میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر


” کشتی؟“ بڈھے نے سوال پر سوال مارا۔ ”کشتی کا کیا ہے؟ کیا وہ وہاں ہے؟“

 ” ہاں۔ ہے“ میخائیل نے جواب دیا۔

 ” تو پھر اس کو وہیں رہنے دو نا۔ سویرے ایواشکا اسے کشتی باندھنے کے مقام پر لے جائے گا اور وہاں سے اسے کوئی نہ کوئی کرچ لے جائے گا۔ اس سے زیادہ ہم اس کشتی کا کچھ نہیں کر سکتے۔“

میں نے اس بوڑھے گلہ بان کو بغور دیکھا مگر اس کے سپاٹ، دھوپ میں جلے ہوئے، خزاں رسیدہ چہرے پر، جہاں آگ کے سائے لپک رہے تھے، کسی قسم کی حرکت نہ دیکھ سکا۔

 ” ہاں جب تک اس کی وجہ سے ہم پر کوئی غیر متوقع مصیبت نازل نہیں ہوتی۔ جیسا کہ بعد میں۔“ میخائیل نے اپنے موقف سے سرکنا شروع کیا۔

 ” اگر تم اپنی زبان پر قابو رکھو تو مجھے نہیں لگتا کہ ہم پر کوئی مصیبت آئے گی۔ اور اگر ہم ان کو آٹامین کے پاس لے جائیں گے تو مجھے لگتا ہے کہ ان کے لیے بھی برا ہو گا اور ہمارے لیے بھی۔ ہمارے لیے اہم ہے اپنے کام سے کام رکھنا اور جو یہ چاہتے ہیں وہ ہے چلنا۔ اے۔ تم کو انتہائی بائیں ہاتھ کو سفر کرنا ہے نا؟“ بوڑھے نے مجھ سے پوچھا، اگرچہ میں یہ اسے پہلے ہی بتا چکا تھا۔

 ” طفلس تک“

 ” بہت لمبی سڑک ہے۔ دیکھا نا۔ اور آٹامین ان کو دیر کروائے گا۔ اور اگر وہ ان کو دیر کروائے گا تو یہ کب پہنچیں گے؟ بہتر ہو گا اگر ہم ان کو جانے دیں جدھر کو یہ جانا چاہتے ہیں۔ ہوں؟“

 ” کیوں نہیں۔ ان کو بالکل جانے دینا چاہیے۔“ بوڑھے کے ساتھیوں نے اس کی تائید کی جب اس نے آہستگی سے ادا کیا ہوا جملہ مکمل کر کے اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچا اور اپنے سیاہ سرمئی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے، سوالیہ انداز سے ان سب کو دیکھا۔

 ” چلو پھر لڑکو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو“ بوڑھے نے ہمیں روانہ ہونے کا اشارہ دیا۔ ”اور رہی کشتی تو ہم اسے وہاں بھیج دیں گے جہاں سے وہ آئی تھی۔ ٹھیک ہو گیا؟“

 ” شکریہ بڑے ابا“ میں نے اپنی ٹوپی اتار کر کہا۔

 ” تم کس بات کا شکریہ ادا کر رہے ہو میرا؟“

 ” شکریہ بھائی بہت شکریہ“ میں نے دہرایا۔ میں جذباتی ہو رہا تھا۔

 ” تم آخر کس بات کا شکریہ ادا کر رہے ہو میرا؟ یہ کتنی عجیب بات ہے۔ میں نے کہا ’خدا تمہارے ساتھ ہو‘ اور یہ کہتا ہے ’آپ کا شکریہ‘ ۔ تم ڈرے نہیں تھے کہ میں تمہیں شیطان کے پاس بھیج دوں گا۔ ڈرے تھے کیا؟ ہاں؟“

