میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر


Gorky and Chekhov

 ” چلو کشتی پر بادبان لگائیں“ شاکرو چلایا۔

 ” اور تم بادبان کہاں سے لاؤ گے؟“ میں نے پوچھا۔

 ” میرے کوٹ سے“

 ” پھینکو اسے میری طرف۔ اور ٹلر کو مت چھوڑنا“

شاکرو نے کشتی کے دوسرے سرے پر خاموش کوشش شروع کر دی۔

 ” پکڑنا اسے“ اس نے اپنا کوٹ میری سمت اچھال دیا۔

کشتی کے فرش پر مشکل سے رینگتے ہوئے میں نے وہاں پڑا لکڑی کا تختہ اٹھایا اسے کوٹ کی ایک آستین میں گھسیڑا پھر اسے نشست کے ساتھ دبایا۔ اپنی ٹانگوں پر زور ڈالتے ہوئے میں نے کوٹ کی دوسری آستین اور جھالر کو بمشکل قابو کیا ہی تھا کہ اچانک ایک بالکل غیر متوقع چیز ہو گئی۔

ہماری کشتی ہوا میں کچھ زیادہ ہی بلند ہوئی اور پھر جب نیچے آئی تو میں نے خود کو پانی کے اندر پایا۔ میرے ایک ہاتھ میں کوٹ تھا اور دوسرے میں کشتی کے گردا گرد لپٹی ہوئی رسی۔ لہریں پرشور طریقے سے میرے سر پر برس رہی تھیں اور میں سمندر کا کڑوا کسیلا پانی نگل رہا تھا۔ یہ پانی میرے ناک، منہ اور کانوں میں بھر چکا تھا۔ رسی کو سختی سے تھامے ہوئے میں متواتر ڈوب اور ابھر رہا تھا جس کے دوران میرا سر کشتی کی دیوار سے ٹکراتا تھا۔ میں ہاتھ میں تھامے کوٹ کو الٹی ہوئی کشتی کے اوپر پھینک کر بار بار کشتی پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کوئی ایک درجنویں کوشش پر میں کشتی پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ مجھے فوری طور پر شاکرو دکھائی پڑا جو کہ پانی میں قلابازیاں لگا رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اس رسی کو تھام رکھا تھا جسے میں نے ابھی ابھی چھوڑا تھا۔

 ” زندہ ہو؟“ میں چلایا۔

وہ پانی سے نکل کر کافی اوپر اچھلا اور پھر کشتی کے دوسری جانب آن کر گرا۔ میں نے ہاتھ لمبا کر کے اس تک پہنچنا چاہا تاکہ اسے اوپر اٹھا سکوں۔ ایک لمحے کے لیے ہم چہرہ بہ چہرہ ہوئے۔ میں کشتی پر یوں بیٹھا تھا جیسے گھوڑے پر سوار ہوں۔ میرے دونوں پاؤں کشتی کے گرد لپٹی رسی میں یوں پھنسے ہوئے تھے جیسے وہ میری رکابیں ہوں۔ لیکن میرا یہ پوز بہت غیر محفوظ تھا۔ کوی بھی تیز لہر مجھے میری کاٹھی سے اٹھا کر پھینک سکتی تھی۔ شاکرو نے میرے گھٹنے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور اپنا چہرہ میرے سینے میں دفن کر رکھا تھا۔ وہ سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔ میں اس کے بجتے ہوئے دانت سن سکتا تھا۔ مجھے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہیے تھا۔ کشتی کا پیندہ ایسا چکنا تھا جیسے اس پر تیل ملا گیا ہو۔ میں نے شاکرو سے کہا کہ اسے پیچھے ہٹ کر، اپنی طرف کی رسی کو تھامے ہوئے، دوبارہ پانی میں اترنا چاہیے اور میں بھی اپنی طرف بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔ لیکن شاکرو نے مجھے کوئی جواب دینے کے بجائے اپنا سر بار بار میرے سینے میں مارنا شروع کر دیا۔ کشتی کی رسی اب میری ایک ٹانگ کو بری طرح کھانے لگی تھی۔ جہاں تک میری نگاہ جاتی تھی پانی کی بلند و بالا چوٹیاں وجود میں آتی تھیں اور ایک عظیم شور کے ساتھ غائب ہو جاتی تھیں۔ جو کچھ ذرا پہلے کہا تھا اب میں نے اسے حکم کی صورت میں دہرا دیا۔ لیکن شاکرو نے اپنا سر میرے سینے میں اور بھی زور سے مارنا شروع کر دیا۔ اب ضائع کرنے کے لیے وقت بالکل نہیں بچا تھا۔ میں نے ایک ایک کر کے اس کے دونوں ہاتھوں کی گرفت سے خود کو بزور آزاد کرایا اور اسے واپس پانی میں دھکیلنا شروع کیا اس طرح کہ وہ کشتی کی رسی کو دوبارہ پکڑ سکے۔ مگر پھر کچھ ایسا ہوا کہ جس نے مجھے اس رات ہونے والی کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ ڈرا کر رکھ دیا۔

