میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

یکایک شاکرو نیند سے جاگ پڑا اور ایک بے تحاشا زوردار قہقہہ مارکر مجھے بھی میرے خواب سے جگا دیا۔
’ اف اپنی شکل دیکھو میکسم۔ تم کتنے بڑے احمق لگ رہے ہو اس وقت۔ ہاہا۔ ہا ہا۔ ہا ہا۔ کسی بھیڑ کی طرح۔ ہا ہا ہا ہا۔‘ وہ مسلسل ہنسے جا رہا تھا۔
میرے سر پر جیسے ایک دم بجلی گری یا پھر یہ شاید اس سے بھی برا تھا۔ شاید یہ ہنسنے کی بات ہو لیکن یہ بہت تکلیف دہ بھی تھی۔ شاکرو ہنس ہنس کر رونے والا ہو رہا تھا۔ میں بھی روہانسا ہو رہا تھا لیکن ایک بالکل مختلف وجہ سے۔ میرے حلق میں ایک بہت بڑا گولہ پھنس گیا تھا۔ میں صم بکم اسے تک رہا تھا اور میرے باہر نکلے ہوئے دیدوں پر اسے اور بھی ہنسی آ رہی تھی۔ اب شاکرو اپنا پیٹ پکڑے ہوئے زمیں پر دوہرا تہرا ہو رہا تھا۔ میں کسی بھی طرح اس بے عزتی کے صدمے سے باہر نکل نہیں پا رہا تھا۔ مجھے ایک شدید دلی چوٹ پہنچی تھی۔ میرے درد کو صرف وہی لوگ سمجھ پائیں گے جو کبھی میری طرح کسی ایسی کیفیت سے گزرے ہوں۔
’ بس چپ ہو جاؤ تم۔ بس‘ میں کھڑا ہو گیا اور غصے کی شدت میں شاکرو پر پوری قوت سے گلا پھاڑ کے چلایا۔
میری غصیلی آواز پر وہ ایک بار خوفزدہ ہو کر اچھلا ضرور تھا لیکن اس کے فوراً بعد اس پر دوبارہ ہنسی کا شدید دورہ پڑ گیا تھا۔ میں وہاں سے ہٹ کر دور چلا گیا اور پھر چلتا ہی چلا گیا۔ میرے دماغ میں اس وقت کوئی بھی خیال نہ تھا۔ میں ہر احساس سے بے گانہ ہو چکا تھا۔ صرف اس بے عزتی کا زہر تھا جو میرے پورے وجود کو جلا رہا تھا۔ آج میں نے فطرت کے لیے اپنے دل کے دروازے کھولے تھے۔ میں آج فطرت کو بتا رہا تھا کہ میں اس کا کتنا بڑا عاشق تھا، شاعر تھا اور فطرت نے شاکرو کی شکل میں میری اس خود سپردگی کی ہنسی اڑائی تھی۔ میں شاکرو کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار شاید ابھی جاری رکھتا کہ اس دوران مجھے اپنے عقب میں تیز تیز قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
’ او ہو۔ مت ناراض ہو مجھ سے میرے دوست۔‘ شاکرو نے نرمی سے میرے کندھے کو چھوا۔ ’تم شاید کوئی دعا مانگ رہے تھے۔ مجھے پتہ نہیں چلا۔‘ وہ ایک شرمیلے لڑکے کے سے شرمسار لہجے میں مجھ سے بات کر رہا تھا۔ باوجود اس کے کہ میرا پارا چڑھا ہوا تھا، میں اس کے چہرے پر شدید ندامت اور خوف کے تقریباً مزاحیہ تاثرات کو دیکھے بغیر نہ رہ سکا۔ ’اب میں تم کو کبھی دکھ نہیں پہنچاؤں گا میرے دوست۔ کبھی نہیں۔ ‘ اور ساتھ ہی اس نے اپنا سر بڑی زور سے نفی میں ہلایا۔ ’میرے دوست‘ اس نے بڑی لجاجت سے میرا کندھا تھامتے ہوئے کہا۔ ’مجھے پتہ ہے کہ تم بہت منکسر ہو۔ تم خود محنت کرتے ہو۔ مجھے کام نہیں کرنے دیتے۔ میں حیران ہوں کہ کیوں۔ شاید اس لیے کہ تم جانتے ہو کہ میں بہت بیوقوف اور نادان ہوں۔ کسی بھیڑ کی طرح۔‘