 ” میں غلط تھا“ میں نے اعتراف کیا۔

 ” اوہ۔“ بوڑھے نے اپنی بھنویں اٹھائیں۔ ”مجھے کسی کو اس بری سڑک پر کیوں بھیجنا چاہیے؟ بہتر ہو گا کہ میں اسے کسی ایسی سڑک پر ڈالوں جس پر میں خود سفر کرنا پسند کروں گا۔ کون جانتا ہے۔ شاید ہم کبھی دوبارہ ملیں۔ تب ہم پرانے شناساؤں جیسے ہوں گے۔ ہم سب کو کبھی نہ کبھی تھوڑی سی مدد چاہیے ہوتی ہے۔ چلو اب وداع“

اس نے اپنی چرمر بھیڑ کی کھال والی ٹوپی اتاری اور احتراماً جھکا۔ اس کے ساتھی بھی جھکے۔ ہم نے ان سے اناپا کا راستہ پوچھا اور چل کھڑے ہوئے۔

شاکرو کسی بات پر ہنس رہا تھا۔

 ”تم کس بات پر ہنس رہے ہو؟“ میں نے اس سے پوچھا تھا۔

میں بوڑھے چرواہے اور اس کے فلسفہ زیست سے خوش تھا۔ میں طلوع سحر سے پہلے چلتی اور ہمارے چہروں سے ٹکراتی ہوئی تازہ ہوا سے خوش تھا۔ اور اس لیے خوش تھا کہ آسمان بنا بادل کے تھا۔ اور اس لیے خوش تھا کہ بہت جلد سورج اس صاف شفاف آسمان پر ابھرنے والا تھا اور آج کے دن کا روشن اور حسین دیوتا جنم لینے والا تھا۔ ‎

شاکرو نے عیاری سے مجھے آنکھ ماری اور پہلے سے بھی زیادہ زور سے ہنسنے لگا۔ اس کے صحت افزا اور مسرت سے بھرپور قہقہے سن کر میں بھی مسکرا دیا۔ گلہ بانوں کے یہاں آگ کے گرد دو تین گھنٹے گزارنے اور مزے کی روٹی اور لارڈ کھانے کے بعد ہمارے آج کے تھکا دینے والے سفر میں سے جو بچا تھا وہ صرف ہلکا ہلکا سا ہڈیوں کا درد تھا۔ لیکن اس درد کے احساس نے ہمارے اچھے جذبات کو مجروح نہیں کیا تھا۔

 ” تو پھر کس بات پر ہنس رہے ہو تم؟ زندہ بچ کر آ گئے اس بات پر خوش ہو نا؟ زندہ بھی اور بھرے پیٹ بھی اس چکر میں؟“

شاکرو نے سر کو نفی میں ہلایا، بہت زور سے مجھے کہنی ماری، منہ بنایا، ایک بار پھر زور کا قہقہہ لگایا اور پھر آخرکار اپنی شدید مخدوش رشین میں یوں بول اٹھا : ”تم نہ سمجھے؟ کیوں یہ اتنا مزاحیہ ہے؟ نہیں؟ میں بتاتا تم کو۔ تم کو پتا میں کیا کرتا اگر وہ ہمیں آٹامین یا ایکسائز والے کے پاس لے جاتے؟ تم کو نہیں پتہ؟ چلو میں بتاتا۔ ’یہ مجھے ڈبو دینا چاہتا تھا‘ اور پھر میں نے رونا شروع کر دینا تھا۔ اس طرح وہ مجھ پر رحم کھاتے اور مجھے جیل میں نہ ڈالتے سمجھے؟“

شروع میں میں اس کی اس بات کو مذاق میں لینا چاہتا تھا۔ مگر وائے افسوس۔ اس نے مجھے قائل کر لیا کہ اس کا منصوبہ قطعی سنجیدہ تھا۔ اس نے مجھے اتنے واضح اور مدلل طریقے سے قائل کر لیا کہ اس کے اس سادہ لوح گھٹیا پن پر غصہ آنے کے بجائے مجھے اس پر شدید رحم آنے لگا۔ ایسے بندے کے بارے میں اور محسوس بھی کیا کیا جا سکتا ہے جو اتنی پرنور مسکراہٹ کے ساتھ اور اتنے مخلصانہ لہجے میں آپ کو بتائے کہ وہ آپ کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ اگر وہ اپنی اس بات کو ایک محبت آمیز اور پر ذہانت مذاق تصور کرتا تھا تو اس کا کیا بھی کیا جا سکتا تھا؟