 ” تم مجھے ڈبو دینا چاہتے ہو؟“ شاکرو نے میرے کان میں سرگوشی کی اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔

یہ واقعی بہت خوفناک تھا۔

یہ سوال بذات خود تو خوفناک تھا ہی مگر اس سے زیادہ خوفناک وہ لہجہ تھا جس میں یہ سوال پوچھا گیا تھا۔ اس لہجے میں ایک مجبورانہ اطاعت گزاری تھی، ایک رحم کی درخواست تھی، ایک ایسے شخص کی آخری سرد آہ تھی جو ایک ہلاکت خیز آزمائش سے بچ نکلنے کی تمام امیدیں کھو چکا ہو۔ مگر ان سب سے زیادہ خوفناک وہ آنکھیں تھیں جو اس موت کی زردی لیے ہوئے گیلے چہرے سے مجھے جھانک رہی تھیں۔

 ” جمے رہو“ میں نے چلا کر اس سے کہا۔ اور پھر رسی کو تھامے ہوئے نیچے پانی میں اتر گیا۔ میری ٹانگ کسی چیز سے ٹکرائی۔ پہلے تو میں درد جیسی کسی کیفیت کو محسوس نہ کر سکا۔ مگر پھر میں سمجھ گیا۔ یک دم گرم جوشی کی ایک لہر میرے اندر سے اٹھی۔ سرور سا آ گیا۔ میں نے خود کو اتنا مضبوط پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

 ” زمین۔“ میں پوری طاقت سے چلایا۔

ممکن ہے کہ عظیم جہاز رانوں نے نئی زمینیں دریافت کرنے پر مجھ سے زیادہ جذبے کے ساتھ یہی لفظ ادا کیا ہو مگر مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے مجھ سے زیادہ بلند آوازکے ساتھ اسے کہا ہو گا۔ شاکرو نے بھی ایک نعرہ مستانہ لگایا اور خود کو پانی میں گرا دیا۔ لیکن جلد ہی ہم دونوں سنبھل چکے تھے۔ پانی اب بھی ہمارے سینوں تک آ رہا تھا اور خشک زمین کے مزید مضبوط شواہد کہیں نظر نہ آ رہے تھے۔ خوش قسمتی سے میں نے ابھی تک اپنی کشتی سے کنارہ نہ کیا تھا۔ چنانچہ شاکرو اور میں نے کشتی کے دونوں اطراف جان بچانے والی رسی کو قابو کر کے پوزیشنیں سنبھال لیں کشتی کو پیچھے رکھتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ ایک نامعلوم منزل کی طرف بڑھتے گئے۔

شاکرو کچھ بڑبڑا رہا تھا اور ہنس رہا تھا لیکن میں فکر مندی کے ساتھ اپنے گرد و پیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ گھور اندھیرا تھا۔ ہمارے داہنے اور پیچھے کی طرف لہروں کا شور بلند تھا جبکہ آگے اور بائیں طرف کم تر تھا۔ ہم نے بائیں طرف کا رخ کر لیا۔ ہمارے پیروں کے نیچے زمین مضبوط، ریتلی مگر اچانک آگے آ جانے والے گڑھوں سے پر تھی۔ کسی وقت ہم زمین کو چھو نہ پاتے تھے اور ہمیں ایک ہاتھ سے کشتی کو تھامے ہوئے ایک بازو اور ایک ٹانگ سے تیرنا پڑتا تھا اور جبکہ کسی وقت پانی محض ہمارے گھٹنوں تک آتا تھا۔ گہرے مقامات پر شاکرو ایک بھیڑیے جیسی چیخ بلند کرتا تھا اور میں خوف سے کانپ کر رہ جاتا تھا۔

اور پھر یکبارگی ہمیں بچا لیا گیا۔

ہمارے آگے ایک روشنی ظاہر ہو چکی تھی۔

شاکرو نے جتنی بھی طاقت اس میں بچی تھی اس سے کام لے کر اسے چلانا شروع کر دیا مگر مجھے بخوبی یاد تھا کہ وہ کشتی حکومتی ملکیت تھی۔ اور میں نے اسے یہ بات یاد دلانے میں ذرا بھی وقت ضائع نہیں کیا۔ وہ چپ ہو گیا مگر ایک دو منٹ کے اندر ہی اس نے سسکیاں بھرنی شروع کر دیں۔ میں اسے کوئی دلاسا نہیں دے سکتا تھا۔ میرے پاس دینے کو دلاسا تھا ہی نہیں۔

