میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر


سو میں اور بھی زیادہ بلند آواز سے پکارا۔ اس یقین کے ساتھ کہ می‍ں اپنے عمل سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا رہا تھا اور نہ خود پر کسی تنقید کو دعوت دے رہا تھا۔ لیکن اس لمحے اچانک میری ٹانگوں کو نیچے سے جھٹکا لگا اور میں بے اختیار کیچڑ کے ایک تالاب میں بیٹھ گیا۔ شاکرو مجھے سنجیدہ بلکہ خشمگیں نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

 ” تمہارا دماغ چل گیا ہے کیا؟ نہیں؟ نہیں نا؟ تو پھر منہ بند کرو اپنا۔ میں تمہارا حلق پھاڑ دوں گا۔ سمجھے؟“

میں حیران رہ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ میں نے کس طرح اسے پریشان کیا تھا؟

 ” تم مجھے خوفزدہ کر رہے ہو۔ سمجھے؟ یہ طوفانی گڑگڑاہٹ۔ یہ خدا بول رہا ہے۔ اور تم اس سے زیادہ اونچا بولنا چاہ رہے ہو؟ کیا سمجھتے ہو تم؟“

میں نے اس سے کہا کہ مجھے گانا گانے کا پورا حق حاصل تھا جیسا کہ اسے حاصل تھا۔

 ” مگر میں نہیں چاہتا“ اس نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

 ” تو مت گاؤ“ میں نے کہا۔

 ” تو پھر تم بھی مت گاؤ“ اس نے بری طرح مجھے ڈانٹ دیا۔

 ” نہیں۔ میرا گانے کو دل چاہ رہا ہے“ ۔

 ” او۔ سنو میری بات۔ کیا سمجھتے ہو تم؟“ شاکرو نے طیش میں بولنا شروع کیا۔ ”تم ہو کون؟ تمہارے کوئی تعلقات ہیں؟ زمین ہے؟ اس دنیا میں تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تمہارا خیال ہے تم آدمی ہو؟ میں ہوں آدمی۔ میرے پاس سب کچھ ہے۔“ اس نے اپنا سینہ ٹھوکا۔ ”میں شہزادہ ہوں۔ اور تم۔ تم کچھ نہیں ہو۔ کچھ بھی نہیں۔ مجھے کوٹیسی میں طفلس میں سب جانتے ہیں۔ سمجھے؟ تم میرے خلاف مت جاؤ میری خدمت کرو۔ تمہیں بہت ملے گا۔ میں تمہیں دس گنا دوں گا۔ تم یہ کرو گے میرے لیے؟ تم کچھ اور نہیں کر سکتے۔ تم خود کہتے ہو کہ خدا حکم دیتا ہے کہ سب انسانوں کی خدمت کرو بنا کسی بدلے (کی تمنا) کے۔ میں تمہیں بدلا دیتا ہوں۔ پھر تم مجھے کیوں ستاتے ہو؟ مجھے تبلیغ کرو مجھے ڈراؤ مت اچھا؟ تم چاہتے ہو کہ میں تم جیسا ہو جاؤں؟ یہ تو اچھی بات نہیں۔ اخ۔ اخ۔ اخ۔ تھو تھو۔

وہ بولتا تھا، ہونٹوں پر زبان پھیرتا تھا، تھوکتا تھا، نتھنوں سے آوازیں نکالتا تھا، آہیں بھرتا تھا اور میں کھلے ہوئے منہ کے ساتھ اس کی شکل دیکھتا تھا۔ واضح طور پر وہ ان تمام بے عزتی کے زخموں کے لیے جو میں نے آغاز سفر سے اب تک اسے دیے تھے اپنا جمع شدہ غصہ مجھ پر نکال رہا تھا۔ اپنے دلائل میں وزن پیدا کرنے کے لیے وہ اپنی انگلی میرے سینے میں چبھوتا تھا مجھے کاندھے سے پکڑ کر ہلاتا تھا اور بہت زیادہ جوش کے لمحات میں تو وہ اپنے پورے بھاری بھرکم وجود سے میرے وجود کو رگڑ دیتا تھا۔ بارش متواتر ہم پر گر رہی تھی، گڑگڑاہٹ کی آوازیں مسلسل ہمارے سروں پر برس رہی تھیں، اور شاکرو سنائی دیے جانے کے لیے، اپنی آواز کی پوری طاقت سے چلا رہا تھا۔