میں نے پرشور طریقے سے شاکرو پر اس کے منصوبے کا غیر اخلاقی پن ‌ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ میں اس کے اصل مقاصد کو سمجھ نہیں پا رہا تھا اور میں یہ بھی بھول رہا تھا کہ وہ ایک جعلی پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا جس کے لیے کوئی بھی اس کی پیٹھ نہیں ٹھونکنے والا تھا۔

اچانک میرے ذہن میں ایک بے رحمانہ خیال کوندا۔

 ’ ایک منٹ رکو ذرا۔ ”میں نے کہا“ تو تمہارا مطلب ہے کہ تمہیں یقین ہے کہ میں تمہیں ڈبو دینا چاہتا تھا؟ ”

 ” نہیں۔ جب تم نے مجھے پانی میں دھکیلا تب میں نے یقین کیا۔ جب تم خود پانی میں اترے۔ تو پھر بند کر دیا۔“

 ” خدا کا شکر ہے پھر تو“ میں نے روہانسا ہو کر کہا ”اور شاید مجھے تمہارا شکر گزار ضرور ہونا چاہیے۔“

 ” نہیں تم میرا شکریہ ادا نہ کرو بلکہ میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پیچھے وہاں آگ کے پاس تم کو بھی ٹھنڈ لگ رہی تھی اور مجھے بھی۔ کوٹ تمہارا تھا لیکن تم نے اسے نہ لیا۔ تم نے اسے خشک کیا اور مجھے دے دیا۔ اور خود اپنے لیے کچھ نہ لیا۔ تو میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ تم بہت اچھے آدمی ہو مجھے پتہ ہے۔ جب ہم طفلس پہنچ جائیں گے نا تو تم کو ہر چیز کے لیے ادائیگی کر دی جائے گی۔ میں تمہیں اپنے ابا کے پاس لے جاؤں گا۔ ان سے کہوں گا ؛ ’یہ ہے وہ شخص‘ ۔ اسے کھانے کو دو۔ اسے پینے کو دو۔ اور مجھے۔ مجھے اصطبل کے گدھوں کو دے دو۔ یہی ہے جو میں کہوں گا۔ تم ہمارے ساتھ رہو گے۔ تم ہمارے باغبان ہو گے۔ تم وائن پیو گے۔ وہ سب کھاؤ گے جو کھانا چاہو گے۔ آآہاہا۔ آہاہا۔ کیا شاندار زندگی ہو گی تمہاری۔ بہت سادہ۔ اسی برتن سے کھاؤ گے جس سے میں کھاؤں گا۔ اسی کپ سے پیو گے جس سے میں پیوں گا۔“

اس کے بعد شاکرو نے اس زندگی کا ایک طویل اور تفصیلی بیان جاری کرنا شرو‏ع کیا جو وہ میرے لیے طفلس میں فراہم کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کی گفتگو کی تال پر میں ان لوگوں کی کم نصیبی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو جدید اخلاقیات اور نئے عزائم کی طاقت سے مسلح بھی ہیں، اپنے ہم عصروں سے آگے بھی نکلے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی مکمل اجنبی لوگوں کی معیت میں سفر کرنے پر مجبور ہیں جو انہیں سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں۔ ان تنہا لوگوں کے لیے زندگی بہت دشوار ہے۔ وہ زمین سے اوپر ہوا میں ہیں مگر وہاں مکئی کے اچھے بیجوں کی طرح ہوا میں تیر رہے ہیں۔ ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ انہیں زرخیز زمین سے ہمکنار ہونے کا موقع ملے۔

نور طلوع ہو رہا تھا۔ افق کے قریب سمندر پہلے سے ہی گلابی سونے سے دمک رہا تھا۔

 ” مجھے سونا ہے“ شاکرو بولا۔

ہم رک گئے۔ ساحل کے نزدیک خشک ریت میں ہوا نے ایک خلا سا پیدا کر دیا تھا۔ شاکرو اس میں لیٹ گیا اور سر سے پاؤں تک خود کو کوٹ میں لپیٹ کر وہ جلدی سے سو گیا۔ میں اس کے قریب بیٹھ گیا اور سمندر کو دیکھنے لگا۔

