ڈاکٹر خالد سہیل: پھر تمہارا خط آیا


برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل

یہ عنوان ابن انشا کی محبت کے موضوع پر ایک سادہ سی نظم سے لیا ہے۔ چند سطریں ملاحظہ فرمائیے۔ ’شام حسرتوں کی شام / رات تھی جدائی کی / صبح صبح ہر کارہ / ڈاک سے ہوائی کی / نامہ وفا لایا / پھر تمہارا خط آیا‘۔ ابن انشا بے پناہ تخلیقی آدمی تھے، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا مزاح، کسی گھر بند نہیں تھے۔ رومانوی طبیعت پائی تھی۔ شادیوں اور محبتوں کی سنگین چٹانوں میں سر پھوڑتے باون برس کی عمر میں رخصت ہوئے۔ پہلی شادی 1941ء میں والدہ کی خواہش پر کی جو 1951ء میں ختم ہو گئی۔ اگلے اٹھارہ برس یک طرفہ اور دو طرفہ محبتوں کے سراب میں سرگرداں رہے۔ 1969ء میں دوسری شادی کی۔ 11 جنوری 1978ء کو سرطان کے مرض میں انتقال ہوا۔ ابن انشا کے ذکر کا زاویہ یوں نکلا کہ ایک تو آپ کا محبت نامہ موصول ہونے پر درویش نے جانا کہ مکالمت کا یہ سلسلہ خوب رہے گا۔ ابن انشا کی نظم میں ہوائی ڈاک سے مراد ایئر میل (Air mail) تھی۔ آپ کا محبت نامہ تو کرہ ہوائی میں پرواز کا محتاج بھی نہیں۔ انٹرنیٹ کی نادیدہ موجوں پر لمحوں میں مکتوب الیہ تک پہنچ جاتا ہے۔ ابن انشا کے ضمن میں آپ کی ممکنہ دلچسپی کا ایک خاص پہلو خودکشی کا رجحان تھا۔ ابن انشا کے خاص دوست احمد بشیر تھے۔ ابن انشا پر خودکشی کا بھوت سوار ہوتا تو احمد بشیر انہیں لے کر کراچی کی سڑکوں پر نکل جاتے۔ خودکشی کے مختلف طریقوں پر تفصیلی بات کرتے۔ ایک کے بعد ایک بہانہ تراشتے۔ اسی آوارہ خرامی میں رات کے کسی پہر ابن انشا کے جنون کی لہریں پسپا ہو جاتیں۔ خودکشی کا ارادہ کمزور پڑنے لگتا تو احمد بشیر اپنے دوست کو اس کے ٹھکانے پر پہنچا کر گھر لوٹ آتے۔ آپ نے علم نفسیات کی جستجو میں نصف صدی صرف کی ہے۔ ہمارے احمد بشیر انسانی نفسیات کی غواصی میں آپ کے بھی استاد نکلے۔ میں تو انہیں الف لیلیٰ کی شہرزاد کہوں گا جس نے ایک ہزار ایک راتوں پر محیط کہانیوں کے تسلسل سے خسروئے وقت کا پانی اتار کے رکھ دیا تھا۔

یہ تو رہا ہمارے ابن انشا کا قصہ۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب تفصیل آپ کے ناخنوں میں بھری ہے مگر صاحب بات سے بات نکلتی ہے۔ ایک دو نکات آپ نے اپنے مکتوب میں معاشرتی امتیاز اور معاشی ناانصافی کے ضمن میں بیان کیے ہیں۔ مجھے آپ کے اٹھائے نکات سے اختلاف نہیں تاہم کچھ ضمنی زاویے وضاحت طلب ہیں۔ آپ نے درست فرمایا کہ”دنیا کے بہت سے ملکوں اور معاشروں میں اسی فیصد لوگ غریب اور بیس فیصد لوگ امیر ہیں اس لیے معاشی اور طبقاتی استحصال اسی فیصد لوگوں کو متاثر کرتا ہے“۔ دست بستہ عرض ہے کہ غربت کے شکار اسی فیصد لوگوں میں عورتیں بھی تو شامل ہیں اور پھر غربت مردوں سے زیادہ عورتوں کو متاثر کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں غربت، معاشی استحصال اورطبقاتی امتیاز کی آنچ دنیا کی نصف آبادی یعنی عورتوں کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ مرد کی غربت بھی عورت ہی کو مزید غریب اور کمزور کرتی ہے۔ صنفی امتیاز اور طبقاتی استحصال میں ناگزیر تعلق کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ انسانی تاریخ کے ایک بڑے منطقے میں غلامی کا ادارہ کانٹے کی پھانس کی طرح پیوست ہے۔ آپ فرمائیے کہ ایک غلام عورت کے جنسی استحصال کا امکان زیادہ تھا یا ایک غلام مرد کے۔ آج کی دنیا میں غربت کے ہاتھوں جسم فروشی پر مجبور ہونے والے عورتوں اور مردوں کے اعداد و شمارمیں فرق آپ سے مخفی نہیں۔

