بے ہنگم ٹریفک اور جلد باز عوام

تین روز قبل صبح دفتر جاتے ہوئے ایک منچلے کی گاڑی پہ غلط کراسنگ سے میرا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے میری دائیں ہاتھ کی ہڈی فریکچر ہوئی اور میں گزشتہ کئی روز سے مکمل بیڈ ریسٹ پہ ہوں۔ مون مارکیٹ کے پاس ایک نوجوان نے انڈیکیٹردیے بغیر مجھے پیچھے سے کراس کرتے ہوئے گاڑی منی مارکیٹ طرف موڑ دی جس کی وجہ سے میں سڑک پر گر گیا اور گاڑی والے ”مہذب اور منچلے شہری“ نے گاڑی

Read more

ملک محفوظ ہاتھوں میں دینا ہوگا

چلیں چند لمحوں کے لیے مان لیا۔ عمران خان ایک فلاپ سیاست دان ہے۔ اسے عالمی امور کی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی اسے حکومت کرنا آتی ہے۔ یہ بھی مان لیا کہ عمران خان نے اس قوم سے جو وعدے کیے تھے وہ تمام کے تمام جھوٹے اور فلاپ نکلے۔ مجھے چند لمحوں کے لیے یہ بھی تسلیم کر لینا چاہیے کہ عمران خان نے نہ ہی بجلی سستی کی اور نہ ہی پیٹرول اور اشیائے خوردونوش۔ مجھے

Read more

معاہدہ عمرانی۔ آخری حصہ

(گزشتہ سے پیوستہ) ہم نے گزشتہ دو کالموں میں روسو کے فلسفہ سیاست کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ روسو کے نزدیک ریاست، قانون اور عوام کا آپس میں کیسا تعلق ہونا چاہیے کہ ملکی ترقی ممکن ہو پائے۔ روسو کا یہ نقطہ نظر سو فیصد درست ہے کہ حکومت اور ریاست کا آپس میں تعلق مضبوط تر ہونا چاہیے کیونکہ ریاست کا وجود بالذات ہوتا ہے جبکہ حکومت کا وجود ریاست

Read more

نیاقومی ہیرو:صلاح الدین

پہلے میں آپ کو صلاح الدین کی کہانی سناتا ہوں : صلاح الدین گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔ یہ پچھلے دس سال سے خود کو گونگا ’بہرہ اور ابنارمل بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے اس نے خود اپنے ہاتھ پہ اپنا نام بھی کھدوایا تاکہ جب جب پکڑا جائے وہ خود کو بے گناہ پاگل ثابت کر سکے۔ مختلف ذرائع سے معلوم ہوا کہ صلاح الدین کا تعلق مکمل مذہبی گھرانے سے تھا‘ اس کے

Read more

معاہدہ عمرانی ( 2 )۔

1962 ء میں روسو کی کتاب ”معاہدہ عمرانی“ آئی۔ روسو کا اس کتاب کے بارے میں ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ کتاب نامکمل ہے اور اس بات کا اعتراف اس نے ”اعترافات“ میں تفصیل سے کیا۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی حوالے سے یہ ایک پختہ کتاب ہے جس میں روسو کے نظریات بڑی عمدگی سے پیش کیے گئے۔ اس کتاب میں روسو کے نظریوں کی اساس قانون فطرت ہے اور روسو ہمیشہ سے اس بات پر مصر رہا

Read more

روسو کا معاہدہ عمرانی

جب فرانس میں مذہبی جنگ کا آغاز ہوا تو ژاں ژاک روسو کا خاندان وہاں سے جنیوا میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا اور کوئی ایک صدی بعد 28 ؍جون 1712 ء کو روسو نے اس خاندان میں جنم لیا۔ اس کی والدہ اسے جنم دیتے ہی فوت ہو گئی۔ اس کا باپ بھی گھڑی ساز تھا جس نے روسو کو خود تعلیم دینا شروع کر دی اور جب وہ دس برس کا ہوا تو اس کے باپ کو ایک جھگڑے کی وجہ سے جنیوا چھوڑنا پڑالہٰذا اس نے روسو کو چچا کے پاس چھوڑا تاکہ وہ تعلیم جاری رکھ سکے اور خود ہجرت کر گیا۔