پانی اتھلا ہوتا گیا۔ گھٹنوں تک۔ پھر ٹخنوں تک۔ ہم پھر بھی حکومتی کشتی کو گھسیٹتے چلے گئے۔ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ ہماری طاقت جواب دے گئی اور ہم نے اسے وہیں چھوڑ دیا۔ ایک سیاہ رنگ، سالخوردہ درخت کا تنا ہمارا راستہ روکے پڑا تھا۔ ہم دونوں نے اسے کود کر عبور کیا۔ ہمارے ننگے پاؤں ایک قسم کی چبھنے والی گھاس پر جا کر پڑے تھے۔ یہ درد انگیز تھا۔ زمین کی طرف سے یہ ہرگز کوئی مہمان نوازی نہ تھی۔ لیکن ہم نے اس کی مطلق پرواہ نہ کی اور روشنی کی جانب دوڑ لگا دی۔ وہ قریب ایک میل دور تھی۔ اور مسرت سے دمک رہی تھی۔ اور جیسے جیسے پاس آ رہی تھی لگتا تھا جیسے ہنس رہی ہو۔

تین عظیم الجثہ، جھبرے بالوں والے کتے اچانک اندھیرے میں سے چھلانگ لگا کر نکلے اور ہم پر لپکے۔

شاکرو نے، جو اب تک بری طرح روتا سسکتا آ رہا تھا، ایک فلک شگاف چیخ بلند کی اور زمین پر لمبا ہو گیا۔ میں نے اپنا گیلا کوٹ امڈتے ہوئے کتوں پر پھینکا اور خود جھک کر زمین سے کوئی پتھر یا لکڑی اٹھانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہاں ایسا کچھ بھی نہ تھا صرف کٹیلی گھاس میرے ہاتھ میں چبھی۔ کتوں نے ہم پر اجتماعی حملہ کر دیا۔ میں نے دو انگلیاں منہ میں گھسیڑیں اور سیٹی بجائی جتنے بھی زور سے میں بجا سکتا تھا۔ کتے پیچھے ہٹ گئے۔ اسی لمحے ہم نے زمین کو روندتے قدموں اور بھاگتے ہوئے مردوں کی بلند آوازیں سنیں۔

کچھ منٹ کے بعد ہم دونوں چار ایسے گلہ بانوں کے ہمراہ الاؤ کے گرد بیٹھے تھے، جنہوں نے بھیڑ کی اون بھری کھالیں اوڑھ رکھی تھیں۔ دو گلہ بان زمین پر بیٹھے تمباکو اڑا رہے تھے اور ایک لمبا والا جس کی گھنی کالی داڑھی تھی اور کو سیک لوگوں جیسا اونچا سا فر ہیٹ پہنے ہوئے تھا، ہمارے پیچھے ایک عصا کے سہارے جھکا ہوا کھڑا تھا۔ عصا کے سرے پر جڑ جیسی ایک بہت موٹی گرہ تھی۔ چوتھا جو کہ ایک ریت رنگ بالوں والا نوجوان تھا سسکتے ہوئے شاکرو کو اس کے کپڑے اتارنے میں مدد رہا تھا۔ دائرے سے قریب پانچ گز باہر زمین ایک سرمئی رنگ کی موٹی تہہ سے ڈھکی ہوئی تھی جو کہ موسم بہار کی اس برف سے مشابہ تھی جس نے ابھی ابھی پگھلنا شروع کیا ہو۔ کچھ دیر بہت غور سے دیکھنے پر ہی دیکھنے والے کو بھیڑوں کی ان مختلف اقسام کا الگ الگ اندازہ ہو سکتا تھا جو اس وقت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کھڑی تھیں۔ وہ ضرور کئی ہزار رہی ہوں گی مگر اس وقت نیند اور رات کی تاریکی کی وجہ سے گھاس کے میدان کا ہی ایک گہرا، گھنا، گرم حصہ دکھائی دیتی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ایک شکایتی اور کمزور انداز سے منمناتی بھی تھیں۔

میں نے اپنا کوٹ خشک کیا اور گلہ بانوں کو سب کچھ ویسے ہی بتا دیا جیسے کہ دراصل وہ ہوا تھا۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ میں کشتی تک کیسے پہنچا تھا۔

