساس برتری جاگا۔ فوراً اپنے مظالم کا خیال آیا تو دل چور سا ہو گیا۔ برادر اسلامی ملک، خود پر قہقہہ لگایا۔ بچپن میں پڑھی سندر بن کی کہانیاں سچ ہوتی لگیں۔ اپنا آپ دیپالی سرکار کا ریحان دا لگنے لگا کہ کمیونسٹ لیڈر بن کر بنگال کے جنگل میں کسی ناچتی گاتی مہکتی حسینہ کے ساتھ منگل منائیں گے۔ عشق کے امتحانوں سے سخت ویزے کے امتحاں تھے۔ بار بار خود کو یاد کرانا پڑتا تھا کہ 2022 ہے، تقسیم کر کے، راج کر کے، نفرتوں کے بیج بو کے کمپنی بہادر اور یحییٰ سرکار جا چکی ہے۔ وہ بیج اب تناور درخت ہیں۔ تاریخ کے فیصلے سر آنکھوں پر، پھر بھی میری نسل کے لئے یہ اندھیرے کیوں؟ میری لگن تھی، ڈھٹائی تھی، ادھر اور ادھر کے دوستوں کی کاوش تھی، کہ سارک سائیکاٹرسٹ کانفرنس کے آخری دن خصوصی اجازت نامہ آ ہی گیا۔ روانگی سے کچھ گھنٹے قبل کشور ناہید سے تفصیلی ملاقات ہوئی اور دورے کی رفتار سیٹ ہو گئی۔ ایک اور دوست کے ذریعے جن شہروں میں جانے کا ارادہ تھا، ان کی معلومات بھی مل گئیں۔ ویزہ آنے کے صبر آزما دور میں آخر شب کے ہمسفر، چائے کے باغ، چلتا مسافر اور بنگو بندھو کی ادھوری یادیں ریوائز کر ڈالیں۔ کبھی کبھی اپنے نصیب اور خدا کے وجود اور رحمت پر رشک آنے لگتا ہے، جب کوئی خود سے قتل کر دی ہوئی خواہش پھر زندہ ہو کر پوری ہونے لگتی ہے۔
All was finally set for a fulfilling Bengal trip
چھوٹوگرام (چٹاگانگ) بنگلہ دیش کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ساحلی پٹی بھی مگر ہوائی اڈہ بے حد سادہ اور چھوٹا ہے۔ جہاز سے برامد ہونے والے مسافروں میں ایک ہی بین الاقوامی مسافر تھا اور وہ بھی پاکستانی۔ سپیشل برانچ والوں کے لئے ہاٹ کیک۔ چار لوگ پل پڑے اور تصویر اتارنا چاہی۔ ہم نے کہا بھائی ہم کہاں کے شاہ رخ خان ہیں پھر بھی لے لو تصویر۔ انہوں نے آنے کی وجہ پوچھی تو کچھ دیر کو میں سوچ میں پڑ گیا۔ آدھی سے زیادہ دنیا خدا پرست ہے۔ جب زمین خدا کی، بندہ خدا کا تو پھر وجہ کاہے کی پوچھتے ہو۔ میرے خدا کی زمیں، میری مرضی۔ 41 سال پہلے تو نہیں پوچھتے تھے کسی سے۔ میری سرزمیں کا پراسرار، زرخیز اور عجیب سا حصہ رہی ہے یہ جگہ ہمیشہ سے۔ کھوئے ہوئے وقت کی جستجو لائی ہے مجھے یہاں۔ وقت ہمیشہ برا نہیں تھا۔ اس سرزمیں کا ہر خطہ، ہر زبان، ہر تہذیب ایک دوسرے کو بڑھایا کرتی تھی۔ کچھ سالوں کی کڑواہٹ، سب کچھ نہیں نگل سکتی۔ میں وہ سب کچھ ڈھونڈھنے آیا ہوں۔ یہ سب سپیشل برانچ والوں کو بتاتا تو اپنے سیل میں نہیں بلکہ ڈھاکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لے جاتے۔