اب وہ میری دل جوئی کر رہا تھا۔ مجھ سے معافیاں مانگ رہا تھا۔ میرے پاس اب کون سا راستہ بچا تھا سوائے اس کے کہ میں اسے معاف کر دوں۔ جو کچھ وہ میرے ساتھ کر چکا تھا صرف اس کے لئے نہیں بلکہ جو وہ آگے میرے ساتھ کرنے والا تھا اس کے لیے بھی۔ آدھے گھنٹے کے بعد وہ میرے قریب مست سویا پڑا تھا اور میں اسے تک رہا تھا۔ سویا ہوا تو طاقتور آدمی بھی بہت کمزور لگتا ہے وہ تو بالکل ہی قابل رحم لگ رہا تھا۔ اس کے قدرے پھولے ہوئے ہونٹ اور کمان ابرو اسے بہت طفلانہ معصومیت عطا کرتے تھے۔ اس کی سانس ہموار اور پرسکون تھی مگر کسی کسی وقت وہ نیند میں ہی سر ہلانا اور بولنا شروع کر دیتا تھا۔ تب وہ اپنی نامانوس جارجین زبان میں خدا جانے کس کے آگے گڑگڑا رہا ہوتا تھا۔ اس وقت ہمارے گرد ایسا مکمل سناٹا تھا کہ جو اگر زیادہ دیر ساتھ چلے تو انسان کو پاگل کر سکتا تھا۔ سمندر کی لہروں کی مدھم سرگوشیاں اب ہم تک نہیں پہنچ رہی تھیں۔ ہم کسی گڑھے جیسی جگہ میں تھے اور ہمارے چاروں طرف جھاڑیاں ایسے سر اٹھائے کھڑی تھیں کہ جیسے ہم کسی عفریت کے منہ میں تھے اور چاروں طرف اس کے لمبے نوکیلے دانت نظر آ رہے تھے۔ میں نے سونے سے پہلے شاکرو پر ایک نظر ڈالی اور پھر خود سے کہا۔ ’یہ میرا ہم سفر ہے۔ میں چاہوں تو اسے ابھی چھوڑ کر جا سکتا ہوں۔ لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ میں اسے کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ یہ ساری زندگی میرا ہم سفر رہے گا اور میرے ساتھ چلتا ہوا قبر کے کنارے تک جائے گا۔‘

تھیوڈوسیا پہنچ کر ہماری امیدوں پر اوس پڑ گئی کیونکہ یہاں پہلے ہی ہم جیسے کوئی چار سو کے قریب لوگ کام کی تلاش میں پہنچے ہوئے تھے۔ ان میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ جرمن، ترک، یونانی، جارجین، روسی جو مولنسک سے آئے ہوئے تھے اور یوکرینی بھی جو پولٹاوا سے آئے ہوئے تھے۔ پورے قصبے اور اس کے چاروں طرف گرد آلود مرجھائے ہوئے چہروں والے یہ لوگ گروہ در گروہ گھوم رہے تھے۔ ان کے درمیان کرائمیا کے خانہ بدوش اور بحر ازوو کے بھیڑیے کی شکل کے لوگ بھی تھے۔ یہ سب لوگ قحط زدہ علاقوں سے بھاگ کر یہاں آئے ہوئے تھے۔
ہم کرچ کے شہر کی طرف چلے گئے۔ میرے ہم سفر نے اپنے کہے ہوئے کی لاج رکھی تھی اور مجھے اذیت دینا بند کر دی تھی۔ تاہم وہ شدید طور پر بھوکا تھا اور بھوک کے مارے اپنے دانت کسی بھیڑیے کی طرح پیستا رہتا تھا خصوصاً اس وقت جب اسے کوئی شخص کھانا کھاتا ہوا نظر آ جاتا۔ دوسری جانب وہ مجھے اپنی جناتی بھوک کے قصے سنا کر اور بھی ڈراتا رہتا تھا۔
ادھر کچھ روز سے شاکرو کو عورتوں کا خیال بھی بار بار ستانے لگا تھا۔ ابتدا میں یہ تذکرہ محض روا روی میں ہوتا تھا اور کچھ سرد آہوں کے جلو میں نازل ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ تواتر کے ساتھ ہونے لگا کچھ چٹخارے دار جملوں کے ساتھ۔ اور پھر یوں ہوا کہ شاکرو نے خود کو اس قدر نیچے گرا لیا کہ کوئی بھی خاتون خواہ وہ کسی بھی حلیے عمر یا شکل کی ہوتی اگر اس کے پاس سے گزر جاتی تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ شاکرو اس کے نسوانی حصوں پر کوئی رکیک جملہ نہ کسے۔ اب وہ عورتوں کا تذکرہ بہت شدت کے ساتھ کرنے لگا تھا۔ اس کو جنسیات کے موضوع پر اس قدر عبور حاصل تھا اور وہ ایک ہی نکتے پر بار بار اتنا کھل کر تبصرے کرتا تھا کہ مجھے کلی کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ میں یہ ثابت کرنے کی غلطی کر بیٹھا کہ عورتیں کسی طرح مردوں سے کم نہیں۔ بس پھر کیا تھا شاکرو صاحب نے میری رائے کا اس قدر برا منایا کہ مجھے لگا کہ وہ پھر آپے سے باہر ہونے والے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ بات کر کے میں نے اس کی بے عزتی کر دی تھی۔ چنانچہ میں نے اسے قائل کرنے کی اپنی کوشش فوراً ترک کر دی تا وقتیکہ شاکرو کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔
کرچ پہنچنے کے لیے ہم نے ساحل کی بجائے نیم پہاڑی راستہ اختیار کیا تاکہ فاصلے کو کچھ کم کیا جا سکے۔ ہمارے پاس سوائے ایک تین پونڈ وزنی اوٹ کیک کے کھانے کو کچھ نہ تھا۔ یہ کیک ہم نے ایک تاتاری سے اپنے آخری پانچ کوپیک کے بدلے میں خریدا تھا۔ شاکرو نے قصبے سے روٹی کی بھیک مانگنے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہا تھا۔ ’ہم سب کا پیٹ نہیں بھر سکتے‘۔ قصبے والوں کا مختصر جواب تھا۔ اور یہ بات تھی بھی ٹھیک۔ قحط کے اس سال میں ایسے لوگوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا تھا جو محض روٹی کے ایک نوالے کے محتاج تھے۔ شاکرو کو یہ قحط کے مارے پناہ گزین ایک آنکھ نہ بھاتے تھے کیونکہ وہ اس کی ’خیرات‘ میں شریک ہو گئے تھے۔ شاکرو لاکھ کوشش کر کے بھی ان جیسی بے چاری شکل نہیں بنا سکتا تھا۔ ’لو دیکھو یہ پھر آ گئے۔‘ شاکرو ان پر نظر پڑتے ہی کہتا تھا۔ ’تف ہے بھئی۔ کیوں آ گئے ہیں یہ سارے کے سارے یہاں پر؟ پورے روس میں ان کو ایک یہی جگہ ملی تھی کیا؟ میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ بڑے ہی بے وقوف ہیں یہ سب روسی۔‘ وہ بار بار سر ہلاتا اور کہتا۔ جب میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا کہ وہ کون سے حالات تھے جن سے مجبور ہو کر یہ بے وقوف روسی کرائمیا میں یوں روٹی کے لیے خوار ہوتے پھر رہے تھے تو وہ مایوسی اور بے یقینی سے سر ہلاتا اور کہتا۔
’میں نہیں سمجھا۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ جارجیا میں تو لوگ اتنے بے وقوف نہیں ہوتے۔‘
شام گئے ہم بالآخر کرچ شہر پہنچ گئے۔ ہمیں یہ رات سمندر کے گھاٹ پر سنگی پشتے کے ساتھ اور اس کے اوپر بنے چبوترے کے سائے میں کاٹنی تھی۔ ہمارے لیے چھپ چھپا کر رہنا ہی بہترتھا۔ ہمیں علم تھا کہ ہماری آمد سے ذرا سا پہلے شہر سے ’فالتو‘ لوگوں کو پکڑ کر نکالنے کا کام کیا جا چکا تھا۔ ہم دونوں بھی آوارہ گرد ہی تھے چنانچہ پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے کا امکان ہمارے لیے خاصا تشویشناک تھا۔ شاکرو تو ویسے بھی کسی اور کے پاسپورٹ پر سفر کر رہا تھا۔ اس قسم کے کسی بھی واقعے کی صورت میں ہماری ساری منصوبہ بندی ٹھپ ہو سکتی تھی۔
گھاٹ کے پشتے سے ٹکرانے والی زور آور لہریں پوری رات ہم پر اپنا جھاگ نچھاور کرتی رہیں۔ صبح دم جب ہم دونوں چبوترے سے نیچے اترے تو پوری طرح بھیگے ہوئے تھے اور سردی سے کانپ رہے تھے۔ وہ سارا دن ہم بندرگاہ کے طول عرض میں کام کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے لیکن دن بھر میں ہم جو کما سکے تھے وہ محض ایک چھوٹا سکہ تھا جو ایک پادری کی بیوی نے مجھے مارکیٹ میں تربوزوں والا تھیلا اٹھانے پر تھما دیا تھا۔ شام ہو گئی تھی۔ آگے تامان کے قصبے تک پہنچنے کے لیے ہمیں کھاڑی کو عبور کرنا تھا۔ ہم نے بہت سے ملاحوں کی منت سماجت کی مگر کوئی بھی ہمیں پار لے جانے کو تیار نہ ہوا حتی کہ پتوار کا کھیون ہار بنا کر بھی نہیں۔ ملاح ہم جیسے آوارہ گردوں کے سخت خلاف تھے۔ قحط زدہ علاقوں سے یہاں آنے والے آوارہ گردوں نے فضا ہی کچھ ایسی بنا رکھی تھی وہ بھی کیا کرتے۔