اس وقت میری حیثیت کی بے معنویت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اتنا کہ میں بالکل پسلی توڑ قسم کے قہقہے لگانے لگا۔ شاکرو نے بے تحاشا تھوکتے ہوئے، اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔

جتنا ہم طفلس کے نزدیک آتے گئے، اتنا ہی زیادہ شاکرو غمگین اور سوچوں میں گم ہوتا چلا گیا۔ اس کے کمزور ہوئے مگر اب بھی متاثرکن چہرے میں کچھ نیا ظاہر ہو چکا تھا۔ ولاڈی کیزکوف سے کچھ فاصلے پر ہم ایک سرکیشین گاؤں میں پہنچے اور وہاں خود کو مکئی کی برداشت کے لیے نوکر کروایا۔ مگر دو دن تک سرکیشین لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد ، جو کہ مشکل ہی سے کچھ روسی زبان جانتے تھے اور سارا وقت ہم پر ہنستے اور اپنی زبان میں ہمیں کوستے رہتے تھے، ہم نے ان کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے سے پریشان ہو کر گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ گاؤں سے کچھ دس ورسٹ دور، اچانک شاکرو نے اپنی قمیض کے نیچے لیزغن شفون کا ایک تھان برآمد کیا اور اسے فاتحانہ انداز سے مجھے دکھایا۔

 ” اب کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم (اسے ) بیچیں گے۔ اور ضرورت کی ہر شے خریدیں گے۔ اور یہ طفلس تک چلے گا۔ سمجھے؟“

نقطہ طیش تک چڑ کر میں نے وہ کپڑا شاکرو سے چھینا اور اپنے کندھے پر سے دیکھتے ہوئے اسے ایک جانب پھینک دیا۔ سرکیشین والوں کو اتنا ہلکا لینا ٹھیک نہ تھا۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا جب ہم نے ایک کوسیک سے یہ والی کہانی سنی تھی: ایک خانہ بدوش نے، جو کہ ایک گاؤں میں کام کرتا تھا، گاؤں چھوڑتے ہوئے، لوہے کا ایک چمچ چرا لیا تھا۔ سرکیشین لوگوں نے اسے جا پکڑا، چمچ برآمد کیا، اس کا پیٹ خنجر سے چاک کیا، اور پھر وہی چمچ اس کے زخم میں گہرا گاڑ کر اسے وہیں گھاس کے میدان میں چھوڑ کر مزے سے چلتے بنے تھے، جہاں پر وہ کوسیک گروہ کو نیم مردہ حالت میں ملا تھا۔ اس نے ان کو یہ کہانی سنائی تھی اور ان کے گاؤں کے راستے میں ہی مر گیا تھا۔ کوسیک والوں نے ایک سے زیادہ بار ہمیں سرکیشین لوگوں کے متعلق سخت تنبیہ کی تھی۔ انہوں نے ہمیں سرکیشین کے بارے میں ایسی کئی اور کہانیاں بھی سنائی تھیں۔ ان سب کا سبق ایک ہی تھا۔ میرے پاس ان کہانیوں کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

میں نے شاکرو کو یہ بات یاد کروائی۔ وہ میرے سامنے کھڑا سنتا رہا۔ پھر یک دم، ایک لفظ کہے بغیر، اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے اور اپنی آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے، وہ کسی بلی کی مانند مجھ پر جھپٹا۔ تقریباً پانچ منٹ تک ہمارے درمیان کھلی ڈلی جنگ ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ شاکرو غصے میں چیخ پڑا :