وہ اپنا ایک الگ جیون جی رہا تھا۔ بھرپور اور آزاد۔ اس کی توانائی اس کی بے پناہ حرکت سے عبارت تھی۔ غول در غول لہریں ساحل کی طرف شور کرتیں ہوئیں آتیں اور ریت سے ٹکرا کر پارہ پارہ ہو جاتیں اور جو اس پانی کو جذب کرتے ہوئے سانپ جیسی آواز نکالتی تھی۔ بڑی لہریں اپنی سفید ایالیں اچھالتی ہوئی ساحل پر دلیرانہ طریقے سے حملہ آور ہوتیں لیکن پھر شکست کھا کر واپس لوٹ جاتیں جہاں ان کی ملاقات ان لہروں سے ہوتی جو پیچھے سے ان کی مدد کے لیے چلی آ رہی ہوتی تھیں۔ آپس میں سختی سے مدغم یہ لہریں جھاگ اڑاتی، کف پھینکتیں، پھر سے آ کر ساحل سے ٹکراتیں اور اپنی ہستی کی حدود کو بڑھانے کی کوشش کرتیں۔ سورج ان لہروں کی کلغیوں کو اور زیادہ چمکاتا جب کہ دور کی لہریں جو افق کے قریب تھیں خونی سرخ دکھائی پڑتیں تھیں۔

لہروں کو چیرتا ہوا ایک سٹیمر پہاڑی کے عقب سے نکلا۔ وہ سمندر کے تھراتے ہوئے سینے پر شاندار طریقے سے رقص کناں اور ان عظیم لہروں کی چوٹیوں پر سوار تھا جو غصے میں خود کو اس کے اطراف سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس کا دھاتی حصہ دھوپ میں دمک رہا تھا۔ وہ اتنا حسین اور طاقتور دکھائی دیتا تھا کہ کسی اور دن وہ ان آدمیوں کا پر فخر خیال دھیان میں لا سکتا تھا جو فطرت کے عناصر کو تسخیر کر سکتے ہیں۔ لیکن آج میرے پہلو میں ایک آدمی سویا ہوا تھا جو خود فطرت کا ایک عنصر تھا۔

ہم ٹیرک کے علاقے سے پیدل گزرتے چلے گئے۔ شاکرو کا لباس ادھڑ کر ناقابل یقین حد تک چیتھڑوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اس کا مزاج بھی شدید بگڑا ہوا تھا گو کہ اسے اب بھوکا نہیں رہنا پڑتا تھا کیونکہ اب کمانے کے کافی مواقع میسر آتے تھے۔ اس نے البتہ خود کو کسی بھی طرح کے کام کاج کے لیے ناموزوں ثابت کر دیا تھا۔ ایک بار اس نے تھریشنگ مشین سے نکلنے والے بھوسے کو ترنگل سے سمیٹنے کا کام لیا مگر آدھے دن میں ہی کام سے فارغ کر دیا گیا تھا کیونکہ اس کی ہتھیلیوں میں خونی چھالے ابھر آئے تھے۔ اسی طرح ایک بار ہم نے جڑی بوٹیاں تلف کرنے کا کام لیا تو اس نے کدال کے ساتھ اپنی ہی گردن کی کھال چھیل ڈالی تھی۔

ہماری آگے بڑھنے کی رفتار خاصی سست تھی۔ دو دن کام اور ایک دن سفر۔ شاکرو کسی ضبط نفس کے بغیر کھاتا تھا۔ اور اس کے اس لالچ کی وجہ سے میں اتنے پیسے نہ بچا پاتا تھا کہ اسے اس کے لباس کا ایک حصہ ہی نیا خرید کر دے سکوں۔ اس کے لباس کے باقی حصے ناقابل شمار سوراخوں پر مشتمل تھے جنہیں رنگا رنگ کپڑے کے ٹکڑوں کی مدد سے آڑا ترچھا سیا گیا تھا۔