Read more

ایک کالم کشمیر پر

ستمبر 2013 ء میں معروف ادبی تنظیم ”طلوعِ ادب“ کی جانب سے مجھے آزاد جموں کشمیر کادعوت نامہ موصول ہوا۔ یہ تنظیم گزشتہ کئی دہائیوں سے علم و ادب کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہی ہے۔ پاکستان سمیت کئی علاقوں سے شعراء اور ادبا کو مدعو کرنا اور وہاں ادبی میلے سجانے کا کریڈٹ ”طلوعِ ادب“ کو جاتا ہے جس کی انتظامیہ بلاشبہ قابلِ تحسین ہے۔ لاہور سے میرے ساتھ مرحوم دوست آصف علی شیخ (مدیر سرخ

Read more

پرمیشر سنگھ کی یادمیں

سکرین کا پردہ پیچھے ہٹتا ہے، پرمیشر سنگھ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ لاہور سے امرتسر ہجرت کر تا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ہمراہ اس کی جواں سالہ بیٹی اور بیوی ہے، ان کے ہاتھ میں لالٹین، ایک صندوقچہ اور دو کپڑوں کی گٹھڑیاں ہیں، وہ لٹے پٹے ایک ایسے ملک کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ان کے نزدیک امن اور اخوت کی شاہکار مثال ہوگا۔ وہ جونہی واہگہ بارڈر سے بھارتی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں، پرمیشر سنگھ چیخ اٹھتا ہے۔ ”ارے میرا کرتارا کہاں گیا، چلتے وقت تو ہمارے ساتھ تھا، واہگورو جی یہ کیا ہو گیا، ا ب کیسے ڈھونڈوں گا اپنے کرتارے کو“۔ اسٹیج پراندھیرا چھا جاتا ہے۔ ماڈریٹر نمودار ہوتا ہے اور پرمیشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔

Read more

غیرت مند قوم کے لیڈر کا احتساب

پچھلے کچھ عرصے سے نیب اس قدر متحرک ہوا کہ کئی بڑے ڈاکو جیل کی سلاخوں میں ڈال دیے جس پر یقینا اپوزیشن جماعتوں کا شور ڈالنا بنتا تھا سو انھوں نے کرائے کے کارکنوں کے ذریعے کئی شیشہ توڑ احتجاج کیے مگر افسوس ان کا کوئی حربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ یہی ہے کہ عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد میں اس قوم سے ایک وعدہ کیا تھا کہ کوئی ڈاکو نہیں چھوڑوں گا لہٰذا جب وہ وعدہ پورا ہوگیا تویہ کیسے ممکن تھا عمران خان ان جیالوں اور متوالوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوجاتا سو عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی اور نیب کو مکمل سپورٹ کیا اور اسے ایک خود مختار ادارہ بنا دیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ یہ قوم جو آج عمران خان سے دس ماہ کا حساب مانگ رہی ہے، اسی قوم نے پہلے غیرت مندی کا مظاہرہ کیا ہوتا اور گزشتہ تیس سال سے حکومت کرنے والی جماعتوں سے اپنے ٹیکسز، جرمانوں اور ان ڈاکوؤں سے چوری کیے گئے پیسے کا حساب مانگتے تو یقین جانیں آج ملک کی حالت بالکل مختلف ہوتی۔

Read more

صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام

کچھ دنوں سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ جو موضوع زیرِ بحث ہے وہ صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام ہے۔ یہ وہی اہم ترین ایشو ہے جو کچھ عرصہ قبل صوبہ سرائیکستان کے حوالے سے میڈیا کی زینت بنا تھا مگر اس وقت یہ کہہ کر صوبہ جنوبی پنجاب کے حامیوں کو خاموش کروایا گیا کہ ان کے دماغوں میں تعصب زیادہ ہے اور یہ لسانی اور ثقافتی تعصب کی بنیادپر علیحدہ صوبے کی بات کرتے ہیں۔ یہ بات آخر وقت نے ثابت کر دی کہ اس وقت علیحدہ صوبہ ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جس کی آبادی بارہ کروڑ ہے ’اسے صرف ایک وزیر اعلیٰ اور ایک چیف سیکرٹری کنٹرول کر رہاہے۔

Read more

مگر میں نا امید نہیں ہوں

میں نے تقریبا ایک سال اپنے کالم ”نظریاتی ہٹ دھرمی“ میں کہا تھاکہ ”ہم سیاسی اور مذہبی آئیڈیل ازم اور بت پرستی میں اس درجہ متعصب اور متشدد ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے سیاسی و مذہبی پیشوا کی ہر غلط اور فیک نظریے کو بھی ڈیفینڈ کرنے لگتے ہیں اور اس کے بعد کوئی ہزار سمجھا ئے ’ہم اپنی بات پر قائم رہتے ہیں کیونکہ ہم بت پرست قوم ہیں“ بت پرستی کا لفظ آئیڈیل ازم کے لیے استعمال کر رہا ہوں اگرچہ یہ کوئی مناسب لفظ نہیں۔ مگر ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہم اندھے مقلد ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