کانفرنس کے کاغذ دکھائے تو بھائیوں کے تیور بدلے۔ ہوٹل کال کی، ڈرائیور کو اچھے سے لے کے جانے کا کہا۔ یہ بھی بتایا کہ یہاں کی اکثریت ہندی سمجھتی ہے، انڈین فلموں کی وجہ سے۔ قد قدرے چھوٹے مگر خد و خال میں مماثلت، دوسروں کو برتنے کا انداز بھی ویسا، ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کی طرح بے چین اہلکار۔ گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ ایک اور ہمسفر بھی تھا جو پیشے سے آرکیٹیکٹ تھا اور بنگلہ دیش کے سینئر سائیکاٹرسٹ کا بیٹا ہونے کے ناتے چھٹی گزارنے فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد کانفرنس میں جا رہا تھا۔ کانفرنسوں کی سائنس یہاں بھی وطن عزیز جیسی نکلی۔ آرکیٹیکٹ کبھی چٹاگانگ کو کراچی سے ملاتا کبھی ڈھاکا سے۔ کراچی سے مماثلت پر ہم راضی نہ ہوئے کہ کراچی جیسا دوجا شہر کوئی نہیں۔ تنگ گلیاں، گلیوں کے اندر تاریک گھروں کا جال، زیر تعمیر پل، دھوتیاں باندھے گلی کنارے لیٹے لوگ، رانگ وے سے گاڑی نکالتا ڈرائیور، اونچی عمارتوں میں زمیں کا بوجھ، سڑک کنارے لیٹے بوجھ اٹھانے والے۔ میرے تخیل نے مجھے کراچی یا لاہور نہیں پہنچا دیا، بلکہ میں نے چھوٹوگرام سے ہاتھ ملایا ہے۔ اس مصافحے کی گرمجوشی کو میں نہیں ماپ سکا مگر اس میں سرد مہری ہر گز نہ تھی۔
ایک خطے کو 47 میں دو حصوں میں بانٹ دیا گیا، 71 میں تین ہو گئے۔ 80 ٪ لوگ 46، 48، 70، 72 یہاں تک کہ 2023 میں بھی بوجھ ہی ڈھو رہے ہیں۔ خطے کے سرکاری نام، سرکاری زبان اور سرکاری مذہب سے ان کی حالت پر کبھی کوئی فرق نہ آیا۔ نیشنلزم کا بوجھ یا نیشنلزم کو بوجھ ایک خاص طبقہ بناتا ہے اور ڈھوتی عوام ہے۔
قدرے مڈل کلاس علاقے میں کرکٹ سٹیڈیم کے ساتھ ریڈیسن بلو ہوٹل جائے کانفرنس تھا۔ رات کی تاریکی میں جگہ اور رویے دونوں ٹھیک سے جانچے نہ گئے۔ میرا پیشہ ہے یا میرے دل کا چور، جو میں لینڈ کرتے ہی رویوں کی جانچ میں مصروف ہوں۔ مجھ اکیلی جان سے تو یہ اپنے بدلے نہیں اتاریں گے۔ مگر یہ مظلوم اور میں ظالم کی کیٹگری میں کیسے آ گئے۔ نقصان تو میرا بھی ہوا اور stigma بھی میرے ساتھ رہ گیا۔
ناشتے میں بھی پکوانوں کے نام نامانوس مگر ذائقے مانوس لگے۔ چکن اور مٹن کی ڈشز ہرگز تالو کو اجنبی نا لگیں۔ مانوس تو وہ ساری گفتگو بھی لگی جو وہاں کے ایک سائیکاٹرسٹ نے ناشتے کی میز پر کی۔ وہی ملکی حالات نامساعد ہونے کا گلہ، وہی مغرب میں جا بسنے کا عزم، میرے مغرب سے لوٹ آنے پر حیرانی۔ نہیں یہ راولپنڈی نہیں، چٹاگانگ ہے۔ یہاں سب مختلف ہونا چاہیے۔ مختلف ہو گا تو تاریخ کا فیصلہ آسانی سے ہضم ہو گا۔ کانفرنس میں ہمارے سیشن میں بہت وقت تھا سو ہوٹل سے نکلے۔ ہوٹل سے ملحق جنرل ضیاء میوزیم کو باہر سے ہی دیکھا کیے۔ ایک تو جرنل ضیاء چاہے یہاں کے ہوں یا وہاں کے، ہمارا مزاج ان سے میل نہیں کھاتا اور دوسرا لوکل اور فارنر کے ٹکٹ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ لوکل ہمیں انتظامیہ نے ماننا نہیں تھا اور فارنر ہم برصغیر کے کسی کونے میں خود کو سمجھنے کو تیار نہیں۔