ایک بار جب ہم کہیں دیہات میں تھے شاکرو نے میرے سامان میں پانچ روبل جو میں نے بڑی مشکل سے بچائے تھے اور اس سے چھپا کر خفیہ رکھے ہوئے تھے، دیکھے اور چرا لیے۔ اس شام وہ اس گھر میں ظاہر ہوا جس کے کچن گارڈن میں میں کام کر رہا تھا۔ وہ نشے میں تھا۔ اس کے ساتھ ایک موٹی تازی کوسیک عورت بھی تھی جس نے دور ہی سے مجھ پر یوں سلامتی بھیجی :

 ” خیر ہو تمہاری! مردود دہریے۔ “

اس اچانک حملے سے ششدر ہو کر جب میں نے اس سے پوچھا کہ میں کیونکر اس لقب کا حقدار ٹھہرا تھا تو اس نے بڑے رسان سے کہا ؛ ”وہ اس لیے۔ شیطان۔ کہ تم نے اس بیچارے لڑکے کو عورتوں کے ساتھ سونے سے منع کیا تھا۔ جس کی اجازت قانون دیتا ہے تم اس سے کیسے منع کر سکتے ہو؟ بے حس اور قابل نفرت ہو تم۔“

شاکرو اس کے ساتھ کھڑا تھا اور اقرار میں سر ہلاتا تھا۔ وہ بری طرح پیے ہوئے تھا اور تھوڑی سی بھی حرکت اسے اس طرح ہلا دیتی تھی کہ جیسے جوڑوں سے اس کے پیچ کھلے ہوئے تھے۔ اس کا نچلا ہونٹ پنڈولم کی طرح ہل رہا تھا۔ اس کی ساکت آنکھیں اپنے متواتر خالی پن سے میری نظر پھیرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

 ” ہممم تو پھر۔ یہ تم ہمیں اس طرح کیا گھور رہے ہو؟ پیسے واپس کرو اس کے۔“ عورت بڑے رعب سے چلائی۔

 ” کون سے پیسے؟“ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

 ” چلو چلو۔ نہیں تو میں تمہیں عدالت لے جاؤں گی۔ اسے وہ ایک سو پچاس روبل دے دو جو تم نے اوڈیسا میں اس سے لیے تھے۔“

 ” اب میں کیا کروں؟“ میں نے خود سے پوچھا۔ یہ لعنتی عورت نشے کی حالت میں کورٹ جا بھی سکتی تھی اور پھر گاؤں کی پنچایت جو آوارہ گردوں پر ویسے ہی بہت سخت تھی، ہمیں گرفتار کروا سکتی تھی۔ کسے معلوم کہ میرے اور شاکرو کے لیے اس گرفتاری کے نتائج کیا ہوتے۔ چنانچہ میں نے اس عورت سے نبٹنے کے لیے ڈپلومیسی کا استعمال کیا جس کے لیے مجھے زیادہ کوشش نہ کرنا پڑی۔ کسی نہ کسی طرح وائن کی تین بوتلوں کی مدد سے میں اسے رام کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ تربوزوں کے بیچ میں زمین پر گر پڑی اور سو گئی۔ میں نے شاکرو کو بستر پر سلا دیا اور اگلے روز صبح سویرے ہم دونوں اس عورت کو تربوزوں کے بیچ میں سوتا چھوڑ کر گاؤں سے نکل لیے۔

رات کے نشے کے اثر سے تقریباً بیمار لگتے شاکرو کا چہرہ کچلا اور سوجا ہوا لگ رہا تھا۔ وہ متواتر تھوکتا اور گہری سانسیں بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر اس نے جواب نہ دیا اور کسی بھیڑ کی طرح محض اپنا بھاری بالوں والا سر ہلا دیا۔