Read more

اردو ادب میں تہذیبی شناخت کا مسئلہ

گزشتہ دو ماہ سے زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ نہ تو کالم لکھ پایا اور نہ ہی کوئی کتاب پڑھ سکا۔ ڈیوٹی سے فراغت کے بعد اتنا تھک جاتا ہوں کہ سوائے کھانے اور سونے کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ مزید نومبر میں ہونے والی ادبی کانفرنسوں، مشاعروں اور بالخصوص دوستوں کی شادیوں نے اتنا مصروف رکھا کہ ایک دن لاہور تو اگلے دن گجرات، گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤالدین۔ سو ایسے میں لکھنا تو درکنار پڑھنے کا وقت

Read more

شہباز شریف کی گرفتاری سے جمہوریت خطرے میں آ گئی یا کرپٹ مافیا

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے تین بار وزیر اعلیٰ رہنے والے خادمِ اعلیٰ شہباز شریف آخر کار گرفتار کر لیے گئے۔ یہ وہی خادمِ اعلیٰ ہیں جو مکا لہرا کے کہا کرتے تھے کہ ”مجھ پر ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو مستعفی ہو جاؤں گا“ ۔ خیر یہ کرپشن ایک یا دو روپے کی نہیں اربوں کی نکلی۔ اب میاں صاحب مستعفی ہوں یا نہ ہوں نیب انہیں ریٹائرڈ کر کے چھوڑے گی۔ ہمارے کئی

Read more

لفافہ صحافی اور نظریاتی ورکرز (۱)۔

میرے گزشتہ کالم”نواز شریف کو یہ ریلیف مہنگا پڑے گا“ پر جتنی مجھے تنقیداور گالیاں سننی پڑیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نون لیگی کارکنوں نے تو انتہا کر دی بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ میں تحریک انصاف کا لفافہ صحافی ہوں اور اسی وجہ سے ان کی طرفداری کرتا ہوں۔ اگرچہ اس سے قبل بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ مجھے اس طرح کے الزامات برداشت کرنے پڑے مگر اس دفعہ معاملہ کافی مختلف تھا۔ لفافہ صحافی، ان

Read more

نواز شریف کا یہ ریلیف مہنگا پڑے گا

جن دنوں سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف ”اڈیالہ شریف“ سے ہسپتال داخل ہوئے نئے این آر او ملنے کی خبریں قومی اور عالمی میڈیا پر گردش کرنے لگیں، انہی دنوں میں نے ایک ٹویٹ کیا کہ ”کیا این آر او مل گیا؟ “۔ جس پہ ایک سینئرنون لیگی صحافی نے مجھے فون کیا اور فرمایا”میاں صاحب ڈریں گے اور نہ ہی جھکیں گے سو این آر او کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔ میں نے ان سے معذرت کی

Read more

بیگم کلثوم نواز کا ادبی و سیاسی مقام

کلثوم نواز نے (سیشن:1969ء سے 1971ء میں)اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ”رجب علی بیگ سرور کا تہذیبی شعور“ کے موضوع پرمقالہ لکھ کر ایم۔ اے اردو کیا۔ ان دنوں معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر عبادت بریلوی (سابق صدرِ شعبہ اردو) اورینٹل کالج کے پرنسپل تھے۔ یہ مقالہ 1985ء میں سنگِ میل نے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کروائی اور ان کے نگران ڈاکٹر سہیل

Read more

ثقافتی اداروں کے سربراہان اور صوبائی وزارت

پاکستان اس وقت جہاں اندرونی اور بیرونی طور پرسیاسی اور مذہبی سازشوں کا شکار ہے وہاں سب سے زیادہ جنگ ہمیں ثقافت کے نام پر کرنی پڑ رہی ہے۔ مغربی تہذیب ہو یا انڈین فلم انڈسٹری کا کلچر، یہ سب ہماری نسوں میں سرایت کر گیا۔ آج ہمارے پاس فلم انڈسٹری میں صرف اور صرف بے ہودہ گانے اور تھیٹر میں ہمارے پاس صرف ڈانس(مجرا) رہ گیا۔ کسی زمانے میں اسٹیج ڈرامے تفریح کا بہترین ذریعہ سمجھے جاتے تھے مگر