پاس ہی سرکٹ ہاؤس تھا جس کی پرشکوہ عمارت کے باہر ایستادہ سیکیورٹی اہلکار یہ بتانے کو کافی تھے کہ کولونیل عہد کی باقیات ابھی زندہ ہیں۔ سرکٹ ہاؤس سے نکلے تو منزل، وار سیمٹری تھی۔ پھر دل میں اک لہر سی اٹھی، بغیر تازہ ہوا کے۔ وار سیمٹری نجانے کس جنگ کے شہدا کی یادگار ہو۔ وہاں جا کہ کچھ اپنا محاسبہ ہی نہ شروع ہو جائے۔ خیر کچھ ڈھٹائی کا عنصر جگایا اور لوگوں سے راہ پوچھنے کی کوشش کی۔ اردو، ہندی اور انگریزی سے نابلد لوگ دیکھنے میں تو کراچی والوں جیسے لگتے تھے۔ زیادہ تر ذی روح دھوتی میں ملبوس تھے۔ ایک فرشتہ نما انسان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا، ہماری بات سمجھا اور رکشہ ڈرائیور کو سمجھایا۔ رکشہ کی اصطلاح بنگلہ دیش میں انسانی رکشے کے لئے مخصوص ہے۔ ہمارے ہاں جیسے رکشے کو وہاں ایندھن کی مناسبت سے سی۔ این۔ جی کہا جاتا ہے۔ بنگال کا یہ رکشا دلچسپ تھا یا دلخراش، کہنا مشکل ہے۔ عینی بیبی کے 50 اور 60 کی دہائی کے ٹور سے اب تک عام آدمی تو یہی بوجھ ڈھو رہا ہے۔
بیٹھتے ہی ڈرائیور کی پتلی ٹانگوں کی حرکت سے رواں دواں اس سواری نے گلٹ میں مبتلا کر دیا۔ ”اس کے معنیٰ تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے“ ۔ ارد گرد نوجوانوں کے غول اسی سواری پر سوار دیکھ کر کچھ گلٹ تو کم ہوا۔ ڈرائیور کی پنڈلیوں سے نظر اٹھائی تو منظر میں سوائے بنگلہ سائن بورڈوں کے، سب کچھ ویسا تھا۔ اسی ڈھب کے بازار، اسی ڈھب کے لوگ اور ان کے کبھی نہ پورے ہونے والے بے ڈھب خواب۔ دھوتی کو اتنا عام لباس دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی کہ یہ لباس ابھی معدوم نہیں ہو رہا۔ ذرا چڑھائی آئی تو ڈرائیور سے کہا کہ بھائی ہمیں اتار دو زمیں پر ورنہ ندامت کہیں زمین کے نیچے نہ پہنچا دے۔ اتر کر پتا چلا کہ وار سیمٹری بازو میں ہی ہے۔ گنجان آباد دیسی علاقے میں درختوں اور سبزے میں گھری گورا قبرستان نما جگہ۔ انتہائی منظم قبریں دوسری جنگ عظیم کے شرکاء کی، معاف کیجیے شہدا کی۔ زیادہ بنگالی اور کچھ جاپانی۔ گوروں نے اپنے آخری دور میں بھی مردوں کی ڈیلنگ کمال رکھی مگر زندوں کا بندوبست ایسا خراب کیا کہ آج تک نہ سدھر سکا۔ وار سیمٹری کی تاریخ اور سوگواریت سے بے پرواہ کچھ منچلے نوجوان اس کو ڈیٹنگ سپاٹ بنائے ہوئے تھے۔ تھی جوانی کو جوانی اس طرح پکڑے ہوئے۔ جنگجؤوں کے مرنے کے بعد بھی قدرت نے ان کے منورنجن کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ شہید زندہ ہوتے ہیں اور منورنجن زندوں کی بنیادی ضرورت۔ مرطوب فضا نے زیادہ دیر اس زندہ ماحول میں رہنے نہ دیا اور واپس ہوٹل کی راہ لی۔

