میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

ایک روز میں شاکرو سے یسوع مسیح کی تعلیمات کا ذکر چھیڑ بیٹھا۔
”ہاں ہاں مجھے سب پتہ ہے یسوع مسیح کی تعلیمات کا۔ کیوں نہیں پتہ۔“ اس نے ایک شان بے نیازی کے ساتھ اپنے کندھے جھٹکتے ہوئے مجھے بتایا۔ میں نے اسے مزید کریدا تو وہ بولا ”بہت عرصہ پہلے مسیح نام کا ایک انسان گزرا ہے۔ وہ یہودیوں کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف کھڑا ہو گیا تھا جس پر یہودیوں نے اسے سولی پر لٹکا دیا تھا۔ مگر چونکہ وہ خود خدا تھا اس لیے مرا نہیں بلکہ زندہ آسمانوں پر چلا گیا۔ اس نے لوگوں کی زندگیوں کو ایک قانون دیا۔“
”کون سا؟ کیسا قانون؟“ میں نے اس سے پوچھا۔
”تم کرسچن ہو کیا؟“ اس نے طنزیہ انداز میں الٹا مجھ ہی سے سوال کر دیا۔ ”چلو اگر تم ہو تو ٹھیک ہے پھر۔ میں بھی کرسچن ہوں“ وہ بولا۔ ”دنیا میں قریب قریب سبھی تو کرسچن ہیں۔ پھر تم مجھ سے کیا جاننا چاہ رہے ہو؟ تم دیکھتے نہیں کہ دنیا میں لوگ کیسے رہتے ہیں۔ یہی تو ہے یسوع مسیح کی تعلیمات اور ان کا قانون۔ اور کیا ہے؟“
اس کی یہ بات سن کر مجھے جوش آ گیا اور میں تفصیلاً اسے عیسائیت کی تعلیمات کے بارے میں بتانے لگا۔ کچھ دیر تو وہ دھیان سے سنتا رہا پھر اس کی توجہ ماند پڑنے لگی۔ ذرا دیر بعد وہ پورا منہ کھول کر جماہیاں لے رہا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ میری آواز کے لئے اس کے دل کے کان بند ہیں تو میں نے عمومی نوعیت کی گفتگو شروع کر دی مثلاً معاشرے کے لیے باہمی تعاون کے فوائد، قانون کی پابندی کیوں ضروری ہے، علم کے ثمرات وغیرہ لیکن مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ یہ سب لاحاصل تھا۔ میرے دلائل کے چمکدار حسین موتی اس کی بے عقلی کی سنگین سیاہ دیوار سے ٹکرا کر خاک ہو گئے لیکن میں زندگی کے بارے میں اس کے نظریات میں ذرا سی بھی تبدیلی نہ لا سکا۔ بلکہ الٹا اسی نے مجھے خاموش کروا دیا۔ وہ بڑے گمبھیر لہجے میں مجھ سے بولا۔ ”دیکھو میکسم میری بات سنو۔“ اس کا انداز بہت ناصحانہ تھا۔ ”ہو سکتا ہے کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ لیکن یہ بھی تو دیکھو نا کہ طاقت ور آدمی تو خود ہی قانون ہوتا ہے۔ اسے کچھ پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دو تب بھی اسے صحیح رستہ مل ہی جاتا ہے۔ ہے کہ نہیں؟“
میں اس سے کافی دیر تک گفتگو کرتا رہا لیکن وہ اپنے نظریات پر قائم رہا۔ مجھے شخصی طور پر اس کا احترام تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ بار بار میرے سامنے ایک ظالم اور سفاک انسان کے روپ میں آتا رہا۔ اس کی ہٹ دھرمی پر میرے دل میں اس کے خلاف نفرت کا ایک شدید ابال اٹھتا مگر اس کے باوجود بھی اس کے ساتھ زندگی کا کوئی مشترک نکتہ تلاش کرنے کی آرزو میرے اندر کبھی مری نہیں۔ میں ہنوز اس بات کا خواہشمند تھا کہ کوئی ایک بات کوئی ایک معاملہ ایسا ہو جس پر ہم دونوں ہم خیال ہو جائیں اور ایک دوسرے کو سمجھنا شروع کر دیں۔