 ” بس۔ بہت ہو گیا۔“

شدید تھکے ہوئے ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ شاکرو اس سمت حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا جدھر میں نے شفون پھینکی تھی، پھر یک دم تقریر کرنے لگا : ”ہم کیوں لڑ رہے ہیں؟ چ چ چ۔ کتنی حماقت کی بات ہے۔ میں نے کیا تم سے کچھ چرایا تھا؟ یا تم کو افسوس ہوا کہ میرے پاس کپڑا کیوں ہے؟ مجھے تم پر افسوس ہے۔ اس لیے چرایا میں نے۔ کام تو تم کو کرنا ہے، میں کام کے قابل نہیں۔ میں کیا کروں؟ میں تو بس تمہاری مدد کرنا چاہ رہا تھا۔“

میں نے اسے ’چوری‘ کے معنے سمجھانا چاہے۔

 ” او منہ بند کر اپنا۔ تمہارا سر لگتا لکڑی کا ہے“ اس کا لہجہ توہین آمیز تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ”جب مرنے لگو گے تب چراؤ گے؟ اچھا؟ اور تم اسے زندگی کہتے ہو؟ منہ بند کرو اپنا۔“

اسے پھر سے خفا کر دینے کے ڈر سے میں خاموش رہا۔ یہ دوسری بار چوری کا معاملہ تھا۔ اس سے قبل جب ہم بحر اسود میں تھے تو شاکرو نے ایک یونانی مچھیرے کے جیبی اوزان چرا لئے تھے۔ تب بھی ہم دونوں میں مکہ بازی بس ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔

 ” تو اب کیا چلیں۔ ہم؟“ شاکرو نے اس وقت کہا جب ہم آرام کر کے پرسکون ہو چکے تھے اور صلح کر چکے تھے۔

ہم چلتے گئے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ شاکرو کا موڈ خراب تر ہوتا جا رہا تھا اور وہ مچھے اپنی سایہ دار بھنووں کے نیچے سے کچھ عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔ ایک بار جب ہم داریال کھائی عبور کر چکے تھے اور گڈاور کی اترائی اتر رہے تھے، تو وہ یوں گویا ہوا ؛

 ” ایک دو دن میں ہم طفلس پہنچ جائیں گے۔ چ چ۔“ اس نے اپنی زبان چٹخائی اور بے حد خوش دکھائی دیا۔ ”میں گھر پہنچ جاتا ہوں۔ تم کہاں رہے ہو؟ میں سفر کر رہا تھا۔ میں بھاپ سے غسل کرتا ہوں۔ آہا! میں بہت سارا کھاتا ہوں۔ بہت سارا۔ میں اپنی ماں سے کہتا ہوں۔ مجھے بہت کھانا ہے۔ میں اپنے باپ سے کہتا ہوں۔ مجھے معاف کر دیجئے۔ میں نے بہت غم دیکھا ہے میں نے ہر قسم کی زندگی کو دیکھا ہے۔ خانہ بدوش بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر مجھے کوئی ملا تو میں اسے ایک روبل دوں گا۔ اسے شراب خانے میں لے جاؤں گا۔ کہوں گا وائن پیو۔ میں بھی ایک خانہ بدوش رہا ہوں۔ میں اپنے باپ سے کہوں گا۔ یہ آدمی۔ میرے بڑے بھائیوں جیسا تھا۔ اس نے مجھے مارا بھی کتے کی طرح۔ اس نے مجھے کھلایا بھی۔ میں کہوں گا۔ اب اس کے لیے آپ اسے کھلائیں۔ اسے ایک سال تک کھلائیں۔ ہاں اتنا لمبا۔ تم سن رہے ہو میکسم؟“

مجھے سننا اچھا لگتا تھا جب وہ اس طرح بات کرتا تھا۔ اس طرح کے لمحات میں اس میں کچھ بچوں جیسا سادہ اور معصوم ہوتا تھا۔ اس طرح کی تقریریں اس لیے بھی میری دلچسپی کا باعث تھیں کہ طفلس میں میں کسی کو نہیں جانتا تھا اور موسم سرما شروع ہو رہا تھا۔ گڈاور پر ہماری پہلے ہی برف سے ملاقات ہو چکی تھی۔ کسی حد تک میں شاکرو پر انحصار کر رہا تھا۔ اب ہم تیز تیز چلتے رہے اور آئبیریا کے قدیم دارالحکومت مٹسکھیٹا پہنچ گئے۔ اگلے روز ہمارا طفلس پہنچنے کا ارادہ تھا۔

