پرمیشر سنگھ کی یادمیں

سکرین کا پردہ پیچھے ہٹتا ہے، پرمیشر سنگھ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ لاہور سے امرتسر ہجرت کر تا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ہمراہ اس کی جواں سالہ بیٹی اور بیوی ہے، ان کے ہاتھ میں لالٹین، ایک صندوقچہ اور دو کپڑوں کی گٹھڑیاں ہیں، وہ لٹے پٹے ایک ایسے ملک کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ان کے نزدیک امن اور اخوت کی شاہکار مثال ہوگا۔ وہ جونہی واہگہ بارڈر سے بھارتی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں، پرمیشر سنگھ چیخ اٹھتا ہے۔ ”ارے میرا کرتارا کہاں گیا، چلتے وقت تو ہمارے ساتھ تھا، واہگورو جی یہ کیا ہو گیا، ا ب کیسے ڈھونڈوں گا اپنے کرتارے کو“۔ اسٹیج پراندھیرا چھا جاتا ہے۔ ماڈریٹر نمودار ہوتا ہے اور پرمیشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔

Read more

غیرت مند قوم کے لیڈر کا احتساب

پچھلے کچھ عرصے سے نیب اس قدر متحرک ہوا کہ کئی بڑے ڈاکو جیل کی سلاخوں میں ڈال دیے جس پر یقینا اپوزیشن جماعتوں کا شور ڈالنا بنتا تھا سو انھوں نے کرائے کے کارکنوں کے ذریعے کئی شیشہ توڑ احتجاج کیے مگر افسوس ان کا کوئی حربہ بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ یہی ہے کہ عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد میں اس قوم سے ایک وعدہ کیا تھا کہ کوئی ڈاکو نہیں چھوڑوں گا لہٰذا جب وہ وعدہ پورا ہوگیا تویہ کیسے ممکن تھا عمران خان ان جیالوں اور متوالوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوجاتا سو عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی اور نیب کو مکمل سپورٹ کیا اور اسے ایک خود مختار ادارہ بنا دیا۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ یہ قوم جو آج عمران خان سے دس ماہ کا حساب مانگ رہی ہے، اسی قوم نے پہلے غیرت مندی کا مظاہرہ کیا ہوتا اور گزشتہ تیس سال سے حکومت کرنے والی جماعتوں سے اپنے ٹیکسز، جرمانوں اور ان ڈاکوؤں سے چوری کیے گئے پیسے کا حساب مانگتے تو یقین جانیں آج ملک کی حالت بالکل مختلف ہوتی۔

Read more

صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام

کچھ دنوں سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ جو موضوع زیرِ بحث ہے وہ صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام ہے۔ یہ وہی اہم ترین ایشو ہے جو کچھ عرصہ قبل صوبہ سرائیکستان کے حوالے سے میڈیا کی زینت بنا تھا مگر اس وقت یہ کہہ کر صوبہ جنوبی پنجاب کے حامیوں کو خاموش کروایا گیا کہ ان کے دماغوں میں تعصب زیادہ ہے اور یہ لسانی اور ثقافتی تعصب کی بنیادپر علیحدہ صوبے کی بات کرتے ہیں۔ یہ بات آخر وقت نے ثابت کر دی کہ اس وقت علیحدہ صوبہ ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جس کی آبادی بارہ کروڑ ہے ’اسے صرف ایک وزیر اعلیٰ اور ایک چیف سیکرٹری کنٹرول کر رہاہے۔

Read more

مگر میں نا امید نہیں ہوں

میں نے تقریبا ایک سال اپنے کالم ”نظریاتی ہٹ دھرمی“ میں کہا تھاکہ ”ہم سیاسی اور مذہبی آئیڈیل ازم اور بت پرستی میں اس درجہ متعصب اور متشدد ہو چکے ہیں کہ ہم اپنے سیاسی و مذہبی پیشوا کی ہر غلط اور فیک نظریے کو بھی ڈیفینڈ کرنے لگتے ہیں اور اس کے بعد کوئی ہزار سمجھا ئے ’ہم اپنی بات پر قائم رہتے ہیں کیونکہ ہم بت پرست قوم ہیں“ بت پرستی کا لفظ آئیڈیل ازم کے لیے استعمال کر رہا ہوں اگرچہ یہ کوئی مناسب لفظ نہیں۔ مگر ہمیں یہ بات مان لینی چاہیے کہ ہم اندھے مقلد ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

Read more

اردو ادب میں تہذیبی شناخت کا مسئلہ

گزشتہ دو ماہ سے زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ نہ تو کالم لکھ پایا اور نہ ہی کوئی کتاب پڑھ سکا۔ ڈیوٹی سے فراغت کے بعد اتنا تھک جاتا ہوں کہ سوائے کھانے اور سونے کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ مزید نومبر میں ہونے والی ادبی کانفرنسوں، مشاعروں اور بالخصوص دوستوں کی شادیوں…

Read more

شہباز شریف کی گرفتاری سے جمہوریت خطرے میں آ گئی یا کرپٹ مافیا

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے تین بار وزیر اعلیٰ رہنے والے خادمِ اعلیٰ شہباز شریف آخر کار گرفتار کر لیے گئے۔ یہ وہی خادمِ اعلیٰ ہیں جو مکا لہرا کے کہا کرتے تھے کہ ”مجھ پر ایک پائی کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو مستعفی ہو جاؤں گا“ ۔ خیر یہ کرپشن ایک…

Read more

لفافہ صحافی اور نظریاتی ورکرز (۱)۔

میرے گزشتہ کالم”نواز شریف کو یہ ریلیف مہنگا پڑے گا“ پر جتنی مجھے تنقیداور گالیاں سننی پڑیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نون لیگی کارکنوں نے تو انتہا کر دی بلکہ یہاں تک کہہ ڈالا کہ میں تحریک انصاف کا لفافہ صحافی ہوں اور اسی وجہ سے ان کی طرفداری کرتا ہوں۔ اگرچہ اس سے…

Read more

نواز شریف کا یہ ریلیف مہنگا پڑے گا

جن دنوں سابق نا اہل وزیراعظم نواز شریف ”اڈیالہ شریف“ سے ہسپتال داخل ہوئے نئے این آر او ملنے کی خبریں قومی اور عالمی میڈیا پر گردش کرنے لگیں، انہی دنوں میں نے ایک ٹویٹ کیا کہ ”کیا این آر او مل گیا؟ “۔ جس پہ ایک سینئرنون لیگی صحافی نے مجھے فون کیا اور…

Read more

بیگم کلثوم نواز کا ادبی و سیاسی مقام

کلثوم نواز نے (سیشن:1969ء سے 1971ء میں)اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ”رجب علی بیگ سرور کا تہذیبی شعور“ کے موضوع پرمقالہ لکھ کر ایم۔ اے اردو کیا۔ ان دنوں معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر عبادت بریلوی (سابق صدرِ شعبہ اردو) اورینٹل کالج کے پرنسپل تھے۔ یہ مقالہ 1985ء میں سنگِ میل نے کتابی شکل…

Read more

ثقافتی اداروں کے سربراہان اور صوبائی وزارت

پاکستان اس وقت جہاں اندرونی اور بیرونی طور پرسیاسی اور مذہبی سازشوں کا شکار ہے وہاں سب سے زیادہ جنگ ہمیں ثقافت کے نام پر کرنی پڑ رہی ہے۔ مغربی تہذیب ہو یا انڈین فلم انڈسٹری کا کلچر، یہ سب ہماری نسوں میں سرایت کر گیا۔ آج ہمارے پاس فلم انڈسٹری میں صرف اور صرف…

Read more