اب ہم چلتے چلتے خاکنائے پیری کوپ کو عبور کر چکے تھے اور یائیلا کے پہاڑی سلسلے کی جانب بڑھ رہے تھے۔ میں اب تصور کی آنکھ سے کرائمیا کے جنوبی ساحلوں کے خواب دیکھ سکتا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے میرا شہزادہ کسی عجیب نامانوس زبان کے گیت اپنی دانتوں کے پیچھے سے گنگنا رہا تھا۔ ہم لوگ اس وقت تک بالکل بے حال ہو چکے تھے۔ تمام پونجی خرچ ہو چکی تھی۔ جیب خالی تھیں اور کہیں کوئی کام ملنے کا امکان بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ کچھ تھوڑی سی امید تھی کہ شاید تھیوڈوسیا کی بندر گاہ پر ہماری مراد بر آئے اور ہمیں کوئی کام دھندا مل جائے۔ اس مرحلے پر میرے شہزادے نے مجھے اطلاع دی کہ اس کا بھی اب کوئی کام کرنے کا موڈ ہو رہا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ جب وہ خوب سارے پیسے جوڑ لے گا تو ہم دونوں بحری جہاز سے باٹومی چلے جائیں گے جہاں اس کے بہت سارے دوست رہتے ہیں۔ وہاں وہ ان کی مدد سے میرے لئے کسی نوکری کا بندو بست کر دے گا مثلاً چوکیدار یا بلڈنگ کی دیکھ بھال کرنے والا کارکن وغیرہ۔ اس نے بڑے مربیانہ انداز سے میرا کندھا تھپتھپایا اور زبان چٹخا کر بڑی ادا سے گویا ہوا۔ ’آہ۔ کیا شاندار زندگی ہو گی جو میں تمہیں فراہم کروں گا۔ چ چ چ۔ تم وائن پی سکو گے جتنی چاہے اتنی۔ گوشت کھاؤ گے جتنا کھا سکو اتنا۔ چ چ چ۔ پھر میں تمہاری شادی ایک خوب تگڑی جارجین عورت سے کروا دوں گا۔ وہ تمہارے لئے لاواش والی روٹی بنائے گی۔ تمہارے لئے بچے پیدا کرے گی۔ بہت سے بچے۔ چ چ چ‘

شہزادے کی یہ متواتر چ چ چ ابتدا میں مجھے عجیب لگی پھر مجھے اس سے چڑ ہونے لگی اور پھر اس نے مجھے ایک شدید غصے والی بے بسی میں مبتلا کر دیا۔ روس میں یہ چ چ چ والی آواز صرف سؤروں کو بلانے کے لیے نکالی جاتی ہے مگر قفقاز میں، جیسا کہ مجھے بعد میں علم ہوا، یہ آواز خوشی افسوس یا غم ہر موقعے پر نکالی جاتی ہے۔
شاکرو کا نفیس چیک سوٹ اب تک تار تار ہو چکا تھا۔ اس کے قیمتی جوتے جگہ جگہ سے اس کے پیروں کو کھانے لگے تھے۔ اس کی چھڑی اور ہیٹ ہم بہت پہلے خرسون ہی میں بیچ آئے تھے۔ ہیٹ کی جگہ اب شہزادے نے کسی ریلوے ملازم کی استعمال شدہ ٹوپی پہن رکھی تھی۔ اس نے جب یہ ٹوپی پہلی بار پہنی تو اسے سر پر ذرا سا ٹیڑھا کر کے مجھ سے پوچھا تھا۔ ’کیسا لگ رہا ہوں میں۔ ہینڈسم نا؟‘