 ” اب کہاں ہے وہ۔ کشتی؟“ سرمئی بالوں والا سخت گیر بوڑھا جس نے اب تک ایک لمحے کے لیے بھی مجھ پر سے نظر نہ ہٹائی تھی، پوچھنے لگا۔

میں نے اسے بتا دیا۔

 ” جاؤ میخائل۔ دیکھ کر آؤ“

میخائل وہ سیاہ داڑھی والا شخص تھا۔ اس نے اپنا عصا کاندھے پر رکھا اور ساحل کی طرف روانہ ہو گیا۔

شاکرو سردی سے کانپ رہا تھا۔ اس نے مجھ سے میرا گیلا مگر گرم کوٹ مانگا لیکن بوڑھے نے کہا۔ ”رکو۔ پہلے تھوڑی سی دوڑ لگاؤ اپنے خون کو گرم کرنے کے لیے۔ چلو اٹھو“

شاکرو فوری طور پر سمجھ نہ پایا لیکن پھر وہ اچانک ابھرا اور وحشیانہ برہنہ رقص کرنے لگا۔ وہ کسی گیند کی طرح آگ کے گرد گھوما۔ پھر ایک ہی جگہ اپنی ٹانگیں جما کر چکر کھانے لگا، اپنی بلند ترین آواز سے چلاتے ہوئے، اور اپنے بازووں کو لہراتے ہوئے۔ یہ ایک قاتلانہ منظر تھا۔ دو گلہ بان اپنی پوری طاقت سے ہنستے ہوئے زمین پر لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے جبکہ بوڑھا شخص، جس کا چہرہ اب بھی سپاٹ اور سنجیدہ تھا، تالیاں بجا بجا کر رقص کے ردھم میں شامل ہونا چاہ رہا تھا مگر وہ ایسا کر نہ پا رہا تھا۔ اس کی نظریں شاکرو کے نرت بھاؤ پر چپکی ہوئی تھیں، اس کا سر ہل رہا تھا، وہ اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا اور اپنی گہری آواز میں چلا کر تال دے رہا تھا۔ ”ہایئے ہا۔ سو سو۔ ہایئے ہا۔ بٹز بٹز۔“

آگ کی روشنی میں چمکتا ہوا شاکرو کسی سانپ کی طرح بل کھا رہا تھا۔ اب تینوں گلہ بان تالیاں پیٹ رہے تھے۔ اب وہ ایک پاؤں پر اچھل رہا ہے تو ابھی دونوں پیروں سے ردھم بنا رہا ہے۔ اس کے آگ کی روشنی میں لو دیتے ہوئے جسم پر پسینے کے بڑے بڑے قطرے خون جیسے سرخ نظر آتے تھے۔ سردی سے کانپتا ہوا میں خود کو آگ پر سکھا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج کے دن کی مہم جوئی کسی فینی مور کوپر یا جیولز ورن کے مداح کے لیے تو بہت ہی مسرت انگیز ہو سکتی تھی : جہاز کا ڈوبنا، مہمان نواز مقامی لوگ اور کیمپ فائر کے گرد دیوانہ وار رقص۔

اب شاکرو زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کوٹ میں لپٹا ہوا کچھ کھا رہا تھا اور مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو مجھے کچھ اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے کپڑے ان چھڑیوں پر ٹنگے ہوئے سوکھ رہے تھے جو آگ کے قریب زمین میں گاڑی گئی تھیں۔ مجھے بھی کھانے کے لیے روٹی اور لارڈ (سور کی نمکین چربی) دی گئی۔

میخائیل آیا اور بغیر کچھ بولے بوڑھے آدمی کے قریب بیٹھ گیا۔

 ” کیا ہوا؟“ بوڑھے آدمی نے دریافت کیا۔

 ” کشتی ہے وہاں“ میخائیل نے مختصر جواب دیا۔

 ” وہ لہروں سے خود ہی بہہ نہ جائے گی؟“

 ” نہیں“

وہ سب چپ ہو گئے اور مجھے گھورنے لگے۔

 ” تو پھر۔“ میخائیل نے خصوصی طور پر کسی کو مخاطب کیے بغیر کہا ”کیا ہمیں ان کو گاؤں کے آٹامین (سرپنچ) کے پاس لے جانا چاہیے؟ یا پھر سیدھا ایکسائز والوں کے پاس؟“

کوئی کچھ نہ بولا۔ شاکرو بے تعلق اپنا کھانا کھاتا رہا۔

 ” ہاں ہم ان کو آٹامین کے پاس لے جا سکتے ہیں۔ یا پھر ایکسائز والوں کے پاس۔ دونوں کام ایک جیسے اچھے ہیں۔“