عورت اور مرد کی جسمانی ساخت میں فرق پایا جاتا ہے۔ ہم عصر دنیا میں ہم معاشی اور معاشرتی اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں تو زچگی سے متعلقہ ماﺅں کی اموات کا اشاریہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جنسی فعل میں تو عورت اور مرد یکساں طور پر شریک ہوتے ہیں۔ اس سے متعلقہ اموات کے خانے میں صرف عورتوں کا ذکر کیوں آتا ہے۔ خالد بھائی! معاشی استحصال بھی ناگزیر طور پر صنفی امتیاز سے جڑا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں مرد اور عورت فیصلہ سازی میں برابر کے شریک ہوں گے، معاشی استحصال کا مجموعی امکان کم ہو جائے گا۔ ہمارے اشتراکی احباب معاشی انصاف کو بنیادی نکتہ مان کر صنفی امتیاز کو نظر انداز کرتے رہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مارکسی فکر میں اصولی طور پر صنفی مساوات کا اصول تسلیم کیا جاتا ہے۔ اشتراکی ممالک میں عورتوں اور مردوں کی شرح خواندگی قریب قریب برابر رہی ہے جو بذات خود کسی کارنامے سے کم نہیں لیکن شرح خواندگی میں مساوات کی مثال تو آپ کو غیراشتراکی ممالک اور سرمایہ دار جمہوریت میں بھی مل جائے گی۔ سابق سوویت یونین میں اعلیٰ ترین فیصلہ سازادارے میں کسی عورت کی شمولیت کی واحد مثال الیکسانڈرا کولنٹائی (Alexandra Kollontai) کی ملتی ہے۔ یہ خاتون 1917-18 میں لینن کی وزارت میں شامل رہی لیکن کمیونسٹ پارٹی پر بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کی ناقد تھی۔ سٹالن کے آمرانہ رجحانات کی مخالفت کے نتیجے میں لاکھوں دوسرے سیاسی مخالفوں کی طرح قید و بند اور موت سے بال بال بچی۔ اسے سیاسی طور پر بے دست و پا کر کے پچیس برس تک مختلف سفارتی عہدوں پر سوویت یونین سے باہر رکھا گیا۔ اس خاتون کی خودنوشت The Autobiography of a Sexually Emancipated Communist Woman کے عنوان سے موجود ہے۔ میری عاجز رائے کے مطابق اشتراکی تجربے میں آمریت کے در آنے کا ایک اہم سبب سوشلسٹ ممالک میں عورتوں کا سیاسی فیصلہ سازی سے استخراج بھی تھا۔ آپ کو تو یاد ہو گا کہ لیورانتی بیریا (Lavrentiy Beria) کو دسمبر 1953ء میں گرفتار کیا گیا تو قریب ربع صدی تک سوویت عوام کے جان و مال پر کلی اختیار رکھنے والے اس شخص پر سینکڑوں کم عمر بچیوں کو ریپ کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ درویش اشتراکی نظام پر تنقید نہیں کر رہا، عرض صرف یہ ہے کہ صنفی مساوات کا اصول عملی طور پر اپنائے بغیر معاشی مساوات کا نصب العین حاصل نہیں ہو سکتا۔ معاشی استحصال کو صنفی امتیاز سے منفک کرنے کے نتیجے میں معاشی مساوات قائم ہوتی ہے اور نہ سماجی ہم آہنگی۔

آپ نے ازرہ شفقت تخلیقی اقلیت کی بحث کے تسلسل میں ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ اور این سیکسٹن کا ذکر کیا اور این سیکسٹن کی کہانی بھی بیان کی۔ اتفاق سے یہ تینوں خواتین تخلیق کار میری بھی پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس فہرست میں ایک نام الزبتھ بشپ کا بھی شامل کر لیجئے۔ یہ تو طے ہے کہ تخلیق کار مجھ ایسی سادھارن مخلوق سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ آپ کو جان کیٹس کی نظم  Sonnet To Chatterton یاد ہو گی۔ سترہ برس کی عمر میں خودکشی کرنے والے تھامس چیٹرٹن کے اس نوحے سے دو کمال کی سطریں آپ کی نذر کرتا ہوں۔