اور پھر ایک روز بالآخر ہم کرائمیا آن پہنچے۔ سمفروپول ہمارے پیچھے رہ گیا تھا اور اب ہم یالٹا کی جانب رواں تھے۔ میں دم بخود اس ساحلی شہر کے بے پناہ قدرتی حسن میں کھویا ہوا تھا۔ یہ شہر میرے خوابوں سے بھی بڑھ کر حسین تھا۔ میرے برابر میں میرا شہزادہ شاکرو پادزے بھوک کے مارے ٹھنڈی آ ہیں بھر رہا تھا۔ اس کی بے قرار نگاہیں چاروں جانب کچھ کھانے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ لیکن ہمارے آس پاس سوائے کچھ مشکوک قسم کی جھڑ بیریوں کے اور کچھ نہ تھا۔ شہزادہ اس وقت انہی بیریوں سے اپنے جناتی معدے کو بھرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ ان نامعلوم نسل کی بیریوں کی غذائیت اس کے نظام ہضم کے مطالبات کو پورا نہ کر سکتی تھی۔ وہ غصے میں آ کر مجھ سے پوچھنے لگا۔ ’اگر یہ بیریاں کھانے کے بعد مجھے قے ہو گئی تو کیا ہو گا؟ میں آ گے سفر کیسے جاری رکھوں گا؟ ہوں؟ بتاؤ نا مجھے تم۔ کیسے۔ کیسے؟‘
میری پوری کوشش کے باوجود اب تک ہمارے لیے پیسہ کمانے کی کوئی صورت پیدا نہ ہو سکی تھی چنانچہ ہمارے پاس سوائے جنگلی بیریوں اور مستقبل کی خوش گوار امیدوں کے اپنی بھوک کو بہلانے کا کوئی اور سامان نہ تھا۔ شاکرو اب میری ’سستی‘ پر مجھے برا بھلا کہتا رہتا۔ میری طرح وہ بھی درماندہ تھا مگراس حالت میں بھی وہ اپنی بھوک اور اپنی خوراک کے تذکرے سے مجھے ذہنی اذیت پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتا تھا۔ وہ کہتا کہ اپنے گھر میں وہ ناشتے میں سالم بھیڑ کا بچہ بھنا ہوا کھا جاتا تھا اور پھر اس پر وائن کی کئی بوتلیں چڑھا جاتا تھا۔ دو بجے دوپہر کو وہ کباب کی کئی سیخیں پلاؤ اور شاشلک کے ساتھ کھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی وہ کئی ایسے قفقازی کھانوں کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتا رہتا تھا جن کے میں نے کبھی نام بھی نہیں سنے تھے خوراک کے متعلق اس کی یہ لاف زنی شام و سحر جاری رہتی اور میں چپ چاپ سنتا رہتا۔
بالآخر ایک صبر آزما انتظار کے بعد مجھے یالٹا کے قریب ایک باغ میں درختوں کی بڑھی ہوئی شاخیں تراشنے کا کام مل گیا۔ میں نے مزدوری کی کچھ رقم ایڈوانس میں لی اور اس میں سے آدھا روبل نکال کر گوشت اور روٹی خرید کر لایا۔ میں یہ سامان لے کر باغ میں داخل ہوا ہی تھا کہ باغ کے مالی نے مجھے آواز دے کر بلا لیا۔ میں سارا سامان خورد و نوش شاکرو کی تحویل میں دیا اور کام پر چلا گیا۔ شاکرو نے کام میں میرا ساتھ دینے سے معذرت کر لی تھی کیوں کہ ’اس کے سر میں درد‘ ہو رہا تھا۔

کوئی ایک گھنٹے کے بعد جب میں کام سے لوٹا تو شاکرو تمام گوشت اور روٹی صفا چٹ کر چکا تھا۔ میرے لئے ایک ریشہ تک باقی نہ بچا تھا۔ شاکرو نے اپنی جناتی بھوک کے جو قصے مجھے اب تک سنائے تھے ان میں ذرا بھی مبالغہ نہ تھا لیکن اس وقت مجھے اس کا یہ فعل انتہائی غیر دوستانہ لگا تھا۔ میں نے بہر طور تحمل سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور خاموش رہا۔ لیکن مجھے بعد میں یہ احساس ہوا کہ ایسا کرنا میری غلطی تھی۔ شاکرو نے میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھا اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ میرا یہ کمزور لمحہ بعد میں پیش آنے والی لاینحل صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔
اب یہ ہونے لگا تھا کہ میں کام کرتا اور شاکرو میاں بیٹھ کر کھایا کرتے۔ کام نہ کرنے کے لیے اس کے پاس بہانوں کا ایک ختم نہ ہونے والا ذخیرہ تھا۔ وہ خود تو صرف کھاتا اور سوتا تھا لیکن مجھے زیادہ محنت کرنے کی تلقین کرتا تھا۔ میں اس صورت حال پر حیران بھی تھا اور مجھے اس شخص پر افسوس بھی ہوتا تھا۔ وہ ایک ہٹا کٹا صحت مند نوجوان تھا مگر کسی قسم کے کام میں میرا ہاتھ بٹانے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا۔ میں جب کام سے واپس آتا تو وہ کسی بھوکے بھیڑیے کی مانند میرا منتظر ہوتا تھا۔ جو بھی کھانے کا سامان میرے پاس ہوتا وہ اسے بلا توقف مجھ سے جھپٹ لیتا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ چٹ کر جاتا۔ اسے اس بات سے کوئی سرو کار نہ تھا کہ میں دن بھر کی مشقت کی تھکاوٹ سے چور اور پسینے میں غرق گھر واپس آتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ وہ الٹا میری اس ابتر حالت پر ہنستا تھا اور میرا مذاق اڑاتا تھا۔ اس کی ہنسی کا راز بھی مجھے جلد معلوم ہو گیا۔ موصوف نے میری غیرموجودگی میں بھیک مانگنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ جی ہاں! وہ حضرت عیسی کے نام پر بھیک مانگتا تھا۔ شروع شروع میں وہ میری موجودگی میں ذرا شرم کرتا تھا مگر کچھ روز بعد جب ہمارا گزر ایک تاتاری گاؤں سے ہوا تو وہ وہیں میرے سامنے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس نے کہیں سے درخت کی ایک ٹیڑھی شاخ ڈھونڈ نکالی تھی اور اس کے سہارے ایک پاؤں کو گھسیٹ کر چلتا تھا گویا کہ وہ کوئی معذور انسان تھا۔ وہ خوب سمجھتا تھا کہ گاؤں کے تاتاری ایک ہٹے کٹے نوجوان کے لیے اپنے بٹووں کے منہ کبھی نہ کھولیں گے۔ میں نے اس کی اس حرکت پر اسے شرم دلانے کی کوشش کی اور بھیک مانگنے پر اسے لعنت ملامت بھی کی۔ جواب میں اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ مجھ سے کہا۔ ’میں تو کوئی کام نہیں کر سکتا۔ مجھے تو کوئی کام ہی نہیں آتا ہی۔ تو پھر؟‘
شاکرو کو بھیک سے کوئی زیادہ آمدنی نہیں ہوتی تھی مگر وہ پھر بھی لگا رہتا تھا۔ ادھر سفر کی تھکان اور مسلسل بے آرامی نے میری صحت پر بہت برا اثر ڈالا تھا۔ راستے تھے کہ مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے تھے اور شاکرو کے ساتھ میرے تعلقات خراب سے خراب تر۔ اب وہ مجھ سے خوراک کا مطالبہ ایسے کرتا تھا کہ جیسے یہ اس کا پیدائشی حق ہو۔
’ تم میرے راہبر ہو۔‘ وہ بڑے دلسوز لہجے میں مجھ سے کہتا۔ ’تم مجھے راستہ دکھاؤ۔ میں اتنا لمبا سفر پیدل کیسے کر سکوں گا؟ ہو سکتا ہے میں راستے ہی میں مر جاؤں۔ تم مجھے تکلیف کیوں دیتے ہو؟ کیا تم سچ مچ چاہتے ہو کہ میں مر جاؤں؟ اگر میں مر گیا تو میرے لوگوں پر کیا گزرے گی؟ میری ماں روئے گی۔ میرا باپ روئے گا میرے دوست یار سب روئیں گے۔ کتنے لوگوں کو رلانا چاہتے ہو تم؟ بولو؟‘