ہم ایک تنگ پگڈنڈی پر چلے جا رہے تھے جس کے اطراف چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے سانپ رینگ رہے تھے اور پھسل کر ہمارے پیروں کے نیچے آ رہے تھے۔ ماحول میں مکمل سکوت کا راج تھا جو خواب بیدار پر ابھارتا تھا۔ ہمارے پیچھے پر سیاہ بادلوں کے جھنڈ دھیرے دھیرے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے اکٹھا ہو کر ہمارے پیچھے پورے آسمان ‎ آسمان کو گھیر لیا تھا جبکہ ہمارے سامنے مطلع صاف تھا گو کہ بادلوں کی کچھ ٹکڑیاں مرکز سے الگ ہو کر مزے سے اڑتی ہوئی ہم سے آگے جا رہی تھیں۔ ہمارے پیچھے کچھ فاصلے پر بادل گرجنے کی غراہٹ سنائی دے رہی تھی اور قریب تر آ رہی تھی۔ اب بارش کے قطرے گر رہے تھے۔ گھاس کے ترمرانے کی آواز ایسے آ رہی تھی جیسے وہ ٹن فوائل کی بنی ہوئی ہو۔

کہیں بھی کوئی پناہ نہ تھی۔ اندھیرا چھا چکا تھا اور گھاس کے ترمرانے کی آواز بلند تر اور مزید خوفناک ہوتی جا رہی تھی۔ بجلی کے کڑکنے کی آواز سنائی دی، بادل گرجے، ان میں نیلی روشنی چمکی اور شدید بارش ہونے لگی۔ یکے بعد دیگرے ہونے والی بادلوں کی گڑگڑاہٹ نے گھاس کے خالی میدان کو مکمل ڈھانپ لیا تھا۔ ہوا کے تیز جھکڑوں اور طوفانی بارش نے گھاس کو پوری طرح زمین پر لٹا دیا تھا۔ بجلی جب چندھیا دینے والی روشنی کے ساتھ چمکتی تو دور پہاڑوں کا ایک سلسلہ نیلے شعلوں میں جگمگاتا ہو دکھائی پڑتا۔ اور جب روشنی بچھتی تو لگتا کہ جیسے اسے کسی اندھے کنویں نے کھا لیا ہو۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم رحم مادر میں ہیں جس میں ہر طرف غراتی کانپتی گونجتی آوازوں کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ سخت غصے سے بھرا ہوا آسمان زمین سے امڈتی خاک اور گندگی کی مدد سے کسی آتشیں تطہیر کے عمل سے گزر رہا ہے جبکہ زمین اس کے قہر و غضب کے خوف سے کانپ رہی ہے۔

شاکرو کسی خوف زدہ کتے کی طرح سسکیاں بھر رہا تھا۔ ادھر میں ایک عجیب سرخوشی میں تھا۔ گھاس کے وسیع میدان پر چھائے ہوئے اس عظیم الشان مبہوت کر دینے والے طوفان کے منظر نامے نے مجھے روزمرہ کی عامیانہ زندگی سے بہت اوپر لا کھڑا کیا تھا۔ اس الوہی افراتفری نے مجھے بے خود کر کے مجھ میں ایک بہادرانہ جذبہ پھونک دیا تھا اور میری روح کو ایک بے ترتیب ترتیب سے ہمکنار کر دیا تھا۔ مجھ میں اس طوفان کا حصہ بن جانے کی شدید خواہش نے غلبہ پا لیا تھا تا کہ اس منظر نامے نے مجھ میں جو حیرت اور دبدبہ پیدا کیا تھا اس کے اظہار کی کوئی صورت نکلے۔ وہ نیلی روشنی جس نے آسمان کو چکا چوند کر دیا تھا مجھے اپنے سینے میں جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ تو اپنی اس بے قرار مجذوبانہ کیفیت کا اظہار اور بھلا میں کیسے کرتا؟ میں نے گانا شروع کر دیا۔ اپنی پوری طاقت سے۔ بادلوں کی گڑگڑاہٹ جاری رہی، بجلی چمکتی رہی، گھاس ترمراتی رہی، اور میں گاتا رہا اور خود کو ان تمام دوسری آوازوں کے ساتھ ہم آہنگ محسوس کرتا رہا۔ میں خود سے بے خود تھا۔ مگر اسے میرے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ میں اپنے سوا کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچا رہا تھا۔ سمندر میں طوفان اور میدان میں باد و باراں۔ میں نے فطرت کا اس سے زیادہ عظیم الشان مظاہرہ کبھی نہیں دیکھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6