How soon the film of death obscur’d that eye

Whence Genius mildly flash’d, and high debate

ہوائی جہاز ساﺅنڈ بیریئر پار کرتا ہے تو دھماکہ ہوتا ہے۔ تخلیق کار کی پرواز تو کرہ ہوائی کی تنگنائے سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی کائنات کی وسعتوں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کشمکش میں خود تخلیق کار کے پرخچے اڑ جاتے ہیں۔ سورین کیرکیگارڈ نے کہا تھا کہ ہر رکاوٹ میرے چیتھڑے اڑا دیتی ہے۔ فنکار کے احساس کی شدت ہی اس کے لئے دشمن جاں ٹھہرتی ہے۔ یہ کہنے کے بعد بندہ بے مایہ عرض گزار ہے کہ جن خواتین تخلیق کاروں کے اسمائے گرامی آپ نے اپنے مکتوب میں شامل کیے ہیں ان کی زندگیوں کا المیہ تخلیق کی عمومی پیچیدگیوں سے قطع نظر ان کے صنفی تشخص سے تعلق رکھتا تھا۔ ورجینیا وولف 1882ء میں پیدا ہوئیں۔ ورجینیا وولف نے 1939  میں انکشاف کیا کہ اس کے دو سوتیلے بھائی اس کا بارہ برس تک جنسی استحصال کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے شوہر لیونارڈ سے شاندار ذہنی ہم آہنگی اور جذباتی محبت کے باوجود ورجینیا وولف جنسی تعلق سے یک گونہ نفرت کرتی تھی۔

Virginia Woolf

یکم مئی 1912ء کو ورجینیا وولف نے اپنے شوہر کے نام خط میں لکھا۔

I sometimes think that if I married you, I could have everything—and then—is it the sexual side of it that comes between us? As I told you brutally the other day, I feel no physical attraction in you

میری رائے میں ورجینیا وولف کا جنسی بنجر پن اس کی نفسیاتی پریشانیوں کا منبع تھا۔ اب یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ ورجینیا جیسی نابغہ روزگار خاتون تخلیقی طور پر بھلے کیسی ہی زرخیز کیوں نہ ہو، اس کی خالص نجی زندگی ایک شدید نفسیاتی پیچیدگی کا شکار تھی۔ وہ کم عمری کے جنسی استحصال اور جسمانی ناآسودگی کے درمیانی صحرا میں بھٹکتے ہوئے زندگی کے مکمل امکانات سے محرومی کا شکار تھی۔

سلویا پلاتھ 1928ء میں پیدا ہوئی۔ اپنے والد کے ساتھ ان کے تعلق کی کوئی واضح شہادت موجود نہیں کیونکہ ان کے باپ کی موت کے وقت سلویا پلاتھ کی عمر آٹھ برس تھی۔ تاہم باپ کو موضوع بنا کر لکھی ان کی نظموں میں جنسی پیچیدگی کے واضح اشارے موجود ہیں۔ یہ بات عام طور سے معلوم ہے کہ 1952ء میں سلویا پلاتھ کا  Richard Sassoon سے ناخوشگوار جسمانی تجربہ رہا تھا لیکن اس سے اگلے برس سلویا پلاتھ ایک اور تکلیف دہ تجربے سے گزری جس کی تفصیل اس کی قریبی دوست Nancy Hunter Steiner نے سلویا کے سوانحی تذکرے  A Closer Look at Ariel میں تفصیل سے لکھ رکھی ہے۔ کسی بھی نارمل انسان کی طرح سلویا پلاتھ خوشی کے خواب سے ماورا نہیں تھی لیکن Ted Hughes کے ساتھ سلویا پلاتھ کی ازدواجی زندگی وفا اور بے وفائی کے دائروں میں الجھ گئی۔

Sylvia Plath

خالد بھائی، آپ نے اپنے شفقت نامے میں ایک دلچسپ جملہ لکھا ہے۔ ’جو عورتیں شادی شدہ ہوتی ہیں ان کی ازدواجی زندگی بھی ان کی ڈپریشن کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے‘۔ شادی کے ادارے کے بارے میں اس مکالمے کے کسی دوسرے باب میں تفصیل سے اپنی رائے عرض کروں گا لیکن یہاں یہ ضرور کہوں گا کہ دو انسانوں کے سماجی اور جسمانی طور پر مستقل بندھن میں کچھ ناگزیر المیے پوشیدہ ہیں۔ سلویا پلاتھ کی موت کے بعد Ted Hughes نے ان کے بارے میں جو کچھ لکھا، اس کی روشنی میں جدید انگریزی شاعری کا ایک بڑا نام  Ted Hughes کوئی مجرمانہ کردار تو شاید نہ سمجھا جائے لیکن یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ٹیڈ ہیوز اپنی بیوی سلویا پلاتھ پر جسمانی تشدد کرتا تھا اور ایسے ہی ایک متشدد واقعے کے نتیجے میں سلویا پلاتھ کا حمل بھی ضائع ہوا تھا۔ غالباً دو تخلیقی شخصیات اپنے اپنے نفسیاتی دائروں کی اسیر تھیں۔ ٹیڈ ہیوز مرد تھا سو اسے مردانہ بالادستی کے حامل معاشرے میں زیادہ جگہ میسر تھی۔ سلویا پلاتھ محبت، بچوں، تشدد اور تخلیق کی کٹھنائیوں سے ٹوٹ کر خودکشی تک جا پہنچی۔