میں شاکرو کے یہ دکھ بھرے بیانات چپ چاپ سنتا رہتا اور آگے سے کچھ نہ کہتا۔ مجھے اب اس پر غصہ نہیں آتا تھا کیوں اس عرصے میں مجھ میں ایک عجیب و غریب احساس نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ اسی احساس نے مجھے اس انتہائی تکلیف دہ صورت حال سے نبٹنے کی طاقت عطا کی تھی۔ کئی بار جب شاکرو میرے قریب سو رہا ہوتا تو میں ایک محویت کے عالم میں اس کے پرسکون بے تاثر چہرے کو تکتا رہتا اور دھیرے دھیرے اپنے آپ سے وہ الفاظ دہراتا رہتا تھا جو خود میں ایک سمجھ میں نہ آنے والا آسمانی پیغام رکھتے تھے۔ ’میرا ہم سفر۔ میرا ہم سفر‘ ۔ میرے ذہن کے کسی تاریک گوشے سے یہ خیال سر ابھارنے لگا تھا کہ شاکرو جب اتنے رسان سے اور اتنی جرات سے مجھ سے توجہ اور مدد مانگتا تھا تو دراصل وہ اپنا حق ہی تو استعمال کرتا تھا۔ اس کے مطالبات میں ایک طاقت تھی۔ اس کے وجود کی طاقت۔ اس نے مجھے غلام بنا لیا تھا اور میں نے اس کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ اب میں اس کی شخصیت کا مطالعہ کر رہا تھا کہ وہ کس وقت ایک انسان پر اپنا تسلط جمانے کے عمل سے خود کو باہر نکالتا ہے۔ اپنی جگہ وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ وہ گانا گاتا تھا خوب سوتا تھا اور جب چاہتا مجھ پر دل کھول کر ہنستا تھا۔ کبھی کبھار وہ دو تین روز کے لیے مجھ سے الگ ہو جاتا۔ میں اسے روٹی اور کچھ رقم دے کر بتاتا کہ اسے کہاں میرا انتظار کرنا ہے۔ جب وہ مجھ سے جدا ہو رہا ہوتا تو مجھے بہت غصے اور شک کی نگاہوں سے دیکھتا تھا لیکن جب دوبارہ ملتا تو بہت خوش ہوتا اور فاتحانہ انداز سے قہقہے لگاتا۔ وہ کہتا۔ ’میں سمجھا کہ تم مجھے چھوڑ کر بھاگ لیے اپنی راہ پر۔ ہا ہا ہا۔ ُ میں اسے کچھ کھانے کو دیتا۔ اسے ان خوبصورت جگہوں کے متعلق بتاتا جو اس دوران میں اس نے دیکھی تھیں۔ اسے بخشی سرائے کے بارے میں بتاتا۔ پشکن کے بارے میں بتاتا اور اس کی نظمیں سناتا۔ لیکن اس پران سب باتوں کا ہرگز کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ بلکہ وہ کچھ یوں کہتا۔ ”اوہ یہ اشعار۔ یہ اشعار نہیں گانے ہیں۔ میں جارجیا میں ایک بندے کو جانتا ہوں جو گانے گاتا تھا۔ اصلی والے گانے۔ وہ آ آ کر کے گانا شروع کرتا۔ اس کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی جاتی جیسے کسی نے اس کے پیٹ میں خنجر گھسیڑ دیا ہو۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ پھر ایک روز اس نے سچ مچ شراب خانے کے مالک کے پیٹ میں چاقو اتار دیا۔ آج کل وہ سائبیریا میں سزا کاٹ رہا ہے۔ ہاہا۔ ہاہا۔ ہا“ ۔