Read more

موت کتنی بھیانک چیز ہے

موت کتنی بھیانک چیز ہے اس کا اندازہ مجھے زندگی میں تین بار شدت سے ہوا، پہلی دفعہ جب میں اپنے والد کو کامرہ چھاؤنی کے فوجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے دیکھ رہا تھا، وہ شخص جو زندگی کے انتہائی تلخ حالات اور سخت کسمپرسی میں بھی سر اٹھا کر جیا ہو، وہ آج اس قدر اذیت میں تھا کہ نہ جی رہا تھا اور نہ ہی یہ منزل سر کر پا رہا تھا۔ میں نے

Read more

یثرب کی سیر

آج سے آٹھ سال قبل اردو زبان میں لکھی جانے والی مکہ مکرمہ کی مکمل تاریخ’’تاریخ ام القریٰ‘‘کے نام سے مارکیٹ میں آئی جسے ادبی اور مذہبی حلقوں میں خاصی مقبولیت ملی‘اس کتاب کے مصنف معروف شاعر اور مؤرخ محمد عمر ندیم تھے ۔مجھے اس وقت یہ کتاب پڑھنے کا حسین اتفاق ہوا تھا‘آج اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی میں اس حسیں شہر کا خوبصورت لمس محسوس کر سکتا ہوں جو اس کتاب کے پڑھنے کے بعد ملا۔میں

Read more

جعلی شاعرات کی بحث

ان دنوں ہمارے شاعر حضرات دن رات یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے کہ شاعرہ کون ہے اور متشاعرہ کون؟۔ اس حوالے سے اپنی بات پہچانے کا انتہائی آسان اور سستاترین ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ میں بذاتِ خود ایسے موضوعات پر بات کرنے اور ایسی بحثوں میں حصہ لینے سے کتراتا ہوں کیونکہ یہ بحثیں صرف اور صرف وقت اور انرجی کا ضیاع ہیں۔ روزِ ازل سے لے کر آج تک یہ بحثیں کسی نہ کسی حوالے سے ادب کا

Read more

بہترواں یومِ آزادی اور نون لیگی مداری

پاکستان سمیت بیرونِ ممالک میں بھی بہترواں یومِ آزادی انتہائی جوش و خروش سے منایا گیا۔ لاہوریوں نے حسبِ روایت آتش بازی، ریلیوں اور جلسے جلوسوں سے اس دن کو یادگار بنادیا۔ لاہوریوں کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ رہی ہے کہ کوئی بھی تہوار ہو، مذہبی، ثقافتی یا قومی، لاہوریے منانا جانتے ہیں۔ یہ واقعی زندہ دل لوگ ہیں۔ میں گزشتہ دس سال سے اس زندہ دلانِ شہر میں مقیم ہوں، کئی قومی و مذہبی تہوار میں نے

Read more

فیصلہ اب عمران خان کے ہاتھ میں ہے

زاہد محمود ظفر کا شمار میرے ان چند سینئر دوستوں میں ہوتا ہے جو سیاست کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور مسلم لیگ(ن) سے محبت اُن کی جبلت کا حصہ ہے، وہ ایک بہترین ماہرینِ تعلیم ہیں۔ ماضی قریب میں جب بھی عمران خان نے دھرنا دیا یا کوئی بھی سیاسی و اخلاقی غلطی کی، انہوں نے عمران خان کے خلاف دل کی خوب بھڑاس نکالی۔ جن دنوں عمران خان کی دوسر ی شادی کے چرچے تھے، یہ مجھے طنزیہ

Read more

تاریخ کے کھنڈرات

اگست کا مہینہ جب بھی آتا ہے مجھے مرحوم مشکور حسین یادؔ کی کتاب”یادوں کے چراغ“ شدت سے یاد آنے لگتی ہے۔ میں نے درجنوں بار اس کتاب کا مطالعہ کیا اور ان اداس نسلوں کے بارے میں سوچا جو دنیا کی اس عظیم ترین ہجرت میں درجنوں خواب سجائے پاکستان آئے تھے۔ اس کتاب کے ذریعے تاریخ کے کھنڈرات میں جھانکتے ہوئے روح احساس کے نشتر سے تڑپ اٹھتی ہے اور چند لمحوں کے لیے ہمارا حال سے رشتہ

Read more