Anne Sexton

 این سیکسٹن کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر bipolar disorder کا شکار تھی۔ اسی عارضے کے علاج کے دوران اس نے اپنی شاعرانہ جہت دریافت کی۔ 1992ء میں Diane Middlebrook نے این سیکسٹن کی سوانح میں واضح طور پر لکھا کہ این سیکسٹن ایک دوسرے نفسیاتی معالج کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہوئی اور غالب امکان ہے کہ اس معاملے کے نتیجے میں این سیکسٹن کی ازدواجی زندگی تباہ ہوئی۔ این سیکسٹن کے قریبی حلقے کے مطابق معالج کے ہاتھوں جنسی استحصال کے نفسیاتی اثرات ہی اس کی خودکشی پر منتج ہوئے۔ 1996ء میں این سیکسٹن کی موت کے ٹھیک بیس برس بعد اس کی بیٹی لنڈا سیکسٹن نے  Searching for Mercy Street کے عنوان سے اپنی ماں کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ خود بھی جنسی استحصال کا شکار تھی اور اپنی کم سن بیٹی کے ساتھ بھی بار بار جنسی ناانصافی کی مرتکب ہوئی تھی۔

Elizabeth Bishop

برادر خالد سہیل، انسان ایک پیچیدہ مخلوق ہے۔ ہم جس عہد میں زندہ ہیں، ہمارا ایک قدم آج کی دنیا میں ہے اور پچھلا قدم ابھی جنگل میں ہے۔ ہماری نسل کے بارے میں آئندگان شاید زیادہ درست رائے قائم کر سکیں گے لیکن اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ ہماری دنیا میں بہت سے دکھ ایسے ہیں جن کی جڑیں ہمارے حیاتیاتی ارتقا میں ہیں۔ بہت سے المیے ایسے ہیں جن سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے لیکن انسانی شعور کا ارتقا ابھی جسمانی ارتقا کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو پایا۔ انسانی ذہن جنگل سے بہت آگے نکل آیا ہے لیکن لاکھوں برس تک وسائل کی قلت، طاقت کے استعمال اور نامعلوم کے خوف نے ہماری زندگیوں میں بہت سے دکھ بھر رکھے ہیں۔ میں نے الزبتھ بشپ کا ذکر کیا جو بیسویں صدی کی معروف انگریزی شاعرہ ہیں۔ 1911ء میں پیدا ہونے والی الزبتھ بشپ نے زندگی کا بڑا حصہ امریکا سے باہر قریب قریب گمنامی کی حالت میں مختلف ملکوں میں گزارا۔ اٹھارہ برس برازیل میں مقیم رہیں۔ وجہ یہ کہ پیدائشی طور پر ہم جنس رجحان رکھتی تھیں اور ان کے زمانے کا امریکا ہم جنسیت کو انسانی زندگی کے ایک قابل قبول امکان کے طور پر تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔

محترم خالد سہیل، آپ نے اپنے شفقت نامے میں اتنے بہت سے سوال اٹھا دیے کہ محض چند نکات پر اظہار خیال کر پایا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اور ہمارے صاحب علم پڑھنے والے عہد جدید کی معروف فلسفی  Kate Manne کے نام اور کام سے یقیناً واقف ہوں گے۔ کارنیل یونیورسٹی میں فلسفے کی استاد کیٹ مین نے صنفی امتیاز کے موضوع پر متعدد علم افروز کتابیں لکھی ہیں۔ 1920ء میں ان کی کتاب Entitled: How Male Privilege Hurts Women شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے مندرجات ہم عصر دنیا کے بہت سے تلخ حقائق بیان کرتے ہیں۔ جیتے رہے تو کسی آئندہ تحریر میں کیٹ مین کے خیالات کا خلاصہ بیان کرنا چاہوں گا۔ ابھی تو میں اپنی معروضات کے جواب میں آپ کی علمی رہنمائی کا منتظر رہوں گا۔

نیازمند

وجاہت مسعود

Facebook Comments HS