ہر بار جب میں شاکرو سے ملتا تو اس کی نظر میں پہلے سے چھوٹا ہو چکا ہوتا اور وہ یہ بات مجھے بتانے میں ذرا بھی تامل نہ کرتا تھا۔ ہمارے مالی حالات پھر سے دگرگوں تھے۔ سفر ابھی جاری تھا اور کام زیادہ نہیں ملتا تھا۔ میں پورے ہفتے میں مشکل سے ڈیڑھ روبل کما پاتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ رقم دو افراد کے لیے کسی طرح بھی کافی نہ تھی۔ شاکرو کی خیرات کی کمائی بھی ہماری خوراک کا خرچہ اٹھانے میں معاون ثابت نہ ہو رہی تھی۔ اس کا معدہ ایک اندھا کنواں تھا۔ جو کچھ بھی سامنے آتا وہ پلک جھپکنے میں اسے ہڑپ کر جاتا تھا۔ انگور، تربوز، نمکین مچھلی، روٹی، خشک میوے۔ کچھ بھی۔ یوں لگتا تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ شاکرو کا معدہ اور بڑا اور گہرا ہوتا چلا جا رہا تھا اور اس کی شکار کی طلب اور بڑھتی جا رہی تھی۔
اب شاکرو مجھ پر دباؤ ڈالنے لگا تھا کہ ہمیں جلد از جلد کرائمیا چھوڑ دینا چاہیے کیوں کہ یہاں سردیاں شروع ہونے والی تھیں اور ہم سردیوں میں زیادہ سفر نہیں کر سکتے تھے۔ میں شاکرو سے متفق تھا۔ یوں بھی مجھے کرائمیا کے جو حصے دیکھنے کا شوق تھا وہ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ اب میں آگے تھیوڈوسیا کی جانب بڑھنا چاہتا تھا کیوں کہ وہاں کچھ رقم کمانے کے مواقع مل سکتے تھے جس کی اب ہم کو شدید ضرورت تھی۔
آلوشتا سے کوئی پچیس فرلانگ آگے تک سفر کرنے بعد ہم نے ایک جگہ پر رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے شاکرو کو قائل کر لیا تھا کہ ہمیں سمندر کے کنارے کنارے سفر کرنا چاہیے۔ یہ راستہ قدرے طویل تھا لیکن میں سمندر کی ہوا میں سانس لینا چاہتا تھا۔ ہم دونوں نے ایک جگہ دیکھ کر آگ روشن کی اور اس کے قریب دراز ہو گئے۔ یہ ایک بے حد دلکش شام تھی۔ ہمارے قدموں کی طرف نیچے گہرا سبز سمندر سنگین چٹانوں سے سر ٹکرا رہا تھا تو سر پر زرد آسمان ایک پر اسرار خاموشی کی چادر تانے کھڑا تھا۔ ہمارے گردا گرد درخت اور جھاڑیاں ایک مسلسل سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آسمان پر چاند طلوع ہو رہا تھا اور درختوں کے سائے گھٹ رہے تھے۔ ایک پرندہ اپنی بلند لیکن مدھر آواز میں گاتا ہوا عین ہمارے سروں کے اوپر سے گزر گیا۔ اس کے سنہرے پر ہوا میں پھیلتے ہوئے لہروں کے سنگیت میں پگھل کر غائب ہو گئے۔ قریب کسی جھینگر کے ٹرانے کی آواز بھی اب آنے لگی تھی۔ ہمارے سامنے آگ خوب مزے میں بھڑک رہی تھی اور اس کے رنگا رنگ شعلے سرخ اور پیلے پھولوں کے گلدستے معلوم ہوتے تھے۔ زمین پر پڑتے ان پھولوں کے سائے بھی ناچ رہے تھے جیسے سست رفتار سے طلوع ہوتے ہوئے چاند کو چڑا رہے ہوں۔ ہمارے سامنے پھیلا ہوا سمندر کسی بیابان کی طرح خالی تھا۔ اس لمحے مجھے لگا کہ جیسے میں زمین کے کنارے پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ایک عجیب طرح کی پر اسرار کیفیت تھی۔ زمین و آسمان کی بے کراں وسعت کے احساس نے میری روح کو ایک ان دیکھی مسرت سے لبریز کر دیا تھا اور میرے دل کی دھڑکنیں اس مسرت کے احترام میں سست پڑ گئی تھیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