جب شام کے سائے ڈھلنے لگے تو دنیا والوں سے عموماً اور اپنی تقدیر سے خصوصاً ناراض ہو کر میں نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جو کچھ پرخطر تھا لیکن اس کے سوا ہمارے پاس کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔ جیسے ہی اندھیرا تھوڑا گہرا ہوا، میں اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے روانہ ہو گیا۔

میں اور شاکرو رات کی تاریکی میں دبے پاؤں آگے بڑھتے ہوئے کسٹم چیک پوسٹ کے قریب پہنچے جہاں تین چھوٹی بادبانی کشتیوں کو زنجیریں ڈال کر سنگی پشتے میں گڑے آہنی حلقوں کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ اندھیرا تھا۔ تیز سمندری ہوا چل رہی تھی جس میں یہ کشتیاں بار بار ایک دوسرے سے ٹکراتی تھیں اور ان کی زنجیریں شور کرتی تھیں۔ میرے لیے ایک آہنی حلقے کو ڈھیلا کر کے اسے سنگی پشتے سے نکالنا اور کشتی کو آزاد کرانا آسان ثابت ہوا۔ ہمارے سروں کے عین اوپر کوئی دس فٹ کی اونچائی پر کسٹم کا سنتری گشت کر رہا تھا اور منہ سے سیٹی بھی بجاتا جا تا تھا۔ جب وہ گشت کرتا ہوا ہمارے قریب پہنچتا تو ہم اپنا کام روک کر بالکل ساکت ہو جاتے اور اس کے پھر سے دور جانے کا انتظار کرتے۔ مگر یہ احتیاط ایک طرح سے غیرضروری تھی کیونکہ اتنی اونچائی سے نیچے اتنے اندھیرے میں وہ کسی ایسے آدمی کو نہیں دیکھ سکتا تھا جو گردن تک پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور پھر زنجیریں بھی تو ہماری مدد کے بغیر ہی کتنا شور کرتی تھیں۔
کشتی ملتے ہی شاکرو تو اس کے پیندے میں لمبا ہو گیا۔ وہ سرگوشی میں مجھ سے کچھ کہ رہا تھا مگر لہروں کا شور اتنا تھا کہ میں کچھ سمجھ نہ پا رہا تھا۔ آہنی حلقہ میرے ہاتھ سے نکل گیا۔ ایک لہر کشتی کو بہا کر پشتے سے دور لے گئی۔ میں کشتی کی زنجیر کو تھامے ہوئے کچھ دور تک اس کے ساتھ تیرتا رہا پھر اس میں سوار ہو گیا۔ ہم نے کشتی کے فرش پر پڑے ہوئے لکڑی کے دو تختے لیے اور ان کو کشتی کے دونوں طرف آنکڑوں میں پتواروں کی جگہ پھنسا کر کشتی کو کھیتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔
لہریں اب گرم جوش تھیں۔ شاکرو جو دوسرے سرے پر ٹلر (کشتی کا رخ موڑنے والے ڈنڈے) کو پکڑے بیٹھا تھا کبھی اتنا نیچے ہو جاتا کہ مکمل طور پر میری نظروں سے اوجھل ہو جاتا تو کبھی اتنا اونچا کہ میرے سر سے بھی بلند ہو جاتا اور پھر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ نیچے آتا گویا کہ میرے اوپر ہی آن گرے گا۔ میں نے اس کو خبردار کیا کہ اگر وہ نہیں چاہتا کہ سنتری اس کی آواز سن لے تو اسے چیخنا بند کرنا ہو گا۔ سو وہ چپ ہو گیا۔ تب مجھے اس کا چہرہ ایک سفید دھندلاہٹ میں نظر آیا۔ وہ مسلسل ٹلر کو پکڑے بیٹھا تھا۔ ہمارے پاس اپنی نشستیں تبدیل کرنے کا وقت نہ تھا۔ یوں بھی ہم کشتی کے اندر نقل و حرکت کرنے سے ڈر رہے تھے۔ میں نے پکار کر اسے بتایا کہ کشتی کی سمت کدھر کو رکھنی ہے تو یہ کام اس نے کچھ ایسی مہارت سے اور جھٹ پٹ کیا کہ جیسے وہ کوئی پیدائشی ملاح تھا۔ لکڑی کے وہ تختے جنھیں میں پتوار کے طور پر استعمال کر رہا تھا میرے لیے کچھ زیادہ کام کے نہیں تھے۔ ہوا ہمارے پیچھے تھی اور ہمارا رخ کس طرف تھا مجھے کوی خاص فکر نہ تھی سوائے اس کے کہ کشتی کا اگلا سرا دوسرے کنارے کی جانب رہے۔ یہ اندازہ لگانا آسان تھا کیونکہ ہم اب بھی کرچ شہر کی روشنیاں دیکھ سکتے تھے۔ کشتی کے دونوں جانب سے لہریں اونچا ابھرتیں ہمیں گھورتیں اور غصے میں بڑبڑاتی ہوئیں آگے بڑھ جاتیں۔ جتنا ہم کھاڑی میں آگے بڑھتے جاتے تھے لہریں بلند سے بلند تر ہوتی جاتی تھیں۔ آگے کچھ فاصلے پر ہم پانی کی خوفناک وحشیانہ چنگھاڑ سن سکتے تھے اور کشتی تیز سے تیز تر آگے کو بڑھتی جاتی تھی۔ اب اسے صحیح رخ پر رکھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ ایک لمحہ ہم کسی گہرے گڑھے کی تہہ میں گرے ہوتے تھے تو اگلے ہی لمحے کسی پہاڑ جیسی لہر کی چوٹی پر سوار ہوتے تھے۔ رات تاریک سے تاریک تر ہوتی جاتی تھی اور بادل اور نیچے ہوتے جاتے تھے۔ ہمارے عقب میں جو روشنیاں تھیں وہ اب اندھیرے میں گم ہو چکی تھیں۔ ماحول بہت ڈراونا ہو چکا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ غصیلے پانیوں کا یہ پھیلاؤ لا محدود ہے۔ اس سیاہی میں کچھ دکھائی نہ دیتا سوائے پانی سے اڑ کر ہم پر آتی ہوئی لہروں کے۔ ایک ایسی لہر نے میری ’پتوار‘ کو مجھ سے چھین لیا۔ دوسری کو میں نے خود ہی کشتی کے فرش پر پھینک دیا اور کشتی کے دونوں طرف کے آنکڑوں کو مضبوطی سے پکڑ کو بیٹھ گیا۔
ہر بار جب کشتی پانی میں ابھرتی شاکرو ایک ہولناک چیخ مارتا۔ غضبناک فطرت کے عناصر کے گھیرے میں اور ان کے شور میں بے سماعت، میں نے خود کو بہت بے بس اور کمزور محسوس کیا۔ ایک تلخ نا امیدی اور مایوسی کا شکار ہو کر میں اس وقت کچھ نہ دیکھ سکتا سوائے ابھرتی لہروں کی سفید قوسوں کے جو اپنا نمک ہم پر چھڑکتی تھیں اور میرے سر پر جو گھنے آڑے ترچھے بادل تھے وہ خود بھی لہروں کی مانند ہی تھے۔ میں اس وقت صرف ایک بات سمجھ پا رہا تھا : جو کچھ بھی میرے ارد گرد ہو رہا تھا وہ جیسا نظر آتا تھا اس سے بہت زیادہ خوفناک اور ہلاکت خیز تھا۔ اور مجھے اس بات سے ذرا سی چڑ ہو رہی تھی کہ فطرت نے ابھی تک خود کو روکا ہوا تھا اور اپنی وحشیانہ طاقت پوری طرح ہمیں دکھانے پر آمادہ نہ تھی۔ موت اب ناگزیر تھی لیکن مجھے لگتا تھا کہ موت کا بے رحم، سب کچھ ملیا میٹ کر دینے والا قاتلانہ وار ذرا زیادہ با سلیقہ اور قابل قبول ہونا چاہیے تھا۔ اس وقت یہ ایک بہت ہی کھردری حقیقت لگ رہا تھا جسے قبول کرنا مشکل تھا۔ اگر مجھے کبھی انتخاب کا حق دیا گیا کہ میں آگ میں جل کر مرنا پسند کروں گا یا پھر دلدل میں ڈوب کر، تو میں پوری کوشش کروں گا کہ پہلے طریقے کو چنوں۔ مجھے وہ طریقہ زیادہ باوقار لگتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