دور سے۔ قریب پانچ ورسٹکے فاصلے سے۔ میں نے قفقاز کے دارالحکومت پر نظریں جما دیں، جو کہ دو پہاڑوں کے بیچ میں جما ہوا تھا۔ یہ سفر کا اختتام تھا۔ میں خوش تھا اور شاکرو غیر متعلق۔ اپنی بے تاثر آنکھوں کے ساتھ وہ سامنے دیکھتا اور منہ سے بھوکی رال پھینکتا ہوا جا رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنے پیٹ کو پکڑتا اور چہرے پر درد کا تاثر لے کے آتا تھا۔ اس نے راستے میں اگی ہوئی کچی گاجریں کھانے کا خطرہ مول لیا تھا۔

 ” تم سمجھتے ہو کہ میں۔ ایک معزز جارجین۔ دن کی روشنی میں اپنے شہر میں داخل ہوں گا؟ ان چیتھڑوں میں اور یوں گندا غلیظ؟ ارے بالکل نہیں۔ ہم شام ہونے کا انتظار کریں گے۔ رک جاؤ۔“

ہم ایک خالی عمارت کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں اپنا اپنا آخری سگریٹ پھونک رہے تھے اور ٹھنڈ سے کانپ رہے تھے۔ سخت تیز اور تکلیف دہ ہوا جارجین فوجی شاہراہ کی طرف سے نیچے ہماری جانب آ رہی تھی۔ شاکرو بیٹھا ایک اداس گیت گنگنا رہا تھا اور میں اس آوارہ گرد ہستی کے مقابلے میں ایک گرم کمرے اور متمول زندگی کے فوائد کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

 ” اب ہم چلتے ہیں“ شاکرو چہرے پر ایک ایسے آدمی کا تاثر لے کر اٹھا جو فیصلہ کر چکا ہو۔

اندھیرا چھا رہا تھا۔ یہ بستی میں روشنیاں جلنے کا وقت تھا۔ یہ ایک خوبصورت نظارہ تھا۔ دھیرے دھیرے، ایک ایک کر کے، روشنیاں اس اندھیرے کو چمکانے لگیں تھیں جس نے وادی کو گھیرا اور بستی کو چھپایا ہوا تھا۔

 ” ارے تم اپنی یہ باشلک (چغہ) مجھے دو گے ذرا تاکہ میں اپنا چہرہ چھپا سکوں، ورنہ میرے دوست مجھے پہچان لیں گے“

میں نے باشلک اسے دے دی۔ ہم اولگنسکایا سٹریٹ میں ساتھ چل رہے تھے۔ شاکرو ایک فیصلہ کن انداز میں سیٹی بجا رہا تھا۔

 ” میکسم۔ تم وہ ٹرام کا سٹاپ دیکھ رہے ہو؟ وئیرسکی برج؟ تم وہاں بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔ یہیں انتظار کرو، مجھے ایک گھر میں جانا ہے۔ ایک دوست سے اپنے لوگوں کے متعلق جاننا ہے۔ ابا، اماں وغیرہ۔“

 ” تم زیادہ دیر تو نہ لگاؤ گے؟“

 ” میں بس گیا اور آیا۔ ایک منٹ میں“

وہ جلدی سے ایک تنگ و تاریک گلی کے دہانے میں کھسک گیا۔ اور اس میں غائب ہو گیا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

میں دوبارہ پھر کبھی نہیں ملا اس آدمی سے۔ میری زندگی کے چار ماہ تک میرا ہم سفر۔ لیکن میں اکثر دل بستگی اور حقیقی دلچسپی کے ساتھ اسے یاد کرتا ہوں۔ اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا جو عقلمندوں کی لکھی بھاری کتابوں میں کہیں نہ ملے گا۔ کیونکہ زندگی جو دانائی سکھاتی ہے وہ انسانوں کی سکھائی ہوئی دانائی سے کہیں زیادہ گہری اور بھرپور ہوتی ہے۔ ‏

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6