 ”ذرا رکیے گا بڑے ابا۔“ میں نے کہنا شروع کیا۔ مگر اس نے بالکل بھی میرا نوٹس نہ لیا۔

 ” ہاں تو پھر ایسا ہے کہ۔ کشتی وہیں ہے نا؟“

 ” ہوووم۔ ہے تو“

 ” اور۔ پانی اسے بہا کر نہ لے جائے گا؟“

 ”ناہ۔ نہیں“

 ” تو پھر۔ اسے وہیں رہنے دو نا۔ کل کشتی والے کرچ جائیں گے اور کشتی کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ ایک خالی کشتی کو وہ کیوں اپنے ساتھ نہ لے جائیں گے؟ ہوں؟ تو ٹھیک ہو گیا پھر۔ اور اب تم بولو۔ پھٹیچر لونڈو؟ کیا تم نے۔ مجھے کیسے کہنا چاہیے۔ کچھ ڈر لگا تھا تمہیں۔ تم دونوں کو؟ نہیں؟ ٹیی۔ ہی۔ مگر صرف آدھا ورسٹ (فاصلے کا مقامی پیمانہ) اور۔ اور تم دونوں کھلے سمندر میں ہوتے۔ کیا کرتے تم دونوں اگر کھلے سمندر میں پھینک دیے جاتے؟ ہا آ آ ں؟ تم سمندر کی تہہ میں چلے جاتے پتھروں کی طرح۔ ڈوب گئے ہوتے تم دونوں۔ ختم ہو گئے ہوتے۔“

بوڑھا آدمی چپ ہو گیا۔ اس نے مجھے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا جو اس کی مونچھوں میں کلبلا رہی تھی۔

 ” تو پھر تم کو اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہنا ہے۔ چھوکرے؟“

میں بڈھے کے بھاشن سے اب اکتانے لگا تھا جس کا کوئی سرا میرے ہاتھ نہیں آ رہا تھا اور جو اب مذاق اڑانے کی حد میں داخل ہو چکا تھا۔

 ” میں سن رہا ہوں۔ آپ کو“ میں نے ذرا سا تیز ہو کر کہا۔

 ” اچھا۔ تو پھر کیا سمجھ آیا تمہیں؟“ بڈھے کو جاننا تھا۔

 ” نہ سر نہ پیر“

 ” اچھاآ۔ اچھا آآ۔ تو تم اپنے دانت کس لیے دکھا رہے ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو یہ کتے کے جیسے غرانے اور کاٹنے کے لیے ہیں اپنے سے بڑے اور بہتر لوگوں پر؟“

میں نے کچھ نہ کہا۔

 ” اب تم کچھ اور نہ کھانا چاہو گے؟“ بڈھے نے گفتگو جاری رکھی۔

 ” نہیں“

 ” چلو مت کھاؤ۔ کوئی تمھیں مجبور نہیں کر رہا۔ مگر تم راستے کے لیے تھوڑی سی روٹی لے جانا چاہو گے۔ شاید؟

میں نے بہت خوشی سے شروع کیا لیکن پھر خود کو گرانے سے پرہیز کیا۔

 ” راستے کے لیے۔ ہاں۔ شاید“ میں نے بہت آرام سے کہا۔

 ” اے ے۔ ان کو راستے کے لیے تھوڑی روٹی دو۔ اور لارڈ بھی۔ اور شاید کچھ اور بھی ہو گا۔ اگر ہے تو وہ بھی دو ان کو۔“

 ” تو کیا۔ ہم انہیں جانے دے رہے ہیں؟“ میخائیل نے پوچھا۔ دوسرے دو نے بھی نگاہیں اٹھا کر بڈھے کو دیکھا۔

 ” تو یہ یہاں ہمارے ساتھ رہ کر کیا کریں گے؟“

 ” لیکن ہم نے تو سوچا تھا کہ ان کو آٹامین کے پاس لے جائیں گے۔ اور اگر نہیں تو پھر ایکسائز والوں کے پاس“ میخائیل نے مایوسانہ لہجے میں کہا۔

شاکرو اپنی جگہ سے تھوڑا سے ہلا اور تجسس کے ساتھ کوٹ میں سے اپنا سر باہر نکالا۔ وہ بالکل شانت تھا۔

 ” آٹامین کے پاس جا کر یہ کیا کریں گے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان کے لیے وہاں کچھ نہیں ہے۔ یہ بعد میں بھی اس سے جا کر مل سکتے ہیں۔ اگر ملنا چاہیں تو۔“

 ” تو پھر کشتی کا کیا ہو گا؟“ میخائیل نے اصرار کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6